تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینشاعریعلم و ادب

مرزا اطہر ضیاء کی شاعری: ایک جہانِ حیرت کی سَیر ——– محمد فیصل

by دانش ڈیسک 17/05/2019
written by دانش ڈیسک 17/05/2019
101

اگر شاعری حیرت کا دوسرا نام ہے تو اطہر ضیاء کی شاعری میں حیرت کا ایک مکمل جہاں آباد ہے۔ اُس کی شاعری کاحیرتی رقص ایک سانس لیتی ہوئی زندہ کشش کے گرد ہے جس میں ذات کے بند دروازے پر مسلسل دستک کے نشانات بھی ہیں اور دور سفر پر روانگی کے امکانات کی داستان بھی، صحرا کی ریت میں پرت در پرت جمی وحشتوں کا بیان بھی ہے اور گاؤں کی ہریالیوں میں چھپی ہوئی نرم اور دبیز اپنائیت والی فضا کا ذکر بھی ہے۔ درونِ ذات کی خاموشی اور اس میں گونجتا ہوا آگہی کا شوربھی ہے اور زندہ خوابوں کی جگمگاتی کہکشاں بھی۔ غرض یہ کہ اطہر ضیاء کی شاعری سے روشناسی ایک ایسا تازگی بھرا احساس ہے جس کی اپنی بہت سی شکلیں ہیں، آوازیں ہیں، رنگ وروپ اور موسم ہیں۔ اطہر ضیاء کے تین اشعار ملاحظہ ہوں ؎

ڈھونڈتا ہے کوئی رستہ مرے آئینے میں
قید اک شخص ہے مجھ سا مرے آئینے میں

کھینچ لے تجھ کو نہ آئینے کے اندر کا طلسم
غور سے دیکھ نہ اتنا مرے آئینے میں

میں ہی آئینۂ دنیا میں چلا آیا ہوں
یا چلی آئی ہے دنیا مرے آئینے میں

اطہر ضیاء کا آئینہ ٔ حیات کوئی معمولی آئینہ نہیں ہے اس آئینے میں بے شمار آئینہ خانے آباد ہیں۔ اِس آئینے میں کراں تاکراں پھیلی ہوئی بے چینی اور بے قراری کی کیفیت بنتی اور بگڑتی نظر آتی ہے، اور یہی وہ بے چینی اور بے قراری کی کیفیت ہے جو فراموش کردہ راستوں کی بازیافت کرتی ہے، پیچ در پیچ کھنچی ہوئی دیواروں سے ٹکراتی ہے اور آنے والے موسموںکے استقبال کے لیے بانہیں پسارتی ہے۔

سرسری لوگ گزر جاتے ہیں ہر منظر سے
اور اک میں ہوں کہ پتھرایا کھڑا رہتا ہوں

پھر کسی خواب کی آہٹ ہے مری پلکوں پر
پھر کسی صبح نے بھیجا ہے اجالا مجھ میں

میں اپنے گاوں لیے بھاگتا پھروں کب تک
کہ شہر بڑھتے چلے آرہے ہیں پیچھے مرے

مسافتیں کئی صدیوں کی طے ہوئیں اس میں
وہ ایک لمحۂ حیرت جو میرے ہاتھ میں تھا

منزلیں اور کسی سمت تھیں میری اطہر
اور میں دوسری سمتوں میں سفر کرتا گیا

قطر کی شعری محفلوں کا حصہ بننے والے اس نو مشق شاعر کے شعری جوہر نے اچانک ہی پہلو بدلا اورو ہ اپنی تخلیقی جولانیوں، روشن ذہانت، فکری سچائی اور تازہ اظہارکی قوت کے ساتھ ممتاز نظر آنے لگا۔ یوں لگتا تھا کہ گویا کوئی بے چین روح اس کی ذات میں سرایت کرگئی ہو اور وہ جلد از جلد اپنے اندر چھپے ہوئے بیش بہا خزانے کو وقت کی جھولی میں ڈال دینا چاہتا ہو۔ گویا کسی لاشعوری احساس کے زیرِ اثر وہ اپنی شاعری کا سارا نور دماغ سے باہرانڈیل دینے کے عمل میں مصروف تھا اور اپنے اندر دور تک پھیلے ہوئے خوبصورت اور نادرخیالات کے لہلہاتے باغوں کے ایک ایک پھول کواپنے پورے وجود کی دیانت اور معرفت کے ساتھ تخلیق کیے جارہا تھا۔

