تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگردیگرسیاسیعلم و ادبعلمیکالمکلچرکلچر، آرٹ

پاکستان میں تہذیبی کش مکش کے ستر سال —– نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 01/02/2019
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 01/02/2019
120

پاکستان کی تہذیب کیا ہے؟ یہ سوال ستر برس سے ہمارے اجتماعی تشخص کا اہم مسئلہ بن کر موجود رہا ہے۔

میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ سات آٹھ منٹ کے اس دورانیے میں آج اس مسئلے پر کوئی قطعی اور مسکت بات کہہ گزروں گی۔ ایک تو اس لیے کہ جس نکتےپر پاکستانی قوم کے اہم ترین دماغ، جن میں محمد حسن عسکری، فیض احمد فیض، ڈاکٹر تاثیر، سلیم احمد، سراج منیر، سبطِ حسن، ڈاکٹر سید عبداللہ، شیخ محمد اکرام، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وحید قریشی، سید محمد تقی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر ممتاز حسین وغیرہ تفصیل اور دلیل سے بحث کر چکے ہوں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو خوب اچھی طرح جانچنے پرکھنے کے بعد بھی کسی ایسے متفقہ نتیجے تک نہ پہنچے ہوں جسے بنیاد بنا کر اگلا قدم اٹھایا جاتا، اس مسئلے پر مجھ جیسے طالب علم کاکچھ کہنے کی جرأت کرنا کسی خوش گمانی کا نتیجہ ہو تو ہو، احتیاط کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اپنی کم علمی اور کم فہمی کے ادراک کے باوجود اگر آج کچھ عرض کرنے حاضر ہوئی ہوں تو صرف اس لیے کہ تہذیب کا مسئلہ کسی ایک نسل یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں؛ یہ ہر نسل، ہر ذہنی، سماجی اور معاشرتی سطح کے فرد کا براہ راست مسئلہ ہے اس لیے کہ تہذیب اشیاے صرف کی قبیل سے تعلق رکھنے والی کوئی ایسی شے نہیں، جسے ہم چاہیں تو استعمال کریں اور نہ چاہیں تو نہ کریں۔ تہذیب ہم میں سے ہر ایک کی اجتماعی اور انفرادی شناخت کا مسئلہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک، خواہ اس کا تعلق کسی اصلی یا نقلی دانشور گروہ سے ہو، یا سڑک پر جھاڑو دینے والے خاکروبوں کی جماعت سے، تہذیب کا حصہ ہوتا ہے۔ تہذیب ہمارے انفرادی وجود کے ذریعے منعکس ہوتی ہے۔ ہم سب وہ پرزم ہیں (میں نے منشور کا لفظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا، اس سے کسی سیاسی جماعت کے جھوٹے وعدوں کی بو آتی ہے) جن کے اندر سے گزر کر تہذیب کی ست رنگی روشنی اپنی جلوہ دکھاتی ہے۔

میں نے اپنی گزارشات کی بنیاد اس سوال پر نہیں رکھی کہ ہماری تہذیب کی اصل بنیادکیا ہے؟ ارضی ہے یا سماوی؟ ہماری تاریخ موہنجو ڈرو سے شروع ہوتی ہے یا محمد بن قاسم کے حملے سے، ہم پچیس ہزار سال قدیم ہیں یا صرف ستر سال پرانے بلکہ نئے، بلکہ نئے نکور؟ نہ اس بات پر غور کیا ہے کہ ہماری تہذیب کیا ہونی چاہیے؟ ہمیں کس شناخت کو اپنانا اور کس کو ترک کرنا چاہیے؟ چاہیے کا سوال تو تب پیدا ہوتا جب تہذیب کو کوئی رخ یا سمت عطا کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا۔ اصل میں تو انسانی تہذیبیں وقت کے تیز رفتار سیلاب میں ایک منہ زور دھارے کی طرح اپنا رخ آپ متعین کرتی ہیں اور ان کی لگام کھینچنے یا تھامنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں جیسے حال ہی میں امریکہ میں ٹرمپ اور بھارت میں مودی صاحب کی سیاسی فتح نے دنیا کو متحیر کر دیا ہے۔ یہ دونوں حضرات کسی چور دروازے سے اقتدار کے ایوان میں داخل نہیں ہوئے بلکہ مخالفین کے مظاہروں اور احتجاج کے باوجود، اپنے وسیع و عریض ملکوں کی کثیر آبادی کا ووٹ لے کر آئے ہیں اور بجا طور یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے معاشروں کی اکثریتی آبادی کے ترجمان و نمائندہ ہونے کی بنا پر ان کی بدلتی ہوئی تہذیبی سمت کا دوٹوک اظہار ہیں۔

یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ تہذیب کا لفظ میں نے ایک وسیع تر مفہوم میں لیا ہے۔ میں اس مختصر وقت میں الفاظ اور ان کے مترادفات یا متبالات پر بحث نہیں کر سکتی۔ صرف یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ تہذیب سے میری مراد وہ مجموعہ ہے جس میں تمدن تاریخ اور ثقافت کے سبھی پہلو شامل ہیں۔ عوام کی سطح پر رہن سہن، نظام اقدار اور نظام مدنیت کے جملہ پہلو اس کا حصہ ہیں۔ تمام علوم و فنون اس کی ثقافتی جہت ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی، جو یقیناً کئی ہزار برس سے اس خطے کی تہذیبی پرداخت میں شامل رہی ہے لیکن تاریخ ماضی کا قصہ ہوتی ہے جو حال میں شامل ہو کر بھی حال نہیں ہوتی۔ ہمیں اس معاملے میں کوئی الجھن نہیں کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں اس کی جغرافیائی حقیقت ہمارے وجود اور ہماری شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جغرافیائی حقائق کو اگر تہذیب کا پیکر سمجھا جائے تو اس کی روح وہ اقدار ہوتی ہیں جنھیں ہم اپنے شعوری فیصلے سے منتخب کرتے ہیں اور اسی نظام اقدار کی روشنی میں اپنے وجودی پیکر کی قطع و برید کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کی تہذیب نے اپنی جڑوں سے ارضیت کا مدھ لیا ہے تو اپنے مستقبل کے لیے سماوی اڑانوں کا راستہ متعین کیا ہے۔ یعنی پاکستانی تہذیب کا پیکر ہزاروں سال پرانی تمدنی زندگی سے تیار شدہ ہے اور اس کی روح اسلام کی روحانی قوت سے اخذ کی گئی ہے اور ان دونوں کے امتزاج سے پاکستانی تہذیب کا زندہ سراپا تیار ہوا ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی تہذیب نے اپنی روحانی قوت اسلام سے اخذ کی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان میں غیر مسلم قومیتوں کی کوئی جگہ نہیں۔ اس لیے کہ اسلام کی روح کو سمجھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام ہم آہنگی اور اشتراک عمل کا داعی اور بنیاد گزار ہے اور ایک مثالی اسلامی معاشرے میں احترام آدمیت کا جو معیار ہونا چاہیے، وہی ایک اسلامی تہذیب کی روح بن سکتا ہے۔ اس سے مختلف کوئی بھی صورت حال ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا آئیڈیل نہیں ہو سکتی۔

ہماری تہذیب کی اصل بنیادکیا ہے؟ ارضی ہے یا سماوی؟ ہماری تاریخ موہنجو ڈرو سے شروع ہوتی ہے یا محمد بن قاسم کے حملے سے، ہم پچیس ہزار سال قدیم ہیں یا صرف ستر سال پرانے بلکہ نئے، بلکہ نئے نکور؟

یہاں جب پاکستانی تہذیب کا تذکرہ ہوا ہے تو اس سے مراد وہ معاصر تہذیبی صورت حال ہے جس سے ہم دوچار ہیں۔ یہ معاصر صورت حال یقیناً ایک طویل تہذیبی و فکری تاریخ کی حامل ہے لیکن صرف تاریخ ہی تہذیب نہیں ہوتی۔ اگرچہ تاریخ کسی نہ کسی صورت میں تہذیب کا حصہ ضرور ہوتی ہے۔ لیکن ہر دور میں تاریخی عوامل ایک نئے انسانی شعور کی چھلنی سے گزر کر سامنے آتے ہیں اور ایک نئی صورت اختیار کرتے رہتے ہیں جو ہر عصر کی روح بن کر جاری و ساری رہتی ہے۔ اس پس منظر میں جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ پاکستانی تہذیب کیا ہے؟ تو کئی ذیلی سوال بھی جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا پہلے تو ہمیں ان سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ جغرافیائی خطہ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، کسی یکساں تہذیبی صورت حال کا حامل نہیں ہے۔ پاکستانی تہذیب اندرونی طور پر کئی تحتی تہذیبوں کی آمیزش سے قائم ہوتی ہے۔ یہ تحتی تہذیبیں اپنے لیے مختلف تشخص پر اصرار کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے لسانی تشخص پر زور دیتی ہیں جیسے کہ سرائیکی وسیب، بعض اپنے جغرافیائی محل وقوع سے شناخت حاصل کرتی ہیں، جیسے کہ سندھی تہذیب، بعض اپنی نسلی یا قبائلی پہچان کو باعثِ عزت و توقیر سمجھتی ہیں جیسے کہ پختون اور بلوچ قوم اور بعض دساور سے درآمد شدہ اشرافیہ کلچر سے جڑے رہنا شان کی بات سمجھتی ہیں جیسے ہم پنجابی۔ ان تحتی تہذیبوں کے اندر بھی چھوٹے چھوٹے تہذیبی دائرے موجود ہیں جو ایک دوسرے سے الگ لسانی، نسلی یا علاقائی شناخت کے دعوے دار ہیں۔ بظاہر یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے۔ پاکستانی تہذیب پر اعتراض کرنے والے اکثر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں ؛ کہ کیا مصیبت ہے، پاکستان کی کوئی ایک تہذیب کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ تو چوں چوں کا مربہ ہے۔ ناقابل حل۔ یہ لوگ ان تمام تحتی تہذیبوں کو تہذیب کی دیگ کا کوکڑو ثابت کرنے پر مصر رہتے ہیں۔

