تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالممیڈیا پہ تبصرے

کیمرہ، مائک اور اصلاح معاشرہ : ڈاکٹر فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 15/07/2018
written by دانش ڈیسک 15/07/2018
121

ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر ایک پروگرام ہم کو ’’اچنبھے کا بچہ‘‘ معلوم ہوتا تھا۔ اس پروگرام کے بہادر اینکر ایک کیمرہ مین کو لے کر ہر بار کسی نئی جگہ پر چھاپہ مار دیتے۔ 1999ء میں اس پروگرام کی نشر ہوئی ایک قسط ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جس میں مذکورہ اینکر ایک کان صاف کرنے والے سے بڑی شدت سے الجھ رہے تھے کہ ’’تم تو ایک دھاتی تار سے اس شخص کے کان کی کھدائی کر رہے ہو، تم کو معلوم بھی ہے کہ کان کی ساخت کیا ہے؟ تم جانتے بھی ہو کہ تم اس شخص کو قوت سماعت محروم کر سکتے ہو‘‘۔

اس عہد میں اور میڈیا کی سخت بندش کے ماحول میں یہ بڑی جست معلوم ہوتی تھی۔ پھر 2002ء سے نجی ٹی وی چینلز کی برسات شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نوع کے پروگراموں کی قطار ہی بندھ گئی۔ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور چھپے ہوئے چہروں اور حقائق سے پردہ اٹھانا ان پروگراموں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ان پروگراموں میں قحبہ خانوں سے عطائی ڈاکٹروں، جعلی فیکٹریوں سے عامل اور جعلی پیروں تک پولیس کے چھوٹے موٹے کارندوں سے لے کر ریلوے کے اہلکاروں تک کوئی محفوظ نہیں۔ لوگ اِس نوع کے پروگرام بڑی تعداد میں دیکھتے ہیں اور ان کے بنانے والوں کو کسی نوع کا سچا عوامی خیر خواہ سمجھے ہوئے ہیں۔

دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے تاہم معصوم عوام اپنی سادہ دلی میں اکثر یہ بھول جاتی ہے کے سنسنی خیزی (Sensationalism) سے بھر ے یہ شوز اکثرکسی اخلاقی مقصد سے نہیں بلکہ ٹی آر پی (TRP) بڑھانے اور پیسہ کمانے کی نیت سے تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد اصلاح معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ یہ شوز معاشرے کی بدصورتی ’’بیچ‘‘ کر چار پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ اور یہ ساری اخلاقی تلقین جو ان پروگراموں میں کی جاتی ہے دراصل ان پروگراموں کی اخلاقی جواز جوئی کی کوشش ہے۔

ان پروگراموں میں اکثر ایک جانب اخلاقی خدمت کا بلند و بانگ دعویٰ ہوتا ہے مگر طریقہ غیر اخلاقی استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک جانب غیر اخلاقی اور غیر قانونی چیزوں کو پکڑنے کے دعوے کئے جاتے ہیں، دوسری طرف اس کام کے لئے جھوٹ بولے جاتے ہیں، جاسوسی کی جاتی ہے اور غیر اخلاقی یا غیر قانونی اعمال کے مرتکب افراد کو بالکل کسی جانور کی طرح چارہ لگا کر جال میں پھانسا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار اپنے اندر ہی اخلاقی طور پر غلط ہے۔ کسی اخلاقی کام کی ابتداء کبھی کسی بداخلاقی سے ہو ہی نہیں سکتی۔ اس نوع کے پروگراموں کا ہمارے سماج پر جو بدترین نفسیاتی اثر مرتب ہوا ہے وہ یہ کہ اب لوگ خود بھی ان پروگراموں کی دیکھا دیکھی جب سماجی مصلح کا رول اختیار کرتے ہیں تو اسی نوع کے ٹوہ لینے، جاسوسی کرنے اور دھوکے سے پھانس کر بھانڈا پھوڑنے کے طریقے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ افعال کس قدر قبیح ہیں، اس کے بارے میں تھوڑی سی ہی کاوش سے مذہبی اور اخلاقی رائے معلوم کی جاسکتی ہے۔ ان پروگرامز کے اثر کی وجہ سے اب لوگوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ دوسروں کو بداخلاق ثابت کرنے کے لئے ان کا خود بداخلاق بن جانا جائز ہے۔

یہ ذرائع ابلاغ کیوں کہ بڑے مگرمچھوں سے لڑائی کی تاب نہیں لا سکتے اس لئے ان کی زد میں صرف چھوٹی ’’بداخلاق یا غیر قانونی‘‘ مچھلیاں ہی آتی ہیں۔

