تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبلسانیات

اردو نصاب اور جدید تقاضے —— نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 24/05/2019
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 24/05/2019
343

پاکستان میں اردو کی تدریس اوراس کے معیار کا کیا حال ہے، یہ بتانے یا دہرانے کی ضرورت نہیں، ہم سب پر خوب روشن ہے۔ خاص طور پر جامعات کے اساتذہ خوب واقف ہیں کہ ان کے شعبوں میں اردو ادب کی تعلیم کے لیے آنے والے بیشتر شاگردانِ عزیز، ادب کو تو کیا سمجھیں گے، چند سیدھے جملے لکھنے کے ڈھنگ سے واقف نہیں ہوتے اور جامعات کے اساتذہ دو یا چار سال ان کے املا اور تلفظ کی غلطیاں درست کرواتے کرواتے ہانپ جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کروانے والی تمام جامعات طلبہ کو جو ڈگری دیتی ہیں اس پر ایم اے اردو لکھا ہوتا ہے لیکن یہ تمام ڈگری پروگرام محض اردو ادب کی تدریس پر مشتمل ہیں۔ ایک دو اختیاری مضامین کے علاوہ زبان یا لسانیات کا کوئی کورس ان ڈگریوں میں پیش نہیں کیا جاتا۔ غضب تو یہ ہے کہ یہ ڈگریاں حاصل کرنے والے اساتذہ یونی ورسٹی سے نکلتے ہی کسی نہ کسی سطح پر زبان کی تدریس سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ یوں ہمارے ہاں اردو کی بحیثیت زبان تدریس کا عمل سراسر اٹکل پچو یا سعی وخطا کے عمل سے عبارت ہے۔

میں نے اس زوال پر بہت سوچ بچار کی ہے اورجس نتیجے پر پہنچی ہوں اس میں آپ کو شریک کرنا چاہتی ہوں۔ حالانکہ جانتی ہوں کہ یہ محض ’’آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں‘‘ کی عملی صورت ہو گی۔

یادش بخیر، ہم نے آج سے چالیس پینتالیس برس پہلے میونسپل کمیٹی کے ایسے پرائمری سکولوں میں تعلیم پائی تھی، جن کے اساتذہ سارا دن سویٹر بنتے تھے اور اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے بلکہ بعض اوقات تو اونگھتے اونگھتے ہمیں دن میں دو بار تختیوں پر املا لکھوا کر، اونچی آواز میں اردو کا سبق سن کر، سلیٹ پر حساب کے سوال لکھوا کر اور پہاڑے سن کر اپنے فرائض سے بخوبی عہدہ برآ ہو جاتے تھے۔ اردو’ ب‘ یعنی قواعد کے پرچے کے لیے ہمیں سیکڑوں محاورات، ضرب الامثال، واحد جمع، مذکر مؤنث یاد کرنے کو مل جاتے تھے جنھیں ہم سب بآواز بلند یاد کیا کرتے اور اچھے نمبروں سے پاس ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن اس دیسی انداز کی تدریس کا نتیجہ یہ تھا کہ ایک تو تختیاں لکھ لکھ کر بچوں کاخط بہتر ہوجاتا، دوسرے الفاظ کے املا سے واقفیت ہوجاتی، تیسرے ان کی آوازوں سے شناسائی پیدا ہوتی۔ چوتھے استاد کا لب ولہجہ اور درست تلفظ سماعت کے ذریعے غیر شعوری طور پرسیکھنے کا موقع فراہم کردیتے۔

پرچہ ب کی تیاری کے لیے ہم واحد جمع، مذکر مؤنث اور سابقوں لاحقوں کی مدد سے بننے والے بے شمار الفاظ یاد کرتے۔ اس یاد کرنے کے عمل کے دوران نہ صرف ہمارے حافظے کی قوت بہتر ہوتی بلکہ ہمارے ذخیرۂ الفاظ میں بھی تسلی بخش اضافہ ہو جاتا۔ مضمون یا کہانی لکھنے کے لیے لازمی تھا کہ پہلے اس کی آؤٹ لائن یعنی خاکہ لکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح اپنے خیالات کو مربوط صورت میں پیش کرنے کی تربیت ہو جاتی۔