ایک بے چین سا احساس مرے ذہن میں ہے
اس کو الفاظ و معانی کی اجازت دی جائے

سنا تھا مجھ میں خزانہ چھپا ہوا ہے کوئی
سو ختم ہوتا ہوں خود کو ادھیڑتا ہوا میں

زندگی کام لے لے ہم سے کوئی
ہیں ابھی اپنے اختیار میں ہم

اطہر ضیاء کی ہمہ رنگ شاعری کے مزید کچھ جگمگاتے رنگ ملاحظہ فرمائیے۔

ایک معمولی سا کردار ملا تھا مجھ کو
پھر بھی انجامِ کہانی پہ اثر ہے میرا

میں تجھے سہل بہت لگتا ہوں
تو کبھی چار قدم چل مجھ میں

اب کہاں ڈھونڈنے جائے گا بیاباں اے دوست
آ مرے سینے سے لگ اور اتر جا مجھ میں

سوکھنے لگتا ہوں میں تجھ سے جدا ہوتے ہی
جب تلک ساتھ رہوں تیرے ہرا رہتا ہوں

میں نے اس کی آنکھیں دیکھیں گہرے کاجل میں
جیسے دو دو چاند کھلے ہوں کالے بادل میں

ہمیں تو خاک بھی ہوکر نہ آئی ابجدِ عشق
سنا ہے چھوکے سبھی آرہے ہیں سرحدِ عشق

نہ جانے کب انہیں اسٹیج ہونا ہے اطہر
وہ سارے سین جو میرے لیے لکھے ہوئے ہیں

چلتے رہے ہیں زندگی ہم تیری دھوپ چھاوں میں
کچھ دن دکھوںکے شہر میں کچھ دن خوشی کے گاوں میں

اطہر ضیاء کی شاعری اپنے قاری کو مسحور بھی کرتی ہے اور مرعوب بھی، یہ وہ شاعری ہے جس کی پیشانی سے حیرتوں کے نئے نئے ستارے طلوع ہوتے ہیں اور قاری کے شعور اور وجدان کو ہم سفر بنالیتے ہیں۔ اُس کی شاعری کے بنیادی عناصر میں جہاں احساس کی خوبصورتی، تخلیقی رمزیت اور گہری پراسراریت شامل ہیں وہیں شدتِ بیان کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ بیان کی ایسی پرکشش شدت جس میں بے باکی بھی ہے، تازگی بھی ہے، فکر کی پوری سچائی بھی ہے، اور گہری مہارت اور فنی دسترس بھی ہے۔ احساس اور جذبے کی بے پناہ شدت اور توانائی اپنی انتہائی شکل میں جابہ جا موجود ہے۔

اب دوا کام ہی نہیں کرتی
اب تو ہم زہر پینے لگ گئے ہیں

یہ جو بے رنگی نظر آتی ہے
بس یہی رنگ ہمارا ہے میاں

جو میرے سینے میں اک دشت سا ہے پھیلا ہوا
ترے خیالوں کے اس میں ہرن اتار دوں کیا

تو نے تصویر دیکھی ہوگی کوئی
ایسے ہیں تیرے انتظار میں ہم

ہزار راتوں کا زہراب ہے رگوں میں مری
میں ایک رات میں تھوڑی ہرا بھرا ہوا ہوں

بعض اشعار کی کیفیت میں اس قدر دکھ ہے اور شعر کا پس منظر اتنا حزنیہ اور ملال بھرا ہے کہ پڑھنے والے کی آنکھوں میںکب نمی کی ہلکی سے لکیر کھنچ گئی پتہ ہی نہیں چل پاتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر اپنی شاعری کی روح میں قاری کو شامل کرلیتا ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ پڑھنے والے کو ذہنی سطح پر اپنی زندگی میں شامل کرلیتا ہے۔ حالانکہ یہ سارا عمل لاشعوری ہوتا ہے، شاعر اپنی داخلی کیفیات میں ڈوب کر شعر کہتا ہے لیکن تخلیق کی قوت اس کیفیت کو پڑھنے والے کا اپنا احساس بنا دیتی ہے۔

سو جتنا رونا ہے رو لو گلے لگا کے مجھے
کہ صبح مجھ کو سفر پر روانہ ہونا ہے

بہت روئے گی یہ لڑکی کسی دن
جو میرے ساتھ ہنس کر چل رہی ہے

اک نیا روپ دیا جائے مری مٹی کو
چاک پر پھر سے رکھا جائے مری مٹی کو

زندگی چھوڑ دیا تجھ کو بھی
یعنی تجھ سے بھی محبت نہیں تھی

گو کہ اطہر ضیاء زمانہ طالب علمی سے ہی شاعری کرتے رہے ہیں لیکن اس مجموعے میں جو شاعری شامل ہے اس کا بیشترحصہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اطہر ضیاء کی فکری اورتخلیقی توانائی کا نتیجہ ہے۔ اس تخلیقی وفور اور ہمہ جہتی میںاطہر ضیاء کے شعور، فہم، ادراک، آگہی، خودآگاہی، دوربینی اور مستقبل شناسی کی زرکار شعاعیںدور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی شاعری میں لاشعور کا اظہار جذبوں کی سطح سے آگے بڑھ کر ادراک کی آگہی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ وہ آگہی جو ایک شاعر کی اپنی ذات، اپنے جسم اور شعور میں ہوتی ہوئی بڑی تبدیلیوں کے مظہر کے طور پر اس پرنمایاں ہوچکی ہو۔

