تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالم

پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی —— احمد الیاس

by دانش ڈیسک 15/12/2018
written by دانش ڈیسک 15/12/2018
132

ارتقاء کا انحصار دو عوامل پر ہوتا ہے، پہلا عامل موجودہ مفید عناصر کا تحفظ اور ممکنہ نقصان دہ عناصر سے بچنا اور دوسرا عامل موجودہ نقصان دہ عناصر کی بیخ کنی اور ممکنہ مفید عناصر کا اپنایا جانا۔ سماجی و سیاسی زندگی میں پہلے عامل کا ضامن طبقہ قدامت پسند یا دایاں بازو کہلاتا ہے اور دوسرے عامل کا ضامن گروہ ترقی پسند یا بایاں بازو۔ یوں کسی بھی متوازن اور صحت مند معاشرے اور جمہوریت میں یہ دونوں طبقات فعال ہوتے ہیں۔ جس طرح سائیکل کا ایک بھی ٹائر پنکچر ہوجائے یا اس میں کچھ پھنس جائے تو پوری سائیکل مفلوج ہوجاتی ہے، اسی طرح لیفٹ یا رائٹ میں سے کسی ایک بھی طبقے کے دانشور، کارکن اور سیاسی رہنماء جمود کا شکار ہوجائیں یا ان میں کنفیوژن کی الجھی ہوئی رسی پھنس جائے تو پورا معاشرہ اور جمہوری نظام بتدریج کام سے جاتا ہے۔ اس لیے ہر اعتدال پسند اور وسیع النظر شخص، خواہ اس کا تعلق لیفٹ سے ہو یا رائٹ سے، ان دونوں ہی طبقات کو فعال اور صحت مند دیکھنا چاہتا ہے تاکہ معاشرے کا متوازن ارتقاء جاری رہے۔

آزادی کے بعد کے پاکستانی معاشرے میں لیفٹ اور رائٹ، دونوں طبقات جلد ہی کٹی پھٹی اور عالمی سیاست کے چوراہے میں کھڑی ریاست کی مصلحتوں، نوآبادیاتی دور کی وراثت کے طور پر ملنے والی پست نظری اور آخر کار تعلیمی نظام کی کمرشلائزیشن کے سبب پیدا ہونے والے فکری خلاء کا شکار ہوگئے۔ فکری میدان میں اگرچہ حقیقی معروضیت ممکن نہیں مگر علمی بنیادیں بھی اس قدر کمزور اور موضوعی ہوگئیں کہ ضد اور مفاد نے اندرونی تضاد کا شکار نظریاتی ڈھانچوں کو فکری سپیکٹرم کے دونوں جانب جنم دیا۔

دائیں بازو کی کنفیوژنز اور کمزوریاں، نیز پاکستان میں لبرل ازم کی الجھن دو علیحدہ داستانیں ہیں جنہیں دو آئندہ مضامین کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں مدعا پاکستانی بائیں بازو بالخصوص مارکسی کہلانے والوں کے اندرونی تضاد اور الجھنیں ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس میں نظریاتی شناخت کا احساس نسبتاً مضبوط ہے اور ایک خاص قسم کا علمی و فکری تفاخر بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے ہم محسوس کرتے ہیں کہ خود احتسابی کی دعوت کا آغاز اس طبقے سے کرنا چاہیے۔

لیفٹ کا ایک مفہوم عالمی ہے جو لیفٹ کی تحریکوں کی جنم بھومی، یورپ میں رائج ہے اور دوسرا مفہوم مقامی ہے جو پاکستان سمیت تیسری دنیا میں مروج ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ لیفٹ ہے کیا؟ اس سوال کے دو جواب ہیں اور ان دو جوابات کے فرق سے ہی پاکستانی لیفٹ کے المیے کی طرف پہلا اشارہ مل جاتا ہے۔ لیفٹ کا پہلا مفہوم عالمی ہے جو لیفٹ کی تحریکوں کی جنم بھومی یعنی یورپ میں رائج ہے اور دوسرا مفہوم مقامی ہے جو پاکستان سمیت تیسری دنیا کے بدقسمت ملکوں میں مروج ہے۔ مغربی لیفٹ کے معیارات پر جانچا جائے تو تیسری دنیا کی بہت سی لیفٹ سرے سے لیفٹ ہی نہیں ہے، بلکہ شاید لیفٹ کی عین ضد ہے۔

