تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

شوہر ہمارے کیسے کیسے (2) ——- ڈاکٹر مریم عرفان

by دانش ڈیسک 08/10/2018
written by دانش ڈیسک 08/10/2018
78

غصیلے شوہر:
’’مولے نوں مولانہ مارے تے مولانیں مردا اوئے۔ ۔ ۔‘‘ یہ بڑھک صرف سلطان راہی مرحوم ہی کی میراث نہیں بلکہ اس کے اصل وارث غصیلے شوہر ہیں جنھیں ہم پنجابی شوہر کے طور پر بھی جانتے ہیں۔ جن کاخاندانی زیور ہاتھ میں ڈنڈا اور منہ پرگالی ہے۔ ان کے پسندیدہ کاموں میں سسرال پر اپنی برتری ثابت کرنا، شاذ و نادر ہی سسرالیوں سے ملنا، بیوی پر ہیبت طاری کرنا اور ہر بیماری کا علاج مارکٹائی سے کرنا ان کا اصل شیوہ ہے۔ ان کے من پسند نعروں میں سے ایک نعرہ ’’ڈنڈا پیراے وگڑے تگڑیاں دا‘‘ ہے۔ بیوی جتنا بھی سج سنور کر انجمن بن جائے ان کے لیے وہ اپنی ذات میں بھی انجمن نہیں بن پاتی۔ یہ جذبات میں آنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اس لیے اگر بیوی ان کے سامنے اٹھلا اٹھلا کرچلنے سے ہلکان بھی ہوجائے تو یہ سر نہیں اٹھاتے کہ کہیں تعریف ہی نہ کرنی پڑ جائے۔ یہ اپنا ذاتی بچہ بھی چھت پر کھڑے ہو کر نہیں اٹھاتے کہ لوگ کیا کہیں گے مرد ہو کے بچہ بغل میں دے رکھا ہے؟

پنجابی شوہراپنی دھاک بٹھانے میں ایسا ماسٹر ہو جاتا ہے کہ بیوی بھی اس کی مارکی شائق بلکہ طالب رہتی ہے۔ مارکھانے میں دودن کی تاخیرہوجائے سہی بس فوراً سرپردوپٹہ باندھ کر بیڈ پر درازہوجاتی ہے۔

پنجابی شوہر:
پنجابی شوہروں کے ہاں سب سے بڑی پیرنی ان کی ماں ہوتی ہے جن کی قدم بوسی سے دن کا آغاز ہوتا ہے اور چرن چھونے سے رات ہوتی ہے۔ ان کے رعب کی مثالیں ان کی بیویاں اپنے بچوں کو دے دے کرڈراتی ہیں کہ: ’’سو جاؤ وے اونتریو! ورنہ تواہڈا پیو آجاوے گا۔‘‘ پنجابی شوہراپنی دھاک بٹھانے میں ایسا ماسٹر ہو جاتا ہے کہ بیوی بھی اس کی مارکی شائق بلکہ طالب رہتی ہے۔ مار کھانے میں دودن کی تاخیر ہو جائے سہی بس فوراً سر پر دوپٹہ باندھ کر بیڈ پر دراز ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پنجابی شوہر منہ میں بڑبڑاتے ہیں:’’بس س س س۔ ۔ ۔ چھتراں دی کمی اے۔‘‘ ان کی بیویوں کو چہرے کی کھرونچیں اور سوجن دکھانے میں بھی لطف محسوس ہوتا ہے اوروہ دوپٹے کے پلو کو پھونکوں سے گرم کرتے ہوئے آنکھ پر رکھ کر کہتی ہیں: ’’تیرے پائین نے ماریا اے۔‘‘ پنجابی بیویاں اپنے مردوں میں مردانگی کی اس صفت کو محبوب قرار دیتی ہیں اور سینہ تان کر چلتی ہیں۔ یہ شوہرکو اتنا زچ کر دیتی ہیں کہ اگروہ کہے: ’’ناکر بک بک۔‘‘ تو وہ دل ہی دل میں ان کے رعب سے خوش ہوتے ہوئے کہتی ہیں: ’’ایتھے رکھ۔‘‘ گویا پنجابی شوہر ہر لحاظ سے کامیاب رہتے ہیں کیونکہ یہ اپنی بیویوں کے لیے پیر پگاڑا سے کم نہیں ہوتے۔