قامت مری دراز ہے کوتاہ قد ہے تو
اے زندگی میں تجھ پہ برابر نہ آئوں گا

پہن رکھی ہے جو خاک بدن اتار دوں کیا
اے زندگی میں ترا پیرہن اتار دوں کیا

چاک پر رکھ کے ہمیں بھول گیا ہے کوئی
شکل ملنے سے ہی پہلے نہ بکھر جائیں کہیں

دشتِ ہستی سے بگولے کی طرح گزرا ہوں
اپنے پیچھے خس و خاشاک اڑاتا ہوا میں

خود اپنے آپ سے آگے کہیں نکل آیا
میں اب کے بار چلا اس قدر روانی سے

مرزا اطہر ضیاء کی شاعری کا مطالعہ کسی جہانِ حیرت کی سیر سے کم نہیں۔ ایک ایسا جہانِ حیرت جس میں ایک ہی وقت میں کئی زمانوں اور کئی منطقوں کا لاشعوری سفر جاری ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں ماضی کی خوابناک پراسراریت ہے، جدید تر عہد کا تازہ ترین وِژن ہے اورآئندہ روشنیوں کی ہم سفری کا احساس بھی ہے۔ ہم سفری کا وہ احساس جو قاری کے ذوق و شوق کو ہر لمحہ نئی زمین اورنئے آسمان سے روشناس کراتا ہے۔ اس کے تخلیقی الاؤ کا حصہ جو بھی خیال بنا دلآویزی، دلنوازی اور دلپذیری اس کا نصیب ہوا۔ اُس کا فن اِس رمز سے بخوبی واقف ہے کہ شاعری سامنے کی چیزوں کا بیان نہیں ہے۔ دیوار سے پس دیوار، منظر سے پس منظر، آسماں سے پس آسماں، آئینے سے پس آئینہ، رنگ سے پس رنگ دیکھنے کی قوت اور پھر اس کافن کے تمام تر لوازمات کے ساتھ اظہار ہی دراصل شاعری ہے۔

کتنے رنگ بدلنے ہیں
آخری رنگ میں آنے تک

کھینچ لے تجھ کو نہ آئینے کے اندر کا طلسم
غور سے دیکھ نہ اتنا مرے آئینے میں

ٹھوکریں مار کے افلاک اڑاتا ہوا میں
آگیا جانے کہاں خاک اڑاتا ہوا میں

چلو کہ ہم بھی ملا دیں اسی میں اپنے چراغ
دیارِ شب میں جو اک آفتاب بن رہا ہے

پھر کوئی شخص اتر آیا ہے ان میں اطہر
پھر مری آنکھوں کی حیرانیاں بڑھنے لگی ہیں

آخری شعر لکھتے ہوئے اطہر ضیاء اپنی شاعری کے عقب سے نکل کر اپنی شخصیت کی تمام تر دلنوازیوں کے ساتھ پھر میرے سامنے آکھڑا ہوا ہے اور میری آنکھوں کی حیرانیاں بڑھنے لگی ہیں۔ اطہر ضیاء اپنی شخصیت میں اپنی شاعری کی طرح ہی خوداعتماد، بلند حوصلہ، دیدہ زیب، پرکشش، سنجیدہ اور نرم گفتار ہے۔ بظاہر عام سا نظر آنے والا لیکن باطن میں دنیا کی تمام خوبصورتی کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر زندہ رکھنے کا خواہش مند، جس کا شعری اضطراب اور جذباتی کرب زندگی کے خوبصورت خوابوں کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ لینے کی شدید ترین تمنّا رکھتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے لاشعور کے آئینے میں رائگانی کا دھواں کثیف تر ہوتا جارہا ہے، جس کے دل میں بہت کچھ کرجانے کی جستجو بھی ہے اور خود پر مکمل اعتمادبھی لیکن وقت کی کمی کا احساس شدت اختیار کرگیا ہے۔

