تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

ولیم شیکسپئیر پر کرسٹوفر مارلو کے اثرات —– اعجاز الحق اعجاز

by دانش ڈیسک 04/11/2018
written by دانش ڈیسک 04/11/2018
86

ولیم شیکسپئیر اور کرسٹوفر مارلو ہم عصر شاعر اور ڈراما نگار تھے۔ ولیم شیکسپئیر نے کرسٹوفر مارلو سے فنی و فکری دونوں لحاظ سے بہت سے اثرات قبول کیے ہیں اور بہت سے ڈرامے اس کے تتبع میں لکھے ہیں۔

مارلو سے قبل انگریزی ڈرامے میں نظم معریٰ (Blank Verse) کی کوئی واضح صورت نہ تھی۔ اگرچہ مارلو سے قبل انگریزی میں نظم معریٰ کا استعمال باقاعدہ طور پر ہنری ہاورڈ نے اس وقت کیا جب اس نے ورجل کی اینیڈ (Aeneid) کو انگریزی میں ڈھالا اور ٹامس سیکول اور ٹامس نارٹن کے ڈرامے The Tragedy of Gorbuduc میں پہلی دفعہ نظم معریٰ استعمال ہوئی مگریہ ایک حقیقت ہے کہ مارلو ہی نے انگریزی ڈرامے میں پہلی دفعہ اس کا زیادہ موثر اور عمدہ استعمال کیا۔ یعنی اس نے اسے ڈرامے کے ایک موزوں اسلوبیاتی معیار کی شکل دے دی۔ یہ مارلو ہی تھا جس نے شیکسپئیر کے لیے ایک معیار پیدا کرکے اس کے لیے اسلوب اور تکنیک کا مسئلہ حل کر دیا۔ شیکسپئیر نے مارلو ہی سے اپنے ڈراموں میں نظم معریٰ کے استعمال کا ڈھنگ سیکھا۔ اے۔ سی سوئنبرن نے اپنی کتاب The Age of Shakespeare میں لکھا ہے:

“Marlowe is the greatest discoverer, the most daring pioneer, in all our poetic literature. Before Marlowe there was no genuine blank verse and genuine tragedy in our language. After his arrival the way was prepared, the path made straight for Shakespeare”

ولیم شیکسپئیر کی نظم وینس اینڈ ایڈونس Venus and Adonis جون 1593 ء میں کرسٹوفر مارلو کی وفات کے دو ماہ بعدمیں منظر عام پہ آئی۔ یہ نظم دراصل کرسٹوفر مارلو کی نظم ’’ہیرو اورلی اینڈر‘‘ (Hero and Leander) کے تتبع میں لکھی گئی۔ ان دونوں نظموں میںنہ صرف موضوع بہت مماثلت رکھتا ہے بلکہ ان کی تکنیک اور اسلوب بھی بہت ملتا جلتا ہے۔ مثلاً دونوں میں جوان کرداروں کے لیے Rose-Cheeked کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو اس سے پہلے کے ادب میں کہیں مستعمل نہیں ہوئی۔ یہ ترکیب شیکسپئیر نے مارلو سے لی ہے۔ دونوں میں کرداروں کو نرگس (Narcissus) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اے۔ ایل رائوس (A. L. Rowse) اپنی کتاب Christopher Marlowe: His Life and Works
میں لکھتا ہے:

“The poems are full of echoes of each other, theme, arguments, phrases, whole passages”

وینس اور ایڈونس میں جو فطری ماحول پیش کیا گیا ہے وہ کرسٹوفر مارلو کے علاقے سے مماثلت رکھتا ہے نہ کہ شیکسپئیر کے علاقے سٹراٹفورڈ آن ایون سے۔ جان بیکر کے بقول:

“Venus and Adonis is a thoroughly Kentish poem, set on the coast among the downs and brakes where Marlowe grew up compared to Shakespeare who came from inland Warwickshire.”

