تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبمزاح

ہم عہدِ یوسفی کے ہیں مشتاق! لوٹ آؤ —— شکیل الرحمن فاروقی

by دانش ڈیسک 19/01/2019
written by دانش ڈیسک 19/01/2019
117

بقلمِ مشتاق احمد یوسفی مرحوم ’’مقدمہ نگاری کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو‘‘۔ لیکن اس بات کی وضاحت و صراحت نہ ہو سکی کہ کون سا آدمی؟ لکھنے والا یا پڑھنے والا؟ بہرحال یہ بات طے ہے کہ چھاپنے والے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں۔ مثلا مرحوم کی تصنیف ’’چراغ تلے‘‘ کا ایک نسخہ سامنے ہے جس کی اکیسویں اشاعت ۲۰۱۶ ٔ؁ میں ہوئی۔ ناشر اگر پڑھا لکھا ہوتا تو ضرور چھاپتا کہ اشاعتِ اوّل کس سن کی تھی۔

’چراغ تلے‘ کی ابتدا میں ہی یوسفی مرحوم مندرجہ بالا شرط کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں ’’اسی لیے بڑے بڑے مصنف بھاری رقمیں دے کر اپنی کتابوں پر پروفیسروں اور پولیس سے مقدمے لکھواتے اور چلواتے ہیں‘‘۔ یوسفی مصاحب کی یہ تحریر پڑھ کر توجہ اس جانب گئی کہ مقدمہ نگاری کے لیے وکیل اور رپٹ درج کرنے کے لیے کوتوال کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں بس چھاپنا آنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمہ خواہ قتل کا ہو یا طلاق کا اکثر و بیشتر ایف آئی آر، روداد، بیانات وغیرہ کا متن آپ کویکساں ملے گا۔ حتی کہ اب تو کسی واردات کی خبر میں صحافی حضرات یہ ضرور چھاپتے ہیں ’’نامعلوم افراد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے‘‘۔ لیکن مشتاق احمد یوسفی مرحوم کے قلم کی نوک قانون کے ہاتھ سے بھی لمبی ہے اور اس کے چبھتے ہوئے سرے پر ظرافت و مزاح کے ایسے جراثیم سوار ہیں کہ نہ تو اس کی کاٹ سے اور نہ ہی اس متعدی کیفِ ظریفانہ کی حرارت سے فرار ممکن ہے۔

اگر مقدمہ نگاری کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو تو اس فرمان کا اطلاق تبصرہ نگار پر بھی ہونا چاہیے۔ اور اگر ان کاموں کے لیے یوسفی صاحب کے مشاہدے کی رو سے پروفیسر کا انتخاب کیاجائے تو پھر پروفیسر کا پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری ہے۔ ویسے عام طور پر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ پروفیسر مقدمہ نگاری یا تبصرہ نگاری نہ بھی کرے تب بھی اس کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ بات بھلا سب کہاں سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگر آپ پڑھنے کے قابل ہیں تو شہر کی ہر وہ دیوار جو بے چینی سے نجات، جلن سے ٹھنڈک اور گھبراہٹ سے سکون حاصل کرنے کے لیے موزوں ہے اس پر کسی نہ کسی پروفیسر کا ہنر اور فون نمبر دریافت کرسکتے ہیں۔ یہ پروفیسر حضرات تعویذ لکھنے کے ساتھ ساتھ تحریر پڑھ سکتے ہوں یا نہ ہوں، سائل کے ہاتھ کی لکیروں کو پڑھنے کا دعوی اور اس کے چہرے پہ لکھی ہوئی حماقت کو پڑھنے میں یدِطولی ضرور رکھتے ہیں۔

