تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

تحریک انصاف: پارٹی غائب ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمود شام

by Editor2 03/09/2018
written by Editor2 03/09/2018
84

جب سے حکومتیں بنی ہیں پاکستان تحریک انصاف غائب ہے۔ ایک پارٹی ہوا کرتی تھی۔ جو عوام کو اچھی خبریں دیا کرتی تھی۔ ایک ولولۂ تازہ پیدا کرتی تھی۔ اب وزیر اعظم تو ہے، وفاقی وزراء ہیں، گورنر ہیں، وزرائے اعلیٰ ہیں لیکن پارٹی چیئرمین، وائس چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور دوسرے عہدیدار نہیں ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی کے صدر دفتر کہاں گئے۔ وہاں کوئی بیٹھتا ہے یا نہیں۔ پارٹی کی کوئی سینٹرل کمیٹی موجودہ صورت حال پر غور کررہی ہے یا نہیں۔

اس گمشدگی پر تفصیل سے بات کریں گے۔

پہلے سیاسی کارکن مائوزے تنگ، کارل مارکس کی کتابیں پڑھ کر سیاسی جدو جہد کرتے تھے۔ باچا خان، ذوالفقار علی بھٹو، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیفات کی روشنی میں تقریریں کرتے تھے۔ اب صرف اسمارٹ فون ہے اور وہ جس کی پاور بھی آف ہو جاتی ہے، بیلنس بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اسمارٹ فون کو بھی جلدی ہوتی ہے۔ آج کے لیڈروں اور کارکنوں کو بھی صبر نہیں ہوتا۔ ٹویٹ بھی کر دیتے ہیں۔ فیس بک پر بھی اپنی بے صبری پوسٹ کر دیتے ہیں۔ پہلے تولو پھر بولو کی فرصت ہی نہیں ہے۔ گوگل زدہ لیڈر بعد میں وضاحتیں کرتے رہتے ہیں۔ آرام سے گھر بیٹھی نرگسوں اور میگھائوں کو زبان کھولنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

ادھر تفریحی چینلوں پر جتنے ڈرامے چل رہے ہیں ان میں سازشی ساسیں اور ان کے اتحادی چھائے ہوئے ہیں کوئی بے نقاب نہیں ہو رہا ہے۔ یہی حال گوادر سے واہگہ تک پاکستانی عوام کا ہے۔ وہ اسی طرح سازشیوں کے گزشتہ اور موجودہ مظالم کا شکار ہیں۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ انہیں تسلّی دینے والا اور دکھ بانٹنے والا کوئی نہیں ہے۔

لگتا یوں ہے کہ (پی ٹی آئی) پارٹی کوئی سواری تھی، حکومت منزل تھی۔ اس کے بعد اب پارٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ حالانکہ پی ٹی آئی کی طاقت پارٹی اور اس کے کارکن ہیں اور وہ پُر جوش حامی جنہوں نے عمران خان کو کسی بڑے فلسفے کے لئے نہیں کرپشن کے خاتمے کے لئے ووٹ دیے ہیں۔

ایک امریکی اخبار میں یہ سرخی میرے دل و دماغ پر چھا گئی ہے۔ Puppets are getting out of hand پتلیاں قابو سے باہر ہو رہی ہیں۔ ڈور جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس کے لئے یہ منظر بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری تجربے کے ابھی تک نتیجہ خیز نہ ہونے اور اس کے ثمرات عام پاکستانی تک نہ پہنچنے کے اور بھی کئی اسباب ہوں گے۔ لیکن میرے مشاہدے اور تجربے کے مطابق بڑی وجہ سیاسی پارٹیوں کا اپنی حکومتوں پر بالادست نہ ہونا بھی ہے۔ پارٹیوں کی تنظیم ویسے بھی کمزور ہوتی ہے۔ اس پر خاندان کا غلبہ ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ تخت سنبھالتی ہیں تو سارے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی کوئی حکومتی عہدہ لے کر تخت پر براجمان ہو جائیں۔ اس طرح پارٹی کا اسٹیج خالی ہوتا رہتا ہے۔ سرکاری اسٹیج پر وزن بڑھتا رہتا ہے ایک روز یہ اسٹیج اس غیر معمولی دبائو سے بیٹھ جاتا ہے۔

