تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیعلمیکالم

جوتے، جمہوریت اور شیشی تھروور کی کتاب — اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 24/12/2018
written by دانش ڈیسک 24/12/2018
109

کچھ عرصہ پیشتر ’دانش‘ کے ان صفحات پر معروف بھارتی سیاستدان اور دانشور شیشی تھروور کی کتاب The Era of Darkness کے ایک باب کا ترجمہ نظر سے گزرا۔ ترجمے کی روانی، سلاست اور درستی قابل تحسین ہے۔ اس کتاب کا ذکر پہلے بھی سن رکھا تھا۔ اب جو یہ ترجمہ پڑھا تو اصل متن کے ساتھ کتاب پڑھنے کا شوق سوا ہوا۔ تھوڑی تلاش کے بعد بازار سے یہ کتاب مناسب قیمت پر مل گئی۔ باقی کتابیں ایک طرف رکھیں اور پورے انہماک سے اور توجہ سے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔ یہ کتاب ہماری تاریخ کے ایک مخصوص دورانیے کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔ حقایق ایسے کہ جنھیں واقعتا چشم کشا کہا جا ئے۔ آٹھ ابواب کی اس کتاب میں شیشی تھروور نے پردہء اصلاح میں استعمار کی تخریبی کوششوں کا پردہ خوب چاک کیا ہے۔

جن دنوں میں اس کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا میرے ایک انتہائی قریبی دوست انگلینڈ سے تشریف لائے۔ وہ مجھ سے ملنے غریب خانے پر بھی آئے اور جاتے ہوئے ایک گفٹ پیک بھی میرے حوالے کر گئے۔ میرے یہ ہم مزاج دوست میری پسند اور ناپسند سے خوب واقف ہیں۔ ان کے جانے کے بعد میں نے گفٹ پیک کھول کر دیکھا اورخوشی سے نہال ہو گیا۔ گفٹ پیک میں جوتے تھے۔ اچھے جوتے میری کمزوری ہیں۔ اگر جوتا عمدہ، دیدہ زیب اور آرام دہ ہو تو میں خریدنے میں پس و پیش نہیں کرتا اور جوتا پسند آ جائے اور سستا ہو تو عار محسوس نہیں کرتا۔ میرے پر خلوس دوست نے قیمت کا ٹیگ اتار دیا تھا تاہم برانڈ دیکھ کر مجھے قیمت کا اندازہ ہو گیا۔ جوتا انتہائی خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ مجھے قیمت کا تجسس ہوا تو میں نے گوگل پر سرچ کیا۔ ڈالر کی اونچی اڑان کے اس دور میں جوتے کی قیمت لگ بھگ پچاس ہزار پاکستانی روپے بنتی تھی۔ مجھے اپنے دوست پر بے ساختہ پیار آگیا۔ تشکرانہ جذبات کے ساتھ میں نے پائوں جوتے میں گھسیڑنے کی کوشش کی تو میری ساری خوشی کافور ہو گئی۔ جوتا میرے پائوں سے چھوٹا تھا۔

