تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید 5 (آخری حصہ)

by دانش ڈیسک 09/10/2018
written by دانش ڈیسک 09/10/2018
161

O

ہم خاك میں ملے تو ملے لیكن اے سپہر
اُس شوخ كو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

پہلے اس شعر كے لفظوں كو كھول لیتے ہیں، پھر اس كی شرح كی طرف جائیں گے۔ ‘خاك میں ملنا’، مٹی میں رل جانا، مٹ جانا، فنا ہو جانا + ‘سپہر’، آسمان جو عام طور پر ظلم ڈھاتا ہے + ‘شوخ’، چُلبلا حسین، محبوب جسے عاشق كی پرواہ نہ ہو اور جو عاشق كی دسترس سے باہر رہتا ہو اور عاشق كا مذاق اڑاتا ہو اور عاشق سے كھلواڑ كرتا ہواور جسے عاشق كے جزبات كی كوئی پرواہ نہ ہو، وغیرہ + ‘راہ پر لانا’، رام كرنا، حیلے بہانے سے كسی كو راضی كرنا، پَرچانا، سیدھی راہ پر لانا، وغیرہ + ‘ضرور’، ضروری، لازم۔

اس شعر كا ایك فوری مطلب تو یہ ہے كہ عاشق محبوب كو اپنی طرف متوجہ كرنے كے لیے خاك میں مل گیا اور اس كی توجہ حاصل كرنے میں كامیاب رہا۔ اسی سطح كا دوسرا مفہوم یہ ہے كہ ستم گر آسمان نے عاشق كو خاك میں ملا دیا لیكن اس كا مقصد پورا نہ ہوا۔ مٹنے كے اس عمل میں عاشق كی مرضی بھی شامل تھی جسے آسمان سمجھ نہ سكا۔ خاك میں مل جانے كے بعد عاشق آسمان كا مضحكہ اڑائے بغیر یہ انكشاف كر رہا ہے كہ میرا خاك میں ملنا كسی طرح دسترس میں نہ آنے والے محبوب كو میری طرف لانے كا ذریعہ بن گیا۔ یعنی عاشق كسی گھمنڈ اور ٹھٹھول كے بغیر فلكِ ستم گر كو یہ جتا رہا ہے كہ میرے اور محبوب كے بیچ تیری كھڑی كی ہوئی ركاوٹیں بے اثر رہیں۔ یہ ایك طرح سے آسمان كے ظلم پر اس كا شكریہ ادا كیا جا رہا ہے كہ تو نے مجھے مٹا كر نادانستگی میں مجھے میرے مقصود تك پہنچا دیا۔ لیكن شعر میں صرف اتنا ہی نہیں كہا گیا۔ اس میں گہرائی كا تأثر پیدا كیے بغیر كئی طرح كی گہرائیاں سمو دی گئی ہیں۔ لہجہ عام سا ہے اور فوری طور پر سمجھ میں آنے والی بات بھی عام سی ہے۔ نہ كوئی خاص احساس ہے اور نہ ہی كوئی غیر معمولی تخیل۔ ایك سپاٹ سے لہجے میں ایك دوٹوك بات كہہ دی گئی ہے جو اكثر سننے والوں كو كسی مزید غور اور تدبر پر نہیں اكساتی اور انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتی كہ اس لہجے اور اس بات كے پیچھے جھاكنے كی بھی ضرورت ہے۔ جو لوگ رسمی متصوفانہ مضامین سے كچھ آشنائی ركھتے ہیں وہ البتہ اس شعر سے یہ مضمون اخذ كر لیتے ہیں كہ یہ فنا اور وصل كی بات ہو رہی ہے۔ ایسے لوگ بھی بس یہیں تك پہنچ كر فارغ ہو جاتے ہیں۔ معمولی سے بیانیہ لہجے اور بالكل ٹھوس مضمون كے پیچھے نشاط و الم كی یكجائی سے پیدا ہونے والی زمانیت بلكہ محبوب كے التفات و بے رخی اور ہجر و وصال كے واقعاتی پن اور ان كے لیے مخصوص احساسات سے اوپر اٹھ كر جو حال تشكیل پاتا ہے، اس شعر كا اصل معنی وہ ہے۔ ایك ‘شوخ’ ہی كے لفظ كو غور سے دیكھ لیں تو اس میں پورے شعر كی كیفیت اور معنویت سمائی ہوئی ہے۔ محبوب ‘شوخ’ ہو تو عاشق كے لیے نشاطیہ جزبات اور المیہ احساسات، دونوں كی مسلسل فراہمی كا عمل جاری رہتا ہے۔ ‘شوخ’ محبوب كا ہجر بھی پورا نہیں ہوتا اور وصال بھی ناتمام رہتا ہے۔ اس لیے عاشق الم اور نشاط كی متوازی كیفیتوں كا container بنا رہتا ہے اور اس كے احوالِ فراق میں بھی ایك رنگینی سی ہوتی ہے اور طلبِ وصل میں بھی كوئی نہ كوئی دھڑكا سا لگا رہتا ہے۔ یہ ایسی situation ہے جس میں غم اور خوشی كی مغائرت مدھم پڑ جاتی ہے اور عاشق اپنی طرف متوجہ ہونے كی بجائے محبوب كی ادائے كشش و گریز میں كھویا رہتا ہے۔ ‘شوخ’ محبوب كا قرب و بُعد اتنی تیزی سے اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے كہ عاشق میں كسی احساس كو ٹھیك سے محسوس ہونے كی مہلت ہی نہیں ملتی، احساسات كی مسلسل تقلیب كا عمل اتنا تیز رفتار ہوتا ہے كہ عاشق اسے خود میں سمیٹنے كے لائق ہی نہیں رہ جاتا۔ وہ اپنے آپ میں رہتے ہوئے اپنے تجربات كا احاطہ نہیں كر سكتا۔ تو محبوب كی یہی شوخی اسے خودی اور انا كے موجودہ دائرے سے باہر نكلنے پر مجبور كر دیتی ہے تا كہ عشق كے احوال و تجربات كو contain كر سكنے كا ایك نیا ظرف حاصل ہو جائے۔ خودی كی سطح پر اور انا كے پہلو سے عاشق اور محبوب حالتِ تصادم میں رہتے ہیں۔ یعنی محبوب كی انا اور عاشق كی خودی كی میں تعلق كی اساس تصادم پر ہے۔ اور اس تصادم كا بس ایك ہی نتیجہ ہے: انائے عاشق، یعنی عاشق كی انا كا معدوم ہو جانا! یہ فنا عاشق پر جبر نہیں ہے بلكہ اس كا مطلوب ہے۔ فنا عاشق كی تكمیل كرتی ہے اور اس كے سب سے بنیادی نقص یعنی اِنیت (sense of iamness) كا ازالہ كرتی ہے۔ اب اس پس منظر میں اس شعر پر كان لگائیں تو یہ سنائی دے گا كہ ہم جب تك ہم رہے، محبوب سے حقیقی نسبت پیدا كرنے كے قابل نہیں تھے۔ یعنی ہم ہیں ہی نہیں اور خود كو ہم سمجھتے رہے تو اس وہم سے پیدا ہونے والے وجود كی طرف محبوب كیسے ملتفت ہوتا۔ یہ موہوم وجود نہ اس كے فراق كا اہل تھا اور نہ اس كے وصال كے لائق۔ جب ہم نے ‘ہم ہونا’ چھوڑ دیا تو محبوب كی نسبت میسر آ گئی اور وہ اپنی نزیكی و دوری دونوں كے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہو گیا۔ اس سے پتا چلا كہ ہم نہ ہونے كی حالت میں محبوب كی نگاہ میں آ سكتے ہیں، ہونے كی حالت میں نہیں۔ ہونے كی حالت نے ہمیں محبوب كی نگاہ سے اوجھل كر ركھا تھا۔ یہ ہیں اس شعر كے معنی جنہیں میر نے عام سے انداز میں بلكہ، معاف كیجیے گا، قدرے بازاری لہجے میں بیان كر دكھایا۔

