تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

قوم پرستی، ریاست اور حب الوطنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس

by Editor2 28/10/2018
written by Editor2 28/10/2018
94

حب الوطنی ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا تعلق فرد سے ہے۔ اس کی مثال خاندان کی محبت کی سی ہے۔

قوم ایک اجتماعی شناختی اکائی ہے اور اس کا تعلق معاشرے سے ہے۔ ایک فرد بہ یک وقت کئی قوموں کا حصہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر میں مسلمان، پاکستانی، پنجابی اور جاٹ قوم کا حصہ ہوں۔ مختلف معاشرے ان اجتماعی شناختوں میں درجہ بندی مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے لیے مذہبی، بھارت کے لیے وطنی، جرمنوں کے لیے نسلی اور فرانسیسیوں کے لیے لسانی قومیت فوقیت رکھتی ہے۔

قوم پرستی ایک سیاسی نظریہ ہے اور اس کا تعلق جدیدیت سے ہے۔ یہ کسی ایک شناختی اکائی (مذہی یا نسلی یا وطنی یا لسانی) کو سیاست اور سیاسی تفاخر کی بنیاد اور اصول بھی بنا لینے کا نام ہے۔

قومی ریاست ریاستوں کی ایک قسم ہے جس میں کسی ایک قومی اکائی کے لیے ریاست قائم کی جاتی ہے۔

۱) خاندانی / شخصی ریاست،
۲) عمرانی معاہدے کی ریاست، اور
۳) نظریاتی ریاست،

ریاستیں قائم کرنے کی مزید تین صورتیں ہیں۔ امریکہ و فرانس کے انقلاب سے قبل دنیا میں اکثر و بیشتر ملوکیتیں یا شخصی آمریتیں قائم تھیں جن میں جتنے علاقے پر کسی خاندان یا فرد کا قبضہ ہوجاتا وہ علاقہ اپنے تمام تر لسانی، مذہبی، جغرافیائی اور نسلی تنوع کے باوجود ریاست کہلاتا۔ جدید دور میں برطانیہ اپنے ظاہری خدوخال میں ایسی ہی مملکتی اساس کی یادگار ہے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد بتدریج قومی ریاستیں جنم لینے لگیں جہاں ریاست کا وجود قوم پر بنیاد رکھنے لگا (قوم کی بنیاد علاقہ، زبان، نسل یا مذہب ۔۔۔ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ کسے فائق جانتے ہیں)

تاہم اسی دور میں امریکی انقلاب کے ساتھ ایک اور قسم کی ریاست بھی نشوونما پانے لگی جہاں ریاست کی بنیاد نا شخصی یا خاندانی قبضہ تھا نہ ہی وطنی، لسانی، نسلی یا مذہبی قومیت، بلکہ ریاست کو ایک عمرانی معاہدے میں درج کچھ بنیادی متفقہ اصولوں اور قدروں پر قائم کیا گیا اور پھر اس ریاست کی بنیاد پر ایک قوم نے جنم لیا جس میں مختلف مذہبی، وطنی، لسانی اور نسلی قومی اکائیاں بھی موجوں کی طرح قائم رہیں۔

انقلاب روس کے بعد ریاست کی ایک اور قسم سامنے آئی جسے نظریاتی ریاست کہا جاتا ہے، یہاں ایک مخصوص نظریے اور پروگرام کے نفاذ کے لی ریاست کو وقف کردیا گیا۔

مسلمانیت جرمنیت جیسی شئے ہے نہ اسلام کمیونزم جیسا کوئی منصوبہ۔ اسلام ہمارا مکمل تمدنی حوالہ ہے جس سے قدریں اخذ کرکہ ہمیں اپنے زمانی و مکانی تقاضوں کے مطابق ایک ایسے عمرانی معاہدے پر ریاست قائم کرنی چاہیے جس میں تمام افراد بلاامتیازِ قومیت (مذہب/ زبان/ نسل) و نظریہ برابر ہوں۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد پورے مغربی یورپ نے اصولی طور پر عمرانی معاہدے کی ریاست کو تسلیم کرلیا۔ اگرچہ جرمنی، فرانس، اٹلی جیسی قومی ریاستوں نے اپنے قومی ریاست کے سانچے اور برطانیہ اور بیلجئیم جیسی کثیرالقومی بادشاہتوں نے اپنے ملوکانہ سانچے بظاہر رسمی طور پر قائم رکھے مگر ریاست کی اصل روح ہر جگہہ عمرانی معاہدے بن گئے جو مغربی تمدن کے اصولوں اور قدروں سے اخذ کردہ تھے۔ قومی ریاستیں بھی اپنی اساسی قومی اکائی کو پس پشت ڈال کر عمرانی معاہدے کی بنیاد پر اپنی پہچان اور رویے تشکیل دینے لگیں۔ قوم پرستی کے گڑھ جرمنی میں بھی جرمن اور ترک اور یہودی قوموں کے شہری عمرانی معاہدے کے اصولوں یعنی آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی شرط پر برابر ہوگئے۔

