تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسائنسسماجیعلمیکالم

ڈیپریشن کی وجوہات اور علاج ۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 09/02/2019
written by لالہ صحرائی 09/02/2019
111

اس موضوع پر احمد جاوید صاحب کا ایک مضمون خفقان کے نام سے دانش پر چھپا تھا، یہ گفتگو اسی مضمون کی شرح و تلخیص اور کچھ اضافی تفہیم پر مبنی ہے۔

ڈیپریشن کا بنیادی عنصر:
سڑک پر دو گاڑیوں کے ٹکرانے کی آواز آئے تو اس ماحول میں موجود ہر فرد کا خوفزدہ ہو جانا ایک فطری امر ہے لیکن اس خوف کو فوری طور پر ڈسچارج بھی ہو جانا چاہئے۔

لہٰذا جو حضرات جائے حادثہ کی طرف مڑ کے دیکھتے ہیں اور خود کو خطرے سے باہر پا کر مطمئن ہو جاتے ہیں وہ ہمیشہ آزاد طبع اور نارمل رہتے ہیں۔

البتہ کچھ لوگ دیر تک محتاط ہو کے چلتے ہیں، کچھ لوگ گھر آنے تک اس بات کو نہیں بھول پاتے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اس کے بعد وہ جب بھی سڑک پر آتے ہیں انہیں ہر تیز رفتار گاڑی دیکھ کے اسی خطرے کا احساس دامنگیر ہو جاتا ہے، اس مستقل احساس کو آگورا۔فوبیا کہتے ہیں۔

آگورا فوبیا کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ کھلے ماحول میں موجود خطرات کا خوف محسوس کرنا، بازار میں موجود خطرات کا احساس سبھی کو ہوتا ہے جو اپنی حفاظت کیلئے چوکنا رہنے کا تقاضا تو کرتا ہے مگر اس سے خوف کھانا ضروری نہیں لیکن حساس لوگ حوادث کے نتائج دیکھ کر خائف ضرور رہتے ہیں۔

ڈیپریشن کا دائرہ کار:
یہ خوف جب نفسیاتی حد سے بڑھ جائے تو متاثرین کو کھلے ماحول میں باقائدہ گھٹن کا احساس ہونے لگتا ہے بلکہ دوران سفر ٹریفک جام ہوجائے یا کسی انتظار میں محصور ہونا پڑے تو انہیں بریتھ۔لیس۔نیس، دل پر دباؤ، ماحول میں خود کو اجنبی محسوس کرنا، یا جانا پہچانا ماحول اجنبی لگنا اور قریب المرگ یا نیم غنودگی جیسی کیفیات بھی محسوس ہونے لگتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ امراض ان کے اندر موجود نہیں ہوتے کیونکہ جیسے ہی وہ اس ماحول سے نکل کے محفوظ مقام یا گھر پہنچ جائیں گے یہ سب کیفیات رفع ہو جائیں گی لیکن اس ماحول کے اندر وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی خود کو سنبھال نہیں پاتے حالانکہ اسی ماحول میں اردگرد کے لوگ اینجوائے کر رہے ہوتے ہیں یا نارمل رہتے ہیں۔

اس فوبیا کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم جس کلچر میں رہ رہے ہیں، وہ بھی ہر دم نت نئے کاروباری و سماجی چیلنجز اور خوف و خدشات میں گھرا ہوا ہے، بیشک اس دور کے انسان کی تعلیم، شعور اور شخصی قابلیت بھی ہم پلہ مقدار میں بڑھی ہے لیکن اس نظام کے اندر خود کو مینٹین کرتے کرتے وہ حد سے زیادہ تنہائی اور حساسیت کا بھی شکار ہوا ہے جس کے نتیجے میں اکثریت کی حالت وہی ہے جو سڑک پر ایک حادثہ دیکھ کے آگورا فوبیا میں مبتلا ہونے والی کی ہو جاتی ہے، فرق صرف میدان کا ہے، ایک انسان بازار کے معاملات پر گھٹن کا شکار ہوتا ہے تو دوسرا اپنے کاروباری اور سماجی معاملات میں کسی نقصان کے خوف سے ہر دم گھٹن، افراتفری اور تنہائی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔

جس طرح کسی سوگوار ماحول میں ایک شرارتی بندہ بھی سنجیدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اسی طرح کسی ماحول کے مستقل اثرات بھی انسانی سوچ اور رویہ تبدیل کردیتے ہیں، اسلئے جدید دور پرفتن ماحول کے اندر رہنے والوں میں ڈیپریشن ایک وسیع طبقے کا مشترکہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