اب ذرا ایك منظر بنا كر دیكھیے۔ ایك اسٹیج ہے جس پر ایك كھیل چل رہا ہے۔ اس كھیل كے ایك كردار كے ماتھے پر ایك چیپی لگی ہوئی ہے جس پر لكھا ہے ‘یہ میں ہوں’۔ وہ كردار ایك عاشق كا ہے جو اپنے محبوب كے سامنے كھڑا ہے مگر اسے نظر نہیں آ رہا۔ پھر وہ كردار یہ چیپی اتار كے پھینك دیتا ہے اور دوسری چیپی ماتھے پر لگا لیتا ہے جس پر لكھا ہے ‘یہ میں نہیں ہوں’۔ اب محبوب كی آنكھوں میں اس كا عكس پیدا ہوتا ہوا صاف دكھائی دیتا ہے۔ محبوب كی نظر میں آ جانے كے بعد عاشق آسمان كی طرف انگلی اٹھا كر كہتا ہے كہ تو نے مجھے ظلم و ستم ڈھانے كے لیے ‘میں’ بنا ركھا تھا۔ یہی تیرا سب سے بڑا ظلم تھا جس كی وجہ سے محبوب مجھے پہچان ہی نہیں رہا تھا۔ میں نے میں كی وہ نقاب اتار كر پھینك دی ہے جو تو نے میرے چہرے پر مَنڈھی تھی، اب میں نے نہ ہونا سیكھ لیا ہے اور ‘میں’ كو خاك میں ملا دیا ہے۔ اب میں وہ مٹی بن گیا ہوں جس سے وہ راستہ پیدا ہوا ہے جس پر چل كر میرا محبوب میری طرف آ گیا اور مجھے اس كی طرف جانے كی ضرورت ہیں نہیں پڑی۔ میں جب تك اپنے آپ میں رہتے ہوئے اس كی طرف چلتا رہا اس تك نہیں پہنچ سكا، لیكن جب میں نے ‘میں’ ہونا چھوڑ دیا تو پھر خود وہ راستہ بن گیا جو محبوب كو میری طرف كھینچ لایا۔ یہاں اتنا یاد رہے كہ ہماری روایت میں آسمان ظلم و ستم اور نا انصافی كا استعارہ ہے، خصوصا عاشق سے تو اسے مستقل دشمنی ہے۔ یہاں آسمان كے حوالے سے ‘خاك’ كا ذكر بھی خاصہ پُرلطف ہے، دو انتہائیں جمع ہو گئی ہیں۔

اب اس شعر كو ایك دوسرے رخ سے دیكھتے ہیں۔ كثرتِ مضامین شعر كا درجہ بلند كر دیتی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے كہ عاشق ظالم آسمان سے كہہ رہا ہے كہ تو نے مجھ حقیر فقیر كو تو ‘خاك’ میں ملا دیا اور میں اس پر راضی بھی ہوں لیكن تجھے اس ‘شوخ’ كو بھی راہ پر لانا چاہیے تھا، اسے بھی رام كرنا چاہیے تھا۔ یہ ضروری كام تجھ سے نہ ہو سكا كیونكہ اس پر تیرا زور چل ہی نہیں سكتا۔ اس كی شوخی یعنی نچلا نہ بیٹھنا ایسا ہے كہ تیری حركت اور گردش اسے پكڑ ہی نہیں سكتی لیكن بہرحال یہ ایك آرائیشی نقطہ ہے، اس سے زیادہ كچھ نہیں۔

O

كل پانوں ایك كاسۂ سر پر جو آگیا
یكسر وہ استخوان شكستوں سے چُور تھا
كہنے لگا كہ دیكھ كے چل راہ بے خبر
میں بھی كبھو كِسو كا سرِ پُر غرور تھا