پی ٹی آئی بھی گزشتہ دو تین ہفتوں سے اسی عالم سے گزر رہی ہے۔ وفاقی کابینہ میں مزید توسیع کی خبریں چل رہی ہیں پارلیمانی نظام کا یہ پیدائشی نقص ہے کہ چار ایم این اے ناراض ہوجائیں تو پورا ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔ مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ حکومتی عہدوں پر جانے والے پارٹی عہدے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی جگہ نئے پارٹی عہدیدار آجاتے ہیں۔ بنیادی ذمہ داریاں پارٹی کے پاس ہی ہوتی ہیں۔ داخلہ خارجہ پالیسی اور دیگر سیاسی سماجی فیصلے پارٹی کی اعلیٰ کمان کرتی ہے۔ سرکار ان پر عملدرآمد کرواتی ہے۔ ہر وزارت سے متعلقہ پارٹی کی اپنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی ہوتی ہے جس کا اپنا سیکرٹریٹ ہوتا ہے۔ حکومت میں ہوں یا باہر یہ کمیٹیاں اپنے شعبوں میں مسلسل کام کرتی رہتی ہیں۔

پی ٹی آئی بحیثیت پارٹی اب کہیں جلوہ گر نہیں ہے۔ پارٹی کے ترجمان وزیرا طلاعات بن گئے ہیں۔ پارٹی کا ترجمان اب کوئی نہیں ہے۔
وزیر اعظم پارٹی چیئرمین بھی ہیں لیکن اب ان کی آواز وزیر اعظم کی حیثیت سے سنائی دیتی ہے۔ پارٹی کی چیئرمینی انہوں نے بنی گالا کی رہائش گاہ کے کسی اسٹور میں رکھ چھوڑی ہے۔

لگتا یوں ہے کہ پارٹی کوئی سواری تھی، حکومت منزل تھی۔ اس کے بعد اب پارٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ حالانکہ پی ٹی آئی کی طاقت پارٹی اور اس کے کارکن ہیں اور وہ پُر جوش حامی جنہوں نے عمران خان کو کسی بڑے فلسفے کے لئے نہیں کرپشن کے خاتمے کے لئے ووٹ دیے ہیں۔ عمران خان کی کرپشن سرکاری خزانے کی لوٹ مار کے خلاف آواز عوام کی آواز تھی۔ کیونکہ قومی دولت پر چند خاندانوں کے ڈاکے نے سب سے زیادہ کنگال عوام کی اکثریت کو کیا ہے۔

پاکستانیوں کی بڑی تعداد میر و سلطان سے بے زار تھی۔ اس مٹھی بھر اشرافیہ کے ملک پر قبضے سے برہم تھی۔ پارٹی کے کارکنوں اور عام شہریوں کے اتحاد نے عمران خان کو ملک کی باگ ڈور دی ہے۔ اصل طاقت یہ ہے اور اسی قوت کی وجہ سے دوسری قوتیں عمران سے ہاتھ ملانے، انہیں سیلوٹ مارنے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ سب کی قدر مشترک کرپشن کا خاتمہ ہے۔

اوّلین ترجیح تو اس ناجائز دولت کی واپسی ہے۔ عمران خان کی کامیابی یا ناکامی کی کسوٹی یہی ہوگی اس کے لئے عوامی تائید اور حمایت ہر قدم پر درکار ہو گی۔ یہ حمایت کسی سرکاری آرڈیننس، ٹاسک فورس کے ذریعے نہیں بلکہ پارٹی کی طاقت سے ہی مل سکتی ہے۔

