تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

انور مقصود صاحب! اب بڑے ہو جائیے —– اظہار الحق

by دانش ڈیسک 26/02/2019
written by دانش ڈیسک 26/02/2019
77

برسوں کا نہیں، صدیوں کا احساس کمتری بھارتی حکومت کو چین کا سانس نہیں لینے دیتا۔

تقسیم کے بعد پہلی بار آر ایس ایس کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔ بی جے پی کیا ہے؟ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے زعم میں ایک ہزار سال کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتے ہیں۔ پاکستان پر بس نہ چلے تو بھارتی مسلمان تو ان کے پنجے میں ہیں۔ وہ بھاگ کر کہاں جائیں گے؟

آر ایس ایس کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے شیوا جی اور افضل خان کے واقعہ سے بڑھ کر کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا۔ افضل خان نے شیوا جی کے گرد گھیرا تنگ کیا تو چالاک شیوا جی نے مذاکرات کا ڈول ڈالا۔ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ شرط یہ تھی کہ فوج دور ٹھہرے گی۔ خصوصی خیمہ تانا گیا۔ بلند قامت افضل خان کے سینے میں پستہ قد شیوا جی نے گلے ملتے وقت خنجر بھونکا اور یوں ’’فتح‘‘ حاصل کرلی۔ ضمیر جعفری نے کہا تھا ؎

سچ کہتا تھا افضل خان
تری پورہ تا راجستان
مر گیا ہندو میں انسان

مجسم فریب شیوا جی کو اورنگ زیب ’’موش کوہستانی‘‘ کہتا تھا۔ پہاڑی چوہا، آج شیوا جی کی معنوی اولاد افضل خان کے بلند قامت جانشینوں کو للکار رہی ہے۔ اس سے پہلے پستہ قد شاستری کا بلند قامت ایوب خان سے ٹاکرا تاریخ دیکھ چکی ہے۔

ہم یہاں پورے بھارت کی بات نہیں کر رہے۔ آر ایس ایس کی بات کر رہے ہیں، اس لیے کہ انصاف ہر حال میں ہونا چاہیے۔ لاکھوں ہندو آر ایس ایس کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے مگر پورے مجمع کو ہراساں کرنے کے لیے ایک سانپ کافی ہوتا ہے۔ کیا تعصب کی اس سے بدتر بھی کوئی مثال ہو سکتی ہے کہ ہندو پنڈت جو یوپی کا حکمران ہے، الٰہ آباد کا نام تبدیل کر رہا ہے۔

پاکستانی فوج صرف اکھنڈ بھارت کے راستے میں رکاوٹ نہیں، بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں دیوار ہے۔ مضبوط اور ٹھوس دیوار۔ میرے منہ میں خاک، پاکستانی عساکر نہ ہوتے تو بھارتی فوج کے لیے بحیرہ قلزم تک راستہ صاف تھا۔ یو اے ای، بحرین اور اومان ترنوالہ ہوتے۔ان ریاستوں کی حیثیت بھارت کے سامنے وہی ہوتی جو بنگلہ دیش، بھوٹان، سکم اور نیپال کی ہے۔ ہر ریاست میں بھارتی ’’مشیر‘‘ براجمان ہوتے جو اسی طرح حکمرانی کرتے جیسے برٹش انڈیا میں نام نہاد ریاستوں کے درباروں میں انگریز ریزیڈنٹ کیا کرتے تھے۔

مگر پاکستانی افواج، بھارت کے لیے کباب میں ہڈی ثابت ہوئیں۔ احساس کمتری کی بدتر مثال کیا ہو گی کہ کئی گنا بڑا بھارت، کئی گنا وسیع تر رقبہ، کئی گنا زیادہ مضبوط معیشت، کئی گنا بڑی آرمی، ایئرفورس اور بحریہ مگر بھارت کو ہر وقت پاکستانی افواج کا کھٹکا رہتا ہے۔ چوہے کو شیر کا تاج پہنا دیا جائے تو چوہا ہی رہتا ہے۔ بھارت کی افواج ایک ہزار گنا بھی تعداد میں زیادہ ہو جائیں، پاکستانی افواج کا ڈر پھر بھی ان کے لاشعور سے کبھی نہیں جائے گا۔

مسلمان سلاطین کا عہد شروع ہوا تو بھارتی پہنتا کیا تھا۔ صرف لنگوٹی، یہ پاجامہ، یہ کرتا اور یہ واسکٹ جو آج مودی پہن کر منہ سے آگ اگلتا ہے، یہ لباس بھی تو مسلمانوں ہی کی دین ہے۔ یہ مغل اشرافیہ کا لباس ہے۔ گاندھی اپنے اصل لباس کی طرف پلٹا۔ مودی کو بھی چاہیے کہ مسلمانوں کا لباس اتار پھینکے، لنگوٹی باندھ کر دنیا میں گھومے اور فخر سے بتائے کہ یہ ہے اصل بھارتی ’’ملبوس‘‘ یہی لباس پہن کرآگ اگلتے ارکان پارلیمنٹ لوک سبھا میں تشریف لائیں۔ بھارتی کپڑا سی ہی نہیں سکتے تھے۔ ان کے پاس قینچی نہیں تھی۔ اسی لیے دھوتی ہے یا لنگوٹ یا ساری، سب ان سلے کپڑے ہیں۔ سکندر اعظم کے ہمراہ کاریگر یونان سے آئے تو ان کے پاس قینچی تھی۔ اس کے بعد ہی ہندوستان میں کپڑے کاٹنے اور سینے کا رواج پڑا۔

