تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

حب عمران اور بغض عمران —— خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 25/11/2018
written by دانش ڈیسک 25/11/2018
70

تاریخ اسلامی کا مطالعہ کیا جائے تو حب اور بغض کے الفاظ ایک بار استعمال ہوئے ہیں اور ان الفاظ کے اثرات اس قدر شدید تھے کہ عالم اسلام باقاعدہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ دونوں گروہوں کے پاس اپنے لیے دلائل بھی ہیں اور مخالفوں کے لیے غصہ اور فتوی بھی۔ تاریخ کسی حد تک اپنے آپ کو دہرا رہی ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک بار پھر اپنی پوری شدت کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں اور اس بار پوری پاکستانی قوم دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک حصہ حب عمران میں اس قدر مبتلا ہے کہ عمران خان کے ہر قدم کا دفاع کرتا نظر آتا ہے اور دوسرا بغض عمران میں اس قدر اندھا ہے کہ کسی بھی اچھے سے اچھے قدم کو بھی سراہنا اپنے لیے جرم سمجھتا ہے۔ ان دونوں سے پرے ایک وہ طبقہ بھی ہے جسے عمران خان کے کسی بھی کام اور نام سے کوئی سروکار نہیں۔ سوچنے کی بات صرف اس قدر ہے کہ ان میں سے کون ایک سچا پاکستانی ہے جس کے دل میں پاکستان کے لیے خیر خواہی بھی ہو۔۔۔؟؟

عمران خان جہاں وزیر اعظم پاکستان ہے وہیں ایک انسان بھی ہے، اس لیے اس سے ہر دو جگہ پر کسی بھی قسم کی غلطی اور کوتاہی بھی ہو سکتی ہے اور اچھے کام بھی اس سے ہو سکتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اچھے کام کی فوری تعریف کی جاتی تاکہ حوصلہ افزائی ہو اور کسی بھی ناپسندیدہ کام یا غلطی کی نشاندہی کے ساتھ وقت دیا جاتا تاکہ ازالے کی کوئی صورت ہو سکتی لیکن یہاں بغض عمران میں کچھ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ابھی الفاظ عمران خان یا کسی بھی حکومتی فرد کی زبان پر ہوتے ہیں اور مخالفین ماحول اور میڈیا میں نفرت پھیلا چکے ہوتے ہیں۔ حب عمران پر انتہا پسندی کا الزام لگانے والے اپنی اصل میں بھی اسی قدر ہی انتہا پسند ہوتے ہیں کہ مخالفت میں ہر حد سے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہی اپنے آپ میں نامعلوم ہاتھوں میں کھیلتے اوردشمنوں کے افسوسناک ایجنڈوں کی تکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان آج ایک حقیقت ہے اور جیسے چڑھے سورج کو گواہیوں کی ضرورت نہیں ہوتی ویسے ہی چھوٹی چھوٹی باتیں نہ اس کا قد بڑا کر سکتی ہیں نہ اس میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ سب سے پہلے اگر ہم حب عمران گروہ کی بات کریں تو یہ لوگ عمران خان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ جیسے اس سے پہلے کوئی اور لیڈر آیا ہی نہ ہو یا کسی بھی شخص کو حکومت ملی ہی نہ ہو۔ اس عظمت اور کردار سازی میں کبھی کبھار رائی کا پہاڑ بھی بن جاتا ہے اور کبھی زیب داستاں کے لیے کچھ بڑھانے کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے خود عمران خان نے ان سے کہا تھا یا انہیں عمران خان کی صلاحیتوں پر شک ہے کہ اس کی عظمت و کردار سازی کے لیے لفاظی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ دوسری طرف بغض عمران گروہ کی بات کی جائے تو ان سے بات کرنے سے پہلے خود سے سوال کرنا پڑ جاتا ہے کہ ان لوگوں کی اپنی کوئی شخصیت بھی ہے کہ نہیں۔ دوسروں کی شخصیت میں نقائص ڈھونڈ ڈھونڈ کر آپ لوگ کونسا مہان کام سر انجام دے رہے ہیں اور ان خرابیوں اور برائیوں کو سامنے لانے سے خود آپکا کردار کس قدر اونچا ہو گایا مسخ ہو گا، کیا کبھی آپ نے بھی سوچا ہے۔ بغض ایک ایسا کام ہے جو یقینا عقل اور اچھے جذبات سے عاری سوچ کا نام ہے اور اسی بغض میں صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ہم ہر حد سے گزر جاتے ہیں اور بہت سی جھوٹی باتوں کو بھی اپنے مخالف سے منسوب کرتے ہیں تاکہ اس کی کردار کشی کی جا سکے۔

