تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالممذہبی

ہمارے متجد دین اور لیولنگ Leveling کا مرض ——- اطہر وقار عظیم

by دانش ڈیسک 28/09/2018
written by دانش ڈیسک 28/09/2018
63

بیشتر مسلم متجد دین میں ایک مریضانہ طرز فکر و عمل؛ مشترک نظر آتا ہے؛ اور وہ ہے لیولنگ Leveling کرنا اور ہر وقت، ہر معاملے میں لیولنگ کرنا۔ لیولنگ کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ کم تر درجے کی ناقص شے کو اعلیٰ تر درجے کی شے کے برابر رکھ کر لیول کر دیں اور پھر ان دونوں اقسام کو یکساں درجے پر سمجھیں اور پھر اس کے حق میں عقلی و نقلی دلائل تلاش کرتے پھریں۔ حالانکہ یہ ہمارے مشاہدے اور سامنے کی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مادی دنیا میں بھی ایک ہی طرح کی اور ایک ہی نوع سے تعلق رکھنے والی اجناس کو اعلیٰ درجے سے لے کر کم ترین درجے کی اقسام میں پیدا کیا ہے۔ مثلاً کھجور کو دیکھ لیں، کیا اعلیٰ درجے کی کھجور کو کم تر درجے کی سطح کے کھجور کے برابر ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح گھوڑوں کی نسلوں کی درجنوں اقسام ہیں۔ اعلیٰ عربی نسل کے گھوڑے کی قدر و قیمت عام گھوڑے سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح پھلوں کو دیکھا جائے تو آم، انار، انگور اور اس جیسوں درجنوں اقسام ہیں جو لذت، ذائقے اور اثر پذیری میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ جس کے تحت؛ ان کی درجہ بندی اعلیٰ درجے سے ادنیٰ درجے کی سطح پر کی جا سکتی ہے۔ یہ تو مادی چیزوں کا احوال ہے۔ اگر غیر مادی یا روحانی مخلوقات کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں بھی درجہ بندی اور مراتب کا نظام موجود ہے جو اسلام کے ما بعد الطبیعاتی نظام کا حصہ ہے۔ فرشتوں کو ہی دیکھئے۔ سب سے زیادہ مقرب اور معزز فرشتے، حضرت جبرائیل ؑکا درجہ، مرتبہ ؛حتیٰ کہ حجم عام فرشتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ حضرت محمدﷺ نے جبرئیل امین کو ان کی اصل ملکوتی حالت میں دو دفعہ دیکھا تھا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ۔ سورة التكوير (81) آیات (23)
بے شک آپ (محمدؐ) نے، انہیں (جبرئیلؑ) کو واضح افق میں دیکھا۔

حضرت عائشہؓ کی صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ معراج کے موقع پر حضرت محمدؐ نے جب جبرائیلؑ کو دیکھا، تو وہ زمین و آسمان کے درمیان تمام جگہ میں پھیلے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیلؑ کو لاتعداد پروں میں چھپا کر رکھا ہوا ہے۔ یہی معاملہ جنوں اور دیگر مخلوقات کے ساتھ بھی ہے ؛جو مقام ابلیس (شیطان) کو غرور نفس اور حکم عدولی سے پہلے ابدی حیثیت میں حاصل تھا۔ اس تک عام جن نہیں پہنچ سکتے تھے۔

چنانچہ جید متجد دین کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مراتب اور درجہ بندی کیوں فرمائی ہے؟ آخر اس قسم کی تربیتی تقسیم کا مدعا اور مقصد کیا ہے؟ دراصل ایک ہی نوع میں بہترین قسم سے لے کر نچلی درجے کی قسم کی یہ درجہ بندی اس لیے بھی کی گئی ہے تا کہ ہم تخصیص کے قائل ہو سکیں؛ تا کہ ہر شے کو اس کی فطری اور متعین گروہ جگہ یا مقام پر رکھا جا سکے ؛جو کہ مقام عدل ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلی دو صدیوں سے لے کر اب تک مسلم متجد یدین؛ جو بد قسمتی سے مغرب کی جدیدیت اور دنیاوی ترقی سے بری طرح متاثر ہیں، انہوں نے لیولنگ کی کمزوری کو ایک دینی اصول کی طرح اپناتے ہوئے فروغ دیا ہے اور رواج دیا ہے۔