شوقین شوہر:
شوقین شوہروں کو عام الفاظ میں ہندوستانی شوہر کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ شوہر بہت مفاہمت پسند اور صلح جو قسم کے ہوتے ہیں، ان کے گھروں میں خاصا انڈرسٹینڈنگ والا ماحول پایا جاتا ہے۔ ان کی بیویاں دبنگ اور پنجابی مردوں کا چربہ ہوتی ہیں جن کے رعب داب کے آگے یہ بس ’’اِب کے مار‘‘ کی زندہ اورجیتی جاگتی تصویر بنے رہتے ہیں۔ یہ اپنی بیگمات کو بخوشی گھمانے پھرانے لے جاتے ہیں، بچوں کے ڈائپر بدلتے ہیں، بیگم کی لپ اسٹک، کریم، پاؤڈر اور نیل پالش تک ان کی مرضی سے آتی ہے۔ یہ اتوار کے روز ناشتہ بنانے سے پہلے بیگم کو بیڈ۔ ٹی ضروردیتے ہیں اور شادی اور بیوی کی سالگرہیں منانا تو ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ زیادہ شوقین مزاج شوہر تو اپنی بیویوں کو ایک عدد گاڑی تک لے کر دیتے ہیں جسے وہ شاپنگ کے لیے وقف کرسکتی ہیں۔ ان کی گاڑی میں ایل۔ سی۔ ڈی پلیئر پر لتا، رفیع اور کمارسانو کے رومانٹک گانوں کا چترہار ہمیشہ آن رہتاہے۔ ان کا پسندیدہ سلوگن بھی یہ ہے: ’’ناچیں گے، گائیں گے، کھائیں گے، پئیں گے، اور کیا۔‘‘ یہ پینڈو شوہروں کی نسبت اپنے آج میں مست الست رہتے ہیں، ان کی کل دنیا ان کی شریک حیات ہی ہوتی ہے جس میں وہ اپنی سگی ماں کو بھی شریک کرنا پسند نہیں کرتے۔ ان کی زندگی اس شعرکی ترجمان ہوتی ہے:

ہر روز، روز عید، ہرشب شب برات
سوتا ہوں ہاتھ گردن بیگم میں ڈال کر

بیرونی شوہر:
بیرونی شوہروں سے ہماری مراد دوبئی یا سعودی عرب سیٹل لوگ ہیں جو زندگی بھر معمہ ہی بنے رہتے ہیں۔ یہ بیچارے محنت کش، جفاکش اور کل ملا کر تمام کش بہت ترسیلے ہوتے ہیں۔ یہ پیدا ہی کمائی کرنے کے لیے ہوئے ہیں، پہلے تو ماں باپ کے لیے مزدوری کرتے ہیں، پھر بہن بھائیوں کے مستقبل کے لیے اور بعد میں خود ان کی باری آتی ہے۔ یہ کم وبیش وہی باری ہے جو ہمارے ٹپوں میں دھرائی جاتی ہے کہ: ’’باری برسی کھٹن گیا سی، کھٹ کے لیاندی سوئی۔ ۔ ۔ اوئی ی ی ی۔‘‘ بیرون ملک کمائی کے لیے جانے والے سبھی مسافر شوہر اس اوئی سے گزرتے ہیں۔ ان کی شادی کی عمر بہت کم ہوتی ہے اور عموماً بڑے طویل عرصے بعد آتی ہے۔ شادی ہوتے ہی نوجوانی کا عالم گزر جاتا ہے اور یہ دوسرے دن بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی دیکھیں کہ ان کی شادی کی باری اس وقت آتی ہے جب ان کے بھانجے اور بھتیجے بھی عین عالم شباب میں سر پر سہرے سجاتے ہیں اور دوستوں کی اولادیں صاحب اولاد ہو رہی ہوتی ہیں۔ ایسے بے چارے حضرات تو بیرونی شوہروں کی اے کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں اور بی کیٹگری میں آتے ہیں فریش، خالص یا غیر روایتی لڑکے بالے جو ڈاکٹر، انجینئر یا بینکار ہیں اور پڑھے لکھے طبقے کے فرد ہیں۔ ان کے رشتے، پاسپورٹ اور ویزہ آنے سے پہلے ہی برسنے لگتے ہیں۔ یہ اپنی ماؤں کے لاڈلے ترین سپوت ہوتے ہیں بقول میڈم نور جہاں: ’’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔‘‘ یہ خاصے ممی ڈیڈی قسم کے شوہر ثابت ہوتے ہیں جنھیں زمانے کے گرم و سرد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ ان کے لیے مشکلات اس وقت جنم لیتی ہیں جب ان کے سسرال والے پروٹوکول میں حدسے آگے گزرنے لگیں ایسے میں ماؤں کے ماتھے ٹھنکتے ہیں۔ اختیارات کی اس جنگ میں یہ نہتے ہی شہید ہوتے رہتے ہیں، اکیلے رہنے کی وجہ سے یہ آزادی پسند ہوتے ہیں جبکہ ان کی بیویاں ان کے سروں پر مسلط رہنا چاہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد بس مہنگے مہنگے تحائف خرید کر فلیٹ بھرتے رہنا ہوتا ہے۔