یہ ایك سامنے كا اخلاقی بیان ہے مگر اس كی شدت اتنی زیادہ ہے كہ اس كی تہداری كو محسوس كرنے كی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ اخلاقی شدت والا مضمون عقیدے كی طرح ہوتا ہے، بیان ہوتے ہی پورا فہم اور تسكین فراہم كر دیتا ہے۔ اس كا تجزیہ نہیں ہوتا یا یوں كہہ لیں كہ اس كا تجزیہ ضروری نہیں كیونكہ اخلاقی مضامین statements كی طرح ہوتے ہیں جن كی تاثیر ان كی مفہومیت پر غالب ہوتی ہے۔ بات بس اتنی سی ہے كہ دنیا كی كسی چیز پر اكڑنا نہیں چاہیے كیونكہ دنیا كی اصل فنا ہے۔ فنا كے گھاٹ اترتے رہنے كا یہ عمل كبھی تیغِ تقدیر سے انجام پاتا ہے اور كہیں دنیا خود ہی اپنے آپ كو اور اپنے contents كو فنا كرتی رہتی ہے تاریخ كی تلوار سے۔ منظر بہت خوب ہے، سارا مفہوم مجسم ہو جاتا ہے۔ كیونكہ مضمون فنا كا ہے لہذا تصویر بھی ڈرامائی بنائی گئی ہے۔ ‘كل’ بہت خوبصورت اور بامعنی ہے۔ اس میں فنا كی رعایت بھی آگئی ہے اور یہ پہلو بھی پایا جاتا ہے كہ یہ گزرا ہوا كل آج كا بھى اصل content ہے، یعنی آج بھی گزرنے كے لیے ہے۔ اسی طرح ‘سر ‘كی رعایت سے ‘یكسر’ دیكھیں- ایك طرف ‘كاسۂ سر’ اور دوسری طرف ‘یكسر’، یہ رعایت بھى پر لطف ہے۔ اب ‘وہ استخوان’ بھی غضب كا ہے، یوں لگتا ہے كہ پوری situation اپنی تمام تر المناكی اور بھیانك پن كے ساتھ اس ایك لفظ میں سمٹ آئی ہے۔ فنا كا پورا مضمون سارے سیاق و سباق كے ساتھ اس لفظ میں تصویر ہو گیا ہے۔ اور پھر ‘شكستوں سے چُور’ كا بھی جواب نہیں۔ ‘شكست’ كو جمع كے صیغے میں میر نے كئی جگہ استعمال كیا ہے اور یہ صیغہ ایك طرح سے میر سے مخصوص ہو گیا ہے۔ مثلا:

دل سے میرے شكستیں الجھی ہیں
سنگ باراں ہے آبگینے پر

اور ویسے بھی میر لفظوں كو حالتِ جمع میں برتنے كے ہماری روایت میں امامِ اعظم كی حیثیت ركھتے ہیں۔ لفظ میں جمع كے صیغے میں آ كر كیسی معنوی تہ داری اور كیفیاتی تنوع پیدا ہونا چاہیے، ان سب كو میر ناقابلِ تدبر كمال كے ساتھ پیدا كر دكھاتے ہیں۔ اس معاملے میں كم از كم اردو شاعری میں ان كا دور دور تك كوئی حریف نہیں:

كن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناك
مژگاں تو كھول، شہر كو سیلاب لے گیا

جمع كے صیغے جو میر كا امتیاز ہیں وہ فارسی جمعیں نہیں ہیں بلكہ اردو قاعدے كے مطابق بننے والے صیغے ہیں۔ اور پھر وہ ایسے لفظوں كی جمع بنا لیتے ہیں جن كا مفرد استعمال ہی مروج ہے اور كافی ہے۔ جیسے انہیں شعروں میں دیكھ لیجیے كہ ‘شكست’ اور ‘نیند’ كی جمع ہمارے یہاں مروج نہیں ہے۔ انہیں اردو قاعدے كے مطابق جمع میں استعمال كر كے مفرد لفظ سے زیادہ بامعنی اور پُركیفیت بنا دیا۔ یہ ٹھیك ہے كہ یہ فارسی شاعری كا اثر ہے تاہم اردو میں جمع بنانے كا ایسا عمل نامانوس ہے۔ تو اب ‘شكستوں سے چُور’ كا مطلب یہ نكلا كہ اس كے ٹوٹنے كا كوئی ایك انداز نہیں تھا بلكہ ہزار اسلوب تھے۔ آپ سمجھ گئے ناں كہ دنیا مقامِ كثرت ہے، یہاں زوال كا كوئی ایك قانون ہے نہ كمال كا۔