اس کو مثال سے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ دینی روایت اور تہذیبی تناظر میں ؛اہل علم و فکر نے ہمیشہ سے علوم نقلی، یعنی وحی کے ذریعے ملنے والے قرآن و حدیث اور دیگر مستند مذہبی روایت کے علم کو انسانی عقلی علوم یا اکتسابی علوم پر فوقیت اور ترجیح دی ہے۔ اور قیامت تک دینی روایت اور تہذیبی تناظر کے تسلسل میں ایسا ہی رہے گا۔ لیکن اس کے برعکس متجد دین نے جدید سائنسی علوم (چاہے وہ نیوٹرل اور غیر جانبدارانہ epistemology کی حالت میں ہوں یا پھر سیکولر تناظر اور سیکولرائزیشن کی سرگرمی کے ذریعے؛ سائنس پرستی (Scientism) کے مذہب میں ڈھلتے ہوئے نظر آتے ہیں) اور دیگر عقلی علوم مثلاً فلسفے اور منطق کو نقلی علوم کی سطح پر لیول کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور صرف دنیاوی اور افادیاتی علوم کے حصول پر جنت کی بشارتیں دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ نے متجد دین سے؛ وہ حدیث تو سنی ہو گی، علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے لیکن جس سیاق و سباق اور تناظر میں حدیث بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سراسر علوم عقلیہ اور دنیاوی افادیاتی علوم والا ہوتا ہے۔ اور اس کی ترغیب دلانے والا ہوتا ہے۔ جو متجد دین، فکری سیکولرائزیشن مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ تو آگے بڑھ کر؛ ان دنیاوی علوم کے حصول کو ہی مسلمانوں کے لیے اہم اور کافی سمجھتے ہیں۔

یوں وہ العلم کے عمودی vertical اور آفاقی پہلو کو، (جو ہمیں خالق کائنات اور خود دینی روایت سے جوڑتا ہے) اسے محض افقی سطح Horizontal سطح؛ یعنی دنیاوی و مادی سطح پر لیول کر کے محدود اور سیکولرائز کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد

 

اس سلسلے کے تسلسل میں؛ ہمارے متجد دین جب تصوف کے سلسلے کو دینی روایت کے احاطے کے اندر؛ تزکیہ نفس کے اسلامی ادارے کو بھی ؛متوازی دین قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے ہیں تو وہ دراصل دینی روایت میں موجود؛ پاکیزہ ہستیوں یعنی صوفیائے کرام اور دینی علمائے کرام کو ؛دور حاضر کے ان متجد دین کی سطح پر لیول کر دیتے ہیں جو دینی روایت کا سطحی علم رکھتے ہیں اور جنہوں نے تزکیہ نفس کی بھی کوئی خاص عملی کوششیں بھی نہیں کیں ہوتیں۔ یوں ایک اعلیٰ قسم کو ایک ادنیٰ درجے کے بالمقابل لا کر برابر کر دیا جاتا ہے۔ اگر متجد دین یہی کام دنیاوی علوم کے ماہرین کے باب میں کرنے کی جسارت کریں؛ تو کوئی سنجیدہ علمی درسگاہ ان متجد دین کو؛ اپنے اداروں میں؛ داخل تک نہ ہونے دیں۔

لیکن؛ کیونکہ ہمارے دینی اسلاف تو دنیا سے گزر چکے ہوتے ہیں اور بد قسمتی سے؛ ان کی دینی تعلیمات کو سرکاری یا غیر سرکاری سر پرستی میں لوگوں کے سامنے لانے کے مواقع موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے موقف کو Defend کرنے والا کوئی نہیں۔

اب تو میدان خالی ہونے کی وجہ سے متجد دین کی ہمت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ جدید متجددین؛ اپنی تمام تر مغربیت اور جدیدیت نوازی کے باوجود عصر حاضر میں؛ دینی تقاضوں کو ماضی کے ان عظیم اسلاف سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ یہ شاید لیولنگ کا ایک منطقی نتیجہ ہے؛ جو بالآخر دینی رعایت اور تہذیبی تناظر سے لاتعلقی اور سیکولرائزیشن کی صورت میں نکلتا ہے۔ چنانچہ یہ لیولنگ ان بزرگ اور پاکیزہ ہستیوں کو ان کے مقام عدل سے ہی ہٹاتے اور ان سے؛ تزکیہ نفس کے باب میں استفادہ کرنے کے امکانات کو ہی کم نہیں کرتے؛ بلکہ اسلامی ما بعد الطبیعات کے تحت علم غیب، علم آخرت کو مادی و دنیاوی سطح پر لیول کر کے؛ سیکولرائز بھی کر دیتے ہیں۔

Facebook Comments Box
LevelingSecularismتجددسیکولرازمسیکولرزمغامدیلیولنگمتجددمتجددین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید
next post
’’ایم کیو ایم کا وجود کیوں ضروری ہے ؟‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل ساج

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.