تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

عورت کی عزت اور مامتا کا خون ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبیح الدین شعیبی

by دانش ڈیسک 06/02/2019
written by دانش ڈیسک 06/02/2019
72

“کوئی جگہ نہيں دے رہا تھا اب جگہ مل گئ ميری انعم کو۔”
کراچی کی شکیلہ نے اس نے اپنی بيٹی کو، پھول جيسی بيٹی کو سمندر ميں پھينک ديا اور اب اس طرح کے عجیب و غریب بیان دے رہی ہے۔ وہ قاتلہ ہے، کسی اور کی نہيں اپنے جگر کے ٹکڑے کی، سزا کی مستوجب ہے جو قانون اسے دے گا۔

ہر جرم کے پيچھے سبب ہوتا ہے، محرک ہوتا ہے، بيٹی کو قتل کرنے کی کيا وجہ رہی ہو گی، اس پر تنقيد کرنے والے وہ وجہ سننا نہيں چاہتے مبادا قاتل سے ہمدردی انہيں شريک مجرموں ميں شامل نہ کر دے۔ مگر کسی جرم کا تدارک کرنا ہے تو اس کے اسباب پر غور کيے بغير کوئی راستہ نہيں۔

جس معاشرے ميں بيٹی کی پيدائش سے پہلے ہی ماں کو گھر بچانے کے لالے پڑے ہوں وہاں شکيلہ کی بيان کردہ کہانی کو سچ ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ کہتی ہے بيٹی کو باپ نے قبول نہيں کيا اور ماں بيٹی دونوں کو گھر سے نکال ديا، ميکے والوں نے تو گويا خود اس کے جنازے کے انتظار ميں دروازے بند کر رکھے تھے۔ شکيلہ نے سمندر کی گود کو خود سے محفوظ سمجھا اور بيٹی کو اس کے حوالے کر ڈالا اور خود زندہ لاش بن کر سوالوں کا سامنا کر رہی ہے، اس کے ليے لفظ بے معنی اور وضاحتيں بے سود ہيں۔ پھر بھی دنيا سوالوں کے تير برسا رہی ہے۔

شکيلہ ايسا سوچنے پر کيوں مجبور ہوئی، کن حالات اور عوامل نے اسے ساحل سے سمندر ميں دھکيلا، خاندان والے کيا کر سکتے جو انہوں نے نہيں کيا، انہيں کيا نہيں کرنا چاہيے تھا؟ شکيلہ کے پاس سمندر سے پہلے کيا آپشنز تھے۔ کوئی دوسری شکيلہ ايسے حال ميں ہو تو کيا کرے، کہاں جائے ؟

ارے ہم نام کے انسانوں کی کيا بات کريں، کبھی جانوروں کا اپنے بچوں سے پيار ديکھيے، اولاد کی جان لینے والی ماں کو قاتل کہنے والوں کو ایک پل ٹھہر کر سوچنا ضرور چاہئے قاتل کو قاتل معاشرہ بناتا ہے، تو ماں اس جرم کی اکیلے ذمہ دار کیسے ہو گئی۔

ايدھی اور چھيپا کے جھولے، برنيوں کے ويلفيئر ٹرسٹ، سرکاری يتيم خانے، مفت قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے، کئی اين جی اوز موجود ہيں مگر شايد سمندر جيسی مہربان نہيں، تبھی تو کراچی جيسے آباد گنجان شہر ميں کوئی شکيلہ کی درست رہنمائی نہ کر سکا، کوئی ہاتھ پکڑ کر بھلے اپنے گھر نہ لےجاتا، راستہ تو دکھا ديتا۔

ديگر جرائم کے مقابلے ميں خودکشی ايک انتہائی پيچيدہ جرم ہے، يہ کسی انسان کے اپنے ہاتھوں قتل ہے جس پر کوئی باشعور انسان کبھی آمادہ نہيں ہوتا۔ اس ذہنی کيفيت کا درست تجزيہ اس حال سے گزرے بغير ممکن نہيں اور خدا سب کو اس حال سے محفوظ رکھے، ماں کے ہاتھوں ننھی بچی کا قتل تو خود اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ خود قربان ہو جاتی ہے اولاد پر آنچ نہيں آنے ديتی۔ ميں ماں نہيں بيٹا ہوں، اس کے پيار نے مجھے يہی سکھايا ہے۔ ميں ماں نہیں دو ننھے بچوں کا باپ بھی ہوں، اولاد سے محبت کيسی ہوتی ہے جانتا ہوں، ارے ہم نام کے انسانوں کی کيا بات کريں، کبھی جانوروں کا اپنے بچوں سے پيار ديکھيے، اولاد کی جان لینے والی ماں کو قاتل کہنے والوں کو ایک پل ٹھہر کر سوچنا ضرور چاہئے قاتل کو قاتل معاشرہ بناتا ہے، تو ماں اس جرم کی اکیلے ذمہ دار کیسے ہو گئی۔

شکيلہ نے ميڈيا سے بات کرتے ہوئے اپنب تين صاحب ثروت اور تعليم يافتہ بہنوں کا ذکر بھب کيا اور بتايا کہ انہوں نے بيچ منجدھار ميں پھنسی اپنی بہن کی کوئی مدد نہيں کی۔ بہنوں کے پاس اس کی کوئی وجہ ہو گی اور وہ وجہ کسی بھی بچی کی جان سے زيادہ بڑی نہيں ہو گی۔

ننھی انعم کی لاش ملنے کے بعد واٹس ایپ پر تصویر موصول ہوئی، لاکھ چاہتا تھا نہ دیکھوں کسی دوست نے اچانک سامنے کر دی، ننھا ایلان کردی یاد آگیا جسے شام کی سرزمین چھوڑنا تھی دنیا چھوڑ گیا، انعم کے لیے بھی اس کے اپنوں نے زمین تنگ کر دی تھی۔ واقعی سمندر کا دل بہت بڑا ہوتا ہے۔ پوليس انسپکٹر غزالہ جنہوں نے ميڈيا کو بچی کی لاش ملنے کی اطلاع دی، انہوں نے زندہ بچی کی تلاش ميں ناکامی پر انتہائی افسوس کا اظہار کيا، اس سے زيادہ دکھ ان کے اس جملے ميں تھا، “ہم عورت کو عزت کب ديں گے۔”

شکیلہ کو سزا دیجئے، معافی دیجئے، دوا دیجئے یا علاج کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عورتوں کو عزت دینا بہت ضروری ہے، انہیں قبول کرنا شروع کریں، جگہ دینے کے بارے میں سوچیں، شاید ہم کسی اور انعم کو بچا سکیں۔

Facebook Comments Box
انعمانعم کا قاتلایدھیایدھی ہوماین جی اوزبرنی ٹرسٹبيٹی کو سمندر ميں پھينک دياچھيپاچیپاشکیلہکراچیکراچی سمندرلاشميڈيامیسیجواٹس ایپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
صوبائی خزانے کا پرنالہ —— لالہ صحرائی
next post
خواجہ سرا: ایک مظلوم طبقہ ۔۔۔۔۔ ثوبیہ بتول

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.