تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیددیگرعلم و ادبکالممذہبی

جناب رسالت مآبؐ کا ادبی تبصرہ — علامہ اقبال

by لالہ صحرائی 20/11/2018
written by لالہ صحرائی 20/11/2018
156

ادبی صنعتوں کی غایتِ اولیٰ پر علامہ اقبال صاحبؒ کا یہ خوبصورت اور عقدہ کشاء مقالہ 1917 کے ستارہ صبح میں شائع ہوا تھا جو اب مقالاتِ اقبال کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کی عربی شاعری کی نسبت وقتاً فوقتاً جن ناقدانہ خیالات کا اظہار فرمایا ان کی روشنی صفحاتِ تاریخ کیلئے خط پاشاں کا حکم رکھتی ہے، لیکن دو موقعوں پر جو تنقیدات آپؐ نے ارشاد فرمائیں ان سے مسلمانانِ ہند کو آج کے زمانے میں بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے اسلئے کہ ان کا ادب ان کے قومی انحطاط کے دور کا نتیجہ ہے اور آجکل انہیں ایک نئے ادبی نصب العین کی تلاش ہے۔

شاعری کیسی ہونی چاہئے اور کیسی نہ ہونی چاہئے یہ وہ عقدہ ہے جسے جناب رسالتمآب ﷺ کے وجدان نے اس طرح حل کیا ہے، امراءالقیس نے اسلام سے چالیس سال پہلے کا زمانہ پایا ہے، روایت ہمیں بتاتی ہے کہ جناب پیغمبر ﷺ نے اس کی نسبت ایک موقع پر حسبِ ذیل رائے ظاہر فرمائی۔

“اشعرالشعرا و قائدہم الی النار، یعنی وہ شاعروں کا سرتاج تو ہے ہی لیکن جہنم کے مرحلے میں ان کا سپہ سالار بھی ہے”۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امراءالقیس کی شاعری میں وہ کونسی باتیں ہیں جنہوں نے حضور سرور کائنات ﷺ سے یہ رائے ظاہر کروائی۔

امراءالقیس کے دیوان پہ جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں شراب ارغوانی کے دور، عشق و حسن کی ہوشربا داستانوں اور جانگداز جذبوں، آندھیوں سے اڑی ہوئی پرانی بستیوں کے کھنڈروں کے مرثیوں، سنسان ریتلے ویرانوں کے دل دہلا دینے والے منظروں کی تصویریں نظر آتی ہیں اور یہی عرب کے دور جاہلیت کی کل تخلیقی کائنات ہے۔

امراءالقیس قوت ارادی کو جنبش میں لانے کی بجائے اپنے سامعین کے تخیل پر جادو کے ڈورے ڈالتا ہے اور ان میں بجائے ہشیاری کے بےخودی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی حکیمانہ تنقید میں فنون لطیفہ کے اس اہم اصول کی توضیح فرمائی ہے کہ صنائع و بدائع کے محاسن اور انسانی زندگی کے محاسن کچھ ضروری نہیں کہ یہ دونوں ایک ہی ہوں، یہ ممکن ہے کہ شاعر بہت اچھا شعر کہے لیکن وہی شعر پڑھنے والے کو اعلیٰ علین کی سیر کرانے کی بجائے اسفل السافلین کا تماشا دکھا دے۔

شاعری دراصل ساحری ہے اور اس شاعر پر حیف ہے جو قومی زندگی کی مشکلات اور امتحانات میں دلفریبی کی شان پیدا کرنے کی بجائے وہ فرسودگی و انحطاط کو صحت و قوت کی تصویر بنا کر دکھا دے اور اس طور پر اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف لیجائے، اس کا تو فرض ہے کہ قدرت کی لازوال دولتوں میں سے زندگی اور قوت کا جو حصہ اسے دکھایا گیا ہے اس میں اوروں کو بھی شریک کرے نہ یہ کہ اٹھائی گیرا بن کر جو رہی سہی پونجی ان کے پاس ہے اس کو بھی ہتھیا لے۔

ایک دفعہ قبیلہ بنو عیس کے مشہور شاعر عنترہ کا یہ شعر حضرت رسول اللہ ﷺ کو سنایا گیا ؎

ولقد ابیت علی الطوی واظلّہ
حتی انال بہ کریم الماکل

ترجمہ:
میں نے بہت سی راتیں محنت و مشقت میں بسر کی ہیں تاکہ میں اکل حلال کے قابل ہو سکوں۔

