تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

سیاست اور تاریخ : محمد عثمان

by دانش ڈیسک 02/07/2018
written by دانش ڈیسک 02/07/2018
197

نوم چومسکی اپنی کتاب دہشت گردی کی ثفافت میں امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں جس کا لب لباب یہ ہے کہ امریکہ کی تاریخ مختلف قوموں کے وسائل پر قبضے کے لئے انسانیت کی قتل و غارت گری اور اِس مکروہ مقصد کے لئے جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے دلفریب عنوانات کے استحصالی استعمال سے بھری پڑی ہے۔ لیکن ہر بار جب امریکہ ایک نئی مہم پر روانہ ہوتا ہے تو وہ یہی تاثر دیتا ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال سے تائب ہو چکا ہے اور اب کی بار وہ انتہائی نیک دلی اور خلوص کے تحت دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے۔ اِس حکمت عملی کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ گزشتہ تاریخ اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق پر وقت ضائع کرنے کی بجائے تاریخی حقیقتوں کو الماریوں میں بند کردیا جائے اور محض لمحہء موجود کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اب کی بار بھی مقاصد سامراجی اور استحصالی ہی تھے اور اپنی عوام اور عالمی سطح پر مختلف اقوام کو ایک بار پھر دھوکہ دیا گیا ہے۔

مثلاً افغانستان پر حملے کے وقت عالمی ذرا‏ئع ابلاغ ‏‏‏ اور دانش ور حلقوں میں ویتنام اور جنوبی امریکہ میں امریکی مداخلت کی تاریخ کو دانستہ طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ اِسی طریقہ کار کے مطابق عراق میں مداخلت کی گئی اور لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔ پھر جب جمہوریت کے نام پر لیبیا جیسے خوشحال اور پرامن ملک پر نیٹو کی ظالمانہ اورغیر انسانی فوج کشی کی گئی تو کسی نے یہ سوال پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ اِس سے پہلے جن ممالک پر مغربی اقوام نے حملے کئے تھے وہاں جمہوریت، امن اور ترقی کی کیا صورت حال ہے؟ کیا حالات حملے سے پہلے کے حالات سے بہتر ہیں یا بدتر؟ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دھوکہ دہی کا یہی عمل آج شام اور یمن میں جاری ہے۔

اگر ہم تجزیہ کریں تو امریکی فیصلہ سا‍ز اداروں کی تاریخ کو پس پشت ڈالنے کی اِس پالیسی کا پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر الیکشن کے دنوں میں تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں تازہ دم ہو کرنِت نئے اور خوشنما نعروں اور وعدوں کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں۔ حتٰی کہ گذشتہ دور حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعتیں بھی عوام کے سامنے انتہائی دھڑلے اور بے شرمی کے انداز میں دعوے کر رہی ہوتی ہیں کہ اب کی بار اقتدار ان کے حوالے کیا جائے تو وہ ملک و قوم کے تمام مسائل حل کردیں گی۔ مذہبی جماعتیں ایک قدم آگے بڑھ کر اسلام کے نفاذ کا منجن بھی بیچنے لگتی ہیں۔ سب جماعتوں اور ان کے قائدین کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ اب ہم مکمل طور پر تبدیل ہوچکے ہیں اِس لئے گذشتہ تاریخ کو پس پشت ڈال دیا جائے  اور ہم سے ماضی کی کسی چیز کا نہ سوال کیا جائے اور نہ ہی کفارہ طلب کی جائے۔

حالانکہ ان فریبی جماعتوں اور ان کے قائدین کی تقاریر اور بیانات پر سر کھپانے کی بجائے ان سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر آپ گذشتہ دس سال میں عوام کو پینے کا صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت فراہم نہیں کرپائے تو اگلی بار کونسا الٰہ دین کا چراغ آپ کے ہاتھ آجائے گا جس سے آپ تمام مسائل حل کردیں گے؟ اسی طرح صحت، تعلیم، تھانہ کچہری کا طبقاتی کردار اگر آپ ماضی میں نہیں بدل سکے تو اب آپ کیوں اور کیسے بدلیں گے؟ آپ نے اپنے دور اقتدار میں تمام تگ و دو اِسی مقصد کے تحت کی کہ آپ کی آنے والی سات نسلیں بھی عیش کرسکیں اور عوام کے حصے میں محض ذلت، افلاس اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے دَر دَر کی ٹھوکریں آئیں۔ اب آپ ایک دم عوام کے دکھ میں کیوں جلنے کڑھنے لگے ہیں!

