تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

’’آنگن‘‘ استعارہ ہے ——– لبابہ نجمی

by دانش ڈیسک 31/12/2018
written by دانش ڈیسک 31/12/2018
103

خدیجہ مستور کا ناول ’’آنگن‘‘ ان دنوں ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے کی وجہ سے خاصا مقبولیت پا رہا ہے۔ابھی تک نشر ہونے والی ایک قسط کہانی کو اس کی اصل حالت میں پیش کرتی دکھائی دیتی ہے مگر ہمارے ہاں کمرشل ازم کے تقاضے عموماََ کم ہی اسے پورا کرتے ہیں۔

خدیجہ مستور ناول نگاری میں ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد نامصائب حالات میں زندگی کا مقابلہ کیا اس ناول کی پیشکش میں وہ ایسے ہی نسوانی کردار کو پیش کرتی ہیں جو حوصلہ بلند رکھے۔ یہ ناول ۱۹۲۶ء میں تحریر ہوا۔

جیسا کہ ناول کے عنوان ’’آنگن‘‘ سے ظاہر ہے کہ ’’ آنگن‘‘ ’’انگیا‘‘ گھر کی کھلی فضا میں بیٹھنے کو آنگن یا انگیا، جو پہلے خاندانوں کی روایت کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ جہاں گھرانے مل بیٹھا کرتے تھے۔ خوش حالی اور نا آسودہ حالات کو مل کر سہا کرتے۔ کہانی تحریک ِ پاکستان کی جدوجہد سے شروع ہو کر پاکستان کی صورت میں ملنے والے انعام پر ختم ہوتی ہے۔

کہانی کی ہیروئن یا مرکزی کردار عالیہ کے ابا انگریزوں کے جبری ملازم اور انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ عالیہ کی بہن تہمینہ اپنے پھوپھی زاد بھائی صفدر سے محبت کرتی ہے مگر ان کی اماں تہمینہ کی شادی محض اس لیے کرنا نہیں چاہتیں کیوں کہ صفدر کی ماں نے خاندان کی مرضی کے خلاف ملازم سے شادی کی ہوتی ہے اور صفدر غریب۔ تہمینہ کی اماں اس سے نفرت کرتی ہیں۔ ابا اور اماں کے درمیاں کشمکش اسی بنا پر رہتی ہے۔ دوسری طرف اماں اپنے بھائی کے بل پر جو انگریز خاتون سے شادی کر کے اور انگریزوں کی حمایت کر کے ننگ مسلمان ہوئے اور اس دور میں وقتی فائدہ اٹھایا۔

تہمینہ نے آنگن میں مہندی کا پودا اگایا ہوتا ہے۔ آرزؤں اور امنگوں کا پودا، جسے صفدر کی محبت سے پروان چڑھاتی رہی مگر اماں کے صفدر کو نکالے جانے کے بعد اس امنگوں کے پودے کو نوچ پھینکتی ہے۔ اماں جب تہمینہ کی شادی تایا زاد بھائی جمیل بھیا سے طے کر دیتی ہیں تو بغاوت نہ کرتے ہوئے خود کو موت سے ہم کنار کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

عالیہ تہمینہ کی موت کے بعد اپنی عمر سے ۱۰ سال بڑی ہو جاتی ہے۔ ادھر تحریک پاکستان اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے اور ابا میاں کے دفتر میں انگریز سرکار کا دورہ ہے۔ ابا میاں انگریز کے خلاف ہونے کے باوجود گھر میں اماں سے اہتمام کروانے پر مجبور۔ اماں اپنے شوہر کو انگریزوں کے حمایتی ہونے کا الزام دیتی ہیں۔ جب انگریز افسر دفتر میں معائنہ کے دوران ابا میاں کو گالی دیتا ہے تو ابا میں برداشت نہ کرتے ہوئے افسر کے سر پر رول مار کر سر پھاڑ دینے پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد ہونے پر گرفتار ہو جاتے ہیں اور یوں عالیہ باپ جس سے بے انتہا محبت کرتی ہے تنہا ہو جاتی ہے اس موقع پر انگریزوں کے وفادار اور نام نہاد بھائی بھی کام نہیں آتے۔ ان حالات میں عالیہ کو اپنی اماں کے ساتھ تایا کے گھر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ نئی صعوبتوں کا سفر۔ صفدر بھائی آخری اطلاع ملنے تک مسلم لیگ میں شامل۔

ابا کے پابند سلاسل ہونے پر اپنا آنگن چھوڑ کر تایا کے گھر روانہ ہو جاتی ہے۔ تایا سے عالیہ کی محبت نا صرف فطری ہے بلکہ تایا جان نے اپنے کتابوں کی الماری کی چابی عالیہ کو تھما رکھی ہے۔ تایا جان کانگریس کے سرگرم کارکن ہیں۔ نہرو اور گاندھی کے حمایتی۔ ایک ہی گھرانے میں دو مختلف جماعت کے افراد۔ ایک علیحدہ وطن کے خواہش مند دوسرے ہندوستان کی آزادی کے متوالے۔ اس گھر میں عالیہ کی ملاقات اپنے منجھلے چچا ساجد کی بیٹی چھمی سے ہوتی ہے۔ چھمی ان پڑھ ہے۔ بد زبان، نہایت تیز طرار اور مسلم لیگ کی حمایتی۔ اپنے تایا سے سیاسی مخالفت پر اکثر بد تمیزی سے پیش آتی ہے۔ ناول نگارہ چھمی کے روپ میں ایک ایسی لڑکی کا کردار سامنے لاتی ہیں جو اپنے باپ کی آئے دن شادیوں کے شوق سے کس طرح متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب جمیل بھیا کا دل پھینک کردار ہے جو عالیہ کے اس گھر میں نہ آنے سے پہلے تک چھمی میں دلچسپی کی نظر رکھتے ہیں مگر عالیہ کے آجانے پر عالیہ کی جانب بڑھتے ہیں۔چھمی کا محلے میں مسلم لیگ کے جلوسوں میں شرکت اور آزادی کے نعرے آج اس نسل میں بھی ان دیکھے مناظر کو پھیر دیتے ہیں جو انھوں نے اپنے بزرگوں کی زبانی سن رکھے ہیں۔

