تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

چوں قضا آمد طبیب ابلہ شود ۔۔۔۔۔۔۔۔ امتیاز عبدالقادر

by دانش ڈیسک 26/11/2018
written by دانش ڈیسک 26/11/2018
90

دیوار پر لٹکتی گھڑی ساکن تھی۔ سوئیاں مختلف سمت میں بے حرکت وقت سے ’خفا‘ دکھ رہی تھیں۔ وقت تھم سا گیا تھا۔ ۔ درد دیوار پر سکوت طاری تھا۔ آج ہمارے ہاں صبحِ کا ذب سے قبل ہی ایک مہمان اپنے عملے کے ساتھ وارد ہوا۔ بیس سال بعد آج اُن کی آمد ہوئی وہ کسی کو دکھے نہیں لیکن سبھی نے محسوس کیا۔ بنا’اطلاع ‘کے ہی مقررہ وقت پرآتے ہیں اورآتے رہیںگے۔ تقدیم وتاخیراُن کاشیوہ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ملک الموت حضرت عزرائیل ؑ خالقِ مو ت و حیات کا پیغام لے کر دبے پاؤں آیا اور ’حشر‘ بپا کرکے چلا گیا۔ ۔ ۔ تایا جان طویل مدت تک موت و حیات کی کشمکش میں تھے (۹نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ) زیست کی جنگ ہار گئے۔

نوے کے ابتدائی ایّام میں جب کشمیر کے یمین و یسار میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ’مزاحمتی لہر ‘ دوڑ رہی تھی۔ شعور تب پختہ نہ تھا تو اکثر و بیشتر رات کی تاریکی میں، دن کے اُجالے میں، دبے پاؤں بھی اور ڈنکے کی چوٹ پر بھی کالے کالے سایے ہمارے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے ہوتے۔ ۔ ۔ ہماری نسل کشمیر کی وہ بدنصیب نسل ہے جن کی ’پرورش‘ گولیوں کی گھن گرج کے ’سائے‘ میں ہوئی ہے۔ بوٹوں کی وہ چاپ آج بھی دل و دماغ پر نقش ہے۔ اُن چاپوں نے نیندیں حرام کردی تھیں۔ عمر رسیدہ ہمارا وہ ’بزرگ‘ آشیانہ پندرہ پنجاب کے اُن کالے بوٹوں کے نیچے ہی دم توڑ بیٹھا تھا۔ اُن کی بار بار آمد کا ایک ہی مقصد تھا۔ ۔ ۔ کُک سانگا۔ ۔ ۔ !

دنیا میں بھیجا جانے والا انسان در حقیقت آخرت کا ’مسافر‘ ہے۔ انسان کی اصل شخصیت کو جسے قرآن میں ’نفس‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو اُس کے جسمانی وجود سے الگ ایک مستقل وجود ہے، اُسے جب جسم سے الگ کردیا جاتا ہے، اسی کا نام موت ہے۔ اُس کے لئے ایک خاص فرشتہ مقرر ہے جس کے ماتحت فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے۔ اس موت کے بعد سفر آخرت میں جس مرحلے سے انسان کا گزر ہوتا ہے۔ اُسے ’برزخ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ فارسی لفظ ’پردہ‘ کا معرّب ہے اور اُس حدِفاصل کے لئے استعمال ہوا ہے، جہاں مرنے والے قیامت تک رہیں گے۔ یہ گویا ایک روک ہے جو اُنہیں واپس آنے نہیں دیتی۔ عالمِ برزخ کی اصطلاح اسی سے وجود میں آئی ہے۔ روایتوں میں ’قبر‘ کا لفظ مجازاََ اسی عالم کیلئے بولا گیا ہے۔ اس میں انسان ’زندہ‘ ہوگا لیکن یہ زندگی جسم کے بغیر ہوگی اور روح کے شعورو احساس اور مشاہدات و تجربات کی کیفیت اس زندگی میں کم و بیش وہی ہوگی جو خواب کی حالت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قیامت کے صور سے یہ خواب ٹوٹ جائے گا اور مجرمین اپنے آپ کو میدان ِ حشر میں جسم و روح کے ساتھ زندہ پاکر حیرت سے استفسار کریں گے کہ، ’ہائے افسوس ! کس نے ہمیں آرام گاہوں سے اُٹھایا؟‘ (یٰس۔ ۵۲)