پاکستانی افواج سلامت رہیں ؎
وادی قیس سلامت ہے تو انشاء اللہ
سربکف ہوکے جوانان وطن نکلیں گے

پس نوشت:۔ ایک عرصہ سے کراچی میں ایک مخصوص گروہ ’’لٹریری فیسٹیول‘‘ کا ناٹک رچا رہا ہے جس میں زیادہ پھوں پھاں انگریزی لکھنے والوں کی ہوتی ہے یا مخصوص لسانی گروہ کے بزرجمہروں کی۔ ان فیسٹیولز میں یادش بخیر انور مقصود کی خوب پذیرائی ہوتی ہے۔ انور مقصود کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس میں پنجابیوں اور سندھیوں کی تحقیر نہ ہو۔ ان دنوں ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انور مقصود شریف برادران، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، ملک ریاض، آصف زرداری، مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کا خوب خوب مذاق اڑاتے ہیں مگر حیرت ہے کہ انہوں نے کبھی الطاف حسین کا ذکر نہیں کیا جو تقریر کرتے ہوئے مضحکہ خیز نقلیں اتارتے ہیں۔ گانے گاتے ہیں اور ہر ممکن اور ہر ناممکن حرکت کرتے ہیں۔ انور مقصود کو الطاف حسین تو دور کی بات ہے، فاروق ستار کا مذاق اڑانا بھی گوارا نہیں۔ دیکھئے، اقبال کے حوالے سے پنجابیوں کی تضحیک کس طرح کر رہے ہیں۔

’’اقبال نے جو پنجابی بولی اس میں نہ آزادیٔ افکار نہ تجدید کا پیغام نہ علم و دین نہ حیات ابدی نہ آگاہی نہ مغربی تہذیب نہ خودی کی تربیت نہ ٹیپو سلطان کی وصیت صرف ایک پنجابی مسلمان جو مرضی بولے جارہا ہے۔‘‘

آگے چل کر اقبال کو پنجابی دہقان اور محمود غزنوی کو لوٹ مار کرنے والا ثابت کیا گیا۔

تعجب ہے کہ سٹیج پر بیٹھے ہوئے جغادری ادیب سب تالیاں پیٹ رہے تھے۔ یہ اور بات کہ ان میں کوئی سندھی دانش ور تھا نہ پنجابی ادیب۔ ویسے وزن بیت پورا کرنے کے لیے احمد شاہ ایک دو اصحاب کو شمال سے بلا لیا کرتے ہیں۔
یہ احمد شاہ کون ہیں؟ ادب میں ان کا کوئی حصہ نہیں – شاعر ہیں نہ ادیب – ہاں شاعر اور ادیب ان کے گھٹنے ضرور چھوتے ہیں کہ بھائی لٹریری فیسٹیول میں ہمیں بلالو۔ پھر یہ ادائے خاص سے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون شاعر ہے اور کون ادیب۔ امجد اسلام امجد اور مستنصر حسین تارڑ کو بلانا ان کی مجبوری ہے کہ نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اسلام آباد میں ایک بار ایسے ہی ایک فیسٹیول میں تارڑ صاحب کو صفر ثابت کرنے کی پوری کوشش کی مگر حاضرین تقریب نے ساتھ نہ دیا۔ منہ کی کھائی۔

کراچی میں ہونے والے ان مخصوص لٹریری فیسٹیولز میں کچھ ’’ادیب‘‘ دساور سے بھی منگوا کر سٹیج پر بٹھائے جاتے ہیں۔ انہیں اردو دنیا میں یوں تو کوئی نہیں جانتا مگر یہ ان کی پہچان ضرور بن گئی ہے کہ مندوب مستقل ہیں۔

ماتم کرنا چاہیے اس مائنڈ سیٹ پر جو ادب کے نام پر لسانی تعصب اور صوبائی امتیاز کا زہر بکھیر رہا ہے۔ انور مقصود کے نظریات کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ پاکستانیت اور اسلام انہیں کبھی نہیں بھائے۔ مگر تضحیک کرنی ہو تو سب کی کیجئے۔ شریف برادران، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، مراد علی شاہ اور قائم علی شاہ کے علاوہ کوئی اور کیوں نہیں نظر آتا؟ عینک کا نمبر بدلوا لیجئے۔ اپنے اردگرد دیکھئے۔ تضحیک کا سامان وافر میسر ہے مگر عینک کے شیشے نہیں بدلیں گے تو سوائے پنجابیوں اور سندھیوں کے کوئی نہیں نظر آئے گا۔ لندن چلے جائیے، وہاں تو ایک صاحب اتنے مضحکہ خیز بیٹھے ہیں کہ ساری دنیا ان پر ہنس رہی ہے۔ تعجب ہے آپ کو پنجاب کے شریف برادران اور سندھ کے سیدوں کے سوا کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔

حضور! انور مقصود صاحب!
Grow up!
اب بڑے ہو جائیے!

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس موضوع پہ کسی جوابی تحریر کے لئے دانش کے صفحات حاضر ہیں۔
Facebook Comments Box
featuredادبی فیسٹیولانور مقصودکراچی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قومیں کیسے بنتی ہیں؟ —– محمد نعمان کاکاخیل
next post
پاکستان میں ٹھپہّ سازی کی صنعت : تقابلی جائزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شوکت نیازی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.