تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

جب مشتاق احمد یوسفی پاک ٹی ہائوس تشریف لائے ——- اعجاز الحق اعجاز

by دانش ڈیسک 21/06/2018
written by دانش ڈیسک 21/06/2018
88

(یہ تحریر دراصل ڈائری کا ایک ورق ہے جو تقریباً بیس سال قبل لکھی گئی جب میں بہت باقاعدگی سے پاک ٹی ہاوس جاتا تھا اور حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں شرکت کرتا تھا اورحلقے کی کارروائی اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیتا تھا۔ اس وقت حلقے کے جنرل سیکرٹری جناب حسین مجروح تھے)

آج بروز 5 دسمبر 1999 پاک ٹی ہائوس میں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں شرکت کی جس کی صدارت اردو کے عظیم اور صاحب اسلوب مزاح نگارجناب مشتاق احمد یوسفی نے کی۔ آج کے اجلاس میں اشفاق احمدصاحب نے افسانہ، افتخار عارف صاحب نے غزل جب کہ حیات احمد خاں صاحب نے کوئی مضمون پیش کرنا تھا مگر اشفاق احمد اور حیات احمد خاں اپنی چند ناگزیر مصروفیات کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے۔ اجلاس میں انتظار حسین، ظفر اقبال، انیس ناگی، سائرہ ہاشمی، آغا ناصر اور نیلما سرور بھی شریک تھے۔ انتظار حسین صاحب کو پاک ٹی ہائوس کی بالائی منزل پہ آکر حلقے کے اجلاس میں شرکت کرتے دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی کیوں کہ وہ اکثر نچلی منزل ہی پہ اپنی محفل سجائے رکھتے جس میں اکثر میں بھی شامل ہوجاتا اور ان کی نہایت دھیمے لہجے میں کی گئی بہت گہری باتوں کا لطف اٹھاتا۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا تو حسین مجروح صاحب نے اعلان کیا کہ اشفاق احمد اور حیات احمد خاں تو آئے نہیں لہذا سرفراز شاہد اپنا مضمون ’’ادب اور صحافت‘‘ پیش کریں گے۔ چناں چہ سرفراز سید صاحب نے اپنا مضمون حلقے کی روایات کے برعکس کھڑے ہوکر پڑھنا شروع کردیا اور وہ بھی دروازے میں کیوں کہ یوسفی صاحب کی آمد کی وجہ سے وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ بہرحال انھوں نے جو مضمون پڑھا خاصا بور کردینے والا تھا جس پر حاضرین نے خاصی تنقید کی۔ ایک صاحب بولے کہ مضمون کا عنوان مضمون کے مواد کے مطابق نہیں کیوں کہ اس میں ادب کو تو چھوا تک نہیں گیا تو یہ سن کر یوسفی صاحب فوراً بولے کہ اگر اس مضمون کا عنوان تبدیل کر دیا جائے تو پھر کیسا رہے گا تو محفل میں زور دار قہقہے پڑے۔ سرفراز سید بھی مسکرا اٹھے۔ اس کے بعد افتخار عارف کو غزل پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔چناں چہ انھوں نے اپنی ایک تازہ غزل پیش کی جس کا مطلع تھا:
اس میں کاوش کوئی نہ اہتمام میرا
ہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا

