تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیفلمکالمکلچر، آرٹ

شوبز کی وارداتیں: می ٹو اور جی ٹی ——– شوکت علی مظفر

by دانش ڈیسک 18/01/2019
written by دانش ڈیسک 18/01/2019
92

ہرن اگر شکوہ کرے کہ اِسے دیکھ کر شیر کا دل می ٹو کرنے کا چاہتا ہے تو اس بات کو کیا رنگ دیا جانا چاہیے؟ میرے ڈرامے کا ایک ڈائیلاگ تھا ’’جب تک اس دنیا میں لڑکی ہے، یہ مرد سالا ٹھرکی ہے!‘‘ لیکن چند سال پہلے ہم دوست مذاق کیا کرتے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لڑکیاں، لڑکوں کو دیکھ کر بولا کریں گی، کیا ٹائٹ پیس ہے؟ اس کا نمبر تو حاصل کرو۔ اور ڈیجٹل دنیا نے اتنی تیزی سے ترقی کی اب ٹھرک کے معاملے میں لڑکیاں بھی پیچھے نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے پاکستان میں گزشتہ ماہ سے اور مغربی دنیا میں پچھلے دو سال سے می ٹو کی وہی مہم چل پڑی ہے جو ہرن اور شیر والا شکوہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ایک اداکارائوں نے می ٹو کی احتجاجی پوسٹ کرکے اس مہم کو آگے بڑھایا۔ ہماری تحقیق کے مطابق می ٹو کے ذریعے خواتین اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات کو بیان کرتی ہیں۔ ہاروی وائنسٹن کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین نے ہی پہلی بار ٹوئٹر پر می ٹو کا ٹرینڈ استعمال کیا تھا، جس کے بعد اب تک ہولی وڈ سمیت بولی وڈ اور دنیا کے دیگر شعبوں کی خواتین اپنے ساتھ ہونے والے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے اس ٹرینڈ کو استعمال کرتی ہیں۔

اس مہم کا آغاز 2017 ء اکتوبر میں امریکا سے ہوا تھا، جس کا استعمال کرتے ہوئے خواتین ان مردوں کا نام سامنے لائیں، جنہوں نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا، تاہم بولی وڈ میں کسی نے اس مہم کا استعمال نہیں کیا تھا۔ البتہ ستمبر 2018ء میں تنوشری دتہ نے اس ہی مہم کا بھارت میں آغاز کرتے ہوئے معروف اداکار نانا پاٹیکر سے کیا۔ انہوں نے 2008ء میں ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

بولی وڈ اداکارہ تنوشری دتہ کی آخری فلم اپارٹمنٹ 2010ء میں سامنے آئی تھی، جس کے بعد اداکارہ بولی وڈ کو خیر باد کہہ کر امریکا روانہ ہوگئی تھیں، تاہم وہ 2018ء میں بھارت واپس تو آئی لیکن کسی فلم کا حصہ بننے نہیں بلکہ می ٹو کی مہم کا آغاز کرنے۔ اس کے بعد کامیڈین اتسو چکرورتی پر کئی خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اتسو نے ان الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے تمام خواتین سے معافی مانگی۔ اس کے بعد ’’می ٹو‘‘ تحریک نے بھارت میں زور پکڑا۔ جس کے بعد کئی کامیڈینز، صحافیوں، مدیروں، مصنفوں، اداکاروں اور فلم سازوں کے خلاف الزامات سامنے آئے۔

پڑوسی مُلک کی دیکھا دیکھی یہاں بھی کچھ اَداکارائوں نے اس مہم کا حصہ بن کر فخر محسوس کیا لیکن اَداکار مانی نے می ٹو مہم کا آغاز کرنے والی سیاہ فام خاتون ترانا برک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا تھا اس خاتون میں ایسا کیا ہے جو ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ کرے گا اور اس بات پر کئی لوگوں سے مانی کو کڑوی کسیلی باتیں بھی سننے کو ملیں۔ البتہ اس حوالے سے ان کی اہلیہ اداکارہ حرامانی نے می ٹی کے حوالے سے انتہائی مثبت پیغام دیا کہ مشہور شخصیات کی بجائے اگر کسی کے حقوق کیلئے آواز اُٹھانی بھی ہے تو گھروں میں کام کرنے والی کسی ملازمہ کے ساتھ ایسا کچھ ہو تو اس کی آواز بننا بہتر ہوگا نہ کہ شو بز کی مشہور شخصیات کے ایشو کو بڑھاوا دیا جائے۔

