تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عرب دنیا کے طرم خان اور جارڈ کشنر کا مقام —– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 21/03/2019
written by دانش ڈیسک 21/03/2019
177

تاریخ ہند پڑھئے تو معلوم ہو گا کہ علامہ اقبالؒ کا ’’شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر‘‘ والا کلیہ قوموں کی تاریخ کے حوالے سے کس قدر سچا ہے۔ جب مغلوں میں شمشیر اٹھانے کی خواہش کم ہوئی تو ہر حاکم اپنی جگہ پر مطلق العنان بن گیا۔ جب ان حاکموں پر شمشیر بھاری ہوئی تو کمپنی بہادر نے اپنی شمشیر نیام سے برآمد کیے بغیر ہی محض شمشیر کی طرف اشارہ کر کے ان حاکموں کے تاج اتروا لئے۔ واجد علی شاہ کی ریاست اودھ اتنی فرومایہ نہ تھی کہ ایک بھی گولی چلے بغیر انگریز کی جھولی میں گر جاتی۔ مگر واجد علی شاہ تو شادیوں میں مصروف تھے۔ ان کی تو سات سو بیگمات تھیں، ان کو تو سیڑھی پر چڑھنے کے لئے کس انتظام کی ضرورت ہوتی تھی کبھی تاریخ اودھ میں پڑھئے گا۔

ہند کی سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں سے یکدم نہیں نکلی تھی۔ پہلے مرکز کمزور ہوا اور صوبے مضبوط ہوئے، پھر صوبے بھی کمزور ہوئے اور انگریز مضبوط ہو گیا۔ پھرجنگ آزادی ہوئی اور ناکام ہوئی۔ اب انگریز مطلق حاکم تھا، مرکز مٹ چکا تھا، جو ریاستیں بچی تھیں انہیں جھنڈے پر یونین جیک لگانا تھا۔ ملکہ کا ترانہ پڑھنا تھا اور انگریز کو بھاری خراج ادا کرنا تھا۔ اب جو بھی نواب، راجہ بچا تھا اسے معلوم تھا کہ اس کی بقا اب صرف انگریز کے جوتے کے نیچے ہے۔ اس جوتے کے سایہ عافیت سے نکلنے کی صورت میں بلب گڑھ، جھجھر، فرخ آباد کے نوابوں اور دہلی کے بادشاہ کا سا عبرت ناک حال ہو سکتا تھا۔ مگر اس دور کے نواب، راجہ عیاشیوں میں مغلیہ دور کے اواخر سے ہزار گنا زیادہ ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ اب بھی بڑے بڑے بھاری القاب اپنے لئے کرتے تھے۔ اب بھی ان کے قصیدے جو تحریر ہوا کرتے ان میں ان کی تلوار کی دھار کا بڑے زور سے ذکر ہوتا تھا، اب بھی ان کی تاج پوشی پر توپوں کی سلامی ہوتی تھی۔ مگر اس ساری گھریلو ’’عظمت‘‘ کے باوجود بھی ان نوابوں راجوں کی نظریں سائل کی طرح ریذیڈنٹ بہادر کے سامنے جھک جاتی تھیں۔

پھر وہ وقت آیا کہ ہند آزاد ہوا اور پاکستان وجود میں آیا، ہند میں فوراً ہی اور پاکستان میں ایوب دور میں ان کاغذ کے بادشاہوں سے بادشاہتیں لے لی گئیں اور یہ ’’دبیر الملک‘‘ اور ’’سیف بے نیام‘‘ بڑی آسانی سے بے تاج ہو گئے اور بس اپنے محلوں کے بیچ رہنے پر ہی قانع ہو گئے۔ عرب دنیا کی اتنی بہت سی ریاستیں جن کے نام گننے سے ہی انسان تھک جاتا ہے مثلاً سعودی عرب، عجمان، دبئی، ابو ظبی، اومان، یمن، اردن، مصر، مراکش، لیبیا، جبوتی، الجبریہ، عراق، شام، لبنان وغیرہ وغیرہ سب ہی سلطنت عثمانیہ کے حصے تھے جو رفتہ رفتہ یا تو یورپی طاقتوں کے قبضے میں آ گئے یا پھر یہاں کے حکام نے انگریزوں سے ساز باز کر کے سلطنت سے بغاوت کر دی۔ جو یورپیوں کے قبضے میں تھے وہ جنگ عظیم دوئم کے بعد آزاد ہونے لگے اور جو انگریز کے ساتھ مل کر ہی سلطنت سے آزاد ہوئے تھے وہاں بادشاہتیں قائم ہو گئیں۔