آگورا۔فوبیا، یاسیت اور ڈیپریشن ایک ہی قسم کی چیزیں ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ دکھ درد کے مارے لوگ یاسیت کا شکار ہوکر اپنا دائرہ محدود کرلیتے ہیں لیکن اس دائرے کے اندر اپنے روزمرہ کے کام بیدلی سے ہی سہی مگر باآسانی انجام دے لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے خود کو بہرحال ایک جگہ پر مطمئن کرلیا ہوتا ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک بندہ کیچڑ میں چلنے پر مجبور ہو اور بادل نخواستہ وہ چلتا چلا جائے۔

اس کے برعکس بازار کے خطرات سے ڈرنے والے اور کاروباری ماحول میں خوف کا شکار رہنے والے خود کو کہیں مطمئن نہیں کر پاتے اور اپنے اپنے ماحول میں اترتے ہی ایک اندرونی خلفشار کا شکار ہوجاتے ہیں، جو آناً فاناً ایک اعصابی تناؤ، گھٹن اور خوف پیدا کردیتا ہے، ان کی مثال ڈھلوان پر چلنے والے کی طرح سے ہے جو چند قدم چل کے لڑھکنے لگتا ہے پھر کہیں سیدھی جگہ پر قائم ہوجاتا ہے اور کچھ آگے جا کے پھر سے پھسل جاتا ہے۔

ہر وقت مارکیٹ میں نت نئے پینک، اپنے سروائیول کے خوف، ایسا نہ کیا تو ویسا ہوجائے گا، دوسروں کیساتھ تقابلی جائزہ لیکر آگے بڑھنے کیلئے بے پناہ محنت کے فریمورک اور اپنے کاروباری و سماجی نظام میں موجود افراد کی مشکلات سے نبردآزما ہوتے ہوتے انسان بلآخر اتنا تھک جاتا ہے کہ اب ہر پینک میں بجائے مقابلہ کرنے کے الجھ جاتا ہے، یا خوف کھا جاتا ہے یا پھر کنارہ کشی کو بہتر خیال کرنے لگتا ہے۔

ڈیپریشن کا علاج:
احمد جاوید صاحب کے نزدیک یہ بیماری نہیں بلکہ انسان کی فکری گروتھ کا نتیجہ ہے، اس گروتھ کی وجہ سے بندے کو زندگی میں جتنا بڑا دائرہ کار درکار ہوتا ہے اتنا بڑا آزاد دائرہ اسے ملتا نہیں، نتیجۃً وہ خود کو ایک گھیراؤ یا قفس میں مقید محسوس کرتا ہے، یہ احساس جتنا گہرا ہوگا ڈیپریشن اتنا ہی زیادہ بڑھے گا۔

اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی تعلیم، سماجی فہم اور تخلیقی قوت کی بنا پر دن بدن مادی اور سماجی طور پر جتنا آگے بڑھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ آپ کی مخصوص صلاحتیں بھی اتنا ہی آگے بڑھ جاتی ہیں اور پھر انہی کی بنیاد پر آپ مزید آگے بڑھتے ہیں گویا یہ ایک نیچرل فینومینا ہے جو دن بدن وسعت پذیر رہتا ہے اور انسان کو عام آدمی کی سطح سے وقت کیساتھ ساتھ اوپر لیجاتا رہتا ہے۔

جب انسان عام آدمی کی سطح سے اوپر اٹھتا جاتا ہے تو وہ اپنے گھر، دفتر یا سماج میں خود کو اجنبی محسوس کرتا ہے کیونکہ انسان ہمیشہ اپنی ذہنی سطح کے موافق لوگوں میں خوش رہتا ہے یا ذہنی ہم آہنگی کے دائرے میں بہتر طور پر ایڈجسٹ کرتا ہے، لیکن عام سطح سے اوپر اٹھنے کے بعد جب اپنی طرح سوچنے، سمجھنے، گفتگو کرنے اور معاملات کو ڈیل کرنیوالے لوگ وہ اپنے ارد گرد نہیں پاتا تو وہ خود کو اس دائرے میں اجنبی محسوس کرتا ہے، اتفاق سے جو لوگ اس کے ہم مزاج ہوتے ہیں وہ بھی اپنے اپنے دائرے میں محصور ہوتے ہیں اسلئے ایکدوسرے کو کمپنی نہیں دے پاتے۔

لہذا اپنا اور دوسروں کا فکری، سماجی اور معاشی بوجھ اٹھانے والا جب اپنے ہی لوگوں کے درمیان خود کو اجنبی سمجھے تو اس سے پیدا ہونے والی گھٹن ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے جسے ہم ڈیپریشن کہتے ہیں، گویا یہ ایک فکری گہرائی کا شاخسانہ ہے جسے ایگزاسٹ نہیں ملتا۔