ابھی تو روح کو سیراب کرنا باقی تھا
ابھی تو ٹھیک سے لب بھی نہیں تھے بھیگے مرے

روکے رکھ اپنے فرشتوں کو ذرا دیر ابھی
اول اول مرا دل تیرے جہاں سے لگا ہے

گھٹن سی ہوتی ہے اس کے غبار سے مجھ کو
جو میرے سینے میں آندھی سی اک تھمی ہوئی ہے

جب بنالوں تری دنیا کو میں جنت یارب
تب مجھے نقلِ مکانی کی اجازت دی جائے

اطہر ضیاء کی شاعری ذات سے مکالمے کی شاعری ہے، وہ داخلی وارداتوں کا بیان اس انداز میں کرتا ہے کہ شاعری خارجی دنیا کا وسیع تر کینوس بن جاتی ہے۔ وہ اپنی شاعری کے کینوس پر برش تو اپنی تصویر بنانے کے لیے چلاتا ہے لیکن زمانے کے نقش ابھرنے لگتے ہیں۔ اس کے انفرادی زخم تصویر بن کر اجتماعی رنگ اورروشنی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔

بہت سے رنگوں کے چلتے رہے برش مجھ میں
پھر اپنے رنگ میں آتا ہوا چلا گیا میں

مرا برش مرے اپنے لہو میں ڈوبا تھا
تو کینوس پہ ترا درد کیوں ابھرنے لگا

یہ جو بے رنگی نظر آتی ہے
بس یہی رنگ ہمارا ہے میاں

میں کس کو سوچ رہا تھا ابھی تصور میں
ہزار رنگ اتر آئے انگلیوں میں مری

بدن کا سارا لہو انگلیوں سے رسنے لگا
میں آج نقش تمھارے بنانے والا تھا

وہ اپنی ذات کا اعلان کرتے ہوئے اندرونی کیفیات، احساسات و جذبات کی بازیافت کرتا ہے اور انہیں دنیا کے سامنے اس خوبی سے پیش کرتا ہے کہ اس میںزندگی اپنی تمام حسّیات کے ساتھ شامل ہوجاتی ہے اور اُس کی شاعری ایک ایسی خود کلامی بن جاتی ہے جو کائنات سے گفتگو کا مظہرہے۔ اس کی خودکلامی کا حصہ بسا اوقات اس کا ہمزاد اور کبھی بے وفا زندگی ہوتی ہے جس سے دوبدو باتیں کرکے دل کے آئینے پر جمی ہوئی مایوسیوں کی دھول کوصاف کرنے کی سعی ٔ رائگاں کرتا رہتا ہے۔

جو میرے سینے میں اک دشت سا ہے پھیلا ہوا
ترے خیالوں کے اس میں ہرن اتار دوں کیا

زندگی پاس مرے بیٹھ کبھی
تجھ سے کرنی ہیں ضروری باتیں

یہ جو ہریالی خد وخال میں ہے
زہر نس نس میں اتارا ہے میاں

ترے پیالے میں جاکر نہ ضایع ہو جائوں
سو پیش و پس میں ہوں خود کو انڈیلتا ہوا میں

کبھی میں قیس ہوں اطہر تو ہوں کبھی فرہاد
مرا ہی ذکر ہے دنیا کی سب کتھائوں میں

اطہر ضیاء کی پہلی شعری تصنیف ابجدِ عشق کی شاعری اپنے معروضی اور موضوعی حوالوں سے ایسا خوبصورت، خوشگوار اور متوازن تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہے جو دیرپا بھی ہے اور دور رس بھی، طویل بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ یہ شاعری دراصل نئے آدم، نئی زمین، نئے استعاروں، نئی علامتوں، نئی خوشبوؤں، نئے رنگوں، نئے مزاجوں،نئے دکھوں اور نئے موسموں کی داستان ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ابجدِ عشق کی شاعری نہ صرف ایک گوشہ نشین اور درویش صفت شاعر کی آمد کا اعلان کرے گی بلکہ اردوشاعری کے روشن مستقبل کا اشاریہ بھی ثابت ہوگی۔

ہزار راتوں پہ پھیلی ہے داستان مری
یہ دل کی بات ہے اور اتنی مختصر نہیں ہے

نوٹ: مرزا اطہر ضیاء ۱۹ فروری ۱۹۸۱ء میں پیدا ہوئے اور کینسر کے ہاتھوں ۱۲ مئی ۲۰۱۸ کو وفات پا گیا۔ یہ مضمون ان کی حیات میں لکھا گیا تھا۔ یقین نہیں ہو تا کہ ایسا جوان رعنا اتنی جلدی اس دنیا سے چلا گیا۔

مرگ مجنوں پہ عقل گم ہے میرؔ
کیا دوانے نے موت پائی ہے

Facebook Comments Box
ادب نامہادبی بیٹھکاطہر ضیاءشاعرشاعری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں —- محمد اظہار الحق
next post
قلزم کے اس پار: افتخار ملک کا سفر نامہ —— تبصرہ: نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.