تو اب صورتِ حال یہ ہے كہ ایك شخص اپنے آپ میں مگن اور اِدھر اُدھر سے بےپرواہ چلا جا رہا تھا كہ اس كا پاوں ایك كھوپڑی پر آ گیا۔ اس كو ٹھوكر لگنے سے وہ بُربُری ہڈیوں كا گولا گویا چورا بن گیا اور اس میں سے ایك آواز آئی كہ او ‘بے خبر’ جسے بظاہر دوسروں كی خبر نہیں ہے مگر دراصل وہ اپنی حیثیت اور انجام سے بھی ناواقف ہے، اتنی بےپرواہی اور گھمنڈ كے ساتھ نہ چل، ایسی خود فریبی كی رَو میں راستہ طے نہ كر ورنہ مجھے غور سے دیكھ لے كہ ‘میں بھی كبھو كسو كا سرِ پُر غرور تھا’۔ كل میری جگہ تیرا ‘كاسۂ سر’ ہو گا جو تیرا ہونے كے باوجود تیرا نہیں رہے گیا، میری ہی طرح كسی نامعلوم شخص كی كھوپڑی بن جائے گا۔

فنا اور زوال كے قانون كو جو چیز زیادہ المیہ اور ہولناك بنا دیتی ہے، وہ ہے ہمیشگی كا وہم۔ شعور تمام چیزوں كو انا كے محور پر گھماتا ہے جس كی وجہ سے آدمی كے اندر یہ خوش فہمی پیدا ہو جاتی ہے كہ اس محور كے گرد گھومنے والی چیزیں تو فنا ہو جاتی ہیں لیكن خود یہ محور جاوداں ہے۔ كونوے بدلتے رہیں گے، پانی تبدیل ہوتا رہے گا لیكن یہ رہٹ اپنی جگہ پر گردش كرتا رہے گا۔ خودی كے لیے فنا محض ایك مشاہدہ ہے، كوئی تجربہ نہیں۔ ‘بے خبر’ كا لفظ اسي context میں آیا ہے۔ یعنی وہ شخص جس كا آج محض گزرے ہوئے كل كی توسیع ہے، آنے والے كل كی تنبیہ نہیں۔ اس قطع كا خلاصہ یہ ہے كہ آدمی صرف subject نہیں ہے، object بھی ہے بلكہ object ہی ہے۔ Subject تو بس تقدیر ہے اور تاریخ ہے۔

‘كسو كا سرِ پُر غرور’ بہت ڈراؤنا اور ہیبت ناك ہے۔ یعنی جس انا نے دھوكے میں ركھا ہوا تھا وہ بھی بے نام و نشان ہو كر رہ گئی۔ ذرا ‘كسو’ یعنی ‘كسی’ كو محسوس كرنے كی كوشش كیجیے، ایسا نہیں لگتا كہ فنا اتنی شدید ہے كہ بس مٹنا باقی رہ گیا ہے، كون مٹا؟ اس كا كوئی سراغ نہیں ملتا۔ كمال ہے، واقعی كمال ہے۔ اسی طرح ‘سرِ پر غرور’ بھی اعصاب كو شل كر دینے والی كیفیت اور معنویت ركھتا ہے جو ‘كاسۂ سر’ كی صورت میں اس منظر كا مركزی object ہے، اس ڈرامے كا مركزی كردار ہے، مطلب، ‘كاسۂ سر’ اس كھیل كا main character ہے جو كبھی كسی نامعلوم گھمنڈی شخص كا ‘سرِ پُر غرور تھا’۔ اس تركیب كے دو معنی ہیں: تكبر سے بھرا ہوا سر اور دھوكے میں غرق دماغ۔ یعنی ایسا سر جو اپنی بڑائی كے وہم سے بھرا ہوا تھا۔ قرآن میں دنیا كو دارالوجود كہا گیا ہے، یہ رعایت بھی ذہن میں ركھیں تو پتا چلتا ہے كہ یہاں دھوكے كی بس دو ہی جگہیں ہیں، ایك دنیا اور دوسرا آدمی كا تصورِ انا۔

