تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

فیس بُک، لعنت یا نعمت؟ ۔۔۔۔ رضا علی عابدی

by Editor2 05/10/2018
written by Editor2 05/10/2018
64

جب کمپیوٹر ایجاد ہوا، ہم نہال ہوئے۔ اسے فرو غ ہوا تو ہم کھل اٹھے۔ پھر اس میں شاخیں پھوٹیں تو گویا موسم گل آگیا، یہاں تک کہ اس میں وہ شاخ نکلی جسے فیس بک کا نام ملا، کسی نے اس کا ترجمہ کیا’ کتاب چہرہ‘۔ وہ ایجاد نہیں تھی، اعجاز تھا۔ ایک ایسا سادہ ورق جس پر ہر ایک کو حق تھا کہ اپنی بات لکھے۔ ہم جو خدا جانے کب سے پستیوں میں جی رہے تھے، اس خیال ہی سے سرشار ہوگئے کہ ہمیں اپنی بات کہنے کی آزادی ہو گی۔ ہم کہیں اور سنا کرے کوئی۔ گفتگو ہو گی، مکالمہ ہو گا۔ جواب طلب بات کا جواب آئے گا۔ بات جواب طلب نہ ہوئی تو رائیگاں بھی نہ جائے گی اور سنی جائے گی۔ بس، ان پستیوں میں رہ کر ہم اس سے زیادہ سوچنے کے اہل بھی نہ تھے۔ ہمیں کیا، ہمارے فرشتوں کے گمان میںبھی نہ تھا کہ یہی کمپیوٹر کے پردے پر جھلملانے والا یہ چہرہ، یہی کتاب چہرہ آگے چل کر بد ہیبت، بد شکل بھی ہو سکتا ہے۔ پھر جو ہوا وہ کہتے ہوئے یہ قلانچیں بھرتا ہوا وقت دل و دماغ میں کہیں چٹکی سی لیتا ہے۔ فیس بک پر بدنظمی کی سیاہ اوڑھنی کا سایہ پڑا اور ہر بات کہہ دینے کی آزادی نے ایسے ایسے گل کھلائے کہ توبہ ہی بھلی۔ اب جو لوگ دل کی بات کہہ ڈالنے کی نعمت پر ایسے جھپٹے کہ کوئی حیا مانع نہ رہی، بقول شاعر

پھر تو وہ جانِ حیا ایسا کھُلا، ایسا کھُلا

اب حالت یہ ہے کہ فیس بک پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو کچھ اچھا نہیں لگتا۔ کلمہ خیر کیا ہوتا ہے، ہمیں یاد بھی نہیں رہتا۔ جو ہے وہ دوسروں میں کیڑے ڈال رہا ہے، ہر ایک کو ہر ایک کا عیب نظر آنے لگا ہے، یوں لگتا ہے کہ ہر طرف ظلم کا بازار گرم ہے۔ سارے کے سارے عیار، مکار اور چالباز ہیں۔ اور بات بڑھتی بڑھتی پہلے لوگوں تک اور پھر ان کی بیویوں تک جا پہنچی ہے۔ ناجائز تجاوزات گراتے کیوں نہیں، گرانے لگے تو شور اٹھا کہ گرا کیوں رہے ہو۔ بات اتنی بڑھی اور اتنے زیادہ فیس بک کے شیدائی کسی بپھرے ہوئے مشتعل مجمع کی طرح غرّانے لگے کہ بالکل یوں لگا جیسے کسی نے ’ہُش‘ کر دی ہو۔ جیسے سب نے مل کر قسم کھا لی ہو کہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ لوگ اتنے ہم نوا ہوئے کہ فیس بک پر بے سُری قوالی کا گماں ہونے لگا۔

مجھے جب تک روک تھام کے ان وسیلوں کا علم نہ تھا، ساری ہی اوٹ پٹانگ باتیں نظر سے گزرا کرتی تھیں اور بلا وجہ ان باتوں کا دنداں شکن جواب دینے کی خواہش زور مارنے لگتی تھی۔ پھر خیال ہوتا تھا کہ ایسے لوگوں کے منہ کیوں لگا جائے۔ پھر یہ بھید کھلا کہ ایسے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کی چٹخنی چڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد مقام شکر ہے نیچے گلی کے شور شرابے کا میرے ایوان بالا میں داخلہ بند ہو گیا ہے

وہ جو کبھی لوگ کورس کی شکل میں گایا کرتے تھے، لوگ اس طرح سر میں سر ملا کر کوسنے کاٹنے پر اتر آئے۔ بیچ بیچ میں کسی پڑھے لکھے کی کمزور سے آواز آتی جس پر کوئی کان ہی نہ دھرتا۔ ذرا کسی نے معقول بات کہی، سارا مجمع اس ٖپر جھپٹ پڑا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ ایک صاحب کو معرکہ حق و باطل میں نہ جانے کیوں او ر کیسے باطل پر پیار آ گیا۔ ایک صاحب نے سب کچھ چھوڑا اور مذہب کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تاویلوں کے انبار لگا دئیے۔ جی چاہا کہ خدا سے معافی چاہیں مگر اکبر الہ آبادی یاد آگئے جن کے رقیبوں نے تھانے میں رپٹ لکھوا دی تھی۔

