تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ریاست مدینہ کا حوالہ اور بدخواہوں کا استہزا —- سید مظفر الحق

by دانش ڈیسک 25/01/2019
written by دانش ڈیسک 25/01/2019
85

عجیب لوگ ہیں اپنی خواہش کو خبر اور بزدلی کو دانش و دلیری سے موسوم کرتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اپنی ناک سے آگے تک نہ دیکھنے سے قاصر بقراط برقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہفت افلاک سے باخبر ہونے کے دعویدار ہیں۔ لیکن بات صرف ناواقفیت اور لاعلمی کی نہیں بلکہ بدنیتی اور جان بوجھ کر دانستہ طور پہ گمراہی پھیلانے کی ہے۔ اگر کسی کو اختلاف رائے یا تحفظات ہیں تو کھل کر دلیل اور منطق کے ساتھ اپنے خیالات اور موقف کا اظہار کریں لیکن کونین کی گولی کو شکر میں لپیٹ کر فریب نہ دیں۔

پاکستان کی تاریخ میں قائدِ اعظم کے بعد عمران خان وہ پہلا رہنما اور حکمراں ہے جس نے ملک کے مستقبل کے لئے ریاستِ مدینہ کو بطور مثالیہ اور اپنی خواہش کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں قائدِ اعظم کے بعد عمران خان وہ پہلا رہنما اور حکمراں ہے جس نے ملک کے مستقبل کے لئے ریاستِ مدینہ کو بطور مثالیہ اور اپنی خواہش کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے علامہ اقبال نے نوجوانوں سے ستاروں پہ کمند ڈالنے کا اظہار کیا ہے یا جوئے آب کو بڑھ کے دریائے تندو تیز بننے یا تقدیر سے پہلے خدا کی جانب سے بندے کی رضا معلوم کرنے کی بات کی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ریاست مدینہ کی تشکیل کے لئے صحابہ کرام جیسا کردار اور معاشرہ بھی ضروری ہے۔ مشرکین مکّہ کے درمیان رہ کر ایسی ریاست کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ہمارے ملک میں نام نہاد لبرلز اور جمہوریت کے نام پہ استحصال کرنے والے سیاسی اجارے دار گزشتہ ستّر سالوں سے نظریہ پاکستان اور قائدِ اعظم کے کردار و اقوال کی جگالی کر رہے ہیں لیکن کسی نے ان سے قائد جیسی اصول پسندی سچائی اور اخلاص کے مظاہرے کا مطالبہ نہیں کیا۔

یہاں جسے پاکستان کو گالی دینی ہو تو بزدلی کے سبب اپنے عناد کو چھپا کر پنجاب کو ہدف بناتا ہے اور جسے اسلام کو برا بھلا کہنا ہو وہ سماج کے سب سے مظلوم گروہ مولوی کو ہر برائی کا ماخذ بنا کر پیش کرتا ہے۔

اسی طرح آجکل ریاستِ مدینہ کے حوالے بیکل اور آتش زیر پا کی مثال بنا اقتدار مافیا اور کردار کے افلاس میں مبتلاء ذرائع ابلاغ کے وڈیرے جن کی قیمت بنت عنب سے وصال اور بددیانت حکمرانوں کے عنایات و لفافے ہیں وہ ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل قرار دینے پہ بلبلا رہے ہیں۔ کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے یا کہیں خارش ہو اس کا سبب ریاست مدینہ کو حوالہ ہوتا ہے۔ یہ عمران خان پہ نہیں، درحقیقت اس عزم و ارادے اور سوچ کی ہتک و تمسخر ہے جو نیویارک و لندن کی آبروباختہ مادر پدر آزاد حکومتوں کو نہیں بلکہ پندرہ سو سال پہلے کے مدینةالرسول كو اپنا آئیڈیل اور منزل مقصود قرار دے رہا ہے۔ انہیں سب سے زیادہ طیش اور ملال اس امر پہ ہے کہ یہ حوالہ کسی مولوی کی طرف سے نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیمیافتہ اور مغربی تہذیب سے آشنا مقبول و معتبر شخصیت کی جانب سے دیا گیا ہے۔ انہیں یہ بھی قلق ہے کہ یہ شخص کیسے تیشہ بدست ہو کرپاکستانی لات و منات کو چکنا چور کرنے پہ تلا ہوا ہے، کیوں اکوڑہ خٹک کے دینی مدرسے کو کروڑوں روپئے کی امداد دی، کیوں یکساں تعلیمی نظام اور دینی مدارس کے پسماندہ و مفلس طلبہ کو گرانمایہ اور مغرب زدہ انگلش اسکولوں کی سطح پہ لا کر ان طلبہ کو معاشرے میں انجینئر اور ڈاکٹرز کا روپ دینا چاہتا ہے جو مبلغ بھی ہوں اور معاشرے میں معزز بھی، اسی جرم میں اسے بارش الزام اور تیرِ دشنام کا سزاوار بنادیا ہے۔ یہ وہی جرمِ بیگناہی ہے جس کے لئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا

حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

مذہب بیزار اور ان کے ساتھ شامل خدا فروشوں کا تو یہ پرانا طریقہِ واردات ہے لیکن تعجب ان لوگوں پہ ہے جو اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا اور اسلامی انقلاب کو اپنی منزل مقصود گردانتے رہے ہیں۔ وہ اور ان کے نفوس ناطقہ بھی محض بغضِ معاویہ میں اس طائفے کے شامل باجہ ہیں۔ عمران خان کوئی فرشتہ ہے نہ اس کی پارٹی فرشتوں پہ مشتمل کہ معصوم عن الخطا ہوں آپ شوق سےمخالفت اور ڈٹ کر تنقید کریں لیکن۔ یہ تو دیکھ لیں کہ زد کہاں پڑ رہی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:  عمران خان! میانوالی پیاسا ہے ——– ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
Facebook Comments Box
featuredIKImran Khanاسلامی ریاستتحریک انصافریاست مدینہعمران خانمدینہ کی ریاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بے ضرر واہمہ اور مکمل خاموشی ——– رشاد بخاری
next post
اسلام آباد کی سرکاری تعلیم: مسائل اور مشکلات —– قاسم یعقوب

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.