اس طرز تدریس کا فائدہ یہ ہوتا کہ پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد ہی طالب علم اس قابل ہو جاتے کہ اپنے خیالات کو سادہ اور درست انداز میں، مناسب ذخیرہ الفاظ کے ذریعے تحریر کر سکیں۔ ان کا تلفظ بہتر ہوتا۔ وہ سن کر سمجھنے کی اچھی استعداد حاصل کر لیتے اور تحریری اور تقریری دونوں طرح سے اظہار خیال کرنے پر قادر ہوتے۔

حافظے کی تربیت جیسے اہم معاملے کو ’’رٹے‘‘ کا دشنام نما نام دے کر بالکل خیر باد کہہ دیا ہے۔ حالانکہ جدید ترین نظام ہاے تعلیم میں جو امریکہ میں اب کہیں جا کر نئے سرے سے مقبول ہو رہے ہیں، یہ طے کیا گیا ہے کہ ابتدائی چند برسوں میں بچے کو صرف الفاظ یاد کروائے جائیں۔

اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب استاد کو کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں، اسے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ تختۂ سیاہ کی جگہ وائٹ بورڈ نے لے لی ہے، بلکہ مہنگے سکولوں میں تو کمپیوٹر آ گیا ہے۔ بچے بھی بوریوں یا ٹاٹوں کے بجائے کرسیوں پر متمکن ہوتے ہیں۔ لوازمات تدریس پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ یہ سب ترقی کی نشانیاں ہیں ان پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ نتائج پہلے سے کہیں زیادہ منفی ہیں۔ اب پرائمری تو کیا میڑک پاس کرنے والا طالب علم بھی انتہائی محدود ذخیرہ ٔ الفاظ کا مالک ہوتا ہے اور اپنے خیالات کو تحریر ی صورت میں مرتب کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔ آخر اس ترقی معکوس کی کیا وجہ ہے؟ باقی مضامین کو ایک طرف چھوڑ کر صرف اردو کی تدریس پر غور کیجیے کہ اس میں ایسی کیا تبدیلی آئی ہے جس نے ہمارے طالب علموں کا یہ حال کر دیا ہے؟

میں بہت سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہم نے اپنے طریقۂ تدریس میں غیر ضروری طور پر تقلیدی روش اختیار کر لی ہے۔ مثال کے طور پر حافظے کی تربیت جیسے اہم معاملے کو ’’رٹے‘‘ کا دشنام نما نام دے کر بالکل خیر باد کہہ دیا ہے۔ حالانکہ جدید ترین نظام ہاے تعلیم میں جو امریکہ میں اب کہیں جا کر نئے سرے سے مقبول ہو رہے ہیں، یہ طے کیا گیا ہے کہ ابتدائی چند برسوں میں بچے کو صرف الفاظ یاد کروائے جائیں۔ جتنے زیادہ الفاظ سے وہ واقف ہوگا، اتنے ہی خیالات سے آشنا ہو گا۔ خود ہمارے ہاں بھی انگریزی سکولوں میں اب سپیلنگ بی (spelling bee) جیسے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں جو صریحاً یادداشت پر منحصر ہوتے ہیں۔ ہمارے روایتی نظام تعلیم یعنی مدرسوں میں برسوں سے اس اہم صلاحیت سے بہت عمدہ کام لیا جاتا رہا ہے۔ نجانے ہم نے کیوں اپنی روایت کے عمدہ پہلوؤں کو ترک کر دیا ہے۔ اب قلم اور تختیوں کے بجائے بال پوائنٹ اور کاپیوں کا سہارا لیا جاتا ہے، سلیٹ کے بجائے ورک بک ہے۔ یہ سب اپنی جگہ بری چیزیں نہیں مگر ان میں بار بار مشق کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ میرا خیال ہے کہ زبان کی تدریس کی ابتدائی مراحل میں حافظے یا رٹے اور بار بار مشق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اس ضرورت کو نظر انداز کر دیا ہے اس لیے اردو کی تدریس ہچکولے کھا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں سے تو ہم نے رٹے جیسی بدنام زمانہ شے کا قلع قمع کر نے کی ہر ممکن کوشش کی ہے مگر زبان کی ناقص تدریس کے نتیجے میں تحریری اظہار کی اہلیت نہ ہونے کے باعث بڑی جماعتوں میں طالب علم کسی بھی مضمون میں اپنے مافی الضمیر کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کے قابل نہیں ہو پاتے اور مجبوراً مکمل طور پر رٹے پرانحصار کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں سے تو ہم نے رٹے جیسی بدنام زمانہ شے کا قلع قمع کر نے کی ہر ممکن کوشش کی ہے مگر زبان کی ناقص تدریس کے نتیجے میں تحریری اظہار کی اہلیت نہ ہونے کے باعث بڑی جماعتوں میں طالب علم کسی بھی مضمون میں اپنے مافی الضمیر کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کے قابل نہیں ہو پاتے اور مجبوراً مکمل طور پر رٹے پرانحصار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ معروضی سوالوں کے جواب بھی رٹ کر یاد کر لیتے ہیں اور اعلیٰ نمبروں سے میٹرک پاس کر لیتے ہیں۔ اردو کے پرچے کے لیے اشعار کی تشریح سے لے کر اسباق کے خلاصے تک ہر چیز رٹی رٹائی لکھ دی جاتی ہے۔ ان کی ذاتی استعداد سے واقف اور خو ف زدہ ہونے کے باعث ان کے اساتذہ بھی اس رٹے کی بھرپورحوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یوں جہل مرکب کی صورت حال ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔

دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی جماعتوں سے لے کر بارھویں جماعت تک اردو کے نصاب اسلامیات، مطالعۂ پاکستان، معاشرتی علوم، ماحولیات، اخلاقیات اور دیگر ناصحانہ اور واعظانہ مضامین سے پُر ہوتے ہیں۔ مجھے طلبہ کی نظریاتی تربیت پر کوئی اعتراض نہیں۔ ہر قوم اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں اپنے نظریات و روایات کا نقش قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کا بہترین ذریعہ نصابات ہوتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ ناصحانہ و تبلیغی کاوشیں پوشیدہ اور بین السطور ہونی چاہییں۔ اردو کے نصاب میں سبق آموز مضمون شامل کرنا قابلِ اعتراض نہیں۔ قابل اعتراض یہ ہے کہ زبان کی تدریس کوجو، مقصود اول ہے، پس پشت ڈال دیا جائے اور صرف نظریات کی تبلیغ کو پیش نظر رکھا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس روش کی وجہ سے اردو کے نصابات صرف تفہیم یعنی comprehension کی مشق بن کر رہ گئے ہیں۔ زبان کے بارے میں جو سوالات مشقوں کا حصہ ہوتے ہیں وہ بھی تخلیقی اپج سے محروم اور چند قواعدی نکات تک محدود ہوتے ہیں۔

یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے بعض دانش ور حضرات نصابات کو نظریاتی تربیت کا ذریعہ بنانے پر شدید معترض رہتے ہیں اور ہمیشہ اس بات کا تقاضا کرتے رہتے ہیں کہ نصابات کو ہر قسم کی نظریاتی تربیت سے پاک ہونا چاہیے۔ مجھے یاد پڑتا ہے، چند برس قبل مجھے ایڈنبرا یونی ورسٹی کی ایک سینئر پروفیسر پیٹریشیا جافری سے ملاقات اور بات چیت کا موقع ملا تو یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئی کہ ہم اپنے نصابات کے لیے جن ملکوں کو قابلِ تقلید مثال کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں ان کے اپنے لوگ ان کے نصاب کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں جو ہمارے ہاں عام ہے۔ پروفیسر پیٹریشیا آئر لینڈ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے آئر لینڈ اور انگلینڈ سے ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اب وہ سکاٹ لینڈ میں رہتی ہیں اور ان کے بچے سکاٹ لینڈ کے سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ تینوں علاقوں کے نصابات میں تاریخ کو مختلف نقطۂ نظر سے پیش کیا جاتا ہے اور اپنے اپنے نقطۂ نظر کی تبلیغ کے لیے نصاب وضع کیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کا ایک واضح سبب ہے۔ ہر قوم اپنی آنے والی نسلوں کو اپنی روایات کا وارث سمجھتی ہے اور اس تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اپنی روایات بچوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ نصاب ہی ہوتا ہے اس لیے دنیا بھر میں نصابات کو نظریاتی تبلیغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ نصاب کے ذریعے کسی دوسری قوم یا طبقے کی تضحیک یا اس کے لیے نفرت پیدا نہ ہو۔