غرض یہ کہ کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟ شکر ہے کہ یہ بلائے ناگہانی کہ فیس بک کہیں جسے اتنی بھی مادر پدر آزاد نہیں۔ اس میں بھی کچھ بندشیں ہیں اور کچھ روک تھام کے بندوبست بھی ہیں۔ یہ تو ممکن نہیں کہ آپ کسی کو خاموش کر دیں یا اس کی کڑوی کسیلی باتیں بند کرا دیں لیکن مقام شکر ہے کہ آپ اس کے لئے اپنے کواڑ بھینچ کر بند کر سکتے ہیں۔ بے تکی باتیں کرنے والے کا اپنے گھرانے میں داخلہ بند کرنے کے لئے اسے ’ان فرینڈ‘ کر سکتے ہیں۔ اس کو بلاک کر سکتے ہیں اور یہی نہیں، اس کو un-follow بھی کر سکتے ہیں جس کا صحیح ترجمہ ہے: پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔ اس کے بعد اور کچھ ہو یا نہ ہو، آپ کے گھرانے میں اس کا داخلہ بند ہو جاتا ہے، پھر وہ جو چاہے لکھے، آپ کی بلا سے۔

مجھے جب تک روک تھام کے ان وسیلوں کا علم نہ تھا، ساری ہی اوٹ پٹانگ باتیں نظر سے گزرا کرتی تھیں اور بلا وجہ ان باتوں کا دنداں شکن جواب دینے کی خواہش زور مارنے لگتی تھی۔ پھر خیال ہوتا تھا کہ ایسے لوگوں کے منہ کیوں لگا جائے۔ پھر یہ بھید کھلا کہ ایسے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کی چٹخنی چڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد مقام شکر ہے نیچے گلی کے شور شرابے کا میرے ایوان بالا میں داخلہ بند ہو گیا ہے۔

مگر اس سارے معاملے کے کچھ خوش گوار پہلو بھی ہیں۔ اول تو یہ کہ فیس بک پر چھیڑے جانے والے سارے ہی بحث مباحثے بے سروپا نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی بہت معیاری اور گہرے علمی موضوعات بھی موضوع بنتے ہیں اور ان پر نہایت عمدہ گفتگو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اہل علم و ادب بھی شریک ہوتے ہیں، شاعر اپنا کلام فیس بک پر شائع کرتے ہیں، حال ہی میں کچھ عمدہ افسانے پڑھنے میں آئے ہیں۔ سیاحت کا ذوق رکھنے والے احباب اپنے سیر سپاٹوں کو بیان کر کے اس لطف میں ہمیں بھی شریک کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فوٹو گراف اور ویڈیو بھی چسپاں ہوتے ہیں اور بعض اوقات کسی دکھ درد کے مارے کی کیفیت بیان ہوتی ہے اور دور دور کے علاقوں میں آباد درد مند لوگ آگے بڑھ کر ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی کوئی شخص کسی بھی قسم کا مشورہ مانگتا ہے تو اسے ہر جانب سے ماہرانہ مشورے ملتے ہیں اور وہ بھی بلا معاوضہ۔

خود میرے کتنے ہی کام فیس بک کے طفیل نکلے۔ میں اپنی نو عمری کی یاد داشتوں پر ایک کتاب مرتب کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے پہلے میں نے اپنے متن کی ٹکڑیاں فیس بک پر چسپاں کیں اور ان پر احباب نے ہاتھ کے ہاتھ تبصرہ کیا۔ ان کی رائے کے مطابق میں نے متن میں کتنی ہی تبدیلیاں کیں۔ لوگوں نے کمال کی باتیں سجھائیں، اضافے ہوئے، ترامیم ہوئیں، کچھ حصے حذف ہوئے اور کچھ باب ایسے لکھے گئے جو پہلے میرے ذہن میں نہ تھے۔

میرا خیال ہے کہ اس ڈھنگ سے کبھی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہو گی۔ کتاب اب تکمیل کے مرحلے میں ہے۔ چھپ جائے تو میرے قاری دیکھیں گے کہ ایک نو عمر لڑکے نے دوسری عالمی جنگ کے دنوں میں جب ہوش سنبھالا تو دنیا کو کیسا پایا، جی ہاں، ہماری اسی دنیا کو۔

Facebook Comments Box
featuredجنگدوستیدوسری جنگ عظیمفوٹو گراففیس بک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
بارود —– ہری موٹوانی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی
next post
یومِ اساتذہ : ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا —— زاہد سعید

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.