ایسا بندہ اپنے آپ کو خوش رکھنے کیلئے یا اس ڈیپریشن سے نکلنے کیلئے کوئی بھی اچھی یا بری مصروفیت اختیار کرے خواہ بار بار عمرہ کرنا یا مجرے دیکھنا ہی کیوں نہ ہو مگر بات پھر بھی نہیں بنتی کیونکہ انسانی شخصیت کے اندر پیدا ہونے والا وہ خلاء اپنی جگہ موجود رہتا ہے جو اس گٹھن کا باعث بنتا ہے۔

ابھی بھی بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو پھر یوں سمجھ لیں کہ ایک قابل اور لائق فائق آدمی جو سماج کی گاڑی کھینچنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہو خواہ اس کا رول اپنے گھر تک محدود ہو، خاندان تک یا معاشرے کے کسی بڑے سرکل تک ہو وہ سب کیلئے ایک ڈسٹ۔بن کی طرح ہوتا ہے، لوگ آتے ہیں اس کے سامنے اپنا رونا روتے ہیں اور اس کے ہاتھوں اپنا مسئلہ حل کرا کے چلے جاتے ہیں لیکن خود اسے کوئی ایسا قابل بندہ نظر نہیں آتا جو اس کیلئے بھی ڈسٹ۔بن کی حیثیت رکھتا ہو، جو اس کے اپنے دکھ سن سکے، اس کے اندر موجود خوف و خدشات کو رفع کرسکے، لہذا اپنی سماجی جہدِ مسلسل میں حاصل ہونے والے تفکرات وہ اپنے اندر ہی لئے پھرتا رہتا ہے، جو بلآخر اسے ڈیپرپشن سے متعارف کرا دیتے ہیں۔

ہم نے شروع میں یہی ڈسکس کیا تھا کہ خوف کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے مگر اسے فوری طور پر ڈسچارج ہونا چاہئے، فوری نہیں تو تھوڑی دیر بعد یا گھر پہنچنے تک، لیکن جب یہ ڈسچارج نہ ہو پائے تو جیسے عارضی سوگوار ماحول ایک سنجیدہ رویہ پیدا کر دیتا ہے اسی طرح ٹینشن بھرے ماحول کے مستقل اثرات بھی انسان کے اندر نفسیاتی ہیجان کا ایک نیا رویہ پیدا کر دیتے ہیں۔

اس مسئلے کا سادہ سا علاج یہ ہے کہ انسان علمی، فکری، مادی، سماجی اور معاشی سطح پر اپنی قابلیت کے مطابق بیشک ہمہ جہت سعی اور گروتھ کرتا رہے مگر وہ اپنا بنیادی تعلق زمین اور عام آدمی سے بہر صورت برقرار رکھے، یعنی جہاں اسے اپنا انٹیلیکچول کردار ادا کرنا ہے وہاں بیشک سقراط بن جائے لیکن اس کے بعد وہ اس انسانی سطح پر واپس آجائے جس پر سب ساجھے گامے اور ماجھے جیتے ہیں۔

یا پھر یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے دفتر جاتے وقت بندے کی تیاری بہت اعلیٰ نوعیت کی ہوتی ہے لیکن گھر آکے وہ سادہ سا لباس پہن لیتا ہے، اسی طرح ٹاسک ٹو ٹاسک انسان کو اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہئے مگر اس کے بعد اسی انٹلیکچول ذہنی سطح پر ٹِکے رہنے کی بجائے اسے عام انسانی موڈ میں واپس آجانا چاہئے۔

اس کی دو مثالیں ہیں جو آپ کی دیکھی بھالی ہیں، دنیاوی درجے کی مثال یہ ہے کہ بہت سے لوگ مادی طور پر تو بہت ترقی کر جاتے ہیں لیکن سماجی طور پر وہیں کے وہیں رہتے ہیں، یہ اپنی دکان یا کارخانہ تو بڑا کرتے رہتے ہیں لیکن گھر اور لائف اسٹائل بڑا نہیں کرتے بلکہ ان کا لباس، بود و باش اور میل جول وہی پہلے کی طرح سادہ سا رہتا ہے بلکہ وہ اپنا محلہ تک نہیں چھوڑتے، یہ لوگ اس بیماری سے واقف بھی نہیں ہوتے۔

دوسری مثال سچے درویشوں کی ہے جو ایک طرف واصل بااللہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف بوریا پر بیٹھتے ہیں اور وہ بھی عام لوگوں میں، ان کے پاس بیٹھ کے لوگوں کو سکون ملتا ہے کیونکہ وہ اندرونی خلفشار کا شکار نہیں ہوتے، خلفشار کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں جو فطرت سے انحراف کرتے ہیں۔

