84
جنگ اور وقت پہ اٹھا رکھو
سنا ہے جنگ کے بادل امڈ رہے ہیں
سرحدوں پہ فوجیں صف آرا ہیں
ان کے سینا پتی غرا رہے ہیں
ہم بھی انہیں دھمکا رہے ہیں
قریب ہی کہیں اک شاعرِ بے نوا
کہتا ہے بابا سنو میری صدا
بھلا یہ وقت ہے لاشیں گرانے کا
لوگوں کو یوں ایندھن بنانے کا
ابھی تو آ غازِ موسمِ گل ہے
ابھی تو بادِ نو بہار چلی ہے
ابھی تو نئے پھول کھلےہوئے ہیں
حیرت ہے آپ جنگ پہ تُلے ہوئے ہیں
ماہِ مارچ ہے، جنگ نہ کرو ابھی
محبت زدوں کو تنگ نہ کرو ابھی
بہتر ہے اسے اور وقت پہ اٹھا رکھو
اناوٰں کی آ گ کو ابھی بجھا رکھو
تباہی سے موسمِ گل کو بچا رکھو
حیرت ہے آپ جنگ پہ تُلے ہوئے ہیں
ابھی تو نئے پھول کھلے ہوئے ہیں
بہتر ہے جنگ اور وقت پہ اٹھا رکھو
نوید الہی
Facebook Comments Box