اس غزل پہ خاصی تنقید ہوئی۔ انیس ناگی صاحب جو آج بھی بہترین تراش کا سوٹ پہن کر آئے تھے اور جاذب نظر نکٹائی لگائے ہوئے تھے اپنے مخصوص واشگاف انداز میں اس غزل کے ایک ایک شعر کے بخیے ادھیڑنے لگ گئے اور کہا کہ غزل زیادہ متاثر کن نہیں۔ انھوں نے شاعر کو اس مشورے سے نوازا کہ وہ جدید ڈکشن استعمال کرے۔ ان کے بعد فرحت عباس شاہ نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اس غزل کو سرے سے رد کر دیا اور کہا کہ شاعر اردو زبان و بیاں کے روایتی سٹرکچر سے جڑا ہو اہے۔ جس پر ظفر اقبال نے کہا کہ مجھے فرحت عباس شاہ کی چند باتوں سے اتفاق ضرورہے مگر شاعر کو بہر حال یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اب تک اچھی غزلیں پیش کرنے پہ قادر ہے اور انھوں نے سخت تنقید کرنے والوں کو بھیڑیے سے تشبیہ دی دی جس پر یوسفی صاحب کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔ حلقے کا یہ کھلا ڈلا ماحول شاید ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ ایک صاحب نے ایک کونے سے آواز لگائی کہ ڈکشن کا پرانا ہونا کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ پرانی ڈکشن میں بھی نئے مفاہیم ادا ہو سکتے ہیں جیسا کہ فیض صاحب نے کیا۔ انیس ناگی صاحب نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اقبال اور پھر ان کے بعد راشد، مجید امجد اور ناصر کاظمی نے جس طرح زبان و بیاں کے کامیاب تجربات کیے ہیں موجودہ شعرا کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے تجربات سے اپنے کلام میں تازگی لائیں۔حلقے کی یہ روایت رہی ہے کہ جو بھی تخلیق پیش کی جائے اس پر ہر کسی کو کھل کر تنقید کا موقع دیا جائے اور پیش کرنے والے کو خندہ پیشانی سے یہ ساری تنقید سننا ہوتی ہے اور اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی ادا نہیں کرنا ہوتا۔ لہذا افتخار عارف اپنے کلام پر اس کڑی تنقید پہ اپنی مخصوص وضع دارانہ مسکراہٹ سے کام چلاتے رہے۔ان کی اس فراخ دلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لوگوں نے افتخار عارف صاحب کی شخصیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا تو حسین مجروح صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ موضوع سخن افتخار عارف کی شاعری ہے نہ کہ شخصیت جس پر انیس ناگی صاحب نے کہا کہ شاعری کو شخصیت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ آخر میں یوسفی صاحب سے استدعا کی گئی کہ وہ تبرکات یوسفی سے نوازیں۔ یوسفی صاحب نے پہلے حلقے کے حوالے سے کچھ گفتگو فرمائی اور کہا کہ وہ آج بیالیس سال بعد حلقے میں آئے ہیں اور شاید آئندہ شرکت کا موقع میسر نہ آئے۔ بعد ازاں انھوں نے سرفراز شاہد کے مضمون کے حوالے سے کچھ باتیں کیں اور کہا کہ وہ جرنلزم کی ایک نئی تعریف کریں گے اور وہ تعریف یہ ہے: “Literature in a hurry is called Journalism” اس کے بعد انھوں نے اپنے مزاحیہ مضامین میں سے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے جنھیں سن کر حاضرین لوٹ پوٹ ہوگئے۔ انتظار حسین اور ظفر اقبال کو اتنا ہنستے ہوئے میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ان کے ایک ایک جملے پہ قہقہے پڑ رہے تھے۔ انھوں نے خواتین کی نفسیات کے حوالے سے چند بلیغ اشارے کیے تو سائرہ ہاشمی منہ بسورنے لگیں بلکہ انھوں نے دبے لفظوں میں شکایت بھی کردی۔ ظفر اقبال صاحب نے انھیں سمجھایا کہ یہ مزاح ہے اور آپ اس سے لطف اندوز ہوں۔ یوسفی صاحب نے حیات احمد خاں، افتخار عارف اور اشفاق احمد کے خاکے بھی پیش کیے۔ آخر میں چائے کا دور چلا جس کے دوران میں نے بھی یوسفی صاحب سے ان کے فن کے حوالے سے کچھ باتیں پوچھیں۔ ایک بات انھوں نے بہت پتے کی بتائی اور وہ یہ تھی کہ مزاح میں لہجے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور الفاظ سے زیادہ اثر لہجے کا ہوتا ہے۔

یوسفی صاحب سے یہ میری پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ میں نے ان کی شخصیت کو ان کی تحریروں کی طرح شگفتہ اور نفیس پایا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

Facebook Comments Box
اردو مزاحمزاحمشتاق احمد یوسفیمشتاق یوسفییوسفی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عہد یوسفی میں ’سنگت یوسفی‘ کے چند پل — شفیق زادہ
next post
تسطیر اور قصہ پہاڑی مرغ —– جیا شاھ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.