معروف انسانی رویے کی بنا پر اگر ترقی کے بعد اپنی جگہ اور سوشل سرکل بدلنا نہایت ضروری ہوتا تو درویش کبھی انسان کے ساتھ کلام نہ کرتے بلکہ یہ اپنی ذہنی اور علمی حیثیت و کیفیت سے ہم آہنگ ایک علیحدہ سوسائٹی بنا کر عام آدمی سے اسی طرح دور رہتے جس طرح ہاورڈ سے پڑھا ہوا ایک ملٹی۔بلئین۔اینٹرپرائزز کا سی۔ای۔او ہائی سوسائیٹی میں رہنا پسند کرتا ہے۔

انسانی رویئے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ چار پیسے آتے ہی ہر ترقی پزیر فرد کی دوستیاں، جگہ اور سوشل سرکل بدل جاتا ہے، اس میں بذات خود کوئی برائی نہیں ہے بلکہ برائی اس پیکج کا وہ غیر معروف حصہ ہے جس کا احساس نہیں ہوتا اور وہ چیز فطرت سے انحراف ہے۔

احمد جاوید صاحب نے یہ کہا ہے کہ فرد کی علمی گہرائی جتنی بڑھتی ہے، اس کی تنہائی اور گھٹن بھی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، وجہ وہی ہے کہ وہ اپنی انتہائی سطح اور عام انسانی فطرت کے درمیان ٹوگل toggle نہیں کر پاتا بلکہ اسی اونچائی پر کھڑا ہو کے کسی اگلی منزل کو کھوجنے لگتا ہے۔

احمد جاوید صاحب نے اس کا جو حل بتایا ہے وہ بہت پرفیکٹ ہے کہ انسان اپنی علمی، فنی، مادی، سماجی، معاشی اور روحانی قابلیت میں چاہے جتنی بھی ترقی کر جائے اسے اپنے اطراف میں موجود خارجی ماحول کیساتھ ہم آہنگ رہنا بہت ضروری ہے۔

گویا ڈیپریشن سے بچنے کیلئے انسان کو اپنے فکر و عمل کے دو حصے کرنے ہوں گے، پہلے حصہ میں اپنے ذوق کے مطابق اپنی دینی، دنیاوی، مالی یا علمی افزائش کیلئے وہ جیسے چاہے اپنی مرضی کے ٹارگیٹ منتخب کرے اور اپنی قابلیت کے بہترین استعمال سے ان کا حصول بھی ممکن بنائے، اسے آپ ٹوگل۔اپ یا پرواز کا نام دے لیں۔

دوسرا حصہ اپنے آپ کو ری۔فیول کرنے کیلئے ٹوگل۔ڈاؤن یا لینڈ کرنے کا اپنائے، یعنی خود کو فطرت سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے عام آدمی کی سطح پر واپس ضرور آئے اور زندگی کو اینجوائے کرے۔

انبیاءاکرامؑ ہمیشہ سادہ زندگی گزارتے تھے، اور ان کے ماننے والے بھی اسی سطح پر رہتے تھے، اسلئے بوقت ضرورت وہ اپنے گھر کا سارا سامان بھی خیرات کیلئے پیش کر دیتے تھے کیونکہ تاجرانہ امارت رکھتے ہوئے بھی جس لائف اسٹائل پہ وہ رہتے تھے اس میں یہ سارا سامان زائد از ضرورت لگتا تھا، لیکن جب آپ کے لائف اسٹائل کا معیار اونچے سے اونچا ہوتا رہے گا تو کھربوں کی جائیداد بھی ضروریات کیساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پائے گی لہذا آپ اس دوڑ سے کبھی باہر نہ نکل پائیں گے اور نتیجۃً زوال کے خوف سے آگے بڑھتے رہنے کی دوڑ میں خلفشار کا ہی شکار رہیں گے۔

ڈیپریشن کوئی جسمانی بیماری نہیں بلکہ یہ فکر کی ایک ہیجان انگیز کیفیت ہے جو مستقبل کے خدشات یا پھر تنہائی کے خلاء سے پیدا ہوتی ہے، اس کیفیت کو ختم کرنے کیلئے توکل کے جذبات کو مضبوط کرنا اور انسانی ماحول میں انسیت پیدا کرنا بہت ضروری ہے تاہم ضروری ہو تو طبی علاج بھی کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھ ڈالیے: خودکشی کی خواہش پالتے سرکاری ملازم Suicide Ideation —- محمد مدثر احمد
Facebook Comments Box
Dipperessionآگورا۔فوبیااحمد جاویدجسمانی بیماریخفقانڈاکٹرڈپریشنڈیپریشن کا علاجعلاجغنودگیکلچرکلینککمپنیکنسلٹنٹلالہ صحرائیمرگینرسنفسیاتہسپتالیاسیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
مرزا اطہر بیگ : ایک گفتگو (۳) —– نجیبہ عارف
next post
احمد اقبال: معروف اور سینئر کہانی کار سے ایک انٹرویو

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.