لیکن اس صورت حال کو ایک اور زاویے سے بھی تو دیکھا جا سکتا ہے۔ ’’آہ کیا مصیبت ہے‘‘ کے بجائے ’’واہ! کیا بات ہے‘‘ کا زاویہ۔ اس تہذیبی تنوع کو کمزوری اور پیچیدگی سمجھنے کے بجائے اسے طاقت اور حسن کا منبع بھی تو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ اس ایک مختصر سے خطے میں اس قدر تہذیبی تنوع اس کی تقویت کا باعث ہے۔ یہاں قبائلی تہذیب کی قدیم لوک دانش بھی ہے، صوفی روایت کی ہمہ گیری بھی، اسلامی تہذیب کے الوہی اصول بھی ہیں اور مغربی تہذیب کی سمجھ بوجھ بھی۔ ایسی تہذیبی ثروت مندی کو اپنی طاقت سمجھنے کے بجائے کمزوری سمجھ لینا شایدخود اعتمادی کی کمی کا نشان ہے۔

میرے خیال میں پاکستانی تہذیب ان تمام علاقائی تہذیبوں کا مجموعی پیکر ہے جس میں ہزاروں اختلافات ہوں گے لیکن اشتراکات ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور ہمارے دانش وروں کا فرض ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے، وسیع تر مفاد میں اشتراکات کو نمایاں کریں۔ پچھلے کچھ عرصے سےپاکستان میں علاقائی، لسانی، مذہبی اورفقہی اختلافات کو اچھال کر ان میں دوریاں پیدا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، بحیثیت ایک عام پاکستانی میں اسے رد کرتی ہوں۔ میں صدق دل سے سمجھتی ہوں کہ یہ اختلافات پاکستانی معاشرے پر تھوپے جا رہے ہیں۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ میں ایک خیالی جنت کی بات کر رہی ہوں جو ہماری زمینی حقائق سے مختلف ہے۔ آپ کسی سے پوچھ لیجیے کہ کیا وہ اپنے سے مختلف مسلک یا علاقائی تشخص رکھنے والوں کو پاکستان سے نکال دینے کے قائل ہیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کی ایک بڑی اکثریت اس تہذیبی تنوع کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اسے اپنا سرمایۂ افتخار بھی سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی ایک مسلک یا لسانی و علاقائی تشخص کی بنیاد پر بننے والی جماعتیں عام انتخابات میں نتیجہ خیز کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود پاکستان کو شدت پسندی کے فروغ کا ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار دو بڑے ممالک میں مذہبی، قومی اور نسلی تعصبات پریقین رکھنے والی جماعتیں یا افراد برسر اقتدار آ چکے ہیں، پھر بھی وہ انسان دوستی کے نعرے اور دعوے کرنے سے ذرا نہیں جھجکتے۔

ہمیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ پاکستانی تہذیب اس تہذیبی رنگا رنگی اور تنوع سے سجے ہوئے مجموعے کا نام ہے جس کی کئی جہتیں یا سطحیں ہیں۔ ایک سطح عوام کی ہے، ایک سطح فن کاروں کی ہے، ایک سطح دانش وروں کی ہے، ایک سطح اشرافیہ کی ہے۔ ہر سطح پر تہذیب کی ایک مختلف تہہ منکشف ہوتی ہے لیکن کوئی ایک تہہ یا سطح اس کی مکمل پہچان نہیں بن سکتی۔ اس تہذیب کی اصل پہچان دراصل وہ بلند ترین معیارات، وہ آدرش ہیں جو ہم زندگی کے ہر معاملے میں اپنے لیے متعین کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے معاشرتی رویوں پر تنقید کرتے ہیں یا اپنے سماج کی کمزوریوں پر کڑھتے ہیں تو دراصل ہم ان سماجی معیارات، ان آدرشوں سے دور ہوجانےکے دکھ یا اندیشے کا اظہار کرتے ہیں۔ جب تک خود احتسابی کا یہ عمل زندہ ہے، ہمارے آدرش اور معیار قائم ہیں۔ یہی آدرش ہماری تہذیب کی سمت اور صورت کا تعین کرتے ہیں اور یہی ہماری اصل پہچان بنتے ہیں۔ اس لیے صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، ہمیں اپنے خوابوں سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی ضرور پڑھیئے: پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ — خالد بلغاری
Facebook Comments Box
featuredپاکستانی ثقافتپاکستانی شناختپاکستانی کلچرثقافتِثقافتی تفاوتڈاکٹر تاثیرڈاکٹر جمیل جالبیڈاکٹر سید عبداللہڈاکٹر ممتاز حسینڈاکٹر وحید قریشیڈاکٹر وزیر آغاسبط حسنسراج منیرسلیم احمدسید محمّد تقیشیخ محمد اکرامفیض احمد فیضکلچرمحمد حسن عسکرینجیبہ عارف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
آزادی صحافت: چومسکی اور ہرمن کے پراپیگنڈا ماڈل کے تناظر میں — مسرور احمد
next post
چندرا ——- شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.