آج جب دنیا فورتھ اور ففتھ جنریشن وار زون میں داخل ہو چکی ہے اور آپ نہیں جانتے کہ آن لائن دنیا میں موجود آئی ڈیز کے پیچھے کون اور کس مقصد کو لیے ہوئے ہے تو پھر اپنا ردعمل دینے کے لیے اتنی جلدی کیوں۔ سوشل میڈیا کے مہان دانشوروں کو کسی بھی ایک پوسٹ پر دو تین دن کے لیے الجھا کر رکھنا آج کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے بلکہ میڈیا منیجرز کے لیے تو یہ بائیں ہاتھ کا کام ہو گیا ہے۔ آج یہ ضروری نہیں رہ گیا کہ کسی بھی لیڈر کے خلاف پوسٹ لگا کر ہی اس کی کردار کشی کی جائے بلکہ آج آپ کسی بھی رہنما کے حق میں پوسٹ لگا کر زیادہ بہتر کردار کشی کر سکتے ہیں۔ اگر متفق نہیں تو اپنے پسندیدہ بڑے رہنما کے حق میں پوسٹ لکھیں اور اس کی چند خدمات کا اعتراف کریں۔ اس پوسٹ کے کمنٹس میں سکرین شاٹس بمعہ لنکس وہ کردار کشی ہو گی کہ آپ بس سوچ ہی سکتے ہیں، تو ایسے میں جب کہ سب کچھ دھند میں ہو، کسی بھی ردعمل کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ کوئی بھی پوسٹ لازمی نہیں عمران خان کے حامیوں یا مخالفوں کی طرف سے ہی لگائی گئی ہو۔

حب عمران اور بغض عمران کا ایک نمایاں مظاہرہ پچھلے دنوں دیکھنے کو ملا جب حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان آ گیا۔ عمران خان کی پرانی تقاریر کے کلپس چلائے جانے لگے اور ایک ایک آئی ڈی سے تجزئیے اور تنقید پر مبنی کم از کم درجن بھر پوسٹیں یومیہ نظر آنے لگیں۔اس طوفان میں ابھی کمی نہیں آئی تھی کہ یوٹرن کا بیان آ گیا اور پھر سیرت کانفرنس میں کی جانے والی تقریر نے نفرت پر مبنی پوسٹوں اور دیواروں کی رونق کوچار چاند لگائے رکھا۔ اس سب کے درمیان حکومت نے آئی ایم ایف کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے جی ایس ٹی بڑھانے اور ڈیڑھ سو ارب کے ٹیکس لگانے سے انکار کر دیا، لیکن بغض عمران والوں کی طرف سے کوئی ایک بھی پوسٹ اس بارے میں نہ دیکھنے کو ملی نہ پڑھنے کو ملی۔ بات سوچنے کی صرف اس قدر ہے کہ جی ایس ٹی اور اضافی ٹیکس سے رعایت صرف تحریک انصاف کے حامیوں کے لیے نہیں تھی تو پھر باقیوں کے پاس اتنی بھی اخلاقیات نہیں کہ اپنے لیے کئے گئے اس حکومتی اقدام کی تعریف ہی کر دیتے۔ یاد رکھیں کہ دنیا آپ کو پٹواری یا یوتھیے کی حیثیت سے نہیں جانتی بلکہ دنیا کا میڈیا اور سوشل میڈیا آپ کو ایک پاکستانی کی حیثیت سے جانتا ہے اور جب آپ اپنے اندر کا جھوٹ یا گندھ حب عمران یا بغض عمران کی صورت میں باہر نکالتے ہیں تو دنیا ایک پاکستانی پر ہنستی ہے اور دنیا کی نظروں میں ایک پاکستانی بے توقیر ہو جاتا ہے۔ عمران خان آج کا چڑھا ہوا سورج ہے جسے آپ کی جھوٹی پوسٹیں مزید روشن نہیں کر سکتیں اور نہ ہی آپ کی مخالف پوسٹیں اس سورج کی روشنی گہنا سکتی ہیں تو کیا ہی اچھا نہیں کہ آپ ایک سچ پر قائم رہتے ہوئے ایک بہترانسان کا کردار ادا کر یں تاکہ آپ کی بطور انسان تعریف کی جا سکئے بجائے کہ آپ کو پٹواری یا یوتھیا ہی سمجھا جائے۔ آپ کیا اور کیوں ہیں یہ آپ کی پوسٹیں بتا دیں گی، حب عمران یا بغض عمران کے بجائے آپ خود کیا ہیں، یہ ضرور سوچیں۔۔۔ شائد آپ کی زندگی میں پریشانیاں اور دنیا میں نفرت کی کمی ہو سکے۔

Facebook Comments Box
تحریک انصافخرم شہزادعمران خانوزیر اعظم عمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مولانا حسین احمد مدنی کی کتاب: ہمارا ہندستان اور اسکے فضائل — ایک تبصرہ
next post
نئی حکومت: سو دن کی کہانی، قلندر کی زبانی —– محمد خان قلندر

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.