مگر شاید امریکہ تاریخ میں عمرانی معاہدے کی پہلی ریاست نہ تھی۔ اگر میثاق مدینہ کی شقیں پڑھی جائیں تو مدینہ کی ریاست نہ تو ایران و روم کی طرح شخصی و خاندانی اصول پر قائم ہوئی نہ ہی مکہ کی ریاست کی طرح قریشی قومیت کے اصول پر اور نہ ہی کوئی ٹھوس تفصیلی معاشی و سیاسی یوٹوپیائی منصوبہ / نظریہ ہی اس ریاست کے قیام کی بنیاد بنا۔ مدینہ کی ریاست ایک کثیر القومی عمرانی معاہدے کی ریاست تھی۔

مسلمانوں نے اپنی مختلف قومیتوں میں سے اسلامی قومیت کو فوقیت تو دی مگر اسے ریاست کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ ریاست کی بنیاد یہودی قوم سے طے پانے والے معاہدے کو ہی قرار دیا گیا۔ یوں مدینہ کو ہرگز مسلمان قومی ریاست نہیں کہا جاسکتا۔

پاکستان میں ایک بہت بڑی کنفیوژن یہ بھی ہے کہ آیا پاکستان ایک قومی ریاست ہے، نظریاتی ریاست یا عمرانی معاہدے کی ریاست۔ اگر ہم قومی ریاست ہیں تو آیا ہم لسانی قومیتوں کا ایک وفاق ہیں یا پھر مسلم قومی ریاست ؟ اگر ہم نظریاتی ریاست ہیں تو اس نظریے کے خدوخال کیا ہیں ؟

قومی ریاست کے اصلی جوہر سے تو مغرب نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر چھٹکارہ پالیا تھا۔ کمیونزم کے خاتمے کے بعد نظریاتی ریاستوں کی بھی اب کوئی گنجائش نہیں۔ مگر ہمارا انٹیلیجینشیاء اپنی فکری رجعت پسندی کے سبب انہیں دو آپشنز میں پھنسا ہوا ہے۔ حالانکہ بانیان پاکستان کی تقاریر اور مقالات کا مطالعہ یہ صاف بتاتا ہے کہ وہ اگرچہ وہ اسلام کو ایک دنیاوی فینومینا بھی سمجھتے تھے ناکہ صرف مذہبی ڈاکٹرائین اور وہ مسلم قومیت کو اپنی وطنی، نسلی اور لسانی قومیت پر فوقیت بھی دیتے تھے، مگر وہ پاکستان کو ایک اسلامی نطریاتی یا مسلم قومی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے۔ (لسانی قومیتوں کے وفاق پر بنیاد رکھنے والی قومی ریاست کا تو سوال ہی کہیں بانیان پاکستان کے ہاں پیدا نہیں ہوتا)۔

قائد کی تقاریر میں واضح ہے کہ وہ پاکستان کو عمرانی معاہدے پر مبنی ایک ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں ۱) مسلم قومیت مسلمانوں کی دوسری قومی شناختوں پر فائق تو رہے اور ۲) اسلامی اصول اور قدریں ایک جمہوری عمرانی معاہدے کی تشکیل کا بنیادی حوالہ اور دلیل بھی ہوں مگر نہ تو پاکستان کو کسی قسم کی قومی ریاست ہونا تھا جیسا ہمارے سیکولر طبقات نے کوشش کی اور نہ ہی کوئی سوویت یونین طرز کی نظریاتی ریاست جہاں کمیونزم کی بجائے اسلام نے نظریہ بن کر ریاست کو چلانا تھا، جیسے کہ ہمارے مذہبی طبقات کا موقف رہا۔ اسلام قومیت یا نظریہ بننے سے بلند تر ہے۔

مسلمانیت جرمنیت جیسی شئے ہے نہ اسلام کمیونزم جیسا کوئی منصوبہ۔ اسلام ہمارا مکمل تمدنی حوالہ ہے جس سے قدریں اخذ کرکہ ہمیں اپنے زمانی و مکانی تقاضوں کے مطابق ایک ایسے عمرانی معاہدے پر ریاست قائم کرنی چاہیے جس میں تمام افراد بلاامتیازِ قومیت (مذہب/ زبان/ نسل) و نظریہ برابر ہوں۔

Facebook Comments Box
featuredامریکہپاکستانپاکستانیتجرمنیتحب الوطنیریاستعمرانی معاہدےعمرانیتقائد اعظمقوم پرستیقومی ریاستکمیونزممسلمانیتمغربی یورپمیثاق مدینہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
نگارشاتِ ظفر علی خان —– فتح محمد ملک
next post
پاکستان، اسرائیل اور مسلم دنیا —– سردار جمیل خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.