تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جذباتی دانشور اور حکومت: خاموشی بہتر نہیں؟ —— خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 16/03/2019
written by دانش ڈیسک 16/03/2019
104

پاکستان کی تاریخ کے ستر سالوں میں عمران خان کی واحد ایسی حکومت ہے جس نے ہمیں اور کچھ سکھایا ہو یا نہیں لیکن بزرگوں کا یہ قول سچ ثابت کیا ہے کہ جو خاموش رہا وہ فلاح پا گیا۔ شیخ سعدی نے ایک بار کہا تھا کہ میں کبھی کسی پریشانی کا شکار نہیں ہوا ہاں لیکن جب بولا تو ضرور ہوا ہوں۔ عمران خان صاحب کی حکومت نے ملک میں قائم دو پارٹی نظام کو نہ صرف تبدیل کیا بلکہ لوگوں کی اس مخصوص ذہنیت کو بھی جواب دیا جو یہ سمجھتے تھے کہ طاقت ور سے ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ الیکشن کے نتائج آنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے تحریک انصاف کی حکومت کے امکانات بڑھتے چلے گئے ویسے ہی مخالفین نے اپنے محاذ قائم کرنے شروع کر دئیے تھے۔ حکومت کو ابتدا ئی دنوں میں خالی خزانے سے واسطہ رہا اور ملک بھر میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ اپنی تقریروں اور وعدوں سے مکرتے ہوئے حکومت آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر گرما گرم تجزئیے اور تبصرے پیش کئے جانے لگے جن میں حکومت کے لتے لیے جانے لگے۔ پرانی وڈیوز ایک بار پھر نکال لی گئیں اور ہر تیسری آئی ڈی سے حکومت پر کڑی تنقید شروع ہو گئی لیکن کیا ہوا؟ تنقید کرنے والوں سے آپ سوال کریں کہ کیا حکومت آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتے ہیں یا پھر آپ کو بتانے لگ جاتے ہیں کہ بس مذاکرات ہو چکے ہیں اور خفیہ طور پر معاملات بھی طے ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کہتے ہوئے ان لوگوں کی کمزور دلیلیں اور لہجوں میں موجود بے چارگی کو بہت آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے منی بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی مہنگائی کے تجزیوں، امکانات اور غریب کی غربت کے رونے شروع ہوئے ہی تھے کہ بجٹ آ گیا۔ مخالفین اور ویب دانشوروں کو ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کے تمام تجزئیے اور تبصرے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

حکومت کے اور بہت سے کام بھی بتائیے جا سکتے ہیں لیکن سب کی یاداشت میں تازہ واقعہ بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزی کا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بھارت کے دو جہاز چار میل پاکستانی علاقے میں گھس آئے اور پے لوڈ پھینک کر فرار ہو گئے۔ اس واقعہ پر پورے ملک میں احتجاج کیا جانے لگا اور حکومت سے سوال شروع ہو گئے کہ جہازوں کو کیوں نہ مار گرایا گیا۔ حکومت کی ناکامی سے شروع ہونے والی یہ تقریر یں عمران خان کے انتخاب کو جعلی قرار دینے اور اسے ایک بزدل لیڈر ثابت کرنے پر جا ختم ہوتیں۔ ہر ٹاک شو میں یہ سوال اٹھا یا جا رہا تھا کہ حکومت نے بھارت کو کوئی جواب کیوں نہیں دیا۔ بھارت کی سرکار اور پاکستانی عوام دونوں کا خیال تھا کہ ماضی کے بے شمار واقعات کی طرح اس واقعہ پر بھی وزارت خارجہ بھارتی سفیر کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ تھمائے گی اور معاملہ سرد خانے میں چلا جائے گا۔ چائے کی پیالیوں میں جذبات کا طوفان پوری شدت سے اٹھا ہوا تھا کہ افواج پاکستان کی طرف سے بھارت کے چھے عسکری اور دفاعی مقامات نہ صرف لاک کئے گئے بلکہ ان کو انگیج بھی کیا گیا اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد بھارت کے دو طیارے بھی مار گرائے گئے۔ گلہ پھاڑتے اینکروں اور اسٹیٹس پر اسٹیٹس ڈالتے لوگوں کے منہ اس دن دیکھنے والے تھے کہ انہیں سمجھ ہی نہ آ رہی تھی کہ اب انہیں کیا کہنا اور کیا کرنا ہے۔ چند گھنٹے پہلے تک جس حکومت کی ناکامی کی فہرست مرتب کی جا رہی تھی اس نے بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسا جواب دیا کہ بے اختیار نعرے بلند ہونے لگے۔ افواج اور حکومت کے ساتھ یک جہتی کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا۔ یقینا کچھ دلوں سے کالے لوگ اس وقت بھی ایسے تھے جو حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے اور اسے سراہنے کے بجائے اپنی سیاست چمکانے کے لیے کوشاں تھے لیکن حکومت ایک ایسا قدم اٹھا چکی تھی کہ ہر شخص کے پاس زندہ باد کہنے کے سواء کچھ نہ بچا۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری نے جہاں بھارت میں غم و غصے کو ہوا دی وہیں بھارتی سرکار کو موقع ملا کہ اپنے پائلٹ کی آڑ میں وہ میڈیا پر کچھ بھڑکیں ماریں اور اپنے عوام کے دلوں کو گرمانے کی کوشش کریں۔ ایسی پریس کانفرنس سے گھنٹہ بھر پہلے عمران خان صاحب نے غیر مشروط طور پر بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کر دیا جس نے نہ صرف بھارتی جذبات کے غبارے سے ہوا نکال دی بلکہ سرحد پر موجود جنگی جذبات کو بھی بے جواز کر دیا۔