ششی تھروور کی اہم کتاب کے ساتھ جوتوں کا ذکر آپ کو مضحکہ خیز لگ رہا ہوگا۔ خود مجھے بھی علم اور کتاب کی یہ توہین ناگوار گزر رہی ہے اس لیے میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں اور کتاب کے ذکر پر واپس آتا ہوں۔ شیشی تھروور نے اس کتاب میں مضبوط دلائل کے ساتھ چشم کشا تاریخی حقائق بیان کیے ہیں۔ اس نے نو آباد کار کی تعلیمی پالیسیوں، معاشی نظام، سیاسی چالوں اور ریلوے نظام کے پس پردہ اصل مقاصد کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ انگریز کی آمد سے پہلے بالخصوص عہد عالمگیری تک ہندوستان کی معاشی حالت بہت مضبوط تھی۔ عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 25 فی صد تک تھا اور جب انگریز نے ہندوستان چھوڑا تب یہ شرح تین فی صد تک گر چکی تھی۔ یورپ کی معاشی منڈی میں بعض ہندوستانی مصنوعات کی مانگ تھی۔ اسی طرح انگریز کے آنے سے پہلے پنجاب میں شرح خواندگی 80 فی صد تھا (جو آزادی کے بعد اب تک اس سطح کو نہیں چھو سکا)۔ اور بہ طور خاص ریلوے جسے یار لوگ اب بھی انگریز کا احسان گنواتے نہیں تھکتے، وہ خام مال کو برطانیہ منتقل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ انگریز نے ریلوے کا جال بچھانے میں جتنا سرمایہ خرچ کیا اس سے کہیں زیادہ ریل کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا اور یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اگر استعمار کو ہندوستان کی صنعتی ترقی کا خیال ہوتا تو وہ یہاں صنعتیں قایم کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ ششی تھروور کا کہنا ہے کہ انگریز نے سیاسی کونسلوں کے قیام سے ہندوستان میں برطانوی طرز کے جمہوری نظام کو متعارف کرانے کی کوشش کی مگر وہ اس عمل میں مخلص نہیں تھا اس لیے اس نے ہندوستان کے زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا یہی نہیں اس نے تو ان ریاستوں کے سیاسی ڈھانچے کو بھی تہس نہس کیا جہاں مضبوظ سیاسی نظام قایم تھے نتیجتاََ یہاں برطانوی طرز کا جمہوری نظام قائم نہیں ہو سکا۔ ممکن ہے موجودہ ہندوستان (بھارت) میں جمہوریت کی صورت حال کچھ مختلف ہو لیکن سر دست ہمارے پیش نظر پاکستان کا ناکام جمہوری پارلیمانی نظام ہے (اگرچہ اس میں تسلسل نہیں لیکن یہی ڈھانچہ رائج ہے) جو اپنی پے در پے ناکامی سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نظام کی ناکامی ہی آمریتوں کا راستہ ہموار کرتی آئی ہے؟ یہ اسی نظام کا ثمر ہے کہ چند سو لوگ یا چند گھرانے پارٹیاں بدل بدل کر مسلط ہیں اور کوئی عام شریف آدمی اس شجر ممنوعہ تک رسائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

ششی تھروور نے بات کر کے کسی حد تک کفارہ ادا کر دیا ہے لیکن پاکستان کے مابعد نو آبادیاتی مفکرین (مثلاََ ناصر عباس نیر اور کچھ دوسرے دانشور) نے اس حوالے واضح موقف پیش نہیں کیا۔ پاکستان ایک کثیراللسانی، کثیر الثقافتی اور کثیرالمسلکی ملک ہے۔ یہاں کی سیاسی حرکیات برطانیہ یا دوسرے جمہوری ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔ یہاں مکمل آزاد رائے کا تصور محال ہے۔ جہاں رائے دہندہ کی رائے مختلف عوامل کے تابع اور مجبور ہو وہاں شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوریت کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے؟ دوست آمریتوں کو اس ناکامی کا سبب قرار دیتے ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نظام کی ناکامی ہی آمریتوں کا راستہ ہموار کرتی آئی ہے؟ یہ اسی نظام کا ثمر ہے کہ چند سو لوگ یا چند گھرانے پارٹیاں بدل بدل کر مسلط ہیں اور کوئی عام شریف آدمی اس شجر ممنوعہ تک رسائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ دلیل دیتے یار لوگوں کا منہ نہیں تھکتا کہ یورپ کو بھی یہ منزل پانے میں دو سو سال کا عرصہ لگا، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ منزل شمال میں ہو تو جنوب کی طرف سو کلو میٹر فی گھنٹا کی رفتار سے چلنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ پھر یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، گزشتہ بیس سال میں جس رفتار سے سے دنیا تبدیل ہوئی ہے اس میں ستر سال، دو سو برس کم نہیں ہیں۔ اگر قائد اعظم نے پاکستان کے لیے جمہوری پارلیمانی نظام کا سوچا تھا تو بالکل درست سوچا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں جمہوری نظام ہی اس وقت رائج نظاموں میں سب سے بہترین ہے لیکن یہ نظام اگر پاکستان کے حالات سے لگا نہیں کھاتا اور پاکستانی عوام کے دُکھوں کا مداوا نہیں کرسکتا تو قرآن میں تو نہیں آیا ہے کہ اس ملک میں تاقیامت یہی لولا لنگڑا نام نہاد پارلیمانی نظام مسلط رہے گا۔ ستر سال تک ایک تجربے کی ناکامی کے بعد کوئی نیا تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ میرے دوست کی محبت، خلوص اور اس کے دیے ہوئے قیمتی جوتوں کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر یہ جوتے پہن کر زخمی پائوں کے ساتھ میں کب تک چل سکتا ہوں؟

Facebook Comments Box
آمریتجمہوریتحکومتی نظامسیاسی نظامششی تھروور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا دانشوروں میں ’’درمیانے‘‘ ممکن ہیں؟ — صبغت وائیں
next post
ہر خوشہ گندم کو جلا دو —– اعجاز الحق اعجاز کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.