تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

پوری نہیں پڑتی کو پورا کریں —— خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 30/10/2018
written by دانش ڈیسک 30/10/2018
66

پاکستان میں آپ کسی بھی چھوٹے کاروباری کے پاس چلے جائیں، حال احوال کریں تو ستر سے اسی فیصد لوگ رونا روتے ہی نظر آئیں گے اور جو باقی شکر ادا کریں، ان کے پاس بیٹھ جائیں تو دس پندرہ منٹ میں ان کے شکر کی حقیقت بھی کھل جائے گی اور پریشانیوں کا ایک دفتر ہو گا جو وہ کھول دیں گے۔ ایسا کیوں ہے؟ کسی بھی چھوٹے کاروباری کا حال پوچھیں تو وہ روتا ہی ملتا ہے اور اس کی زبان پر ایک ہی شکوہ ہوتا ہے کہ بس صاحب پوری ہی نہیں پڑتی۔ ہم چھوٹے کاروباری کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ عام عوام میں شامل لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی دکاندار، ریڑھی والا، پھیری والاسے لے کر چھوٹے موٹے ٹھیکیدار بھی انہی میں شامل کرلیں، سبھی روتے ہوئے ملیں گے اور یہ رونا اس وقت اور زیادہ ہو جاتا ہے جب آپ ان سے کسی طرح کا کوئی معاملہ کرنے جاتے ہیں۔ آپ ایک مزدور کو دھاڑی کے لیے پوچھتے ہیں تو وہ روتا ہے کہ پوری نہیں پڑتی اس لیے سو روپے مزدوری زیادہ چاہئے، ریڑھی والے کے پاس چلے جائیں تو اس کی پوری نہیں پڑ رہی ہوتی، اسے مہنگا مال ملا ہوتا ہے اور کل سے آج دو روپے زیادہ بیچنا اس کی مجبوری ہوتی ہے۔ بازار میں جوتے کپڑے خریدنے جائیں تو دکاندار رونے لگ جاتے ہیں کہ اتنے میں تو خرید بھی نہیں لیکن پھر بھی چیز دے دے گا اور یہی کہے گا کہ پوری نہیں پڑتی۔

پچھلے دنوں لاہور اردو بازار کا چکر لگا۔ بازار کے ہر داخلی راستے پر ایک ہی عبارت پڑھنے کو ملی کہ کاغذ بنانے والے خوشحال اور کاپی بنانے والے بے حال۔ ۔ ۔ پوری نہ پڑنے کا رونا پورا اردو بازار بھی رو رہا ہے لیکن اتفاق کی بات ہے کہ کوئی بھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ نہ ہمارا خدا جھوٹا ہو سکتا ہے نہ اس کا رسول اور نہ کلام۔ ۔ ۔ خدا اور اس کا کلام یہی کہتے ہیں کہ تجارت میں تین چوتھائی برکت ہے یعنی ہم دنیا میں جتنے بھی کام کرتے ہیں ان میں سے تین حصے برکت صرف تجارت میں رکھ دی گئی ہے اور باقی برکت تمام امور میں بانٹ دی گئی ہے۔ اگر تجارت اتنی ہی باعث برکت ہے تو پھر اس سے وابسطہ لوگوں کی پوری کیوں نہیں پڑ رہی۔ ۔ ۔ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یاں خدا اور اس کا کلام جھوٹا ہو گا یا پھر یہ سارے لوگ جھوٹے ہیں۔ ۔ ۔ خدا اور اس کا کلام تو جھوٹا نہیں ہو سکتا اس لیے صاف سی بات ہے کہ آج کا تاجر، آج کا روباری ہی جھوٹا ہے۔ چلیں بات کو کھولنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اردو بازار جائیں تو دوکانیں مال سے اور آنکھیں آنسووں سے بھری ملیں گی کہ پوری نہیں پڑ رہی

سب سے پہلے کاپی بنانے والی کی بدحالی کی طرف ہی آتے ہیں۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی کاپیاں اور رجسٹر جس سائز اور معیار کے ہوتے تھے کیا آج کی کاپیاں اس معیار کی ہیں؟ جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ ۔ ۔ اور یہی جواب سارے اردو بازار کا ہو گا کہ صاحب پوری نہیں پڑتی، کیسے وہ سائز اور معیار دیں۔ لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ انسان جب چوری اور جھوٹ کو اپنی ہوشیاری اور چالاکی سمجھ لیتا ہے تو پھر جوتے اس کا مقدر بن جاتے ہیں۔ یہی کاپی بنانے والے سینٹی میٹر کے حساب سے بھی کاپی کی لمبائی چوڑائی کم کریں تو کتنا کاغذ بچاتے ہیں۔ ۔ ۔ ؟ کم معیار کا کاغذ استعمال کریں تو قیمت میں کتنی بچت ممکن ہوتی ہے؟ اور انہوں نے دو چار دس بیس کاپیاں تو بنانی نہیں ہوتی بلکہ ہزاروں اور لاکھوں کاپیوں کا ماہانہ آرڈر ہوتا ہے اب ہر کاپی سے تین صفحے کم کرتے ہوئے دس ہزار کاپیوں کا آرڈر بھی پورا کریں تو تیس ہزار صفحے تو مزید بچا لیے گئے جس سے مزید سوا تین سو کاپیاں بڑی ہی چالاکی سے تیار کر لی گئیں۔ اب کوئی پوچھے کہ خدا کے بندے، جب ایسی بے ایمانی اور بے شرمی کاروباری میں کی جائے گی تو برکت کہاں سے اور کیسے آئے گی۔ ایسے میں آپ اردو بازار جائیں تو دوکانیں مال سے اور آنکھیں آنسووں سے بھری ملیں گی کہ پوری نہیں پڑ رہی۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: لالچ اساں کو کھا گئے ۔۔۔۔ فارینہ الماس