ـلاری ای میگائر جو کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں شیکسپئیر پہ تحقیق کر رہا ہے اپنے ایک مضمون “Marlowe’s Texts and Authorship,” میں لکھتا ہے کہ شیکسپئیر کے موجودہ لسانیاتی مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہنری پنجم، ہنری ششم، ٹائٹس اینڈرونیکس، ایڈورڈ سوم پر مارلو کے بہت واضح اثرات پائے جاتے ہیں۔

شیکسپئیر کا ہنری پنجم (Henry V) مارلو کے ڈرامے ’’تیمور‘‘ (Tamburlaine) سے ماخوذ ہے۔ مارلو کا یہ ڈراما 1587 ء میں لکھا گیا اور جب یہ سٹیج ہوا تو اس نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ اس ڈرامے میں امیر تیمور کے جاہ جلال اور غیض وغضب کو بے حد موثر انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے جو ڈرامے سٹیج ہو رہے تھے ان کی زبان بے حد خستہ اور عوامی سی ہوتی تھی۔ کڈ (Kyd) کی اسپین کا المیہ (The Spanish Tragedy)) اور مارلو کا یہ ڈراما اپنے اندر ادبی خصوصیات سموئے ہوئے ہیں یعنی ان میں ادبی اسلوب بیاں برتا گیا ہے اور پلاٹ کے لوازمات کو خوب عمدگی سے نبھایا گیا ہے۔ یہی وہ ڈرامے ہیں جو لندن کے اسٹیج پہ اولین بڑی کامیابیاں تصور کی جاتی ہیں۔

شیکسپئیر کا دی مرچنٹ آف وینس (The Merchant of Venice) مارلو کے a The Jew of Malt ہی کے تتبع میں لکھا گیا۔ ان دونوں ڈراموں میں یہودی کرداروں اور ان کی بیٹیوں کی نفسیات میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح مارلو کا ’’ پیرس کا قتل عام ‘‘(The Massace at Paris) شیکسپئیر کے ہاتھ لگتا ہے تو Measure for Measure کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب کہ ایڈورڈ سوم(Edward III) شیکسپئیر کے ہاں پہنچ کر رچرڈ دوم(Richard II) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ڈاکٹر فاسٹس کے اثرات دی ٹیمپسٹ (The Tempest) پہ بھی نظر آتے ہیں۔ دی ٹیمپسٹ کا کردار پراسپرو(Prosperpo) مارلو کے ڈاکٹر فاسٹس ہی کی طرح جادو کے علم کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ کرکے حالات و واقعات کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتا ہے اوریہ دونوں کردار جادو کتابوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جان بیکر اپنی کتاب   Oxford’s Literary and Linguistic Computing میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے:

“The richness of Marlowe’s vocabulary easily encompassed Shakespeare’s and that many of their works were indistinguishable.”

الیگزینڈر ڈائس جو کہ لندن کی شیکسپئیر سوسائٹی کا بانی ہے لکھتا ہے کہ ہنری ششم حصہ اول، دوم اور سوم سارے کے سارے مارلو کے زیر اثر لکھے گئے۔ “There is a strong suspicion that [Henry VI, Parts I, II, and III] are wholly by Marlowe.”

سیموئیل ایشباگ (Samuel S. Ashbaugh)   کے نزدیک رچرڈ سوم بھی سارے کا سارا مارلو ہی کا مرہون منت ہے۔

“Shakespeare must have taken a Richard III, written by Marlowe but now lost, and revised it into the Richard III subsequently ascribed to him by the pirate publishers. . . . There is far more of Marlowe than of Shakespeare in Richard III.”

جین لی (Jane Lee)کے بقول:

 “Richard III is full of Marlowe’s soul and spirit.” Richard II, King John, and other plays have also been credited to Marlowe.”