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اس پہلو سے واضح ہوگا کہ وہ اپنے پرورگار کیلئے درجہ کمال میں وفاداری کا حق ادا کرنے والے ہیں، اُن کیلئے ایک نوعیت کا ثواب اور راحت اِسی عالم میں شروع ہو گا۔ بالکل اسی طرح قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اس پہلو سے بالکل  واضح ہوگا کہ وہ سرکش  اور تکبر سے جھٹلانے والے اپنے رب کے کُھلے نافرمان ہیں، اُن کیلئے ایک نوعیت کا عذاب بھی اِسی عالم برزخ میں شروع ہو جائے گا۔ صحیح احادیث میں قبر کے جس عذاب و ثواب کا ذکر ہوا ہے، وہ درحقیقت یہی ہے۔

ہمارے قائدین اور سماجی اداروں کا المیہ یہ ہے کہ ’کُک سانگا‘ جیسے ہزاروں نوجوانوں کی کوئی خیر خبر نہیں لیتا۔ ایسے نوجوانوں نے اپنی بساط بھر کو شش کرکے موجودہ نسل اور آئیندہ آنے والی نسل کیلئے جان کی بازی لگا دی۔

تایا جان عنایت اللہ بٹ (کورڈ کک سانگا) حزب کے سابقون الاولون  سپاہ تھے۔ نوے میں ہی ’چنگیزی گروپ‘ کے شانہ بشانہ تربیت لی۔ گولی بھی لگی۔ تین سال پابند سلاسل بھی رہے۔ وہ ان مزاحمتی مسلح نوجوانوں میں سے تھے، جنہوں نے بندوق کا ناجائز استعمال نہیں کیا، اس پر ہمیں فخر ہے۔ بڑی سادہ زندگی بسر کی۔ فقرو فاقہ برداشت کیا لیکن کبھی اُف تک نہ کیا۔ خُدا کے اُس بندے نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ نہ ہی اپنی غیرت و حمیت کا سودا کیا۔ نوے کی دہائی میں اُن کے ساتھ جو لڑکے سرحد پار گئے تھے وہ بھی اس بات کے شاہد عادل ہیں کہ کُک سانگا نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا۔ شہرِخاص کے ایک محلّے میں دو عورتیں، ایک عمر رسیدہ بزرگ خاتون، دوسری اُن کی بہو، اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ خوف اور بے چینی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اُن کی بے چینی تایا جان سے برداشت نہ ہوئی تو انہیں گھر لایا۔ کافی عرصہ مذکورہ فیملی ہمارے ہاں ہی رہی۔ ہمارے اُس مکان میں اتنی وسعت نہ تھی لیکن دلوں میں تھی۔ مرحوم نے کبھی طاقت کا ناجائز استعمال نہیں کیا۔ گھر میں کبھی بھی انہوں نے اپنی بڑائی نہیں جتائی۔ کبھی من گھڑت قصے اور واقعات سُنا کر ہمیں مرعوب نہیں کیا۔ مسلح نوجوانوں کی صف میں عاجز ی و انکساری کا مجسمہ بنے رہے۔ بندوق و دیگر آلات ضرب و حرب کی کبھی نمائش نہیں کی۔ راقم نے ہوش سنبھالتے ہی اُنہیں مسلح پایا اور تادمِ مرگ اُنہیں بڑی عزت کی زندگی بسر کرتے دیکھا۔

کشمیر کا ایسا کوئی گھر نہیں جو ماتم کناں نہ ہو۔ کوئی ایسا جوان نہیں جو بِسمل نہ ہو۔ کوئی ایسی ماں نہیں جو اپنے لختِ جگر کی عاقبت کیلئے فکر مند نہ ہو۔ کوئی ایسی بہن نہیں جسے قانون کے’ محافظوں‘ سے وحشت نہ آتی ہو۔ غرض یہاں کی ہر ذی رُوح مخلوق بے چین ہے۔ اتناہی نہیں ماری وجود رکھنے والی اشیاء جیسے سبز پتوں کا ’پرچم‘ لہراتے ہوئے درختوں کے جُھنڈ۔ شکم کا سامان کرنے والے کھیت و کھلیان۔ سکون سے بہنے والے دریا و آبشار۔ بلند قامت کوہسار۔ پھلوں سے لدے ہوئے باغات غرض یکہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ہر چیز نے بیتے ایام میں اپنی سی قربانی دی ہے۔ یہاں آسمان بھی ’روتا‘ ہے اور زمین بھی’ اشک شوئی‘ پر مجبور ہے۔ کسی نے اسے جنت کہا ہے لیکن یہ اصل میں اہلیان کشمیر کے ساتھ مذاق ہے۔ ہم انگشت بد نداں ہیں کہ اگر جنت ایسی ہے تو پھر جہنم کیسی ہوگی؟ زندگی اس کا نام ہے تو پھر موت ہمارے لئے نعمت سے کم نہیں۔ ۔ ۔ !