 

چلیں ذرا سا آگے چلیں اور ذرا سا سفر کر تے ہوئے اپنے شہر کے الیکڑانکس کے بازار چلے جائیں اور کچھ بھی طلب کریں تو آپ کو ایک ہی چیز کی کم سے کم پانچ سے چھے ورائٹیز دیکھنے کو ملیں گی۔ ایک عام آدمی سمجھتا ہے کہ یہ ورائٹی دراصل ہر شخص کی جیب کو مد نظر رکھتے ہوئے موجود ہیں تاکہ ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق کچھ نہ کچھ خرید سکے لیکن آپ جو خریدتے ہیں وہ صرف اور صرف دھوکہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک بجلی کا بورڈ خریدنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے تین چار مختلف طرح کے بورڈ رکھے جائیں گے اور انہیں بنانے والا یا دکاندار آپ کو بتائے گا کہ جی اس والے میں بٹن بڑے اچھے لگے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ اس والے کی پلاسٹک شیٹ بہت پائیدار اور مضبوط ہے۔ ۔ ۔ اس والے میں فلاں کمپنی کی تار کا استعمال ہوا ہے۔ لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ جس بورڈ میں بٹن بہت اچھے لگے ہیں اس میں شیٹ اور تار ناقص استعمال ہوئی ہے اور صرف اس لیے ناقص استعمال ہوئی ہے تاکہ چار روپے بچائے جائیں کیونکہ پوری نہیں پڑتی۔

ہر پوری نہ پڑنے والا دوسروں سے پورا کرنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک بہت ہی بھیانک تصویر بنتی ہے جو آج ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔

ملاوٹ تو پاکستانیوں کے نزدیک ایک فن ہے اور یہ اس فن میں یکتا لوگ ہیں لیکن دوسرے کاروباری بھی اشیاء کے معیار میں گھپلے کرتے ہوئے گاہک کو چونا لگانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔ اور اس بات پر اندر ہی اندر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ اپنے کاروباری گر استعمال کرتے ہوئے آج اتنے کی دکانداری کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک کاپی بیچنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ اسے گھر کے لیے ہزار دوسری اشیاء کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے ہی میسر ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کی پوری نہیں پڑ رہی تو ایسے ہی دوسرے کی بھی پوری نہیں پڑ رہی اور وہ بھلا آپ کو چونا لگانے سے کیوں کر چوکے گا، آپ اس کے رشتے دار تھوڑی ہیں۔ اس طرح ایک سرکل سا مکمل ہونے لگ جاتا ہے۔ ہر پوری نہ پڑنے والا دوسروں سے پورا کرنے کی کوشش میں لگا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک بہت ہی بھیانک تصویر بنتی ہے جو آج ہمارے معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ نفسا نفسی، مارا ماری اور پوری نہ پڑنے کے رونے کے پیچھے موجود انسان کاروباری گرو بھی ہیں اور دکانوں سے باہر گرتے مال کے مالک بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اگرآپ کی اپنی پوری نہیں پڑ رہی تو اسے دوسروں سے پورا کرنے کی کوشش نہ کریں تاکہ دوسرے اپنی پوریاں آپ سے پوری نہ کریں۔ دوسروں کو جینے دیں اور اپنی ذات میں اپنے خدا کا شکر ادا کرنے کا سلیقہ سیکھیں۔ یہ ’’پوری‘‘ انسانی ہوس کا دوسرا نام ہے اور انسان کی ہوس اور اس کا پیٹ صرف اور صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اس لیے اپنے پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ جس دن آپ نے اپنے کاروباری گر استعمال نہ کئے، دل سے شکر کو اپنا شعار بنا لیا، آپ کی پوری پڑ جائے گی اور اگر فرض کیا کہ پوری نہیں بھی پڑتی تو کیا فرق پڑتا ہے کبھی کبھار تھوڑی سی کم پوری پر ہی گزارہ کر لیا کریں لیکن یوں دوسروں کی زندگیوں میں پریشانیاں لانے اور اپنے رب کو بھول کر پوری کر بھی لیں گے تو اس پوری کا آپ کو کیا حاصل، آج تک کون ہے جو اپنی پوری کو اپنے ساتھ اگلے جہاں لے جا سکا ہے۔ ۔ ۔ اس لیے اپنی پوری کو پورا کرنے کی کوشش کریں کہ زندگی بہت خوبصورت ہے۔

Facebook Comments Box
حسددھوکاکاروباری بے ایمانیکاروباری دھوکالالچہوس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک پوپ جس نے مسلمانوں سے ریاضی سیکھی — محمد عبدالحارث
next post
برِصغیر کے آخری کلاسیکی متکلم: حافظ ایوب دہلویؒ (2) — محمد رشید ارشد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.