تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

تبدیلی، تنقید اور امید کا سفر —- محمد عثمان

by دانش ڈیسک 24/08/2018
written by دانش ڈیسک 24/08/2018
59

برٹنڈ رسل کا کہنا ہے بہت زیادہ امیدیں مصائب و آلائم کی شدت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور اسطرح پیدا ہوئی امیدیں صرف غیر منطقی ہی ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں عام آدمی کے بد سے بدترین معاشی حالات، کچلی ہوئی عزت نفس اور تعلیمی پسماندگی کے باوجود بہتری کی خواہش غیر منطقی بالکل نہیں ہے لیکن اس جائز خواہش کے حصول کے لئے رہنمائی کے دعویدار لیڈروں کی لن ترانیاں و قلابازیاں ضرور غیر منطقی اور ان کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔ بھٹو کے بعد چالیس سال تک پاکستان کی عوام نے کسی مسیحائی دعوے پر یقین نہیں کیا اب اگر عمران خان بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہ لا سکے تو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے شاید کئی اور نسلیں نگل جائیں۔

تنقیدی شعور کی آبیاری کسی بھی سیاسی نظام کی تطہیر و پیداواری صلاحیت کے لیے ناگزیر ہے۔ سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر ہر طرح کا من پسند سچ موجود ہے۔ ہر پارٹی کے اپنے پروپیگنڈا سیل و چاہنے والے ‘دانشور’ موجود ہیں۔ پروپیگنڈا مشینری سے تو توقع عبث ہے لیکن سوشل میڈیائی دانشور بھی اپنے تعصبات کے اسیر ہیں۔ رہنمائی کی دعویدار شخصیات کو متعصب تجزیات زیب نہیں دیتے۔ تعصب، چاہے وہ کسی پارٹی کے حق میں ہو یا مخالفت میں، پاکستانی سیاست کے لیے موت کا پیغام ہے۔ لیڈران کے غلط کاموں کا جواز پیش کرنا اور فالوورز کا انہیں آگے شئر کرنا سیاسی غلط کاریوں کے پھیلاؤ اور جائز تنقید سے آنکھیں بند کرنے کی وجہ بنتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی دفاع و خارجی پالیسی پر اجارہ داری باقی شعبوں میں بیڈ گورنس و کرپشن کا جواز نہیں بن سکتی نیز سٹیٹس کو کی شکست کے لیے موسمی پرندوں اور لوٹوں کو الیکٹیبلز کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔

دائروں میں سفر سے انکاری اشخاص نے اپنی جائز امیدوں کے حصول کے لیے محدود آپشنز کے باعث غیر منطقی طریقہ کار اختیار کرنے والے کو فوقیت دی۔ اب جبکہ نئی حکومت برسراقتدار آ چکی ہے آثار واضح ہوتے جا رہے ہیں کہ ہر حکومت کی طرح اس حکومت سے بھی صنعت کار و پیشہ ور ماہرین اور موسمی پرندے اپنا حصہ وصول کرنے پہنچ چکے ہیں۔ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی نامزدگی، اصلاحاتی کمیٹی کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کی تعیناتی اور بچوں کی غذائی ضروریات کے فنڈز ہڑپ کرنے والی زبیدہ جلال اور کروڑوں کا قرض معاف کروانے والی فہمیدہ مرزا کی کابینہ میں شمولیت تبدیلی کے نام پر دھبے ہیں۔ الیکشن سے پہلے بتایا جاتا تھا ان بوڑھے گھوڑوں اور چلے ہوئے کارتوسوں کے بغیر حکومت ملنا ممکن نہیں لیکن اب یہ کمپرومائزز عوام کی امیدوں کے ساتھ کھلواڑ ہیں۔ بطخ کے انڈے مرغی کے نیچے رکھ کر کہا جائے ‘ابھی تو حکومت بنی ہے ابھی موقع دیں’ مرغی کے بچے ہی نکلیں گے بددیانتی نہ سہی خود فریبی ہے۔
anomali82 bhadbhabie onlyfans Anomali

عمران خان پر مثبت تنقید اسے اسکے ساتھیوں کی بلیک میلنگ سے باہر آنے میں مدد دے گی اور صرف اسکی حکومت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہو گی بلکہ آنے والی تمام حکومتوں کیلئے بھی ایک ٹرینڈ سیٹ ہو گا۔

کسی بھی جماعت یا رہنما کے حصے کے بیوقوف بننے کی بجائے کڑے محتسب بننا زیادہ مستحسن و پیداواری عمل ہے۔ عام شخص نے وزیر، مشیر یا سینیٹر نہیں بننا مقصد پاکستان کی بہتری ہے تو اس کے لیے مخالفین کی پالیسیز پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنے لیڈر سے سوال کرنا بھی ترقی کے سفر کی برقراری کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے سب سے بہترین وقت بنیادیں رکھنے کے وقت یعنی ہنی مون پیریڈ سے ہی شروع ہوتا ہے۔

تبدیلی ایک ارتقائی عمل ہے نہ کہ کوئی اچانک سے حاصل ہو جانے والی چیز۔ بھٹو اور نواز شریف کی طرح عمران خان کو بھی پاور سٹرکچر کا ناگزیر حصہ بنانا ترجیح نہیں تھی۔ تبدیلی کے ارتقائی عمل میں اگلا قدم اٹھانا مقصد تھا اسی لئے خامیوں اور غلطیوں کے باوجود عمران خان کو سپورٹ کیا گیا۔

شخصیات کی بجائے اصولوں کی ترویج مقصد ہونا چاہیے۔ عمران خان اس ملک کا پہلا سچ نہیں ہیں نہ ہی وہ آخری سچ ثابت ہونگے۔ لوگوں کو دوبارہ مایوسیوں سے بچانے، تنقیدی شعور کی آبیاری اور سفر کی سمت درست رکھنے کے لیے میرٹ پر تنقید ناگزیر ہے۔ عمران خان پر مثبت تنقید اسے اسکے ساتھیوں کی بلیک میلنگ سے باہر آنے میں مدد دے گی اور صرف اسکی حکومت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہو گی بلکہ آنے والی تمام حکومتوں کیلئے بھی ایک ٹرینڈ سیٹ ہو گا۔ نیز کسی نئے لیڈر کے پنپنے اور ابھرنے کے لیے بھی مناسب حالات پیدا ہو نگے۔ یاد رکھنا ہو گا موجودہ دعووں کے ساتھ پرانی جماعتوں کی طرف واپس لوٹنا کسی صورت آپشن نہیں ہے۔ یہ سرزمین ابھی بانجھ نہیں ہوئی خوب سے خوب تر کی تلاش اور آگے بڑھتے رہنا ہی مقصد ہے۔

Facebook Comments Box
تبدیلی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گلزارکے دونئے رنگ —— نعیم الرحمٰن
next post
ب ی ی ی ی ی پ پ —– شوکت نیازی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.