اس قطعے سے یہ نقطہ بھی ہاتھ آتا ہے كہ اخلاق كا جوہر بھی المیاتی ہوتا ہے۔ بے روح اخلاقی تعلیم تحكم كے ساتھ ہوتی ہے اور زندہ اخلاقی بیان tragic ہوتا ہے۔ اس بات كو سمجھیں اگر احوالِ وجود میں بلندی اور گہرائی پیدا كرنی ہے۔

O

تھا وہ تو رشكِ حورِ بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم كا اپنی قصور تھا

ایك پہلو سے دیكھیں تو سادہ شعر ہے مگر دوسرے رخ سے دیكھا جائے تو اس میں پیچ داری بھی ہے۔ یہ میر كا عام اسلوب ہے كہ ان كے شعر سے لطف اندوز ہونے كے لیے شعر كی ادھوری سمجھ بھی كافی ہو جاتی ہے۔ یعنی شعر میں سادگی اور عمومی پن كا ایك عنصر ایسا ہوتا ہے جو شعر سے فوری طور پر لطف اندوز ہونے كا سامان فراہم كر دیتا ہے، شعر كے فہم كی ضرورتیں اور مطالبات بعد میں پیدا ہوتے ہیں اور اگر پیدا نہ ہوں تو بھی شعر كی پُرلطفی كسی نہ كسی درجے میں برقرار رہتی ہے۔ جیسے اسی شعر كو دیكھ لیجیے، پہلی ہی نظر میں اس كے یہ مطالب قاری كی سمجھ میں آ سكتے ہیں:

1۔ ‘وہ’ یعنی جنت كی حوروں كو شرمانے والا حسین ہمیں میں سے تھا لیكن ہم یہ حقیقت سمجھ نہ سكے۔

2۔ حوروں سے بڑھ كر جمال ركھنے والا محبوب، آدمی ہی تھا مگر ہم اس كی آدمیت كا ادراك نہ كر سكے۔

3۔ وہ محبوب جو ہمیں كبھی نہیں ملا، وہ سارا وقت ہمارے درمیان ہی رہا لیكن ہم اپنی كم فہمی كی وجہ سے اس كا ہمارے درمیان ہونا بوجھ نہ سكے۔

اس شعر سے منتقل ہونے والا پہلا مضمون اتنا ہی ہے۔ ظاہر ہے كہ یہ مضمون انتہائی رسمی بلكہ پیش پا افتادہ ہے۔ اس میں اتنی جان نہیں ہے كہ ذہن اسے كسی نئی بات كے طور پر قبول كرے اور دل اسے كسی نئی كیفیت كے طور پر وصول كرے۔ بلكہ ذوقِ معنی ركھنے والا ذہن ایسے مضامین پر اپنے دروازے بند كر لیتا ہے اور دل بھی اس طرح كی باتوں پر توجہ نہیں دیتا۔ تو پھر اس شعر میں ایسی كیا چیز ہے جو ہمیں اس كی شرح پر اكسا رہی ہے؟ شعر كی تاثیر زیادہ تر اس كے مضمون میں ہوتی ہے، مضمون اتنا گھسا پٹا ہے مگر پھر بھی یہ شعر اچھا كیوں لگ رہا ہے؟ میرے خیال میں اس كا جواب یہ ہے كہ حسنِ اظہار كی وجہ سے، قدرتِ كلام كی وجہ سے۔ حسنِ اظہار معنی آفرینی سے كمتر وصف نہیں ہے بلكہ شاعری میں اس كی ضرورت تمام چیزوں سے بڑھ كر ہے۔ حسنِ اظہار نہ ہو تو بڑے سے بڑے معنی بھی شاعری میں بے وقعت ہیں۔ یعنی كمالِ اظہار كو معنی لازمی حاجت نہیں ہے ہاں معنی كو اپنی تخلیقی ترتیب كے لیے حسنِ اظہار كی مستقل ضرورت ہے۔ تو اس پہلو سے دیكھیے تو اس شعر میں معنی و مضمون بالكل عام سے ہیں لیكن ان كے اظہار میں جیسی خلاقی اور صناعی ہے وہ ذہن كو معنی یا مضمون كی بےندرتی كی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی۔

