تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبعلمیکالم

ادب میں حزن و ملال کا رجحان —– لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 30/01/2019
written by لالہ صحرائی 30/01/2019
111

ادب نگاری اپنی اصل میں ایک باشعور اظہارِ بیان کا نام ہے جو انسان کے متفرق معاشرتی مقدمات اور اچھے برے درپیش حالات میں انسانی جذبوں کے مختلف پہلو بیان کرنے پر مامور ہے۔

اس حساب سے تو ہر انسانی جذبہ ادبِ عالیہ میں بیان ہونا چاہئے لیکن اس کے مجموعی بیانیئے کے اندر ہمیں درد، فراق، المیے اور حزن و ملال کا واضح غلبہ دکھائی دیتا ہے، گفتگو کا یہ مدار وصل اور طرب و نشاط کے لمحے نہ ہونے کے برابر قلمبند کرتا ہے، یہ دردِ جدائی پر تو تڑپتا ہے لیکن راحتِ وصل کے بعد خاموش ہو جاتا ہے، یہ کم مائیگی کا رونا تو بہت روتا ہے مگر گراں مائیگی کا شرف بیان کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے۔

اس رویئے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متفرق موضوعات پہ باشعور بیانیہ ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ ادب اپنے معاشرتی ضمیر کا عکاس اور استحصالی رویوں کا ناقد یا کسی حد تک محتسب بھی ہوتا ہے۔

گویا یہ معاشرے کی وہ بالغ نظر ہے جو رویوں اور جذبوں کے بگڑتے ہوئے یا گھٹتے بڑھتے اخلاقی توازن کو پرکھ کے انسانی حقوق کی پاسداری کی آواز اٹھاتا ہے اور اسی آئینے میں عوامی رویئے کو درست کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

جہاں استحصال کُش ٹرینڈسیٹنگ ممکن نہ ہو سکے وہاں کم از کم سطح پر بھی یہ ایک ایسا آئینہ لے کے ضرور کھڑا ہو جاتا ہے جس میں ناپسندیدہ معاشرتی کرداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کو استحصال شکن راہوں کا بھی کچھ نہ کچھ پرتو نظر آتا رہتا ہے، اسلئے ادب کا ایک بڑا حصہ المیہ نگاری کی طرف مائل رہتا ہے۔

خوشی بیان کرنے کیلئے ادب کی اتنی ضرورت بھی نہیں ہوتی کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو جس کو حاصل ہو وہ اسے تن تنہا یا دوسروں کو ساتھ ملا کر جس طرح بھی چاہے اس کیساتھ گزران کرنے میں خود کفیل ہوتا ہے۔

خوشی سیلیبریٹ کرنے کیلئے ساتھ دینے والوں کی کمی سے فرد کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خوشی بذات خود ایک ہمت افزاء عنصر ہے جو اپنے حاملین کیلئے ایک بہترین بلکہ طاقتور ساتھی کا کردار بھی ادا کرتی ہے جبکہ المیہ ایک مخالف قوت ہے جو انسانی ہمت کو توڑتی ہے، المیئے کی تخریبی قوت میں تعمیری قوت بھی موجود ہوتی ہے مگر ہر انسان کیلئے ممکن نہیں کہ اس تعمیری قوت سے فائدہ اٹھا سکے کیونکہ ایسے انسان کی حالت وہی ہوتی ہے جو کسی عرقاب ہونے والے جہاز کے اس مسافر کی ہوسکتی ہے جو ایک تختے کے سہارے ایک بحرِ بیکراں میں کنارے کی تلاش میں ہو۔