متفرق شوہر:
متفرقات میں سیاسی شوہر، لو میرج شوہر اور اندھا دھند شوہر آتے ہیں۔ سیاسی شوہروں کی یہ قسم ایک دوست کے بے حد اصرار پر بیان کی جارہی ہے۔ یہ شوہرشادی ہوتے ہی اپنے دوستوں کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو محفلیں گلی تک محدود رہتی ہیں پھر ڈرائنگ روم سجتے ہیں اور پھر مجلس شوریٰ کے اجلاس چوراہوں پر منعقد ہوتے ہیں۔ ان کی جیبوں میں کم ازکم دو دو موبائل رہتے ہیں جن میں سے ایک خاص طور پر بیگم سے رابطے کے لیے ہوتا ہے جو کہیں بھی کسی بھی وقت انھیں لائن حاضر کرسکتی ہے۔ سیاسی شوہر زیادہ تر چھوٹے طبقے کے دوست یاروں میں رہنا پسند کرتے ہیں ان کی گاڑی اور جیب عموماً محلے کی سیاست کے نام رہتی ہے۔ یہ بھی موڈی قسم کے شوہر ہوتے ہیں جنہوں نے خود کو پیدائشی داماد سمجھنے میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ہوتی ہے۔ اگرسسرال میں ان سے اعلیٰ اور برتر داماد پہلے سے موجود ہو تو یہ بات جلتی پرتیل کا کام کرتی ہے۔ یہ شوہر باہرکی سیاست کرتے کرتے گھریلو سیاست میں بھی طاق ہوجاتے ہیں۔ انھیں بیگم کے وہ رشتے دار پسند ہوتے ہیں جو عالمانہ باتوں سے پرہیز کرتے ہوں اورجن کا مطمع نظرصرف چکنی چپڑی پر یقین رکھنا ہو۔ اگریہ کبھی بیوی سے لڑائی کرلیں تو پھرصلح صفائی کا ٹھیکہ اس غریب کو ہی اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ یہ ضدی بچے کبھی ہتھیار نہیں ڈالتے۔

ناکامی عشق یاکامیابی
دونوں کاانجام خانہ خرابی

یہ تعارف ہے لو میرج کرنے والے شوہروں کا، جنھیں ماؤں کی بددعاؤں سے زیادہ بیویوں کی آہوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہ جذبات کی رومیں ایسے بہتے ہیں جیسے کسی نومولود کی ناک بہتی ہو اور بہتی ہی چلی جاتی ہو۔ یہ بلیک میل بھی بہت جلد ہوتے ہیں، ان کی نظرمیں زندگی سینما کی سکرین ہوتی ہے جہاں یہ اپنی محبت کے ساتھ گانے گاتے، کھانے کھاتے اور دڑنگے لگاتے رہتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ہرلڑکی سیمرن ہے جسے اس کاباپ ٹرین چھوٹنے سے پہلے کہے گا: ’’جا سیمرن جا، جی لے اپنی زندگی۔‘‘ ایک بارشادی ہوجائے تو پھر وہ سوچتے ہیں کہ کاش سیمرن کا باپ ہی گاڑی کے نیچے آگیا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ الغرض یہ کہ ان ناعاقبت اندیشوں کی دنیا بھی خراب ہوتی ہے اورزندگی بھی اجیرن رہتی ہے۔ نہ ہی یہ ماں کو الزام دے سکتے ہیں اورنہ ہی بیوی پرغصہ اتارسکتے ہیں، ان کی قسمت میں بس باتھ روم سنگر بننا ہی ہوتا ہے۔