لیفٹ اور رائٹ میں اصولی سطح پر پہلا اختلاف بنیادی اجتماعی وفاداری اور ہئیہ ساسیہ کی بنیاد کے معاملے پر اٹھتا ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں قوم، بائیں بازو کی تحریکیں کلاس اور دونوں جانب سے اعتدال یا مرکز کی طرف مائل لبرل لوگ فرد کو بنیادی سیاسی اکائی تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ سوویت روس اور مغرب کی اشتراکی تحریکوں نے ثقافت یا زبان کی بنیاد پر قوموں کے وجود کو تسلیم کیا اور پسی ہوئی قوموں کے لیے آواز بھی اٹھائی مگر ان مظلوم اقوام پر ہونے والے ظلم کا سبب انہوں نے ہمیشہ طبقاتی اونچ نیچ اور اس کا سدباب اس معاشی ناہمواری کے خاتمے کو جانا۔ حقیقی بائیں بازو نے کبھی قوم پرستی یا قوم پرستوں سے فکری و سیاسی رومانس جائز تصور نہیں کیا۔ اگر سوشلزم کے فکری سانچے میں پلے بڑھے اٹلی کے میسولینی یا جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ ورکرز پارٹی (نازی پارٹی) جیسے کچھ لوگوں نے سماجی زاویہ نظر اور قوم پرستی کا نکاح کروایا بھی تو انہیں فاشسٹ کہا گیا اور ہر قبیل کے سوشلسٹ ان کے خلاف برسرپیکار ہوگئے۔

قوم پرستی اور اشتراکیت اپنے وطن مغرب میں دو دیوتاوں کی طرح باہم برسرپیکار ہوں تو ہوں، مغرب سے آنے کے سبب ہمارے مرعوب دانشور کے لیے دونوں یکساں مقدس ٹھرے۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہوا کہ جب دوسری جنگ عظیم سے قبل دانشوروں نے پہلی اور شاید آخری مرتبہ ان مغربی نظریات کو صحیح معنوں میں پڑھا تب تک نیشنلزم اور سوشلزم کے عقد کے خطرناک نتائج دنیا نے دیکھے نہ تھے۔ مزید یہ کہ نوآبادیاتی نظام کے سبب مرعوبیت اس قدر تھی کہ مغرب سے آنے والی ہر شئے کو ٹھیک سے سمجھے بغیر ہی اس طرح تسلیم کرلیا جاتا تھا جس طرح ہندوستان جیسی غلام سرزمینوں کے باسی صدیوں سے نت نئے بادشاہوں کے نت نئے مذاہب کو بغیر سمجھے اختیار کرتے آئے تھے۔ لہذا قوم پرستی اور اشتراکیت اپنے وطن مغرب میں دو دیوتاوں کی طرح باہم برسرپیکار ہوں تو ہوں، مغرب سے آنے کے سبب ہمارے مرعوب دانشور کے لیے دونوں یکساں مقدس ٹھرے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ایک انتہائی مقبول جماعت مسلم لیگ چونکہ وکٹوریائی عہد کے کلاسیکی لبرلز کے زیر اثر قوم پرستی اور اشتراکیت دونوں سے بیزار تھی، لہذا اس کی مخالفت میں قوم پرستوں اور اشتراکیوں نے بھی من و تو کا امتیاز مٹا دینا مناسب جانا۔ اس عجیب و غریب نظریاتی نکاح پر مسلم ہند کے مشرقی کنارے سے مولانا بھاشانی اور مغربی کنارے سے خان عبدالغفار خان نکاح خواں مقرر ہوئے۔ مولانا بھاشانی کے پڑھائے ہوئے نکاح کی اولاد شیخ مجیب الرحمان کی ایک جماعتی آمریت کی شکل میں جوان ہوئی۔ جبکہ باچا خان کے زیر نگرانی آباد ہونے والا نظریاتی خاندان آج پاکستانی لیفٹ کہلاتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بوئی ہوئی پود نے اپنی دیرینہ ناتوانی اور سوویت انہدام سے ملنے والی یتیمی کے بعد خود انحصاری کی راہ چننے کی بجائے اسی خاندان کا لے پالک بننا پسند کیا۔

خدارا فیض احمد فیض اور اقبال احمد کی وراثت کو نوآبادیاتی دور کی نشانیوں کے ہتھے چڑھنے سے بچا لیجیے۔ ایسا کرکے آپ صرف لیفٹ نہیں، پوری پاکستانی معشرے پر احسان کریں گے۔

اس ساری کہانی کا نتیجہ ہی ہے کہ آج لاہور میں لیفٹ کے کم از کم پانچ گروہوں کو راقم الحروف جانتا ہے: مزدور کسان پارٹی، برابری پارٹی، عوامی ورکرز پارٹی، پروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹو اور پروگریسو سٹوڈنٹ فیڈریشن۔ تمام عمر کافر کافر کے فتووں پر پلنے والے پانچ مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے مولوی حضرات ایم ایم اے کی چھتری تلے متحد ہوگئے مگر لیفٹ کی یہ پانچ جماعتیں خلافت و امامت، نور و بشر اور حیات و ممات جیسے کسی اختلاف کے بغیر بھی کبھی ایک نہ ہوسکیں۔ ہاں مگر ان میں سے تقریباً تمام جماعتیں ایک ہوئیں تو صرف ایک مدعے پر اور وہ ہے منظور پشتین کی حمایت۔

