تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسائنسعلمیکالم

آٹو میشن ایج کی دستک اور تھری ڈی پرنٹر —— ہمایوں مجاہد تارڑ

by ہمایوں مجاہد تارڑ 22/03/2019
written by ہمایوں مجاہد تارڑ 22/03/2019
133

ایک وقت تھا جب ایک چھوٹی سی ٹیلی فون کال کرنے کو بھی ہمیں آدھ گھنٹہ پیدل چل کر نزدیکی پبلک کال آفس تک جانا پڑتا۔ وہاں اپنی اپنی باری کا انتظار کیا کرتے، تب کال کرتے۔ گھر میں ٹیلی فون کی سہولت گویا ایک سٹیٹس سِمبل تھا۔ آج اپنے بچوں کو یہ بات بتائیں تو وہ ہنس پڑتے ہیں۔ ہر گھر میں تین چار موبائل فونز اور tabs ورکنگ کنڈیشن میں اِدھر اُدھر بکھرے پڑے ہیں۔ دو چار فون ذرا خراب حالت میں پڑے بھی مل جائیں گے جنہیں ٹُھڈّے پڑ رہے ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح، نئی تبدیلی کی ایک عظیم لہر کسی مون سون آب و ہوا کی مانند بس دو چار برسوں میں ہی پوری دنیا میں پھیل جانے کو ہے۔ عنقریب ہم لوگ دو روز میں ختم ہو جانے والی فون بیٹری والی بات پر کھکھلا کر ہنس دیا کریں گے کہ نینو ٹیکنالوجی والی بیٹری سالہا سال چلا کرے گی۔ بھرپور امکان ہے کہ سمندروں کا پانی میٹھا ہو جائے گا، آلودگی کا قلع قمع کر دیا جائے گا، زلزلے میں تباہ شدہ مکانات منٹوں میں اٹھ کھڑے ہوں گے، اور کینسر ایسا موذی مرض یہ ٹیکنالوجی حیاتِ انسانی سے اٹھا کر یوں باہر پھینک دے گی گویا کبھی اس کا وجود تک نہ تھا۔ آپ کے کپڑے اور حتٰی کہ جوتے انسانی آواز ریکارڈ کرنے اور اس کی فلم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ گویا رسالتمآبؐ کے وہ الفاظ اب حقیقت کا روپ دھار لینے کو ہیں کہ گھر میں رکھی استعمال کی بالکل عام سی اشیا آپ کو بتا دیا کریں گی کہ آپ کی غیر موجودگی میں یہاں کیا باتیں ہوئیں، کیا کام ہوئے۔

لمحہِ موجود میں ہمارے لئے اِس بات کا تصوّر ذرا محال ہے کہ حیاتِ انسانی کے شب و روز عنقریب آٹومیشن ایج سے انقلاب آشنا ہونے کو ہیں۔ روبوٹِکس، اینی میشن، تھری ڈی پرنٹر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لدی پھدی آٹو میشن ایج کی ہوائیں بھی ہمارے ہاں کسی اُجلی صبح اِسی طوفانی رفتار سے چلنے لگ پڑیں گی جیسے سَن 2000 سے ذرا آگے یہاں موبائل فون کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔ رابطوں کی دنیا کو facilitate کرنے کی” گلی سڑی” سروس پر مامور مغرور تاجروں کے لگے لگائے سیٹ اَپ ویران ہونے لگے۔ اوپر سے انٹرنیٹ کا بم پھٹا تو ای میل سروس اور چیٹ میسنجرز نے تباہی مچا دی۔ رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ پی سی اوز، فون بوتھ نیٹ ورک، خط و کتابت کے ذرائع، ٹیپ ریکارڈرز، ویڈیو پلیئرز، پریس اور اخبارات کے اجزائے ترکیبی سے بنی زندگی کا ٹائی ٹینک جہاز نئی ٹیکنالوجی کے آئس بَرگ سے ٹکرا گیا تھا، اوربہ سُرعت غرق ہونے لگا۔ اب ایک بار پھرہم ٹیکنالوجی کے اگلے مرحلے میں قدم رکھنے کو ہیں۔ بہت سی ایسی اشیا کی ہوا اکھڑنے کو ہے جنہیں for granted لے لیا گیا تھا۔

 

یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک نوجوان تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے اپنے مَن پسند ڈیزائن پر مبنی، خوب زرق برق، ایک عدد پیئر آف جاگنگ شُوز نکال کر پہنتا ہے، اور پھر چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے۔ آج چند سطریں تھری ڈی پرنٹر کے موضوع پر۔
یہ بھی ایک پرنٹر ہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایک عام پرنٹر کی طرح یہ کاغذ پر پرنٹ نہیں کرتا۔ کمپیوٹر سکرین پر آپ جو کچھ ڈیزائن کریں گے اُسے تھری ڈی ماڈل بنانا کہا جائے گا۔ بس کوئی بھی شے آپ ڈیزائن کریں، یا کسی ویب سائٹ پر سے بنے بنائے ڈیزائن ڈاون لوڈ کر لیں، پرنٹر کیساتھ مطلوبہ میٹیریل جوڑیں، اور پھر وہ پورا ماڈل پوری جسامت یا وجود کیساتھ باہر لے آئیں۔ نہ کہ محض اس کی تصویر۔ اب اِس پرنٹر سے بندوق یعنی gun تک پرنٹ کر لی گئی ہے جو بالکل ٹھیک کام کرتی ہے۔ مزید، عمارت بنانے کا سامان، ہتھیار، زیور اور برتن تیار کیے جاچکے ہیں۔ میڈیکل فیلڈ میں اوزار بنانے، حتی کہ مصنوعی اعضا کی تیاری کا کام بھی شروع ہو چکا ہے

سنا ہے دبئی میں الیکٹرونکس کی نمائش کے دوران بھی تھری ڈی پرنٹر عام لوگوں کے لئے رکھے گئے تھے۔ قیمت ابھی زیادہ ہے، اس لئے کم کم ہی خریدا گیا۔ تاہم، اِس کی ہوا اب چلنے کو ہے۔ تا حال یہ پرنٹر اڑھائی لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کا ہے۔ مستقبل قریب میں اس کی قیمت کم ہو جائے گی۔ جب ہر کوئی با آسانی خرید سکے گا تو لوگ کوئی چیز خریدنے مارکیٹ جانے کی بجائے گھر پر ہی بنا لیا کریں گے۔ جیسے کچن اور واش روم کا سامان۔ سٹیشنری، بیگز، جوتے، ڈرائنگ روم کا سامان وغیرہ۔ البتہ ایسی ویب سائٹس اور کمپنیز اب خاصی تعداد میں موجود ہیں جو آپ کی مطلوبہ شے آپ کے من پسند ڈیزائن پر تیار کر کے دے رہی ہیں۔ اگر آپ گوگل کریں تو پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ سہولت بہ آسانی دستیاب ہے۔

تِھنک، ڈیزائن، اینڈ پرِنٹ کے سلوگن کیساتھ یہ مشین اب معجزے دکھا رہی ہے۔ انٹر نیٹ سے تھری ڈی ماڈل ڈاؤن لوڈ کر کے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے پرنٹ نکال لینا کچھ عرصہ میں ‘معجزہ’ نہیں رہے گی بلکہ ایک عام سی بات یعنی روٹین بن جائے گی۔ پرنٹر کیساتھ آپ نے پلاسٹک اور ایلومینم ایسے میٹیریئل سے بنی تاروں والی چرخیاں اٹیچ کرنا ہوں گی۔ یہ تاریں پرنٹر اپنی جانب کھینچ کھینچ ٹائپ رائٹر ایسی ٹک ٹک آواز کیساتھ کام کرنا شروع کر دیتا ہے، اور پھر مطلوبہ ماڈل رفتہ رفتہ باہر نکال دیتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ماڈل مکمل ہو کر آپ کے ہاتھ آجاتا ہے ــــ جیسے: ایک پرس، ہاتھ میں پہننے والے کڑے، عینک، چائے والی ٹرے، کپ، گلاس، برتنوں والا سٹینڈ، بچوں کے کھلونے، گٹار وغیرہ۔

پچھلے برس ایک چونکا دینے والی خبر نظر سے گذری تھی۔ نیچے کاپی پیسٹ کر رہا ہوں۔
“واشنگٹن کے شہر سیاٹل کی مقامی عدالت نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے آتشیں اسلحہ ڈاؤن لوڈ کرنے والے سافٹ ویئر کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم واشنگٹن ڈی سی سمیت 8 بڑی ریاستوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سنایا گیا۔ امریکی عدالت نے سافٹ ویئر پر عارضی پابندی عائد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس طریقے سے اسلحے تک شرپسند افراد کی رسائی آسان ہوجائے گی اور آتشیں اسلحہ کے بلیو پرنٹ غلط ہاتھوں میں جانے کا احتمال بھی رہے گا۔ یعنی کوئی بھی تھری ڈی پرنٹر سے اسلحہ بنانے کا طریقہ با آسانی ڈاؤن لوڈ کرکے اس سے آتشیں ہتھیار بناسکتا ہے۔ “

Facebook Comments Box
Automation Agefeaturedآٹو میشن ایجپریسٹیلی نارخود کار مشینفیس بکموبائلویڈیوویڈیو پلیئرزیوٹوب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

previous post
تصور کائنات کی تکمیل ——– ناصر فاروق
next post
ایں سعادت بزور بازو نیست ——– علی عبد اللہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.