بالی وڈ کی ایک فلم یاد آتی ہے، ناک آئوٹ۔ جس میں ملک سے ناجائز طریقوں سے باہر بھیجی گئی دولت چندگھنٹوں میں واپس سرکاری خزانے میں جمع کروا دی جاتی ہے۔ پورا ہندوستان براہِ راست ٹی وی دیکھ رہا ہے ہر سیکنڈ بعد لاکھوں ڈالر سوئس بینکوں سے واپس آ رہے ہیں۔ قومی خزانے میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس فلم کو 20th سنچری کی ’ فون بوتھ‘ کاچربہ قرار دیا گیا تھا۔

پاکستانی عوام بھی کچھ ایسا ہی خواب دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان سے یہ توقعات کر رہے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے اسی طرح کسی دن کروڑوں ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں منتقل ہونے کی نوید دیں۔ بہت سوں کی خواہش ہے کہ یہ چند سو خاندان جو یہاں سے دولت سمیٹ کر باہر لے گئے ہیں یہ از خود یہ سرمایہ قوم کے حوالے کردیں۔

قومی خزانے میں یہ دولت واپس آنی چاہئے۔ عوام کو وزیر اعظم ہائوسوں، گورنر ہائوسوں کی نیلامی یا فروخت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، ایسے کھلونے دے کر انہیں بہلایا نہ جائے۔

اوّلین ترجیح تو اس ناجائز دولت کی واپسی ہے۔ عمران خان کی کامیابی یا ناکامی کی کسوٹی یہی ہوگی اس کے لئے عوامی تائید اور حمایت ہر قدم پر درکار ہوگی۔ یہ حمایت کسی سرکاری آرڈیننس، ٹاسک فورس کے ذریعے نہیں بلکہ پارٹی کی طاقت سے ہی مل سکتی ہے۔ حکومت صرف 5 سال کے لئے ہوتی ہے۔ اس سے پہلے بھی جاسکتی ہے۔ سیاسی نجومی تو ابھی سے ایک ڈیڑھ سال کی بات کر رہے ہیں۔ جی ایچ کیو کے کامیاب دورے سے پانچ چھ مہینے اور بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت مستقل نہیں ہے۔ پارٹی مستقل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو طاقت دیرپا ہے اسے منظّم کریں۔ منزل مضبوط پارٹی اور مضبوط پاکستان ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پارٹی عہدے الگ کریں۔ وزراء اور وزیر اعظم پارٹی کے سامنے جواب دہ ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں پارٹی سربراہ کے لئے تو مشکل رہا ہے کہ وزیر اعظم یا صدر بننے کے بعد پارٹی چیئرمینی چھوڑ دے۔ اس لئے اگر عمران خان یہ قربانی نہیں دینا چاہتے تو پارٹی کے وائس چیئرمین، سیکرٹری جنرل اور صوبائی سربراہ تو نئے لائے جائیں۔ پارٹی کا ایک چیف آرگنائزر مقرر کیا جائے۔ سینٹرل کمیٹی بھی نئے سرے سے تشکیل دی جائے۔ اس میں کوئی سرکاری عہدے والا شامل نہ ہو۔ سینٹرل کمیٹی کی ذمہ داری ہو کہ وہ مانیٹرنگ کرے کہ پارٹی حکومت اپنے منشور، ایجنڈے اور پاکستان کے دستور کے مطابق فیصلے کر رہی ہے یا نہیں۔

Facebook Comments Box
Puppets are getting out of handاسمارٹ فونباچا خانپی ٹی آئیذوالفقار علی بھٹوعمران خانکارل مارکسمائوزے تنگمولانا ابوالاعلیٰ مودودی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
درخت خدا کے شاعر ہیں ——– اورنگ زیب نیازی
next post
میرا گھر کونسا؟ ——- فوزیہ قریشی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.