منظور پشتین اور ان کی تحریک کے اکثر و بیشتر گلے شکوے اور مطالبات راقم الحروف کے نزدیک جائز ہیں۔ ریاست، معاشرے اور سوچنے والے طبقات کو ان کی بات سننی اور سمجھنی چاہیے، یہ بھی طے ہے۔ مگر پشتون تحفظ موومنٹ کا نام اور رنگ ڈھنگ، ہر شئے ظاہر کرتی ہے کہ اس جماعت کا بنیادی و جوہری نظریہ قوم پرستی ہے جبکہ اشتراکی نعرے بازی کی حیثئیت فقط ثانوی اور مصلحتی ہے۔ اگرچہ ایک آزاد معاشرے میں قوم پرستوں کے لیے بھی جگہہ ہونی لازم ہے اور پی ٹی ایم کی آزادیِ اظہار اور حقِ سیاست کا احترام ضروری ہے مگر یہاں سوال لیفٹ کے ان قوم پرستوں سے تعلقات کا ہے۔ اگر لیفٹ کو پشتونوں اور بلوچوں کے لیے آواز اٹھانا مقصود ہے تو ایسا وہ اپنے پلیٹ فارم اور کلاس کے پرِزم سے بھی کرسکتی ہے۔ قوم پرستوں کے ساتھ ایک سٹیج پر کھڑا ہونا یہاں ایک نظریاتی تضاد کا عکاس ہے وہیں ایک اور بڑی کنفیوژن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

بائیں بازو کے دوست یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سوشلزم اپنی اصل میں ایک معاشی نظریہ ہے اور لیفٹ کا ہونے کا مطلب معاشرت و سیاست کو معیشت اور طبقاتی زاویے سے دیکھنا ہے۔ اس کی بجائے ان کے لیے محنت کش اور غریب کے حق کی بات دیگر سیاسی قوتوں کی طرح فقط نعرے بازی کی چیز رہ گئی ہے اور اصل سیاسی اصول دو قوتوں کی مخالفت بن گیا ہے۔ پہلی قوت مذہب اور دوسری ریاست۔

ہمارے بائیں بازو کے بہت سے دوست یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ سوشلزم اپنی اصل میں ایک معاشی نظریہ ہے اور لیفٹ کا ہونے کا مطلب معاشرت و سیاست کو معیشت اور طبقاتی نظام کے زاویے سے دیکھنا ہے۔ اس کی بجائے ان کے لیے محنت کش اور غریب کے حق کی بات دیگر سیاسی قوتوں کی طرح فقط نعرے بازی کی چیز رہ گئی ہے اور اصل سیاسی اصول دو قوتوں کی مخالفت بن گیا ہے۔ پہلی قوت مذہب اور دوسری ریاست۔ حقیقی لیفٹ کے نزدیک ان دونوں کی مخالفت اپنے آپ میں اصول یا مقصد نہیں ہوتی بلکہ حقیقی اصول اور مقصد یعنی طبقاتی نظام کے انہدام کا ذریعہ ہوتی ہے۔ لہذا ان دونوں سے خالصتاً لیفٹ کے زاویے اور تکنیک کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں مذہب اور ریاست کی ہر صورت اور ہر طریقے سے مخالفت کو ہی لیفٹ کا مفہوم جان لیا گیا اور طبقاتی نظام پر اضطراب کا اظہار شاید اس مقصد کا ایک ادنیٰ ذریعہ بن کر رہ گیا ہے، اس اظہارِ اضطراب کا یہ ضمنی استعمال بھی ایک خاص قبیل کے دوعوی دارانِ اشتراکیت میں ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ جو کامریڈ کمرشل لبرلزم یا علیحدگی پسند نیشنلزم کے جتنا قریب ہے، اس کے لیے طبقاتی مسئلہ اتنا ہی کم اہم ہے اور ریاست اور مذہب سے اندھی نفرت اتنی ہی ضروری۔ بدقسمتی سے ایسے لوگ اب لیفٹ کے اپنے حلقوں میں اکثر غالب نظر آنے لگے ہیں۔ اگرچہ بہتر لوگ بھی موجود ہیں مگر وہ بھی کبھی گروہی عصبیت اور کبھی مصلحت کے تحت خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ مضون ایسے ہی پڑھے لکھے اور سچے پکے خاموش کامریڈز کے نام ایک درخواست ہے۔ خدارا فیض احمد فیض اور اقبال احمد کی وراثت کو نوآبادیاتی دور کی نشانیوں کے ہتھے چڑھنے سے بچا لیجیے۔ ایسا کرکے آپ صرف لیفٹ نہیں، پوری پاکستانی معشرے پر احسان کریں گے۔


یہ بھی پڑھئے: سجا اینڈ کھبا – دایاں اور بایاں: ثاقب ملک

Facebook Comments Box
featuredleftLeft Wingsocialistاقبال احمدبائیں بازو کی سیاستبایاں بازوبرابری پارٹیپروگریسو سٹوڈنٹ فیڈریشنپروگریسو سٹوڈنٹ کولیکٹوترقی پسندترقی پسند پارٹترقی پسند پارٹیسوشلسٹسوشلسٹ ورکرز پارٹیعوامی ورکرز پارٹیکمیونسٹلیفٹمزدور کسان پارٹیمنظور پشتین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اور تہران آگیا ——– فرخ سہیل گوئندی
next post
بے وطن —— مدثر سلیم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.