لہذا سماج کو بنیادی خطرات المیے سے لاحق ہوتے ہیں جس میں متاثرین کے ساتھ ساتھ اردگرد کا معاشرہ بھی ڈسٹرب ہونے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک نہر جاری ہے اور زمینوں کو سیراب کررہی ہے، یہ اچھی بات تو ہے مگر خبر نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا طے شدہ کردار ادا کر رہی ہے اور متعلقہ سماج اس سے مستفیض ہو رہا ہے، لیکن جب نہر بند ہو جائے تو دیہی سماج جس کا روزگار اس نہر کی سیرابی سے وابستہ ہے وہ بلاواسطہ متاثر ہوتا ہے اور معاشرہ بھی بالواسطہ طور پہ لازمی متاثر ہوتا ہے، کسان کا دکھ فوری ہے اور معاشرے تک یہ دکھ قحط کے وقت پہنچے گا اس لئے بیدار ذہن لوگ اسے کسان کا مسئلہ سمجھ کے چپ نہیں رہ سکتے، وہ کھوج لگائیں گے کہ بندش کی وجہ کیا ہے، کوئی استحصال کر رہا ہے یا کوئی حادثہ ہوا ہے، اس کے اچھے برے سب پہلو قلمبند کئے جائیں گے تاکہ آئیندہ یہ کجی وقوع پزیر نہ ہو اور اس کے اسباب کا سدباب کرنے کیلئے مستقبل میں ہر کوئی ہوشیار اور مستعد رہے۔

بیدار اذہان، یعنی ادب نگاروں، کا یہی رویہ لین دین، پیار محبت، بے راہروی، اچھائی کے فقدان، برائی کے فروغ، سرقہ، دہشت، دھوکہ دہی، غنڈہ گردی، بے وفائی اور دیگر عوامل کی طرف بھی ہوگا جن سے انفرادی یا معاشرتی المیوں کا جنم ہوتا ہے اور یہی ازل سے معاشرتی ادب کا طریقِ بیان رہا ہے۔

جذبے ہر دور میں ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پرانے دور کی المیہ نگاری آج بھی اتنی ہی بامعنی اور پر اثر ہے جتنی اس دور میں تھی کیونکہ دل ٹوٹنے کی آواز ہر دور میں یکساں ہوتی ہے۔

وصل، طرب، طمانیت اور خوشی ادب میں اسی لئے کم ہے کہ پامالیٔ حقوق کی روک تھام جیسے فریضے کے آگے اس کام کی حیثیت محض ثانوی ہے، پھر بھی ادب میں طرب و نشاط کی کوئی ضرورت بنتی ہے تو صرف اتنی کہ ضرورتمندوں کیلئے خوشیوں کا اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کی داد و تحسین کی جائے اور ان کے کام، خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو باقیوں کیلئے مثال کے طور پر اجاگر کیا جائے۔

ایک طرف المیہ نگاری معاشرتی کرداروں کو جھنجھوڑنے کے کام آتی ہے اور دست درازوں، کم ظرفوں اور المیہ سازوں کو یہ باور کراتی ہے کہ تمھارے لئے میدان خالی نہیں کیونکہ باشعور لوگ جاگ رہے ہیں اور جگانے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف المیہ نگاری ان لوگوں کے دل کی آواز بنتی ہے جو دل شکنی کو برا جانتے ہیں مگر ان کے پاس مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہوتے اور متاثرین رنج و الم کے آنسو پونچھنے کے کام بھی آتی ہے کیونکہ دکھی انسان کیلئے سماج کی طرف سے ہمدردی کی آواز اخلاقی مدد کا کام کرتی ہے جس سے ٹوٹے ہوئے دل کو کافی حوصلہ میسر آجاتا ہے۔

ادب سے سماجی اصلاح بہت کارگر طریقے سے ممکن ہے لیکن اس کا دارومدار ادب کے پھیلاؤ پر منحصر ہے اس لئے کہ ادب برائی کے مواخذے کیلئے اپنے اصولوں کی بنیاد کسی مذہب کی بجائے عام فہم اخلاقی اصولوں پر رکھتا ہے جو کثیرالمذہبی دنیا میں ہر کسی کو قابل قبول ہوتے ہیں، ادب کا اسلوبِ بیان واعظ جیسے تحکمانہ انداز کی بجائے اپنی منظرکشی کی قوت سے دِلوں کو متاثر کرتا ہے اور انہیں بے احتیاطی، بے وفائی، قطع رحمی اور خودغرضی سے پیدا ہونے والے دکھ محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ادب کے ماخذات میں طرب و نشاط اور حکایاتِ وصل کی بجائے حکایاتِ خونچکاں کا غلبہ نظر آتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredاداسیادبحزنلالہ صحرائیملال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
شہری مسائل اور بدلتا ہوا معاشرہ —– عبدالخالق سرگانہ
next post
سیرت نگار اور خطاط مولانا محمد اسلم زاہد سے گفتگو ۔۔۔۔۔۔۔ عبدالستار اعوان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.