کتاب کی صورت میں قاری کو کم از کم یہ تحفظ ضرور حاصل رہتا ہے کہ اس کا چہرہ کتاب پڑھتے ہوئے مصنف کے روبرو نہیں ہوتا ورنہ یوسفی صاحب جیسا اویب بھلا قاری کو کہاں بخشتا؟ لیکن ناشر، پروفیسر، پولیس، وکیل، صحافی، دست شناس وغیرہ، غرض دنیا کا کوئی پیشہ ور یہاں تک کے بینکر جو یوسفی صاحب خود بھی تھے، نہ ان کے قلم کی گدگداہٹ سے اور نہ ہی ان کے قلم کی کاٹ سے محفوظ ہے۔ یوسفی صاحب لکھتے ہیں ’’وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کثر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح‘‘۔ مزید لکھتے ہیں کہ ’’جہاں یہ صورت ہو توخام فن کار کے لیے طنز ایک مقدس جھنجھلاہٹ کا اظہاربن کر رہ جاتا ہے‘‘۔ لیکن یوسفی صاحب اپنی تحریروں میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہرگز نظر نہیں آتے۔ ان کا کوئی نکتہ اوچھا نہیں ہوتا اور وہ اپنے ہر طنز کو منطقی مزاح تک ضرور پہنچاتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی مرحوم کے حوالے سے جو کچھ بھی لکھا گیا یا کہا گیا اس میں ابنِ انشا کی یہ بات بہت معروف ہے ’’شستگی اس مزاح کا جوہر ہے۔ اگرمزاحیہ ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کرسکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے‘‘۔ اسی بات کو ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے کچھ یوں کہا ’’ہم اردو مزاح کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں‘‘۔ لیکن عہدِ یوسفی تو کتاب میں زندہ ہے۔ اب کتاب کھولتا کون ہے؟ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ اپنی تحریروں کے بعد جو عروج اور مقبولیت یوسفی صاحب کو حاصل ہوئی اس میں ان کا ستر کی دہائی کے اوائل میں ایک ٹی وی شو پر آنا اور اپنے دھیمے دھیمے لہجے، دبی دبی مسکراہٹ، چھپے چھپے طنز اور کھلے کھلے مزاح سے قارئین اور ناظرین کو تسخیر کرلینے کا بڑاحصّہ ہے۔ اس طرح یوسفی صاحب نے ابتدا میں ہی برقیاتی ذرائع ابلاغ پر بھی اپنا پرچم لہرادیا تھا لیکن ان ذرائع ابلاغ کا تہذیبی ارتقا نجانے کس سمت میں نکل گیا کہ جسمانی اعضا کے غلط استعمال کے بیانیے، صورت شکل کی مضحکہ خیز بلکہ افسوسناک تشبیہات اور شجرۂ نسب میں بے جا دخل درمعقولات ہی طنز و مزاح کے نام پر پیش کیے جانے لگے۔ مختلف علاقائی زبانوں کی ملاوٹ مزاح کی ترجمان ٹھہری۔ اس صورتِ حال میں یوسفی صاحب سے تو برقیاتی ابلاغ صرف ’’ٹکرِ‘‘ یا ’’گھسیٹے‘‘ لکھوانے کا کام ہی لے سکتا تھا اور وہ وقت آنے سے پہلے ہی یوسفی صاحب منہ پھیر کر رخصت ہوئے۔ یوسفی صاحب کی ’’دل بر داشتہ‘‘ کی تفہیم بھلا خبریں بیچنے والے خوانچہ فروشوں کے ’’گفت گو‘‘ اور’’کتّا بچّہ‘‘ کا کیا مقابلہ کرتی سو یوسفی صاحب گزر گئے اب کیا عہدِ یوسفی بھی گزرجائے گا؟ خدا نہ کرے اگر گزرگیا تو اردو زبان اور تہذیب و تمدن کا زوال ہوجائے گا۔ اس لیے لازم ہے کہ عہدِ یوسفی نہ گزرے۔ ضروری ہے کہ آٹھویں سے بارہویں جماعت تک، تمام تعلیمی نظام بشمول سرکاری، غیر سرکاری، کیمبرج اور آغاخان اور تمام جامعات یوسفی صاحب کی تحریروں کو لازمی اردو نصاب کا حصہ بنائیں۔ شاید اس طرح ہم طنز و مزاح کے نام پر ہونے والے پھکڑ پن سے خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں اور ظریفانہ سرگوشیوں کو چھنگاڑ چھنگاڑ کر اور کھول کھول کر بیان کرنے کی قباحت سے بھی بچے رہیں۔

Facebook Comments Box
اردو مزاحچراغ تلےخاکم بدہنمزاحمشتاق احمد یوسفییوسفی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لبرل ازم اپناؤ، سیکولر ازم بھگاؤ —— احمد الیاس
next post
ُپی ٹی وی کے ماہ وسال —– نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.