تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالممذہبی

زوال کی طرف گامزن توہم پرست معاشرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس الحق نوازش

by Editor2 08/11/2018
written by Editor2 08/11/2018
93

توہم پرستی ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔
الٹی آنکھ کا پھڑکنا مصیبت کے آنے کی دستک، سیدھی آنکھ کا پھڑکنا اچھی علامت، بچہ کے اوپر سے کسی کا گزر جانا، الّو کو دیکھنے سے منع کیاجانا، بلیوں کے گھر میں رونے اور کالی بلی کے راستہ کاٹ جانے، چھت پر کوے کا بولنا، دائیں ہاتھ پر کھجلی، بائیں ہاتھ پر کھجلی، پاوں میں کھجلی وغیرہ وغیرہ، مکان، دکان، ستارے اور دن منحوس نہیں ہوتے بلکہ انسان کے اپنے اعمال ہوتے ہیں جن کی وجہ سے آفات نازل ہوتی ہیں۔ اسی طرح فال نکلوانا، نجومی کو ہاتھ دکھانا، قرآن کریم سے فال نکالنا، ٹونے ٹوٹکے، کالا علم، تعویذ گنڈے، منت ماننا بھی غلط ہے اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

توہم پرست لوگ منفی خیالات کا شکار ہو کر اپنی خوشیاں اور سکون برباد کرلیتے ہیں اور بہت جلد مایوس ہو جاتے ہیں۔ کہنے کو تو ہم سائنسی دور میں رہتے ہیں جہاں ہر واقعہ اور نظریے کے دلائل اور حقائق تلاش کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں بھی توہم پرستی عام ہے۔

میڈیا کے نشر کردہ بہت سے پروگرامز، فلمز اور سیریل توہمات کو سچ ہوتا دکھا کر لوگوں کے اذہان میں ایسے بے معنی خیالات کو پختہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات، میگزین اور دیگر رسائل میں ’’آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں‘‘ یا ’’آج کا دن کیسا گزرے گا‘‘ جیسی خرافات دیکھنے کو ملتی ہیں جسے تعلیم یافتہ طبقہ بھی بڑے تیقن اور دِل چسپی سے پڑھتا ہے۔ جب کہ اسلام آپ کو ایسا کچھ پوچھنے کے لیے نجومی کے پاس جانے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔

آج پاکستان میں دھوکے باز اور لالچی پیری مریدی اور گدی نشینی کو سب سے زیادہ منافع بخش قرار دیتے ہیں۔ جعلی پیر حقیقی تصوف اور اس کی تعلیمات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا وہ اپنی چرب زبانی اور جھوٹ کے بل پر لوگوں کو لوٹتا ہے

ان دنوں محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام انٹر سکولز کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں فٹ بال میچ کے دوران ایک عجیب و غریب اور افسوسناک صورتحال پیش آئی۔ جب ایک طالب علم نے پیشاب مخالف ٹیم کے پول پر چھڑکا (ان کا ضعیف اعتقاد ہے ایسا کرنے سے وہ جیت سکتے ہیں) تو اس مخالف ٹیم کے زمہ دار استاد نے ایسا ردعمل دیکھایا تو میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ جب استاد کا زہن ایسی ضعیف اعتقادی پر مبنی ہو تو وہ معاشرہ تباہ نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ وہ استاد خاک اس معاشرے کی اصلاح کرے گا۔

میچ جیتنے کےلئے میں کئی اساتذہ کرام اور طلباء کو تعویذ گنڈوں اور ٹونے ٹوٹکے کرتے دیکھ چکا ہوں۔

چند سال قبل ہمارے علاقے چترال میں اورغوچ کے مقام پر ایک لونڈے نے دعویٰ کیا اس نے کسی پری سے شادی کر لی ہے پھر کیا تھا سارا شہر علاج کےلئے آمڈ آیا۔ وہ شخص روحانی علاج ساتھ ساتھ پری کے زریعے آپریشن کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ دو سال بعد جب اس کی قلعی کھل گئی تو ایسے رفو چکر ہوا جیسے گدھے کے سر سینگ۔ متعلقہ ادروں نے اس شخص کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔

ہمارے ہاں بعض عاملین نے باقاعدہ دفاتر بھی کھول رکھے ہیں۔ ان پڑھ لوگوں کو چھوڑئیے پڑھے لکھے لوگ بھی ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہیں۔

آج کے اس مادیت پرستی اور افراتفری کے دور میں انسان بہت سے معاشی اور ذہنی مسائل کا شکار ہے وہیں اس کا ایمان بھی دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مسائل حل کروانے کی طرف ایسے لوگوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ کسی زمانے میں پیر دین دار اور اللہ کے نیک بندے ہوتے تھے جو انصاف پر مبنی نظریات کا پرچار کرتے تھے ان کی تعلیمات سوچ عمل اور زندگی سچائی اور اللہ کے نیک بندوں کی بھلائی کے لئے ہوتی تھی ان کی تعلیم روحانیت پسندی اور صوفی ازم تھی لیکن اب پیری مریدی میں سچائی اور روحانیت نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس کاروبارمیں لالچ اور ہوس سب سے اہم اجزا ہیں۔

آج پاکستان میں دھوکے باز اور لالچی پیری مریدی اور گدی نشینی کو سب سے زیادہ منافع بخش قرار دیتے ہیں۔ جعلی پیر حقیقی تصوف اور اس کی تعلیمات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا وہ اپنی چرب زبانی اور جھوٹ کے بل پر لوگوں کو لوٹتا ہے ویسا تو پورا پاکستان ہی عام لوگوں کے کمزور عقائد کی وجہ سے ان جعلی پیروں کی شکارگاہ ہے لیکن دیہی علاقوں کے ان پڑھ افراد ان کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔ لہٰذا مذہبی طبقے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام اور صاحب الرائے طبقے کو چاہیے عوام الناس کو ان توہمات سے دور رکھیں اور حکومت چاہئے ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کریں جو معصوم لوگوں کے ازہاں خراب کرنے کے ساتھ ساتھ لوٹ رہے ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Facebook Comments Box
اساتذہاساتذہ کرامانٹر کالجزپاکستانپاکستان میں توہم پرستیتوہم پرستیچترالخیبر پختونخواذہنی مسائلعاملیںعلم نجوممحکمہ تعلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
پاکستان کیوں وجود میں آیا؟ —– خرم علی شفیق
next post
ایک غیر ملکی سیاح کا “سفر نامہ لاہور” — قسط: 1 —– عطاء الحق قاسمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.