رسول اللہ ﷺ جن کی بعثت کا مقصد وعید یہ تھا کہ انسانی زندگی کو شاندار بنائیں اور اس کی آزمائشوں اور سختیوں کو خوش آئیند اور مطبوع کرکے دکھائیں اس شعر کو سن کر بے انتہا محظوظ ہوئے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ:

“کسی عرب کی تعریف نے میرے دل میں اس کا شوقِ ملاقات نہیں پیدا کیا لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اس شعر کے نگارندہ کے دیکھنے کو میرا دل بے اختیار چاہتا ہے”۔

اللہ اکبر۔۔۔۔! توحید کا وہ فرزند اعظم ﷺ جن کے چہرہ مبارک پر ایک نظر ڈال لینا نظارگیوں کیلئے دنیوی برکت اور اُخروی نجات کی دو گونہ سرمایہ اندوزی کا ذریعہ تھا خود ایک بت پرست عرب سے ملنے کا شوق ظاہر کرتا ہے کہ اس عرب نے اپنے شعر میں ایسی کونسی بات کہی تھی۔

رسول اللہ ﷺ نے جو عزت عنترہ کو بخشی اس کی وجہ ظاہر ہے، عنترہ کا شعر ایک صحت بخش زندگی کی جیتی جاگتی، بولتی چالتی تصویر ہے، حلال کی کمائی میں انسان کو جو سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں جو کَڑیاں جھیلنی پڑتی ہیں ان کا نقش پردۂ خیال پر شاعر نے نہایت خوبصورتی کیساتھ کھینچا ہے۔

حضور خواجہ دوجہاں ﷺ نے جو اس شعر کی تعریف فرمائی اس سے صنعت کے ایک دوسرے بڑے اصول کی شرح ہوتی ہے کہ صنعت حیاتِ انسانی کے تابع ہے، اس پر فوقیت نہیں رکھتی۔

ہر وہ استعداد جو مبداء فیاض نے فطرت انسانی میں ودیعت کی ہے اور ہر وہ توانائی جو انسان کے دل و دماغ کو بخشی گئی ہے ایک مقصد وحید اور ایک غایت الغایات کیلئے وقف ہے، یعنی قومی زندگی جو آفتاب بن کر چمکے، قوت سے لبریز، جوش سے سرشار ہو، ہر انسانی صنعت اس غایت آخرین کے تابع اور مطیع ہونی چاہئے اور ہر شے کی قدر و قیمت کا معیار یہی ہونا چاہئے کہ اس میں حیات بخشی کی قابلیت کس قدر ہے۔

تمام وہ باتیں جن کی وجہ سے ہم جاگتے جاگتے اونگنے لگیں اور جیتی جاگتی حقیقتیں جو ہمارے گرد و پیش موجود ہیں (کہ انہی پر غلبہ پانے کا نام زندگی ہے) ان کی طرف سے آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، انحطاط اور موت کا پیغام ہے۔

صنعت گر کو چنیا بیگم کے حلقۂ عشاق میں داخل نہ ہونا چاہئے، مصور فطرت کو اپنی رنگ آرائیوں کا اعجاز دکھانے کیلئے افیون کی چسکی سے احتراز واجب ہے، یہ پیش پا افتادہ نقرہ جس سے ہمارے کانوں کی آئے دن تواضع کی جاتی ہے کہ کمال صنعت اپنی غایت آپ ہے، انفرادی، اجتماعی انحطاط کا ایک عیارانہ حیلہ ہے جو اس لئے تراشا گیا ہے کہ ہم سے زندگی اور قوت، دھوکہ دے کر، چھین لی جائے۔

غرض یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے وجدان حقیقی نے عنترہ کے شعر کی خوبیوں کا جو اعتراف کیا ہے اس نے اصل الاصول کی ایک بنیاد ڈال دی ہے کہ صنعت کے ہر کمال کی صحیح ارتقاء کیا ہونی چاہئے۔

ماخذ:
مقالاتِ اقبالؒ، مقالہ نمبر 14، صفحہ نمبر 229 تا 232.
مرتبہ سید عبدالواحد معینی و محمد عبداللہ قریشی
ایڈیشن سن 2011، مطبوعہ القمر انٹرپرائزز، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔

Facebook Comments Box
ادبی تبصرہسیرت النبیمحمد صلی اللہ علیہ وسلم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
چڑیا، چڑے کی کہانی اور جدید زندگی کا المیہ —— ڈاکٹر مریم عرفان
next post
مغرب کا مذہب ‘سائنٹزم’ اور مسئلہ ‘شان محمدؐ’ —– عمر ابراہیم

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.