تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

’’دروازے‘‘ از عرفان جاوید ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبد اللہ

by علی عبداللہ 15/02/2019
written by علی عبداللہ 15/02/2019
90

عرفان جاوید صاحب کی کتاب ’’دروازے‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کتاب کا مطالعہ کرنے سے قبل محسوس ہو رہا تھا کہ شاید یہ بھی کوئی عام سادہ خاکوں پر مبنی کتاب ہو گی جسے بس ایک نظر دیکھ پڑھ لیا جائےگا، مگر حیرانی کا ایک شدید جھٹکا اس وقت لگا جب کتاب کو کھول کر کچھ خاکےپڑھے۔ گو کہ اس کتاب میں چند منتخب شخصیات کا ہی تذکرہ ہے، مگر عرفان جاوید صاحب کے انداز بیاں نے مجھے دوران مطالعہ گردوپیش سے بے نیاز کر دیا اور میں شخصیات کے احوال میں یوں کھو گیا جیسے وہ اور میں آمنے سامنے ہی ہوں۔ اس کتاب میں مصنف نے شخصیات کا چناؤ بڑے محتاط انداز میں کر کے کتاب کو نہ تو اتنا ضخیم کیا ہے کہ مطالعہ کرتے کرتے انسان اکتا جائے اور نہ ہی یوں مختصر کہ کتاب کھولتے ہی ختم بھی ہو جائے۔ انداز بیاں اور حالات و واقعات قارئین کو اپنے ساتھ روانی سے بہاتے چلے جاتے ہیں اور ایک ہی خاکہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔

دروازے نامی یہ کتاب دراصل ایک دروازہ ہی ہے جس سے داخل ہو کر آپ دلچسپ طرز تحریر، بہترین الفاظ کے چناؤ اور معروف ادبی شخصیات کے ان پہلوؤں سے آشنا ہو سکتے ہیں جس سے شاید آپ پہلے واقف نہ ہوں۔ ایک اور چیز جو اس کتاب کو مزید دلچسپ بناتی ہے وہ بین الاقوامی ادیبوں اور ادب کے دیگر سکندروں کے الفاظ اور تصنیفات کا بر محل تذکرہ ہے، جو قاری کو صرف شخصیات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ عالمی ادب کی لامحدود فضا َمیں اڑان بھرنے کا ایک بہانہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ادب کی دنیا کے یہ دروازے مطالعے کے پیاسوں کو نئے نخلستانوں کا نظارہ کروا کر انہیں مطالعہ کے سفر پر چلتے رہنا سکھاتے ہیں۔ ٹالسٹائی کے ’’اینا کرانینا‘‘، گرٹروڈسٹین کے ناول ’’دا میکنگ آف امیریکنز‘‘، میلان کنڈیرا، جیفری آرچر، برٹرینڈ رسل، رسول حمزہ توف اور دستووسکی وغیرہ کے اقتباسات اور اقوال کا استعمال خاکوں کو ایک نیا رنگ عطا کرتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کو مصنف نے ’’کاہن‘‘ کا نام دیا ہے اور ان کے تذکرے میں لکھتے ہیں کہ، ’’لوگ دو طرح کی فطرت و مزاج کے ہوتے ہیں۔ ایک گر بہ فطرت اور دوسرے سگ مزاج۔ بلی جگہوں اور مقامات سے وابستہ رہتی ہے جبکہ سگ کی فطرت لوگوں سے وابستگی ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو قدیم اجڑی حویلیاں پرانے شہر اور محلے اپنی گرفت میں رکھتے ہیں جبکہ دوسری طرح کے لوگ، گزر گئے لوگوں کے بیچ زندہ رہتے ہیں۔ یقیناً تارڑ کی ناڑو ماحول اور مقامات سے بندھی ہے۔ مقامات کا ناسٹیلجیا اس کی ذات کے پاتال سے یوں ابھرتا ہے جیسے کنویں میں دی گئی صدا اس کی دیواروں سے سر ٹکراتی گونجتی باہر کو ابل آتی ہے۔ اگر وہ لکھتا نہ ہوتا تو شائد زندہ نہ ہوتا۔ اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجھے دوبارہ زندگی گزارنے کا موقع ملے تو میں کیسی زندگی کی خواہش کروں تو میں بلا تردد کہہ دوں گا تارڑ جیسی‘‘۔ اسی طرح عبداللہ حسین کا ذکر کرتے ہوئے صاحب کتاب نے انہیں ’’ باگھ‘‘ کا نام دیا ہے۔ عبداللہ حسین کہتے تھے کہ ’’میرے مرنے کے بعد بھلے میری کتابیں کچرے دان میں پھینک دی جائیں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے قطع نظر، ایک تحریر کا درست مقام وقت ہی متعین کرتا ہے‘‘۔ مصنف نے جب عبداللہ حسین سے محبت کے معاملات پر گفتگو کرنے کی کوشش کی تو وہ اس بارے خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں ایک باوقار آدمی ہوں اور وہ خواتین بھی باعزت ہیں۔ ایسے معاملات کا بیان اور اظہار سستا پن اور اوچھی حرکت سمجھتا ہوں‘‘۔ ایک اور جگہ مصنف عرفان جاوید لکھتے ہیں کہ، ’’عبداللہ حسین مذہب کے حوالے سے تشکیک کا شکار نہ تھے۔ اوائل عمری میں تقسیم کے فسادات نے ان کا ذہن اس حد تک متاثر کیا کہ وہ مقامی و تاریخی اور مذہبی اخلاقیات کے محور سے آزاد ہو کر بنیادی انسانی آفاقی اقدار کے مدار میں چلے گئے، یک زوجگی کو قطعی طور پر انسانی فطرت کے خلاف قرار دیتے اور اسے عمر قید سے تعبیر کرتے رہے‘‘۔ ’’دوسرا آدمی یعنی جاوید چودھری کے بارے مصنف یوں رقمطراز ہیں،” جاوید چودھری کی تین تخلیقی اور پیشہ ورانہ جہتیں ہیں۔ پہلا وہ جو صرف کالم لکھتا تھا، قاری کے اور مصنف کے درمیان پردہ اسرار کی وجہ سے خاص احترام کا حامل تھا۔ دوسرا جو ٹیلی ویژن پر آیا۔ اسرار کی دھند چھٹنے کی وجہ سے گو اس کی پہنچ پہلے سے بڑھی فاصلہ گھٹا سو تنقید اور نکتہ چینی کا ریچھ لمبی نیند سے بیدار ہوا۔ تیسرا درجہ سوشل میڈیا کا روپ ہے۔ اس میں کالم نگار آئیڈیالسٹ جاوید چودھری، کل تک کے قصہ گو نقاد و اینکر جاوید چودھری کی جگہ دوراندیش کاروباری صحافی کا ظہور ہوتا ہے جس کی نظر میں ایسے سینکڑوں معروف صحافی و دانش ور ہیں جو کسمپرسی میں فوت ہوئے اور غربت کی اجتماعی قبر میں دفن ہیں‘‘۔

ان شخصیات کے علاوہ ’’دروازے‘‘ عطا الحق قاسمی، احمد فراز، احمد ندیم قاسمی، اے حمید، تصدق سہیل اور نصیر کوی جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کی جانب بھی کھلتے ہیں جو قاری کو کبھی مصنف کے انداز تحریر میں کھونے پر مجبور کرتے ہیں اور کبھی واقعات اور حقائق کی جانب راہ دیتے ہیں۔ عرفان جاوید کے یہ خاکے، خاک نہ ہونے کی صلاحیت لیے ادبی شخصیات کی زندہ تصویر محسوس ہوتے ہیں۔ ادب اور خاکوں کی دنیا میں یہ کتاب ایک روشن ستارے کی مانند ہے جو ادب اور مطالعے کے مسافروں کو ایک نئے راستے کی جانب گامزن کرتی ہے۔

Facebook Comments Box
احمد فرازاحمد ندیم قاسمیادبادبی میلہاردواردو ادباے حمیدتصدق سہیل اور نصیر کویسکندرعرفان جاویدعطا الحق قاسمیعلی عبد اللہمستنصر حسین تارڑمصنف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
جلتے دیوں کی جھیل سا آسمان —– نجیبہ عارف
next post
ہم تحقیق و ایجاد سے دور کیوں ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فارینہ الماس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.