تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہسماجیعلم و ادبعلمیکالم

اس ملک کا ہیرو: ٹیپو سلطان —- مدثر سلیم میاں

by دانش ڈیسک 28/02/2019
written by دانش ڈیسک 28/02/2019
206

پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس ملک کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے۔ ٹیپو سلطان کی شخصیت اور زندگی پر مدثر سلیم کی مختصر تحریر۔

گیدڑ کے سوسال سے بہتر شیر کا ایک دن ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان جیسے لوگ مرا نہیں کرتے، کیوں کہ شہید مرتا نہیں۔ میسور کی فضاؤں میں اگر آپ کبھی جانے کا ارادہ کریں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ وہاں کے ذرے ذرے میں ٹیپو سلطان اور ان کا لہو بول رہا ہے۔ جنرل بارڈن کی افواج جب ٹیپو سلطان سے مراٹھ اور نظام ہار کے گئیں انہوں نے سوچا کہ صرف ایک ہی طریقہ ہے اس عظیم جرنیل کو ہرانے کا۔ تو انہوں نے واپس جاتے ہوئے ہندوؤں کے مندر تباہ کر دئیے کہ ہندو ٹیپو سلطان کے خلاف ہوجائیں۔ لیکن اسلام کے اس عظیم جرنیل نے مندروں کو دوبارہ سے تعمیر کروایا۔ ٹیپو سلطان مستعد اور جدید انداز میں افوا ج کو عسکری ہتھیاروں سے لیس رکھتے تھے ان کو اسلام کا پہلا میزا ئل مین کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ دشمن کا سیل قلعہ پٹن کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا۔ سلطانی لشکر قلعہ میں محصور مدافعت کی آخری اور ناکام جدو جہد میں لگا ہوا تھا۔ اس نازک وقت میں جب کہ سارا کار خانہ درہم برہم ہو چکا تھا۔ سلطان نے مشیت ایزدی پر تو کل کرکے کسی اور جگہ منتقل ہونے کا ارادہ نہیں کیا اور حمیت سلطانی نے آخر وقت تک جان لڑا دینے کا دلیر انہ عزم کر لیا۔ چنانچہ سلطان نے دارالسلطنت کے تمام حصار زمرہ خاص کے سرداروں کے سپرد کر دئیے اور قمرالدین خاں کو انگریزوں کی رسد لانے والی اور ان کی کمک پر آنے والی فوجوں کا راستہ روکنے کے لیے متعین کر دیا۔

شہزادہ فتح حیدر کو تمام لشکر دے کر  روانہ کر دیا۔ سلطان کی شہادت صرف ایک شخص کی شہادت نہیں تھی بلکہ یہ دکن میں مسلمانوں کی صد سالہ عظمت دشوکت کی شہادت تھی۔ اس شکست کے بعد مسلمانوں کا جو حال ہو ا اور جس جس طرح ان کے مال و متاع ناموس و آبرو کو تاراج کیا گیا وہ بہر حال ناقابل بیان ہے۔ مختصر یہ کہ انگریز وں نے قلعہ کے سارے مقامات پر قبضہ کرلیا۔ جو فرانسیسی وہاں مقیم تھے وہ سلطان کے محل کے سامنے نکل آئے اور انہوں نے فاتح فوج پر تین بار گولیوں کی باڑ چلا کر اپنے آپ کو اسیر کردیا۔ سلطنت خداداد کے جتنے خزانے اور مال و اسباب اور سلطان کا بے حساب و بے شمار اثاثہ سارے کا سارا ان اجنبی لیٹروں کے ہاتھ لگ گیا۔ انگریز سپاہی جو غذا او ر غلہ کی کمی کی وجہ سے فاقوں مر رہے تھے کہ ان کے لشکر میں گرانی کا یہ حال تھا کہ ایک آثار چاول دو روپیہ میں بکری ایک ران تین روپیہ میں گھاس کا ایک پشتارہ دوروپیہ میں ارزاں سمجھا جاتا تھا سر نگاپٹن کی لوٹ سے چشم زدن میں تو نگر ہوگئے۔ سلطان کے شہزادے، چھوٹے بھائی کریم اور ان کی اہلیہ کو اسیر کر لیا گیا۔ البتہ فتح حیدر سلطان جو بحثییت میر لشکر تمام فوج، فیل خانہ اور کافی ساز و سامان لے کر۔ کرکی کٹہ کے نواح میں پڑاؤ ڈ الے ہوئے تھا اس واقعہ کے بارے جان کر وہاں سے کوچ کر کے چن رائی پٹن پہنچ گے۔

انگریزوں نے بڑی تلاش وجستجو کے بعد شہید کے لاشہ کو مقتل سے اٹھوایا اور پالکی میں لاد کر رات کو تو شک خانہ میں رکھا۔ صبح (۴مئی ۱۷۹۹ء) کو تمام لٹرکوں، خدمت گاروں اور ندیموں کو ان کا آخری دیدار کرادیا اور جب یقین ہوگیا کہ سلطان کی لاش یہی ہے تو دفن کر دینے کی اجازت دے دی۔ اعزہ نے سلطان کی تجہیز و تکفین کر کے لعل باغ کے شاہی مر قد میں نواب مرحوم کے دائیں جانب اس شہید با تمکین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاک کے سپرد کر دیا۔ بہ یک گردش فلک وہ ساراتزک واحتشام اس طرح نا پیدہوگیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ سچ ہے یہ جہان ناپائیدار ایک شعبدہ سے زیادہ کچھ نہیں اس کا آغاز عبرت اور س کا انجام حسرت ہے۔ نظام مملکت میں سلطان سے عموماً ایک غلطی سرزد ہوتی رہی کہ انہوں نے جس کسی کو اس کی خدمت سے معزول کیا پھر تنبیہ کے بعد اس خدمت پر اسے مامور بھی کردیا۔ سلطنت خداداد کے زوال میں اور اسباب کے علاوہ ان کی غلطی کا بھی بڑا حصہ ہے۔ حالانکہ نواب مرحوم حیدر علی خاں اس معاملہ میں بڑے سخت تھے انہوں نے جس کو بھی خدمت سے علیحدہ کیا پھر اسے اس خدمت پر مامور نہیں کیا اسی وجہ سے ماتحتوں کی مجال نہ تھی کہ کسی شوخی یا انحراف کا تصور بھی کریں۔ سلطان کی عادت تھی کہ فرامین اور احکامات پر اپنے ہاتھ سے پوری بسم اللہ خط طغری میں لکھتے۔ پھر ان کے نیچے دستخط کیا کرتے تھے۔

مٹ تو گئے پر انگریزوں سے کیا نہیں سمجھوتا، گیدڑ کے سو سال سے بہتر شیر کا ا ک دن ہوتا!

سر نا جھکیا بھلے ہی دے دی جان، زندہ باد ٹیپو سلطان زندہ باد۔

http://daanish-pk.stackstaging.com/23876

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قائداعظم پر فرضی اعتراضات اور جھوٹے دعوی کا جواب —– محمد عبدہ
next post
ایک فقیر منش چیف جسٹس: جواد ایس خواجہ —– نجیبہ عارف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.