تو واضح ہو گیا ناں كہ معنی اور مضمون بس اتنا سا ہے كہ اُس كا جمال سماوی تھا مگر وہ خود اہلِ زمین میں سے تھا۔ ہم چونكہ اسے نہیں بلكہ اس كے جمال كو دیكھتے تھے لہذا اس كے زمینی ہونے كا ادراك نہ كر سكے۔ اس معنی میں زور لگا زیادہ سے زیادہ ایك آدھ پر ہی كا اضافہ كیا جا سكتا ہے۔ مثلا ‘وہ’ كون ہے؟ ایك روایتی محبوب جس كے حسن كے بارے میں یہ مبالغہ كیا جا سكتا ہےكہ ایسا حسن حوروں كو بھی نہیں ملا، یا كوئی ideal حسین جس پر بِن دیكھے عاشق ہو جانے كی ایك باقاعدہ روایت ہے! یعنی جمال كا idea انسانی صورت میں متصور ہو كر دیوانہ كر دینے والے عشق كا موضوع بن گیا ہے مگر اس كا مصداق كہیں نہیں ملتا۔ مصداق نہ ملنے كے خلا كو حورانِ بہشتی كے حوالے سے بھرا گیا ہے۔ حور اندیكھی حالت میں بھی بہرحال ایك مصدقہ وجود تو ہے۔ اور حور اور جنت وغیرہ مطلقا غائب ہوتے ہوئے بھی تصدیقات ہی كی category میں آتی ہیں، محض تصورات كے زمرے میں نہیں۔ تو اس شعر میں حوروں كے ذكر سے اس صاحبِ جمال كے غیاب میں قدرے حضور كی جہت داخل كی گئی ہے اور ذرا سا ٹھوس پن پیدا كیا گیا ہے تا كہ یہ نہ لگے كہ ‘وہ’ محض ایك خیالی وجود ہے۔ اور پھر اس كا ‘ہمیں میں ہونا’ اتنے تیقن سے بیان كیا جا رہا ہے كہ اس ‘رشكِ حورِ بہشتی’ كے گرد بنی ہوئی تجرید و تخئیل كی فضا جیسے چھٹ سی جاتی ہے اور اس كا معلوم اور مشہود نہ ہو سكنا بھی اس پر یقین ركھنے میں ركاوٹ نہیں بنتا۔ اس طرح كی كچھ اور باتیں بھی نكالی جا سكتی ہیں لیكن ان میں شعر كی حیثیت ایك ضمنی حوالے جیسی تو رہ جائے گی، ماخذ اور مصدر كی نہیں۔ مثال كے طور پر كوئی صاحب ‘وہ’ كو محبوبِ حقیقی سے بھی جوڑ سكتے ہیں اور شعر میں سے تنزیہ و تشبیہ كے مباحث بھی برآمد كر سكتے ہیں، لیكن اس ساری كاوش سے فقط اپنی ذہنی اُپج كا اظہار ہو جائے گا اور كچھ نہیں۔ اور یہ محبوبِ حقیقی والی بات میں خود گھڑ كے نہیں كہہ رہا، ایك معروف تنقید نگار نے اس شعر كا بنیادی موضوع محبوبِ حقیقی یعنی اللہ كو قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں كچھ اچھی باتیں بھی كیں ہیں لیكن انہوں ایك سامنے كی چیز كو نظر انداز كر دیا۔ جمال كی جہت سے اللہ كے بارے میں یہ نہیں كہا جا سكتا كہ وہ ‘رشكِ حورِ بہشتی’ ہے۔