ہمیں اس فرق کو سمجھنا ہوگا کہ جنسی ہراسگی اور چیز ہے اور اپنے مطلب کیلئے کسی دوسرے کے استعمال میں آجانا الگ بات ہے۔ شوبز کے دو بڑے شعبے ہیں ماڈلنگ اور ایکٹنگ۔ ان دونوں شعبوں میں زیادہ تر لوگ پیسہ اور شہرت کیلئے آنا چاہتے ہیں چونکہ یہ ایک صبر آزما فیلڈ ہے اس لیے بہت سے لوگ شارٹ کٹ کے چکر میں ہر قربانی دینے کو کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز نے کاسٹنگ کائوچ کی اصطلاح کے تحت فائدہ اُٹھایا بھی اور فائدہ پہنچایا بھی۔ چاہے وہ راکھی ساونت ہو یا پھر ملائیکہ اروڑا، کرینہ ہو یا کترینہ انہیں کہیں نہ کہیں قربانی دینی پڑی ہے۔ یہ اصطلاح اتنی مشہور ہوئی کہ بھارتی رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے نے بھی کڑوے سچ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا، بھارتی پارلیمنٹ بھی کاسٹنگ کائوچ سے آزاد نہیں۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو میں وائن سٹائن کے وکیل نے دفاعی انداز اختیارکرتے ہوئے کہا ’’کوئی اداکارہ اگر اپنے فلمی کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے پرڈیوسر کے ساتھ جنسی روابط قائم کرتی ہے تو اسے جنسی زیادتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ اس بات کا اعتراف شہرہ آفاق گلوکارہ میڈونا نے آج سے 35سال پہلے ان الفاظ میں کرچکی ہے ’’میں نے اپنے شعبے میں ترقی کے لیے اپنی دوشیزگی قربان کر دی۔‘‘

پہلے تو لڑکیاں ہی تھیں جنہیں جسمانی تعلق کی پیش کش پر کام دینے کی گارنٹی دی جاتی تھی مگر اب لڑکوں کے ساتھ بھی یہ معاملہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اب بہت سے ہم جنس پرست بھی بڑی سیٹوں پر براجمان ہوچکے ہیں

اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے والوں کو ہر موڑ پر ایسے لوگوں کا سامنا ہوتا ہے جو کام کے بدلے میں اپنا فائدہ چاہتے ہیں۔ پہلے تو لڑکیاں ہی تھیں جنہیں جسمانی تعلق کی پیش کش پر کام دینے کی گارنٹی دی جاتی تھی مگر اب لڑکوں کے ساتھ بھی یہ معاملہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اب بہت سے ہم جنس پرست بھی بڑی سیٹوں پر براجمان ہوچکے ہیں اس لیے وہ بلا جھجک لڑکوں سے تعلق کی فرمائش کرڈالتے ہیں۔ میرے علم میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ادکاری کے شوقین افراد کے رابطہ کرنے پر اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے بھیج کر ان سے بھی تصاویر کا تقاضا اور پھر جسمانی تعلق کی فرمائش کی جاتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ جیسے فوج یا پولیس میں برہنہ کرکے میڈیکل ہوتا ہے اسی طرح میڈیا میں بھی کپڑے اُتارنے پڑتے ہیں۔ عجیب بھونڈی مثال سے گھیرا جارہا ہے۔ ایسی کئی تصاویر اور کتنے ہی مسیج مختلف نئے اَداکاروں کی جانب سے مجھے شیئر کر ایک ہی سوال کیا جاتا ہے کہ واقعی اس تعلق کے بنا کبھی کام نہیں ملے گا؟ یہاں مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا کہ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اَداکاری کیلئے کوششیں کیں کہ کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو رابطہ کار نے پہلے تو سیٹ پر بلوا لیا اور شوٹنگ دکھانے کے بعد کہا، کل دو خوبصورت لڑکیاں لے کر آجائو۔ میں نے کہا ’’جناب! کام مجھے کرنا، لڑکیاں کس سلسلے میں لانی ہیں؟‘‘ تو خباثت سے مسکراتے ہوئے فرمانے لگے، تمہیں کام جلدی مل جائے اس لیے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کاسٹنگ کائوچ کی جگہ جی ٹی سسٹم چلتا ہے اور کئی پروڈکشن والوں نے تو جی ٹی روم بھی بنا رکھے ہیں۔ یہ جی ٹی انگریزی کے گِو اینڈ ٹیک کا مخفف ہے۔ یعنی کچھ دو، کچھ لو۔ اس مختصر کوڈ پر آمادگی کے ذریعے ہی کسی کیلئے کام کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور جو آمادگی کا اظہار نہ کرے تو اُسے اپنی محنت سے راستے بنانا پڑتے ہیں اور قسمت ساتھ دے تو اچھے لوگ بھی میسر آجاتے ہیں۔