“شوقین شوہروں کو عام الفاظ میں ہندوستانی شوہر کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ شوہر بہت مفاہمت پسند اور صلح جو قسم کے ہوتے ہیں، ان کے گھروں میں خاصا انڈرسٹینڈنگ والا ماحول پایا جاتا ہے۔ ان کی بیویاں دبنگ اور پنجابی مردوں کا چربہ ہوتی ہیں جن کے رعب داب کے آگے یہ بس ’’اِب کے مار‘‘ کی زندہ اورجیتی جاگتی تصویر بنے رہتے ہیں۔”

اندھا دھند شوہر:
اندھا دھند شوہر بہت ہنگامی قسم کے ہوتے ہیں۔ انھیں عمربھرسمجھ ہی نہیں آتاکہ یہ دنیامیں کرنے کیاآئے ہیں۔ انھیں ہر شعبہ منافع بخش اور ہر کاروبار پہلے کارآمد اور پھربے کار معلوم ہوتا ہے۔ یہ جس بھی کام میں ہاتھ ڈالیں اسے مٹی بلکہ خاک سیاہ کرکے چھوڑدیتے ہیں۔ یہ پہلے تو ماؤں کے زیور بکواتے ہیں یاباپ کی موٹر سائیکل، پھر شادی کے بعد بیوی کے جہیز کا سامان بیچ کر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ ان کی طبیعت میں انقلاب نمک کی طرح رچا بسا ہوتا ہے اس لیے یہ آبادی بڑھانے میں بھی انقلابی سوچ رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ ان شوہروں کی ایک اضافی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ ملکہ جذبات ہوتے ہیں انھیں ہربات پریہ ڈرامائی ڈائیلاگ یاد آتا ہے کہ ’’آفٹرآل آئی ایم داماد‘‘۔ وہ سسرال کوسسرائیل کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور ہر ممکن حدتک وہاں جانے سے گریز بھی کیا جاتا ہے۔ یہ داماد ٹائپ شوہر ہم زلف بنتے ہی اپنی اصل حالت میں آجاتے ہیں اور تب ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اہل سسرال کو یہ باور کرواسکیں کہ ان جیسا کوئی نہیں۔ ہم زلفوں میں یہ ہم سری بعض اوقات ترک تعلقات پرمنتج ہوتی ہے۔

نیک شوہر:
یہ کم وبیش شوہروں کی آخری قسم ہے جو معلوم نہیں کہاں ہوتی ہے۔ بیوی کی نظرسے دیکھیں تو نیک شوہر ڈھونڈنا ایسے ہی ہے جیسے کنوئیں میں گری ہوئی سوئی تلاش کرنا۔ بڑی بوڑھیوں کا قول ہے کہ پرانے وقتوں میں نیک شوہروں کا ذکر تو سنا لیکن دیکھا بالکل نہیں۔ ایسے شوہر فرشتہ صفت ہوتے ہیں جو کم ازکم اپنے تو نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ دوستوں اور سنگی ساتھیوں کے نکاح میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیک اوراچھے شوہر عموماً ہمارے بھائی، ماموں، چاچو، بہنوئی اور نندوئیوں کے روپ میں ہوتے ہیں۔ یہ بلبلوں کی طرح ہیں جو نظر آبھی جائیں تو ہاتھ نہیں لگتے۔ یہ درویش صفت لوگ اکثر و بیشتر ان ڈراموں میں ملتے ہیں جن میں ان کی بیویاں خرانٹ اور قتالہ ہوتی ہیں۔ نیک شوہر لالچ، طمع اور خود غرضی سے کوسوں دور ہوتے ہیںاس لیے ان کی قدر دانی کرنے والے خود ناپید ہیں۔ بقول شاعر:

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں جینے کی پابندی وہاں مرنے کی پابندی

ختم شد


اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھئے

Facebook Comments Box
ازدواجیاتسسرالشادیشوہرمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زندہ کتابیں، یادگار کتب کا نیا جنم ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن
next post
مولانا آزاد کے صریح جھوٹ اور جھوٹی پیش گوئیاں —— قسط اوّل ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عبدہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.