شیکسپئیر کے بعض کردار بھی مارلو کے کرداروں سے ملتے جلتے ہیں۔ مارلو کے اینیاس اور ڈیڈو شیکسپئیر کے ہاں رومیو اور جولیٹ بن جاتے ہیں، تیمور ہنری پنجم کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ مارلو کا یہودی باراباس (Barabas) شیکسپئیر کا شائی لاک (Shylock) ہے۔ مارلو کی ایبیگیل (Abigail) شیکسپئیر کی جیسیکا (Jessica) جیسے عادات و خصائل کا مظاہرہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

شیکسپئیر نے ڈراموں میں طنزیہ و مزاحیہ مناظر کا طریقہ بھی مارلو ہی سے سیکھا۔ ان کے ڈراموں کے متعدد مزاحیہ مناظر ملتے جلتے ہیں۔ خاص طور پہ ماولو کے ڈرامے ڈاکٹر فاسٹس میں موجود طربیہ مناظر کا شیکسپئیر نے کافی اثر قبول کیا۔
مارلو اور شیکسپئیر کے درمیان ایک اور مماثلت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے اور وہ ہے ان کی تحریروں میں حب الوطنی، قومی شناخت اور نظریے کا تحفظ۔ اے ایل راوس اس حوالے سے لکھتا ہے:

The patriotic sentiments in Marlowe’s The Massacre at Paris, running deep and true into the past, elaborated in nearly a dozen plays all the way from the Henry VI trilogy to the end with Henry VIII, constituted one of the prime sources of inspiration for the genius of Shakespeare”

مارلو سے ایک اور شے جو شیکسپئیر نے مارلو سے مستعار لی وہ ڈراموں میں انجیل مقدس سے تلمیحات پیش کرنا تھا۔ مارلواگرچہ ایک آزاد منش انسان تھا مگر وہ کیمبرج یونیورسٹی میں عیسائی الہیات کا مطالعہ کرتا رہا تھا اور وہاں سے اس نے اس شعبے میں ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔ شیکسپئیر کے بارے میں ایسے شواہد موجود نہیں کہ اس کے مذہبی مطالعات کس قدر تھے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ شیکسپئیر نے ان معاملات میں مارلو ہی کی پیروی سے کام چلایا۔
کیلون ہاف مین نے اپنی کتاب The Murder of the Man Who Was ‘Shakespeare,’ میں تیس صفحات پر مشتمل مارلو اور شیکسپئیر کے ایسے حوالے پیش کیے ہیں جن کا متن بہت قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ ایلکس جیک نے Hamlet by Marlowe and Shakespeare میں دونوں کی تحریروں کے سو کے قریب پیراگراف ساتھ ساتھ پیش کیے ہیں جن کی الفاظ و تراکیب، تشبیہات و استعارات، اور جملے ایک جیسے ہیں۔

سٹائلومیٹرکس (Stylometrics) ایک جدید علم ہے جس میں کمیوٹر کی مدد سے ایک متن کے اسلوب کے دوسرے متن کے اسلوب پہ اثرات کا تحقیقی جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مینڈن ہال نے اس کمپیوٹرپروگرام کے تحت جب مارلو اور شیکسپئیر کے اسلوب کا جائزہ لیا تو اس نے یہ دریافت کیا کہ ان دونوں کے اسلوبیاتی گراف مکمل طور پہ ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

ماولو اور شیکسپئیر کے ماخذات میں بھی مماثلت ہے۔ دونوں اووڈ (Ovid) اور پلوٹارک (Plutarch) سے استفادہ کرتے ہیں، مگر مارلو کا مطالعہ اس حوالے سے شیکسپئیر کی بہ نسبت زیادہ تھا۔

شیکسپئیر نے اگرچہ بہت سے مقامات پر کرسٹوفر مارلو کا تتبع کیا مگر اس نے اپنی تخلیقیت کے انمول جوہر بھی دکھائے ہیں اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو بہت چابک دستی سے استعمال کیا ہے اور اس کے ہاں روایت اور جدت کا ایک عمدہ امتزاج ملتا ہے۔

Facebook Comments Box
Christopher MarloweHero and LeanderShakespeareThe Tragedy of GorbuducVenus and Adonisاعجاز الحق اعجازکرسٹوفرمارلوولیم شیکسپئیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ازالہ: زندگی سے جڑا کسیلا سچ — سدرہ راو کا افسانہ
next post
کوئی تو ہو۔۔۔۔ ایک خود کلامی —- سحرش عثمان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.