تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالممذہبی

شادی: دکھاوا یا ضرورت ——– اسماء ظفر

by Editor2 05/04/2019
written by Editor2 05/04/2019
89

نکاح ایک سنت اور مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت بندھن بھی ہے جسکی بدولت نا صرف دو لوگ بلکہ دو خاندان ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں گذشتہ دنوں بہت سی مشہور شادیوں نے سوشل میڈیا میں دھوم مچا کر رکھی جو مشہور سلیبریٹز کے درمیان انجام پائیں انکی اپنی بحیثیت اداکار شہرت تو وجہ تھی ہی اسکے علاوہ ان شادیوں کی مہینوں چلنے والی تقریبات اور ان میں لٹایا گیا لاکھوں روپیہ زیادہ زبان زد عام رہا ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہاں ایسی پر تعیش شادی کی تقریبات یقیناً لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن جاتی ہیں کہا یہ جاتا رہا کہ یہ لوگ رول ماڈلز ہوتے ہیں اسلیئے انہیں اپنی نجی زندگی کو بھی دوسروں کے لیئے مثال بنانا چاہیئے کیونکہ نوجوان نسل ان سے براہ راست متاثر ھوتی ھے بات تھی بھی سو فیصد درست دوسری طرف انڈیا میں ارب پتی امبانی کی دختر کی شادی بھی بین الاقوامی شہرت کی حامل رہی جبکہ بھارت میں تو عوام کا حال ھمارے ملک سے بھی گیا گزرا ھے مگر اس شادی میں پیسے کی نمائش کے سب اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے کہنے والے کہتے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ ہے وہ تو اپنی تقریبات دھوم دھام سے کرنے کا حق رکھتے ہیں چلیں مان لیتے ہیں کچھ دیر کو کہ جسکے پاس پیسہ ہے وہ خرچ کرنے کا بھی اختیار رکھتا ھے چاہے جیسے خرچ کرے مگر کیا یہ اچھا نا ھو کہ ھم اپنی محنت کے پیسے کو درست مصرف میں لائیں صرف شو بازی میں دکھاوے کے لیئے پیسہ اڑانے سے پرہیز کریں۔

گذشتہ دنوں خاندان کی چند شادیوں میں جانا ہوا کیونکہ قریبی رشتے داروں کی تھی اسلیئے بلا تکلف پوچھ بھی لیا کہ اتنے چمکتے دمکتے بینکوئٹ اور دس بارہ ڈشز اور دولہا دلہن کے زرق برق ملبوسات کی مد میں کتنا خرچ ھو گیا میں سنکر دنگ رہ گئی کہ لاکھوں روپے تو صرف بینکوئٹ کے ہی دیئے گئے پھر پرتکلف عشائیوں کا تو نا ہی پوچھیں ایک عام آدمی بھی اب مجبور ھے لاکھوں روپے خرچ کرنے پر کیوں؟ صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ؟ گھر والوں کی ناک نیچی ھونے کے ڈر سے ؟ یا صرف کیونکہ میرے پاس روپیہ ھے تو میں کیوں نا اپنے بچوں کی خوشی میں لگاؤں ؟

کتنی خوبصورت شادیاں ھوا کرتی تھی لڑکیاں دنوں پہلے ڈھول لے کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور ان محفلوں میں بچے بزرگ سب ہی حصہ لیتے تھے اب تو شادیاں صرف شادی ہالز تک محدود ھو گئیں ہیں

بہت افسوس ھوتا ھے کہ لفظ خوشی کے مفہوم ہی بدل گئے ہیں کیا آج سے تیس چالیس برس پہلے لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا ؟ یا انہیں اپنے بچوں کی خوشیاں عزیز نا تھیں ؟ ایسا بلکل نہیں تھا لوگوں کے پاس پیسہ بھی تھا اور اپنی اولاد سے محبت بھی اتنی ہی تھی جتنی آجکل کے والدین کو ھے مگر انہیں خوشی کا اصل مفہوم پتہ تھا خوشی دکھاوے میں نہیں ھوتی خوشی تو اپنے پن میں ھوتی ھے خوشی تو ان بے لوث دعاؤں میں ھوتی ھے جو والدین اپنی اولاد کے لیئے کرتے ہیں اس اچھی تربیت میں ھوتی ھے جو اولاد کی تا عمر رہنمائی کرتی ھے ۔۔

کتنی خوبصورت شادیاں ھوا کرتی تھی لڑکیاں دنوں پہلے ڈھول لے کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور ان محفلوں میں بچے بزرگ سب ہی حصہ لیتے تھے اب تو شادیاں صرف شادی ہالز تک محدود ھو گئیں ہیں قریبی رشتے دار بھی گھر کے بجائے شادی ہالز میں براہ راست پہنچ جاتے ہیں گھروں میں وہ گہما گہمی جو شادی کا خاصہ ھوا کرتی تھی اب خواب سی بنتی جارہی ھے ۔۔

ھمارے پاس پیسہ تو آگیا ھے مگر افسوس اسے برتنے کی تمیز کھو گئ ھے کئ خوبصورت رسومات کی جگہ برائیڈل شاور بیچلرز پارٹی اور نا جانے کن کن خرافات نے لے لی ھے ڈھول پر گیت گاتی لڑکیاں اب انڈین میوزک پر باپ بھائ کے سامنے ٹھمکے لگاتی ہیں کہ یہ فیشن ھے کوئ برا نہیں مانتا نا باپ نا بھائ نئ تہذیب نا جانے ھم سب کو کہاں بہا لیئے جا رہی ہے اور ھم خوشی خوشی بہتے چلے جارہے ہیں خوشی پیسے کی نمائش میں نہیں ھے اپنے ارد گرد دیکھیں کتنی بچیاں بن بیاہی والدین کی دہلیز پر صرف جہیز نا ھونے کی وجہ سے بیٹھی ہیں کتنے لڑکے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر شادی کی صحیح عمر پار کر چکے ہیں آپکی یہ شوبازی کے مظاہرے ان پر کیا ستم ڈھاتے ھونگے کبھی یہ بھی سوچ لیں خوشی کا اصل مفہوم ڈھونڈیں مذہب بھی اسراف سے روکتا ھے نکاح آسان کریں تاکہ بے راہ روی کے راستے بند ھوسکیں اتنا مشکل نا بنائیں اس سنت کو سنت تو یہ ھے کہ نکاح مسجد میں ھو مگر ھم نے مسجد کو صرف عبادت گاہ کے طور پر رکھ چھوڑا ھے عیسائی آج بھی اپنے چرچ اور پادری کو عزت دیتے ہیں وہاں ایک شہزادے کی بھی شادی چرچ میں ھوتی ھے دوسری چیز طعام ھے جو نکاح کے وقت دین سے ثابت ہی نہیں ھے طعام تو لڑکے والوں کو دعوت ولیمہ میں کھلانے کا حکم ھے مگر کیا ہوتا ھے ھمارے یہاں سارا بوجھ لڑکی کے باپ پر ڈال دیا جاتا ھے معاشرے کو ان تکلیف دہ رسومات سے پاک کریں اور نکاح آسان بنائیں بے راہ روی خود ہی ختم ھو جائے گی۔ انشاء اللہ

Facebook Comments Box
انڈیابھارتبینکوئٹپاکستانرشتہرشتہ ازدواجشادیمیاں بیوینکاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ٓآقا، ادبی پیرائے میں سیرت نبویؐ ——– نعیم الرحمٰن
next post
پی ٹی آئی کا ہنی مون پیریڈ ——– عبد الخالق سرگانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.