تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

ڈاکٹر جنید کی کتاب ’بنگلہ دیش کی تخلیق: فسانے اور حقائق‘ —- شاہد اعوان

by دانش ڈیسک 16/12/2018
written by دانش ڈیسک 16/12/2018
89

سقوط مشرقی پاکستان کا زخم ایسا زخم ہے جو مسلسل رستا رہتا ہے۔ اگرچہ ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کے یہ زخم مندمل ہو چکا ہے مگر وقتاََ فوقتاََ اسکی ٹیسیں اپنی موجودگی کا شدید اظہارکرتی رہتی ہیں۔

پاکستانی قوم کے اجتماعی حافظہ میں محفوظ یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس نے پاکستان کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ 16 دسمبر سے پہلے کی تعریف اور 16 دسمبر کے بعد کی تعریف۔

اس سانحہ کے حوالے سے اب تک ضبط تحریر میں لائے جانے والے بے شمار تحقیق لوازمہ کے باوجود سچ یہ ہے کہ خود ہمارے مقتدر حلقوں نے بھی اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر مکمل سچائی کو سامنے لانے سے گریز ہی کیا۔ اس کے نتیجے میں دشمن کا پروپیگنڈا اور جزوی صداقت پر مبنی بیانیہ حقیقت بن کر مسلط ہوتا چلا گیا۔

اپنی بے بصیرتی اور ناکردہ کاریوں کے باعث ہم قومی، بین الاقوامی اور خود بنگلہ دیش کی سرزمین پر تصویر کا دوسرا رخ نہ دکھانے کے باعث حسینہ واجد کی گذشتہ حکومت کے ہاتھوں پاکستانی وفاداروں کی لاشیں دیکھتے رہے۔ آج بھی وہاں دو قومی نظریہ کے علمبردار ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ آج وہاں پر دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ’’ہم بنگالی نہیں ہم بنگلہ دیشی ہین‘‘۔ بنگلہ قوم پرستی تقسیم بنگال کی سرحد گرا دیتی ہے مگر بنگلہ دیشی قومیت بنگلہ قومیت سے جداگانہ مقام رکھتی ہے۔

ہمارا میڈیا اور بالخصوص انگریزی میڈیا اپنی نہاد میں بھارتی موقف کا سیلز مین ہے۔ جیسے حسینہ واجد انڈیا کی سیلز ایجنٹ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے میڈیا کے پاکستان دشمن کردار کی وجہ سے ہی بین الاقوامی سطح پر بھی اس موضوع پر جو رائے عامہ تشکیل پاتی رہی ہے وہ پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران نے کبھی اسے روکنے یا جوابی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی ہی نہیں کی۔ یہ جنگ عوامی سطح پر کسی حد تک اور مخصوص اور محدود میڈیا کے حلقے میں تو شاید سال میں ایک بار لڑی جاتی رہی مگر قومی سطح پر ایسی کوئی کاوش دیکھنے میں  نہیں آئی۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر جنید صاحب کی اس تحقیقی کتاب کا انگریزی زبان میں شائع ہونا محب وطن پاکستانیوں کے لئے ایک خوش کن منظر ہے۔ یہ کتاب سقوط ڈھاکہ پراپنی نوعیت اور معیار کی پہلی کاوش ہے۔ جملہ تحقیقی معیارات کو پورا کرتا یہ علمی کام ایک ایسی تاریخی دستاویز کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں بے شمار ایسی معلومات اور حقائق موجود ہیں جو پہلی بار سامنے لائے گئے ہیں۔ معلومات کے اس خزانے تک رسائی ایک عام شہری کے لیے تقریبا ناممکن تھی مگر ڈاکٹر جنید کی خوشقسمتی کہ اس خزانہ سے استفادہ کرتے ہوئے ایسا شاندار کام کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

کتاب میں پیش کردہ حقائق اور معلومات دراصل اس موضوع پر پاکستانی موقف اور قومی بیانیہ کی تشکیل کی بنیاد ہیں۔ کتاب کے اردو ترجمہ کی اشاعت کے بعد تو گویا فرض کفایہ ادا ہو گیا کہ عام پاکستانی تک ان حقائق کا ابلاغ ہو گیا جن سے اسے آج تک محروم رکھا  گیا۔

سچ پوچھیں تو یہ کتاب اس قومی فرض کی ایک بہترین قسط کی صورت میں ادائیگی ہے جسے اتارنے کے لیے ہم سب ہی نظریں چراتے رہے ہیں۔
اب یہ ہمارے دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں اور ارباب ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ اس بیانیے کو تشکیل دیں اور دنیا کے سامنے پیش کریں، ابلاغی جنگ کے محاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔

میں ایک بار پھر براہ راست مصنف کو اس کی ہمت اور محنت کی داد دیتا ہوں اور بالواسطہ ان سب کو بھی جو اس شاندار کام کی تکمیل کا سبب بنے۔

ڈاکٹر صاحب آپ اگر مزید کچھ نہ بھی کرسکے تو صرف اس کام کی بنیاد پر یہ کہ سکتے ہیں کہ
شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم


کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر بحریہ یونیورسٹی اسلام آبا میں پڑھا گیا۔

Facebook Comments Box
بنگلہ دیشبنگلہ دیش کی تخلیق: فسانے اور حقائقڈاکٹر جنید احمدسقوط بنگالسقوط ڈھاکہسولہ دسمبرشاہد اعوانمشرقی پاکستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہر خون معاف کرنے والا نہیں ہوتا —— سحرش عثمان
next post
تہذیب —— لالہ صحرائی کا افسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.