سلطنت عثمانیہ کی بندر بانٹ میں آل سعود کو جزیرہ نما عرب میں خطہ حجاز و نجد اور کئی علاقے مل گئے تھے۔ مکہ اور مدینہ جو اسلام کے مرکز ہیں اب آل سعود کے ہاتھ میں تھے۔ پھر جب عربستان میں تیل نکلا تو عمومی خوشحالی بھی ان ملکوں کو مل گئی۔ اب یہ ممالک نیم مردہ تاج برطانیہ کے حلقہ اثر سے نکل کر امریکا بہادر کی جھولی میں گر گئے۔ پیسے کے ساتھ صحرا نشینوں نے عیاشی سیکھی، پھر رولز رائس بھی آئی اور فرار ی بھی اور سونے چاندی کے تخت بھی آئے اور رقاصائیں بھی۔ تابوت میں آخری کیل جب ٹھکی جب صدام حسین نے امریکا کے ہی اشارے پر کویت پر قبضہ جمایا اور سارے عالم عرب پر سکتہ طاری ہو گیا کہ سعودی، بحرینی، اماراتی، یمنی، اومانی اور قطری صدام کی فوج کا مقابلہ کیونکر کرسکیں گے۔

اب امریکا بہادر نے اپنی خدمات فراہم کیں اور عربوں نے فوراً لبیک کے نعرے بلند کئے۔ پھر امریکا نے کویت کو آزاد کرایا اور وہاں آج تک بیٹھا ہے، سعودیہ کو صدام سے بچایا اور وہاں اپنی افواج اتار دیں جو صدام کی پھانسی کے بھی تیرہ سال بعد تک وہیں بیٹھی ہیں۔ یوں امریکی قوت بالکل کمپنی بہادر کی طرح اپنے پنجے گاڑ چکی اور سارے ہی عرب ممالک امریکا کی پرسنلی اسٹیٹ بننے پر راضی ہو چکے۔ آج امریکا کا باغی کوئی عرب ملک نہیں، آج امریکا کے پنجے سے باہر کوئی عرب ملک نہیں۔ آج ایسا کوئی عرب ملک نہیں جو امریکا کو خراج نہ دیتا ہو، بس خراج کا نام بدل کر کچھ اور کر دیجئے۔ بشار الاسد کہنے کو امریکہ کے پنجے میں نہیں مگر وہ روس اور ایران کی کٹھ پتلی بن چکا۔ لبنان اب ایران اور امریکا کی بیک وقت کٹھ پتلی ہے، عراق بھی بیک وقت امریکا اور ایران کی کالونی ہے۔

اب آل سعود کے ’’سعودیہ‘‘ میں ایک نابغہ روزگار عالم پناہ، ولی عہد پیدا ہوا ہے جو بڑا آزاد خیال ہے۔ دیکھئے عورتیں گاڑی چلا ر ہی ہیں، تالیاں! شہزادہ معظم کے گہرے دوست ٹرمپ کے داماد محترم ریذیڈنٹ بہادر بلکہ وائسرائے عربستان محترم جارڈکشنر صاحب ہیں۔ وہی جارڈکشنر جنہوں نے اپنے سسر محترم ٹرمپ بہادر سے کہہ کر بیت المقدس کو اسرائیل کا وفاق قرار دلوایا اور ایسا وہ آخر کیوں نہ کریں؟ آخر وہ یہودی ہیں، نیویارک ٹائمز کے مطابق ان کے دادا، دادی، ہٹلر کے کرائے یہودیوں کے قتل عام سے بچے ہوئے یہودی تھے، ان سے شادی کرنے کے لئے ٹرمپ کی صاحبزادی کو یہودیت میں داخل ہونا پڑا۔ اب جارڈکشنر کے اشارے پر سلطان قابوس صاحب فرما رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے، محمد بن سلمان صاحب بھی فرما رہے ہیں کہ اسرائیل کو ہونے کا حق ہے، سعودی فضائی حدود اسرائیل کے لئے کھول دی گئی ہیں اور فلسطین کا مقدمہ اب عربوں کے لئے بھی ماضی کی بات ہے۔

یہ بڑے بڑے طرم خان، یہ بڑے بڑے القاب والے، یہ بھاری ناموں والے، یہ بڑے محلوں والے، یہ دولت والے، یہ تیل کے کنوؤں والے یہ سب شہنشاہ، عالی جاہ، عالم پناہ سب کے سب ٹرمپ کے عرب دنیا کے وائسرائے، ایک یہودی، ایک صہیونی، جارڈکشنر کے اشارہ ابرو پر یہ کھڑے ہو جاتے ہیں، بیٹھ جاتے ہیں، لیٹ جاتے ہیں۔ یہ تو جارڈکشنر کی مہربانی ہے کہ وہ خراج مانگ رہا ہے، تاج بھی مانگ لے تو ان میں سے کون چوں بھی کر سکتا ہے؟ کوئی بھی نہیں۔

Facebook Comments Box
Jared Kushnerابو ظبیاردنآل سعودالجبریہامریکہاومانجارڈ کشنرجبوتیدبئیسعودی عربسعودیہشامعجمانعراقلبنانلیبیامراکشمصریمن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شاعری: علامہ شبلیؔ کی نظر میں ——– امتیاز عبد القادر
next post
تصور کائنات کی تکمیل ——– ناصر فاروق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.