جمیل بھیا کے رویئے سے دل برداشتہ ہو کر چھمی ایک دیہاتی سے شادی کر کے رخصت ہو جاتی ہے اور عالیہ کے ابا کو انگریز کو زخمی کرنے کے جرم میں سزائے موت۔ عالیہ پر یہ خبر کسی موت سے کم نہیں گزرتی۔ وہ رات عالیہ اپنے اس آنگن کو دیکھتی ہے جو کس قدر خوشحال تھا مگر سب آندھیوں نے لوٹ ڈالا۔

اب عالیہ کی زندگی کا محور حصول تعلیم تھا۔ اسے زندگی کے نشیب زدہ حالات میں رومان پروہ زندگی سے نفرت ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ جمیل بھیا کی محبت سے انکار ہی کرتی رہی۔ عالیہ کی پھوپھی نجمہ اس دور کی ان لڑکیوں میں سے ہیں جو انگریزی کی تعلیم حاصل کر کے انگریز سامراج سے وفاداری نبھانے میں مصروف ِ عمل رہیں اور اپنوں کی ہتک میں خوشی محسوس کرنا ان کی تعلیم کی اولین ترجیح۔

کہانی تقسیم ہندوستان کے آخری مراحل میں داخل ہو جاتی ہے۔ عالیہ اپنی والدہ کے ساتھ الاٹمنٹ میں ملنے والی کوٹھی میں رہائش اختیار کرتی ہے اور مہاجرین کے کیمپوں میں تدریس کے عمل میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہاں ایک ڈاکٹر جو مالی طور پر مستحکم ہوتا ہے عالیہ کو شادی کی پیش کش کرتا ہے مگر عالیہ اسے بھی ٹھکرا دیتی ہے۔ وہاں ہندوستاں میں بڑے چچا کسی ہندو کے ہاتھوں شہید ہو جاتے ہیں اور چھمی طلاق لے کر واپس لوٹ آتی ہے جسے جمیل بھیا اس کی بیٹی کے ساتھ اپنا لیتے ہیں۔ ادھر پاکستان میں صفدر بھائی اچانک انجانے میں بری حالت میں جان بچاتے ہوئے عالیہ کی کوٹھی میں پہنچتے ہیں، جو اب تک بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں عالیہ سے شادی کے خواہش مند ہوتے ہیں اس تسلی کے ساتھ کہ وہ اسے ایک آسودہ زندگی کی نوید دیتے ہیں مگر عالیہ اپنی بہن تہمینہ کی صفدر بھائی سے جڑی یادوں کے سبب منع کر دیتی ہے اور اماں پھر سے صفدر بھائی کی مخالف بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ وہ صفدر بھائی کو خدا حافظ کہہ کر لوٹ جاتی ہے۔

ناول نگارہ کہانی کا اختتام کچھ ان جملوں پر کرتی ہیں:۔

 ’’ اور عالیہ سینے پر ہاتھ باندھ کر بے سدھ پڑی ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ چھمی اس کے سینے پر سے دھم دھم کر کے گزرتی ہے اور کہتی ہے کہ دیکھا عالیہ بجیا میں نے تمھیں ہرا دیا۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھ لیے۔‘‘

ناول کا موضوع آنگن استعارہ ہے بابل کا انگنا، جو عالیہ اور تہمینہ دونوں کے نصیب میں نہ تھا، جسے لڑکیاں اپنے سسرال رخصت ہو کر اس آنگن کی یادیں ساتھ لے جاتی ہیں۔

آنگن گھر کا صحن جو سب خانداں والوں کی اکائی اور وحدت کو ظاہر کرتا ہے۔ عالیہ کو یہ بھی نصیب نہ ہو سکا۔ قیام پاکستان کے بعد اس نے ہجرت کی صورت میں تنہائی کاٹی اور ہجرت کا کرب۔

آنگن مشرقی روایات میں ایسے گھر کی تعمیر سے لیا جاتا ہے جس میں خوشبودار پیڑ پودے اگائے جاتے ہیں۔ جھولا، ساون کا مہینہ سب ہی ان مٹ یادوں کی نشانی بنتا ہے مگر موجودہ نسل ان سب کو کیا جانے! آج تو آنگن کی جگہ لان ہیں اور مصنوعی زندگی کا استعارہ!

Facebook Comments Box
انگریزآنگنآنگن استعارہ ہےپاکستانپاکستانی ڈرامےتقسیم ہندخدیجہ مستورقائد اعظمکانگریسگاندھیلبابہ نجمیمسلم لیگناولناول نگارنظریہ پاکستاننہروہندوستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا دین معقول ہے؟ ——— محمد رشید ارشد
next post
اجرک —– شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.