ائیس کروڑ کے ملک میں صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی ہوتا ہے لیکن لوگوں کا جذبات میں آکر فوری طور پر چائے کی پیالیوں میں طوفان اٹھا دینا اور ایک دم انتہا پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے آپے سے باہر ہوجانا اب معمول کی بات بنتی جا رہی ہے۔

جنگ ابھی پوری طرح ختم بھی نہیں ہوئی کہ پنجاب اسمبلی میں اپنی تنخواہوں اور مراعات کا بل نہ صرف پیش ہوا بلکہ پاس بھی کر لیا گیا۔ جتنی جلدی پنجاب اسمبلی کے ارکان کو تھی اتنی ہی جلدی فیس بک اور ٹوئٹر پر اسٹیٹس ڈالنے والوں کو بھی تھی۔ ہر منٹ کے حساب سے ملامتی اور مزاحمتی پوسٹیں کرنے والوں نے ماحول کو گرمانے اور حکومت مخالف ہوا بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک بار پھر نہ صرف عمران خان صاحب کی پرانی تقریروں کو ہوا لگوائی گئی بلکہ تجزیوں میں ذاتی عناد اور پرخاش بھی دیکھائی گئی۔ کسی نے یہ سوال نہ کیا کہ بھرپور اور ڈٹ کر اپوزیشن کرنے والے کیا ہوئے اور کہاں گئے وہ دعوے کہ حکومت نہیں چلنے دیں گے اور کوئی بھی بل پاس نہیں ہونے دیں گے؟ شائد تین چار دن مل جاتے تو دلوں کی بھڑاس بہتر طور پر نکالی جا تی لیکن حسب عادت عمران خان صاحب نے اپنی ہی حکومت کے خلاف نہ صرف بیان دیا بلکہ گورنر کو سمری پر دستخظ کرنے سے بھی روک دیا۔ سادگی کو ایک فراڈقرار دینے اور غریب کی حالت زار پر رونے والوں کی صورتیں ایک بار پھر دیکھنے لائق تھیں کہ ابھی ان کے الفاظ کی بازگشت نہیں تھمی، اوران کے لکھے کی سیاہی نہیں سوکھی کہ حکومت نے انہیں ایک بار پھر شرمندہ کر دیا۔

یہ بھی دیکھیئے: ‘دانشور’ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا (فیس بکی دانشوروں کی نذر) — خرم سہیل

کوئی ایک واقعہ ہو تو بتایا جائے، کوئی ایک بات ہو جس کی نشاندہی کی جائے۔ بائیس کروڑ کے ملک میں صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی ہوتا ہے لیکن لوگوں کا جذبات میں آکر فوری طور پر چائے کی پیالیوں میں طوفان اٹھا دینا اور ایک دم انتہا پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے آپے سے باہر ہوجانا اب معمول کی بات بنتی جا رہی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر شدید کمنٹس اور پوسٹیں کرنا، حکومت پر تنقید کرتے ہوئے فورا ہی اسے ناکام حکومت قرار دے دینا اورکسی بھی واقعہ کی آڑ میں دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے حکومت پر کیچڑ اچھالنا لوگوں کو پسندیدہ مشغلہ بنتا جا رہا ہے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اکثریت خود کو بہت بے باک، حق سچ کہنے والا سمجھتی ہے لیکن پورا ملک چلانا یقینا تھڑے پر بیٹھ کر باتیں کرنے سے کچھ مشکل ہی کام ہو گا کہ حکومتی سطح پر ردعمل دینے سے پہلے ہزار ہا پہلووں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن لوگ یہ باتیں کب سمجھتے ہیں۔

ابھی تک حکومت جتنی فہم اور فراست کا مظاہر ہ کر رہی ہے اور اس کی وجہ سے اقوام عالم میں جس قدر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے، تنقید کرنے والے اور جذباتی دانشور تھوڑے دنوں بعد اتنے ہی شرمندہ نظر آتے ہیں۔ اس لیے میرا مشورہ تو یہی ہے کہ کسی بھی واقعہ کے بعد حکومت کو ردعمل کے لیے مناسب موقع دیں، نہیں تو چند دن بعد آپ نے خوامخواہ شرمندہ ہی ہونا ہے اور یہ کہ اگر آپ محب وطن نہیں اور موجودہ حکومت سے ذاتی عناد اور پرخاش بھی رکھتے ہیں تو اس حکومت میں خاموشی ہی بہتر ہے، یقینابعد میں شرمندہ ہونے اور آئیں بائیں شائیں کرنے سے پہلے اختیار کی جانے والی خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredتحریک انصاف کی حکومتجذباتی دانشورخاموشیدانشورسوشل میڈٰاعمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ساجد صاحب اور مَیں ——– رشید بٹ
next post
اپنی تحریر خود لکھ لو —— سحرش عثمان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.