تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

سرسید، لیاقت علی اور سردار نشتر: تاریخ کے مظلوم — احمد الیاس

by دانش ڈیسک 20/10/2018
written by دانش ڈیسک 20/10/2018
119

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سرسیّد کے علی گڑھ کالج نے بہترین تحفہ کونسا دیا تو میں لیاقت علی خان شہید کا نام لوں گا۔

لیاقت علی خان کی تحریر و تقریر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس اعلٰی پائے کے سیاسی دانشور تھے، اسلام کے سیاسی و سماجی آئیڈیل، فکرِ اقبال، معاشیات اور بین الاقوامی امور جیسے متنوع موضوعات پر انہیں کیسی زبردست گرفت تھی۔ اگر پاکستان ابتدائی سالوں میں شدید ترین مشکلات کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا تو یہ بھی صرف اور صرف لیاقت علی خان کا کارنامہ ہے۔ ملک کی تاریخ کی واحد مستقل دستوری دستاویز قرارداد مقاصد جو پاکستان کی فکری بنیاد کی بہترین مظہر ہے، لیاقت کا ہی کریڈٹ ہے۔ اور اس امیر کبیر نواب زادے کے شہادت کے وقت جو انتہائی برائے نام اثاثے تھے، انہیں دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رض ہی دماغ میں آتے ہیں۔

مگر ہمارے ہاں لیاقت کی شخصیت سے دو بڑی زیادتیاں کی جاتی ہیں۔

ا) اقبال اور جناح کے بعد ملک کے اس تیسرے بانی کو انتہائی افسوسناک حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مگر یہ خصلت تو ہماری گُھٹی میں ہے۔ تاریخ کے تشدد نے ہماری خود اعتمادی کو اس بری طرح تباہ کردیا ہے کہ ہم نے یہ فرض کرلیا ہے کہ ہم کوئی بڑا شخص پیدا ہی نہیں کرسکتے۔ جب تک گورا صاحب سرٹیفیکیٹ نہ دے، ہم اپنے ہیروں کا بھی کوئلہ ہی کہتے ہیں۔ جناح جناح کی رٹ بھی مغرب زدہ سیکولر کلاس نے سٹینلے والپرٹ اور جسونت سنگھ کو دیکھ کر لگانی شروع کی ہے ورنہ انہیں بھی کہاں لفٹ کراتے تھے۔

لیاقت کے خلاف بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔ اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ لیاقت کی اقبال اور اسلام سے محبت بہت سے لوگوں کو کھٹکتی ہے

2) لیاقت کے خلاف بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں۔ اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ لیاقت کی اقبال اور اسلام سے محبت بہت سے لوگوں کو کھٹکتی ہے مگر اس بات کو کرنے کی ہمت نہ پاکر لیاقت پر جو الزام لگایا جاتا ہے وہ یہ کہ انہوں نے ہمیں امریکہ کا اتحادی بنا دیا اور سوویت یونین سے دور کردیا۔ ایسا کرتے وقت یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ قائد نے بھی امریکی عوام ہی سے براڈ کاسٹ پر خطاب کیا تھا، روسی عوام سے نہیں اور بائیں بازو کی کانگریس کے مخالف دائیں بازو کی قّوت مسلم لیگ کا جھکاؤ فکری طور پر جناح دور سے ہی کیمونسٹ روس کے مقابل آزاد جمہوری معاشروں کی طرف تھا۔ اور یہ بھی بھلا دیا جاتا ہے کہ اگر لیاقت واقعی امریکہ کے حاشیہ نشیں ہوتے تو امریکہ افغان حکومت کی مدد سے ان کو شہید نہ کرواتا۔ اس بات کی اب تصدیق ہوچکی ہے کہ سی آئی اے نے لیاقت علی خان کو قتل کروایا۔

(حوالہ: https://www۔pakistantoday۔com۔pk/…/secret-is-out-americans…/ )

شہیدِ ملت کی شہادت ملک کی تاریخ کا بدقسمت ترین موڑ ہے۔ اسلامی تاریخ میں جو نحوست شہادتِ علی المرتضیٰ رض کے لمحے سے جڑی ہے وہ پاکستانی تاریخ میں لیاقت کی شہادت کے لمحے سے منسلک ہے۔ شہادتِ علی رض نے امت کو ہمیشہ کے لیے ٹریک سے ہٹا کر بادشاہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو شہادتِ لیاقت نے پاکستان کی سمت غلط کردی اور انگریز کی پیدا کی ہوئی مغرب زدہ اور جاگیردار کلاسز ہم پر مستقل مسلط ہوگئیں۔

سچ ہے کہ جس گولی سے لیاقت علی خان شہید ہوئے اسی گولی سے محسن الملک،  اقبال رح اور قائد اعظم کی مسلم لیگ بھی شہید ہوگئی۔

سردار عبدالرب نشتر لیاقت علی خان کے فطری جانشین تھے اور لیاقت دور میں مسلم لیگ کے دوسرا اہم ترین قائد سمجھے جاتے تھے۔ آپ ایک بہترین شاعر، ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور قائدِ اعظم کے تربیت کردہ ذہین سیاستدان بھی تھے۔ مگر مسلم لیگ کمیٹی نے ان کو صرف اس لیے مسترد کردیا کہ وہ نمازی پرہیزی اور عملی صوفی ہیں، ‘دنیادار’ نہیں ہیں۔ ان کی جگہہ غلام محمد جیسے بدنام زمانہ کو لایا گیا جس نے پاکستانی سیکولرازم کے بانی جسٹس محمد منیر کے ساتھ مل کر ملک کا جو ستیاناس کیا وہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جس گولی سے لیاقت علی خان شہید ہوئے اسی گولی سے محسن الملک، امام اقبال رح اور قائد اعظم کی مسلم لیگ بھی شہید ہوگئی۔ مسلم لیگ کے نام پر جو پیچھے بچا وہ فکری طور پر یونینسٹ پارٹی کی باقیات اور برٹش راج کا تیار کردہ جاگیردار ٹولہ تھا جو آج تک مسلط ہے۔

Facebook Comments Box
featuredسردار عبدالرب نشترسرسید احمد خانشہید ملتلیاقت علی خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میاں تم نے ہماری برسوں کی محنت ضائع کردی: کچھ یادیں — عطا محمد تبسم
next post
صحافت، حکومت اور اشتہارات — اسامہ مقبول

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.