تاہم غیر اخلاقی رویوں کے ساتھ ساتھ اِس نوع کے پروگرام اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے ایک طرح کی غلط فہمی بھی عام کر رہے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ کیوں کہ بڑے مگرمچھوں سے لڑائی کی تاب نہیں لا سکتے اس لئے ان کی زد میں صرف چھوٹی ’’بداخلاق یا غیر قانونی‘‘ مچھلیاں ہی آتی ہیں۔ چھوٹے موٹے عامل، جعلی شربت بنانے والے، کتے کے گوشت کو فروخت کرنے والوں کا شکار کھیل کھیل کر ان پروگراموں نے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہے کہ دراصل یہی افراد اس سماج کا کل شر ہیں اور ان کو یوں سماج کے سامنے لاتے رہنے کے عمل سے ہمارا معاشرہ بالکل ویسے ہی صاف ہو جائے گا جیسے کہ اینٹی وائرس کمپیوٹر کو صاف کر دیتا ہے۔ یہ سوچ جس قدر عام ہو گئی ہے اس سے سو گنا زیادہ غلط ہے۔ معاشرے کے کسی بھی ایک ٹکڑے کو علیحدہ سے سدھارا نہیں جا سکتا۔ معاشروں میں عمل تطہیر ہمیشہ کل معاشرے کا ہوتا ہے، کسی جز کا نہیں اور یہ عمل ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ بڑے ڈکیتوں، بڑے بداخلاقوں کا سدباب ہو جائے تو چھوٹے موٹے چور اچکے خود ہی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام اگر سو فیصد اخلاص نیت سے بھی آئیں اور ہزار سال تک لگاتار بھی آئیں تو بھی یہ کبھی کسی معاشرے کا وائرس کلین نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ یہ وائرس کے مرکز کو، اس کی جڑ کو کبھی چھوتے بھی نہیں ہیں، اس کے پتے کاٹتے جاتے ہیں جو ہر بار نئے نکل آتے ہیں۔

ان پروگراموں کے اثرات میں سے ایک اور اثر معاشرے کی بداعتمادی میں اضافہ ہے۔ ان پروگراموں کے زیر اثرلوگ اب ہر ہر چیز سے ڈر گئے ہیں اور ہر ہر شے کے خوف کا شکار ہیں، لوگوں میں چیزوں پر عدم اعتماد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ بازار کے کھانے سے لے کر اپنے روحانی معالج اور ڈاکٹر کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہ خوف فوبیا کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ مستقل دھوکے کی اِس تصویر کشی نے عمومی طور پر ہمارے سماج میں انسانوں کا اعتبار دوسرے انسانوں سے بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔

بعض صورتوں میں یہ پروگرامز زرد صحافت اور جھوٹی رپورٹنگ کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ بہت سے ایسے پروگرام مبینہ طور پر اسکرپٹڈ ہیں اور اجرتی اداکاروں کی مدد سے کئے جاتے ہیں۔ گو کہ اکثر پروگراموں کے بارے میں یہ شک نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ایک فیصد پروگرام بھی اسکرپٹڈ ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کس قدر بڑا مذاق ہے اخلاقیات کے ہر ہر تصور کے ساتھ۔یہ پروگرام بڑی حد تک ایک تجاوز کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ غیر قانونی چیزوں کو پکڑنا قانون کا کام ہے نہ کہ صحافت کا۔ صحافت غلطی کی نشاندہی تو کر سکتی ہے مگر ان پروگراموں میں جیسے صحافی پولیس کو لیڈ کر کے آپریشن کرتے نظر آتے ہیں یہ خود تجاوز کی نفسیات کے فروغ کا باعث ہے۔ اس معاشرے میں اب کوئی بھی خودساختہ خدائی فوجدار بن کر دوسروں پر دھونس جما سکتا ہے۔ کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کو اپنی اخلاقی ذمے داری سمجھ سکتا ہے اور اس کے پاس ذرائع ابلاغ کا فراہم کردہ ماڈل اپنے افعال کی دلیل کے طور پر موجود ہو گا۔

انہی پروگراموں میں ایک سے زائد مرتبہ یہ دکھایا جا چکا ہے کہ جعلی صحافی بھی اب چھاپے مار کر غیر قانونی دھندے چلانے والوں سے اپنے حصے طلب کرنے لگے ہیں۔ اس سے یہ قیاس آسان ہو جاتا ہے کہ اصلی صحافی بھی یہ کام ضرور ہی کر رہے ہوں گے اس لئے کہ اگر ایسا اصل صحافی نہ کر رہے ہوتے تو جعلی صحافیوں کے پاس یوں رشوت طلب کرنے کی کوئی مثال ہی موجود نہ ہوتی جسے وہ جرائم پیشہ افراد سے اپنا حصہ طلب کرنے کے لئے عمومی روش کے طور پر استعمال کرتے۔ تو کیا جن جعل سازوں، غلط کام کرنے والوں کو آپ ٹی وی پر دیکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو یہ رشوت / بھتہ نہیں دے پائے؟ ہم ایسا کہنا تو نہیں چاہتے مگر انہی پروگراموں کی پیدا کردہ ذہنیت ہمیں اِن خطوط پر سوچنے پر بھی اکساتی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredmediaTV channelsاصلاح معاشرہالیکٹرونک میڈیاٹی وی اینکرزمیڈیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان کو جمہوریت کی نہیں، ایک وطن پرست آمر کی ضرورت ہے؟ — احمد اقبال
next post
پے پال کی عدم دستیابی: تجزیہ —– لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.