ہمارے قائدین اور سماجی اداروں کا المیہ یہ ہے کہ ’کُک سانگا‘ جیسے ہزاروں نوجوانوں کی کوئی خیر خبر نہیں لیتا۔ ایسے نوجوانوں نے اپنی بساط بھر کو شش کرکے موجودہ نسل اور آئیندہ آنے والی نسل کیلئے جان کی بازی لگا دی۔ ہمارے لئے اپنے کل کو قربان کیا۔ ماں، باپ، بچے، خاندان سب کو الواداع کہا۔ وہ صحیح تھا یا غلط، اس سے بحث نہیں لیکن اُن سبھی کی نیت خالص تھی۔ ایک جزبے کے تحت وہ قدم اُٹھانے پر مجبور ہوئے جس کی متوقع منزل ’موت‘ یا جیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن ہم نے، قائدین نے، اداروں نے اُن کے جزبے کو ’پاؤں‘ تلے روند ڈالا، استثناء موجودہے۔ ایسے ہزاروں نوجوان نوے کی دہائی کے بعد بے روزگار دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ وہ جیل میں تکلیفِ ودہشت کی زندگی بسر کرتے رہے اور باہر اِس بڑے ’جیل‘ میں اُن کے اقرباء ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچے، ’آزاد فضا ‘ میں نان ِ شبینہ کو ترستے رہے۔ جیل کے دارو غوں نے ہی ظلم نہیں کیا۔ عدالت میں بیٹھے ہوئے انصاف کے رکھوالوں نے ہی بے انصافی نہیں کی۔ خاکی وردی ملبوس کئے ہوئے قانون کے رکھوالوں نے ہی اُن کو آرزؤں، خوابوںاورتمنّاؤں کو درگور نہیں کیا  بلکہ ہم نے بھی مجموعی طور پر ایسے نوجوانوں کا حق تلف کیا۔ ان کی پُر تکلیف زندگی میں ان کا سہارا نہ بنے۔ شفقت پدری سے محروم اِن بچوں کے کفیل نہ بنے۔ بیوائوں اور’نیم بیوائوں‘کا حوصلہ نہ بڑھا سکے۔ آس میں لگی بُوڑھی آنکھوں سے بہتے اَشک روک نہ سکے، کمرشکن آفت میں ان کے والدین کو سُہارا نہ دے سکے۔ اہلیان کشمیر مجموعی طور پر اُن سبھی کے گناہ گارہیں۔ خدانہ کرے کل روزِ محشر ایسے  مخلص نوجوانوں کے ہاتھ ہوں اور ہم سب کے گریبان!

تایا جان ساری زندگی عسرت، مصائب ومشکلات میں گزار کر آج اپنے خالق حقیقی کی طرف لوٹ گئے کوئی شکوہ نہ کوئی شکایت۔ وہ اللہ کے ہر فیصلے پر صابر و شاکر تھے۔ گزشتہ ایک سال سے موذی مرض میں مبتلا رہے جس کا کوششوں کے باوصف مداوانہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے اپنی سی کوشش کی لیکن بے سُود۔ مولانا رومی ؔنے’مثنوی‘ کیا خوب عکاسی کی ہے

چوں قضا آمد، طبیب ابلہ شودآں دوادرنفع، خود گمرہ شود

(جب بیمارکو قضا کا وقت آ جاتا ہے تو طبیب بھی باؤلا ہو جاتا ہے۔ نفع دینے والی دوا بھی بے اثر ہو جاتی ہے)

اللہ کے ہر فیصلے پر ہم بھی ہر حال میں راضی۔ بس دُعا ہے کہ ان کی وہ ’زندگی‘ آسان ہو۔ جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز ہوں۔ فرشتے میزبان بنے اور اللہ تعالیٰ اپنے دستِ قدرت سے شرابِ طہور سے مہمان نوازی کرے۔

Facebook Comments Box
آزادکشمیرانڈیابھارتپاکستانجموں کشمیرکشمیری مجاہدینمقبوضہ کشمیرہندوستانوادی کشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حقیقی تخیلات —– سحرش عثمان
next post
بابائے بلوچی مولانا خیر محمد ندوی کی ادبی خدمات ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمود خارانی

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.