تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

پشاور : یہ خاکِ لالہ و گل ہے —— عابد آفریدی

by دانش ڈیسک 12/07/2018
written by دانش ڈیسک 12/07/2018
78

پشاور شہر آج پھر خاموش ہے، کوئلوں پر چڑھی کڑاہیوں میں پڑتے چمچوں کی ٹک ٹک اداس ہے۔۔ چائے کی پیالیوں کی کھنک مدھم ہے، قصہ خوانی بازار کی تنگ گالیاں ویران ہیں، شہر کی سڑکوں پہ موجزن ٹریفک آج ڈوبتے سورج کے پس منظر میں خاموش سمندر کے طرح سبک ہے، سڑک کنارے پیدل چلنے والے لوگ لبوں کو سیئے دبے قدموں رواں ہیں۔

چہرے پھر سے ویران، خیالات پھر سے پریشان، جیسے کوئی راہ گیر کسی گھر میں پڑی لاش پر ہوتی بین سن کر خاموش ہو جاتا ہے، جیسے کوئی سڑک پر گزرتے جنازے کے پیچھے آہوں، سیسکیوں کو سن کر رنجیدہ ہوجاتا ہے۔
یہ ویرانی یہ حیرانی کیوں نہ ہوں، آج پھر شہر کا جوان بیٹا مارا گیا ہے۔۔ آج پھر اس زمین پر گرم خون بہا ہے جس کی حدت سے زمین کا دم گٹھنے لگتا ہے، وہ بیٹا جس کا والد بھی اس شہر کا بیٹا تھا، جن کی پوری نسل اسی شہر میں پیدا ہوئی اور یہی مٹی کا ڈھیر بن رہی ہے۔

پشاور شہر اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے، ایسی تاریخ جسے مورخ نوحے کی زبان میں بیان کرے گا، قلم کو خون بھگو کر زندگی کی کہانی لکھے گا، اس تاریخ کے ہر باب کو خون کی سرخی سے مرتب کرے گا۔۔

یہ تاریخ راکھ و بہار کی کہانی ہے۔ اس شہر میں مختصر دورانیے کی بہار آتی ہے۔۔ اگلے ہی لمحے بارودی ہوائیں چل پڑتی ہیں جو پھولوں کو بھسم کردیتی ہیں۔ شعلوں میں لپٹی راکھ سڑکوں پر بکھر جاتی ہے، روشنیاں ماند، مسکراہٹیں خاموش ہوجاتی ہیں۔

یہ شہر مختصر، مگر الم کی داستان طویل ہے، یہ شہر چھوٹا، مگر امتحان بڑا ہے، یہ شہر خوبصورت مگر قسمت بدصورت ہے، لوگ میزبان مگر مہمان دشمنِ جاں ہیں۔

بلوروں کے ہندکو لہجے میں لپٹی میٹھی پشاوری پشتو میں ایک دلکش تاثیر ہے، ان کے سینوں کی چوڑائی ماتھوں کی کشادگی میں “پخیر راغلے” ایک خوبصورت حسن ہے” استڑے مشے” کا ایک حسین پیغام ہے۔

پشاور کا نوحہ پڑھا جائے اور اس میں بلور خاندان کا تذکرہ نہ ہو، تو یہ نوحہ، یہ مرثیہ مکمل نہیں ہوگا۔
پشاور کے بلور، پشاور نامی اس باغ کے وہ مالی ہیں جو باغ کی آبیاری اپنے خون سے کرتے ہیں۔
یہ وہ خاندان ہیں جن کے ڈیروں میں دروازے نہیں ہوتے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پشاور کی خوبصورتی کو پامال نہ کرنے کے بدلے دہشت گردوں کو اپنے گھروں کے راستے دکھائے ہے۔
چیخ چیخ کر ان سے بنتی کی ہے کہ “اگر مارنا ہے تو ہمیں ہی مارنا، بلا کر مارنا ہم ائے گے قربانی دینے، ہم حاضر ہیں تم سے گلے لگ کر پھٹنے کو!
“مگر اے پھولوں اور گلابوں کے قاتل! میرے شہر کے بے گناہوں کو نہ مار دینا، میرے شہر کے بچوں کو نہ مار دینا، شہر کی اس معطر فضا کو مکدر نہ کردینا۔

بلوروں کے ہندکو لہجے میں لپٹی میٹھی پشاوری پشتو میں ایک دلکش تاثیر ہے، ان کے سینوں کی چوڑائی ماتھوں کی کشادگی میں “پخیر راغلے” ایک خوبصورت حسن ہے” استڑے مشے” کا ایک حسین پیغام ہے۔۔

“کیا طوفان کے ڈر سے آشیاں بنانا چھوڑ دیں”

یہ مصرعہ پہلی بار ہم نے اس وقت شہید بشیر بلور کے منہ سے سنا تھا۔ جب ایک صحافی نے دہشتگردوں کی لسٹ میں ان کا نام آجانے پر ان سے ان کے لائحہ عمل کے متعلق سوال کیا تھا۔

کچھ ہی دنوں بعد بشیر بلور کو خون میں لتھڑا چھلنی چھلنی دیکھ لیا!