ہر قوم اپنی آنے والی نسلوں کو اپنی روایات کا وارث سمجھتی ہے اور اس تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اپنی روایات بچوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ نصاب ہی ہوتا ہے اس لیے دنیا بھر میں نصابات کو نظریاتی تبلیغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اردو کے نصابات اس ضمن میں سب سے زیادہ مفید مطلب ثابت ہو تے ہیں کیوں کہ ان میں نظریاتی تبلیغ کی گنجائش دیگر مضامین کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن یہ نصابات اس طرح مرتب کیے جانے چاہییں کہ نظریاتی تربیت کا پہلو لسانی پہلو پر غالب نہ آنے پائے۔ نیز یہ کہ نظریاتی تربیت کے دوران بچے کو ذہنی وسعت، اعلیٰ ظرفی اور تحمل و برداشت جیسے اقدار سے محروم نہ کر دیا جائے۔ ابتدائی جماعتوں میں نظریاتی تربیت سے مراد یہ ہے کہ بچے کو آفاقی اعلیٰ اقدار سے روشناس کرایا جائے اور ان پر عمل کرنے کی ترغیب دی جائے، نہ کہ اس کے ذہن کو کسی مخصوص خانے میں بند کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ مسلسل ناصحانہ انداز کے نصابات اور ان میں محض سنجیدہ اور معلوماتی مضامین کی شمولیت سے طلبہ کی تحصیل زبان میں دلچسپی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ کسی بھی زبان میں مہارت حاصل کرنے کا عمل بڑا دلچسپ ہوتا ہے لیکن اس کے دلچسپ پہلو کو نظر انداز کر کے اگر اس کے خشک پہلو ہی کو پیش نظر رکھا جائے تو بچے اس سے بھاگنے اور نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں کوئی اردو کو مشکل مضمون نہیں کہتا تھا بلکہ اردو کو سب سے آسان پرچہ سمجھا جاتا تھا جس کے لیے پہلے سے حاصل شدہ مہارت استعمال میں آتی تھی۔ ہم نے کبھی اردو کے پرچے کی تیاری نہیں کی تھی کیوں کہ ہم نے سال کے دوران اس کی خوب اچھی طرح مشق کر رکھی ہوتی تھی۔ اب اردو کے پرچے کو بھی اسی طرح تیار کرنا پڑتا ہے جس طرح سائنس، حساب یا جغرافیے کے پرچے کو تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف انگریزی میڈیم بلکہ اردو میڈیم سکولوں کے بچے اور ان کے والدین تک اردو کے مشکل ہونے کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔

اردو کے نصاب میں دلچسپی کم ہونے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ اب نصابی کتب لکھنے والے، جید ادیبوں کی تحریروں کے اقتباس شامل کرنے کے بجائے خود ہی اسباق لکھ لیتے ہیں۔ ایسے اسباق تحریر کی لذت، چاشنی اور اثر انگیزی سے سراسر محروم ہوتے ہیں۔ صرف نثری اسباق ہی نہیں، شعری مثالیں بھی اکثر نصابی کتب کے مصنفین کی اپنی یا ان کے احباب کی ہوتی ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ بچے مؤثر عبارت سے آشنا ہی نہیں ہو پاتے اور اس ذوق سلیم سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں جو انھیں زبان سے آگے بڑھ کر ادب کے آب نشاط انگیز تک پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میں زبان کی تدریس کو ادب کی تدریس سے بالکل مختلف سمجھتی ہوں اور اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ہمیں اردو کو ایک عملی، سائنسی اور معروضی زبان کے طور پر پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اردو محض شعر و شاعری یا داستان و افسانے کی زبان نہیں لیکن اس کے باوجود، طلبہ کے سامنے تحریر کے ایسے نمونے پیش کرنا ضروری ہے جن میں تاثیر، ابلاغ کے مختلف پہلو اور زبان کے ذریعے فکر کو مہمیز کرنے کے امکانات پوشیدہ ہوں۔