مذہبی جماعتوں سے سوال کرنا چاہیے کہ گذشتہ ادوارمیں جب آپ غیر مذہبی جماعتوں کے حلیف بن کر  اقتدار کے مزے لوٹتے رہے تب آپ کو اسلام کا نفاذ کیوں یاد نہیں آیا؟

یہی سوال الیکشن میں گرگٹ کی طرح رنگ اور پارٹیاں بدلنے والے راہنماؤں اور ان کو قبول کرنے والی جماعتوں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ پانچ سال اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے والے ایک دم کیسے پاک پوتر ہوجاتے ہیں اور ان کا ضمیر تب ہی کیوں جاگا ہے جب سابقہ حکمران جماعت کے خلاف شکنجہ سخت کیا جارہا ہے؟ بالفرض کہ یہ لوگ واقعی اپنے کئے پر نادم ہیں تو اب کچھ عرصہ عوام کی جان چھوڑیں، جماعت کے تعلیم و تربیت کے نظام میں بطورطالب علم اور ورکر کے شمولیت اختیار کرلیں۔ دس پندرہ سال بعد اگر جماعت مناسب سمجھے کہ ان لوگوں کی تربیت مطلوبہ معیار کے مطابق ہوگئی ہے تو جماعت انہیں اپنی نمائندگی کا حق بھی دے دے۔ لیکن یہ عجیب صورت حال ہے کہ ایک تو جماعتوں میں نظریاتی تعلیم و تربیت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اوپر سے اگر آپ پیسے والے ہیں تو آج پارٹی میں شامل ہوں اور کل سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یعنی پارٹی کے اعلی ترین ادارے کے ممبر بن جائیں۔

مذہبی جماعتوں سے سوال کرنا چاہیے کہ گذشتہ ادوارمیں جب آپ غیر مذہبی جماعتوں کے حلیف بن کر  اقتدار کے مزے لوٹتے رہے تب آپ کو اسلام کا نفاذ کیوں یاد نہیں آیا؟ کیا عوام کے خون پسینے کی لوٹ مار او ر استحصال سے آپ کے ہاتھ رنگے ہوئے نہیں ہیں؟ کیا اس غیر اسلامی نظام کو تحفظ بخشنے اور اس سے مفادات اٹھانے والوں میں آپ شامل نہیں ہیں؟ آپ نے اسلام کے سیاسی اور معاشی نظام کے حوالے سے کیا تحقیق کی اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے نفاذ کا کیاطریقہ کار آپ کے پاس موجود ہے؟ آپ اسلامی تعلیمات کے متضاد جاگیر داری اور سرمایہ داری نظام کا کیا متبادل پیش کرتے ہیں؟ اگر سیاست اور معیشت جاگیرداری اور سرمایہ داری بنیادوں پر ہی چلنی ہے تو پھر اسلام کا نفاذ کیسے ہوگا۔ کیا صرف تمام لوگوں کے ایک جیسی وضع قطع اختیار کرلینے، سخت سزاؤں کے نفاذ، چند عبادات کرلینے اور اقلیتوں یا اختلاف کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کردینے سے اسلام نافذ ہوجائے گا؟

پاکستانی عوام کے ساتھ ایک اہم مسئلہ یادداشت کی شدید کمزوری او ر حد درجہ سادگی کا ہے۔

ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ایک اہم مسئلہ یادداشت کی شدید کمزوری او ر حد درجہ سادگی کا ہے۔ اول تو ہماری اپنی ستر سالہ تاریخ سے واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔بالفرض اگر کچھ واقفیت ہے بھی تو اسے بھی ہم فوراًبھولنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اِدھر کسی سیاسی مداری نے بھیس بدلا اور اِدھر ہم اس کے جال میں دوبارہ آگئے۔ ہم لوگ اس درجہ تک سادہ اور خوش گمان ہیں کہ ہماری نسلیں اجاڑنے والے اگر دو گھڑی کے لئے ہمارے گھروں میں آجائیں، ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیں یا دکھاوے کے دو آنسو بہا دیں تو ہم ان کے تمام جرائم معاف کر کے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید یہ واقعی اپنے کئے پر نادم ہیں اور اب سدھر گئے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے واقفیت حاصل کریں۔ کوئی بھی تجزیہ اور فیصلہ کرتے وقت مختلف شخصیات اور جماعتوں کا  ماضی میں جو کردار رہا ہے اسے اپنے سامنے رکھیں۔ ششی تھرور کے الفاظ کے مطابق سیاسی معاملات میں معاف بیشک کریں لیکن اپنی یادداشت کو سلامت ضرور رکھیں۔ ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ سانپ کو آپ جتنا مرضی دودھ پلا لیں ، وہ ڈنگ مارنے کی عادت سے باز نہیں آسکتا۔ ہمیں سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے کی جماعتوں کے ساتھ امیدیں لگانے کی بجائے اپنے زورِ باز و پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مایوسی اور انفرادیت سے نکلتے ہوئے نوجوانوں کو باہمی مکالمے اور اجتماعیت پر مبنی نظم و ضبط کے زریعے اپنے اندر ملکی نظام چلانے کا علم اور صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ جس دن ہمارے نوجوان میں یہ شعور اور صلاحیت پیدا ہوگئی، ہمیں اپنے حالات کی بہتری کے لئے کسی مسیحا اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی جماعتوں کی ضرورت نہیں رہے گی!

Facebook Comments Box
پاکستانی سیاستتاریخسیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایمو ——- ڈاکٹر مریم عرفان
next post
عمران خان کا سجدہ —- سید مظفر الحق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.