نامساعد ترین حالات میں اگر کھلے چہرے دیکھنے ہوں تو ان بلوروں کو دیکھ لیں، اگر بدترین حالات میں شائشتہ کلامی سننی ہو، تو اس پرانے شہر کے انتہائی پڑھے لکھے بلوروں کو سن لیں۔

ہارون بلور سے پہلی ملاقات والد کے سنگ اس وقت بلور پلازہ پشاور میں ہوئی تھی جب آپ جوان اور ہم بچے تھے۔ مہمانوں کو چائے پیش کی گئی، تو میرے لئے پریشان ہوگئے، کہا اس بچے کے لئے بسکٹ لاو، بسکٹ لینے والا گیا تو واپس نہ آیا۔
جب تمام امور سے فارغ ہوئے تو ہم سے ہمارا نام پوچھا، بسکٹ نہ آنے پر معذرت کی تعلیم میں لگن کا کہا۔
ایک سبق پختون اقدار کا دیا جو ہارون بلور کو اس کے آباو اجداد نے دیا تھا۔ فرمایا “جب کوئی تمھیں ایک کپ چائے پلا دے تو اسے ایک کپ نا سمجھنا، بدلہ کھانے کی صورت میں ہی دینا اور بار بار دینا یہی پختون ولی کا تقاضا ہے۔

ہارون بلور اپنی تعلیم سے زیادہ پڑھا لکھا انسان تھا، پختون روایات کا پاسدار و پابند، مہمان نوازی سے کی صفت سے متصف۔

دوسری بار ہارون بلور کو اپنے والد بشیر بلور کے ایک تعزیتی جلسے میں سنا۔ اس بار آپ کی آواز میں گرج تھی کیونکہ سینے میں باپ کے قتل کا الاو دہک رہا تھا۔ اس دن بھرے مجمع میں بہت ضبط کی باتیں کی تھیں۔
اپنے ورکرز اور بچوں کو مخاطب کیا۔۔ کہا “یہ عزت یہ غیرت، یہ محبت ہمارے آباو اجداد کی امانت ہے، اس امانت کو ہم نے آگے آنے والی نسلوں کو محفوظ صورت میں منتقل کرنا ہے۔”

وقت گزرہا ہے۔۔ یہاں کے بلور اور شہر پشاور برابر خراج ادا کررہے ہیں۔۔ کل پھر وقت گزرا، ہارون بلور کو لحد میں اتار کر بیٹے دانیال بلور نے دادا و باپ کی بات دہرائی، اسی امانت پر کاربند رہنے کی بات کی، انہی روایات پر چلتے ہوئے پاکستان کی حفاظت کی قسم کھائی۔

کیسے لوگ ہیں جو واشنگٹن، لندن، نیویارک میں بہ آسانی رہائش اختیار کرسکتے ہیں، اس خون ریزی، دہشتگردی سے محفوظ ہوسکتے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی سینہ تانے ہوئے ہیں۔

پشاور کے لوگ منفرد انداز میں احتجاج و تحسین کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔ کوئی ناپسند ہو تو اپنی گاڑی کی پشت پر ایک جملہ لکھ کر سب کچھ بیان کردینگے۔ کوئی پسند ہو تو اس کی تصویر آویزاں کرکے گلی، گلی، اس سے محبت کا اظہار کرتے پھریں گے۔

ایک مقامی پشتو شاعر سلیم اشنغر” کا شعر ہے:

پیخور دا مینے شمع دا پیخوری دا دے شمع پتنگان۔
(پشاور محبت کی شمع ہے، اور پشاوری اس شمع پر قربان ہونے والے)۔

بلور خاندان اور دیگر شہری اس شعر کی تشریح ہیں۔ یہ لوگ اس شعر کی ترجمانی ہیں۔ شہر سے دیوانہ وار محبت اور اس پر قربان ہونے کا یہ طویل سلسلہ اس شعر کی سچائی کا اعلان ہے۔

آج عجب دن ہے، ناقبل یقین دن! ایسا دن جس کے آنے کا یقین بلور خاندان کو تو تھا مگر اس شہر کے لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔

پشاور کے لوگوں کا احتجاج اور توصیف کا انداز بھی سب سے منفرد ہوتا ہے۔ کوئی ناپسند ہو تو اپنی گاڑی کی پشت پر ایک جملہ لکھ کر سب کچھ بیان کردینگے۔ کوئی پسند ہو تو اس کی تصویر آویزاں کرکے گلی، گلی، اس سے محبت کا اظہار کرتے پھریں گے۔

آج ہر گاڑی پر شہر کے اس لاڈلے بیٹے کی تصویر آویزاں ہے۔ ہر دیوار یہ بیان دے رہی ہے کہ مرنے والا بہت عزیز تھا۔ بہت قریب تھا۔ اب وہ وجود سے نکل کر خیال بن گیا، ایک ایسا خیال جو مدتوں اس شہر کو رلائے گا۔

جانے کتنے برسوں پشاور کی داستان کا سرنامہ سرخ اور ذکر اشکوں سے ہوتا رہے گا۔ لگتا ہے سلیم احمد نے یہ شعر آج کے پشاور کے لئے کہا تھا:

اسے سنبھال کے رکھو، خزاں میں لو دے گی
یہ خاکِ لالہ و گل ہے، کہیں ٹھکانے لگے


یہ بھی ملاحظہ کریں: شہید نمبر 801 —— اظہار احمد باچہ

Facebook Comments Box
featuredبلورپشاورپشاور دھماکہدہشت گردیہارون بلور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شہید نمبر 801 —— اظہار احمد باچہ
next post
کچھ استشراق اور مستشرقین کے بارے میں 2 —– راجہ قاسم محمود

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.