میں زبان کی تدریس کو ادب کی تدریس سے بالکل مختلف سمجھتی ہوں اور اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ہمیں اردو کو ایک عملی، سائنسی اور معروضی زبان کے طور پر پڑھانے کی ضرورت ہے۔

اردو نصابات کو سائنسی خطوط پر تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ابتدائی جماعتوں میں ان کی از سر نو تشکیل انتہائی ضروری ہے۔ لیکن نصابات کی نئی تشکیل بھی کوئی فائدہ نہ دے سکے گی اگر ہم امتحانات کا طریقہ نہ بدلیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں زبانی امتحان کی روایت یکسر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے زمانے میں ابتدائی جماعتوں میں طلبہ کو بلند خوانی کی نہ صرف مشق کروائی جاتی تھی بلکہ اس کا امتحان بھی لیا جاتا تھا جس سے تلفظ اور اس کے نتیجے میں املا بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوتے تھے۔ اس طرح لب و لہجے کی تربیت بھی ہو جاتی تھی۔

ابتدائی جماعتوں کے لیے ذخیرہ الفاظ کی تدریس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انگریزی سکولوں میں بچے کی نصابی کتب میں انگریزی ذخیرۂ الفاظ (vocabulary) پر مشتمل چھوٹی چھوٹی درجہ وار کتابیں ہر جماعت میں ترتیب سے بچوں کو یاد کروائی جاتی ہیں۔ ہر جماعت کا امتحان پاس کرنے کے لیے اس درجے کی وکیبلری حاصل کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ذخیرۂ الفاظ میں اس طرح درجہ وار اور متعین اضافے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ بس ایک نصابی کتاب کو اول تا آخر پڑھ کر ا س کی مشقیں تیار کر لینا کافی سمجھا جاتا ہے اور اس میں بھی مکھی پر مکھی مارنے کا رویہ اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ اسلام آباد جیسے جدید اور ترقی یافتہ شہر میں کچھ برس قبل ایک بچے کا قصہ سنا تو دل تھام کر بیٹھ گئے۔ ہماری ایک ہم کار اپنے بچے کو اردو کا ہوم ورک کروا رہی تھیں۔ سبق کا عنوان تھا خالد کی بکری۔ مشقی سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا آپ کے پاس بھی کوئی پالتو جانور ہے؟ اگر ہے تو اس کا نام لکھیں۔

ہماری ہم کار نے بچے سے کہا کہ وہ اپنے طوطے کا نام لکھ دے لیکن اگلے روز بچہ روتا ہوا گھر آیا کیوں کہ ’’مس‘‘ نے اس کا جواب غلط قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا چوں کہ خالد کے پاس ایک بکری ہے اس لیے سب بچے اس سوال کے جواب میں بکری ہی لکھیں گے۔

تو اصل بات یہی ہے کہ نصاب جتنا مرضی جدید ہو جائے جب تک اسے نافذ کرنے والا نظام فرسودہ اور مکھی مار ہے، اس وقت تک ہم سب خالد کی بکری بنے رہیں گے۔

Facebook Comments Box
featuredNajeeba ArifurduUrdu LanguageUrdu Teachingاردواردو ادباردو پڑھانااردو تدریساردو زباناردو لسانیاتاردو مضمونتدریس اردو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
تمیز دار بہو کی بد تمیزی۔ کچھ اور سوالات —– خرم شہزاد
next post
اسلام کودرپیش ۔ ۔ ۔ سابقے اور لاحقے —— عمر ابراہیم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.