بھارت کی ایک دوسرے درجے کی فلم ’’اوور ٹائم‘‘ ہے۔ اس میں کورآرڈینٹر (اَداکار، ڈائریکٹرز اور پروڈکشن ہائوس کے درمیان رابطہ کار)، ایک نئی آنے والی لڑکی کو دل دے بیٹھتا ہے اور اس کیلئے کام تلاش کرکے ایک نامور ڈائریکٹر سے میٹنگ کروانے سے پہلے تاکید کرتا ہے، یہ ایسی ویسی لڑکی نہیں اس لیے کوئی ڈیمانڈ نہ کی جائے۔ لیکن تنہائی میسر آنے پر ڈائریکٹر، کوآرڈینٹر کے بارے میں لڑکی سے پوچھتا ہے کہ وہ اس کا کیا لگتا ہے تو گالی دے کر کہتی ہے کچھ نہیں۔ آپ بتائو کیاکرنا ہے مجھے؟ اس کے بعد وہ اس ڈائریکٹر کو سب کچھ دے کر کامیاب اَداکارہ بن جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ’’ڈرٹی پکچر‘‘ میں بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے کہ وِدیا بالن کوایکسٹرا سے فلمی ہیروئن کی کامیابی کیسے ملتی ہے۔

پاکستان میں کاسٹنگ کائوچ کی جگہ جی ٹی سسٹم چلتا ہے اور کئی پروڈکشن والوں نے تو جی ٹی روم بھی بنا رکھے ہیں۔ یہ جی ٹی انگریزی کے گِو اینڈ ٹیک کا مخفف ہے۔

شعبہ اداکاری میں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں بچت ہوجاتی ہے اور بہت سے لڑکیاں کم پیمانے پر سہی صرف اپنا روزگار کماتی رہتی ہیں مگر ماڈلنگ میں شاذو نادر ہی کسی کو رعایت ملتی ہو کیوں کہ وہاں پہلا کام ہی جسم کی نمائش ہے۔ پروڈکٹ ڈیمانڈ کے مطابق کپڑے کم سے کم یا بے ہودہ سے بے ہودہ استعمال کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ صرف اَداکاری پر ہی نہیں رُکتا بلکہ نیوز اینکرز اور خواتین رپورٹز کو بھی اس مسئلے کا کہیں نہ کہیں سامنا رہتا ہے۔

قصہ مختصر، می ٹی کی مہم شروع کرنے والی اَداکارائوں کا رونا بے وقت کی راگنی ہے کیوں کہ شوبز میں کامیابی کیلئے دوسروں نے انہیں استعمال کیا ہے تو انہوں نے بھی اُنہیں استعمال کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔ بہت سے لوگوں کو ایک مشہور سیاستدان اور لالی وڈ کی خوبرو اداکارہ کا قصہ تو معلوم ہی ہوگا کہ ایک اداکارہ کو ملنے والا نیف ڈیک ایوارڈ دوسری اداکارہ کو کس قربانی کے تحت منتقل ہوا اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی۔ اب وہ ادکارہ اُٹھ کر اس سیاستدان کے خلاف می ٹو کا نعرہ لگادے تو کہاں کا انصاف ہوا؟

Facebook Comments Box
billywoodgayGTHollywoodLollywoodMe Tooshowbizبالی وڈجنسی ہراسگیجنسی ہراسیتجی ٹیشوبزشوکت علی مظفرکاسٹنگ کائوچلالی وڈلواطتلوطیمی ٹوہالی وڈہم جنس پرستی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اجنبی: بیاد واصف علی واصف —– افشان بنگش
next post
زمانے کے انداز بدلے گئے —– ڈاکٹر مریم عرفان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.