اس شعر كا اصل حسن اور تمام تر خوبی اس كے مضمون میں نہیں، اس كے حسنِ اظہار میں ہے۔ لفظوں كو ایسی قدرتِ كلام كے ساتھ باندھا گیا ہے كہ اگر شعر میں كوئی مضمون نہ ہوتا تو بھی اس كے حسن میں زیادہ كمی نہ آتی۔ ‘حور’، ‘بہشتی’ اور ‘قصور’ میں جو رعایت پائی جاتی ہے وہ محتاجِ شرح نہیں ہے خصوصا ‘حور’ و ‘قصور’ كا phrase ذہن میں ہو تو لطف اور بڑھ جاتا ہے۔ ‘فہم’ كی نسبت سے ‘قصور’ كے دو مطلب ہیں: غلطی اور بے بسی۔ یعنی ہم نے اسے اپنے درمیان نہیں پایا تو یہ ہمارے فہم كی غلطی تھی، لیكن چونكہ وہ ‘رشكِ حورِ بہشتی’ ہے اس لیے اپنی اس شان كے ساتھ وہ اگر ہماری سمجھ میں نہ آ سكا تو یہ ہمارے ‘فہم’ كی بے بسی تھی۔ اب یہ دیكھیے یہ كتنا پُرلطف ہے كہ ہم نے جسے سمجھنے میں غلطی كی، اسے سمجھنا ہمارے لیے ممكن ہی نہ تھا۔ كتنا خوبصورت ہے یہ paradox۔ اور ‘فہم’ كا لفظ تو ایسا آیا ہے كہ ہر تحسین ناكافی لگتی ہے۔ ایك تو جمالیاتی مضمون میں ‘فہم’ كو مركزی حیثیت دینا بہت ہی نادر بات ہے، اور اس سے بھی بڑھ كر عاشق كے حوالے سے ‘فہم’ كا ایسا استعمال واقعی حیران كن ہے۔ اگر كوئی فلسفی كہے كہ میرے ‘فہم’ میں غلطی ہو گئی تو یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے لیكن یہاں تو عاشق اپنے ‘فہم’ كا رونا رو رہا ہے، دیوانہ اپنی عقل كو كوس رہا ہے۔ یہ سب كتنا پُرلطف ہے۔ اس سے اگر چاہیں تو یہ نقطہ نكالا جا سكتا ہے كہ اگر میرے شعور كی باگ جزب اور دیوانگی كے ہاتھوں میں ہوتی تو اس ‘رشكِ حورِ بہشتی’ كو اپنے اندر پایا جا سكتا تھا۔ لیكن دماغ پر انحصار كرنے كی وجہ سے ایسا نہ ہو سكا۔ یا حسنِ اظہار كی اس سطح سے مناسبت پیدا كر كے شعر میں سے یہ بات بھی نكالی جا سكتی ہے كہ وہ ‘رشكِ حورِ بہشتی’ آدمی ہی تھا، اگر اس كی آدمیت كا ادراك كر لیتے تو اسے پا لیتے، لیكن ہم نے اس كے رعبِ حسن كے زیرِ اثر اسے آدمیت سے ماورا سمجھ لیا تھا اور اسی وجہ سے اسے پا بھی نہ سكے۔ گویا ہمارے ‘فہم’ كی غلطی نے ہمیں نا مراد عاشق بنا دیا۔ ذرا اس بات كو اپنے اندر اترنے كا راستہ دیجیے كہ عشق میں نامرادی كا سبب ہماری كم فہمی ہے، ایك بہت ہی گہری لذت دل و دماغ میں سرایت كرتے ہوئے محسوس ہو گی۔

ختم شد


اس مضمون کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Facebook Comments Box
میرمیر تقی میر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شفاف احتساب کی کڑوی گولی — سلمان عابد
next post
وزیر اعظم صاحب ضد میں نقصان ہے — خرم شہزاد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.