تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

منحصر ”کُوڑے“ پہ ہو جس کی مُہم — زاہد نثار

by دانش ڈیسک 20/06/2018
written by دانش ڈیسک 20/06/2018
101

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں کچرے کو انتخابی مہم کا اہم نعرہ بنانے سے ہماری اجتماعی سیاسی سوچ کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔ ملک بھر کی کم وبیش یہی صورت حال ہے۔ ہمارے حقیقی مسائل شہری سطح پر دیکھیں تو کیا اُبلتے گٹر، سیوریج کا پانی، ٹوٹی سڑکیں اور کوڑا کرکٹ ہی رہ گئے ہیں؟ کب تک ایسی تعفن زدہ سوچ کو پروان چڑھا کر ہماری نسلوں کو انہی گٹروں اور سیوریج تک محدود رکھا جائے گا؟ بیس پچیس سال قبل کے اخبارات اٹھا لیجیے، ہمارے شہری مسائل یہی ہیں۔ بدصورتی کو سیاسی مہمات میں کیش کروانا سیاسی جماعتوں اور شخصیات کا معیار رہ گیا ہے۔ سیاسی تقاریر میں مستقبل کے لارے شہروں کو پیرس اور لندن بنانے کے دعوے ہوتے ہیں۔ پیرس اور لندن تو یہ شہر کب کے بن چکے۔ غربت اور معاشی ناہمواری نے واقعی پیرس اور لندن کے ریڈ لائٹ علاقوں جیسا ماحول یہاں بنادیا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ پیرس اور لندن کا تعلیم اور صحت کے میدانوں میں بوجہ مقابلہ نہیں کرسکتی، اسی لیے انہیں ایک آسان طریقہ یہی ہاتھ لگا ہے کہ ان شہروں کی اخلاقی بدصورتی کو یہاں منتقل کیا جائے۔ اب تقریباً ہر شہر اسی تناظر میں لندن اور پیرس بن چکا ہے، مگر کیا کسی نے یہ بتایا کہ لندن میں کتنی یونیورسٹیاں ہیں کتنے کالجز ہیں، پیرس کے تعلیمی اداروں کی تعداد اور معیار و استعداد کیا ہے؟ صحتِ عامہ کے کس قسم کے مراکز اور کس قسم کی ان کی کارکردگی کا معیار کیا ہے؟ لیکن چوں کہ ان باتوں سے سیاسی نفرت اور تضحیک کا احساس ہوتا ہے، لہٰذا ان سے اغماض ہی برتا جائے یہی اچھا اور مو¿ثر طریقہ ہے۔ میڈیا کو ان حقائق سے دور رکھنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ بنیادی حقوق اور مسائل پر توجہ نہ دی جائے بل کہ چسکے دار اسکینڈل اور بے فائدہ قسم کی ذاتیات کو سیاست کے ٹاک شوز کا مرکز و محور بنایا جائے۔ آپ ایک ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، آپ دیگر ممالک سے گٹر اور سیوریج سسٹم کا مقابلہ کریں گے؟ اچھل اچھل کر پیرس لندن کے دعوے کرنے والے صحت کے معاملے پر یکسر مختلف ردعمل کیوں دیتے ہیں؟

بدقسمتی سے ہمارے مقامی میڈیا کو وہ سہولیات میسر نہ ہوسکیں جن کی بنیاد پر وہ بہتر نتائج دے سکتا۔ ملکی سطح کے اخبارات اور ٹی وی چینلز اپنے مقامی رپورٹرز کو سیلری نام کی کوئی چیز دیتے ہی نہیں۔ لے دے کے ان رپورٹرز کے پاس مقامی مسائل میں یہی رہ جاتا ہے جس کے تعفن سے اچھا بھلا نفیس خیال غائب اور طبیعت مکدر ہوجاتی ہے۔ ان میں سے اکثر بلدیاتی اداروں، ٹھیکے داروں وغیرہ پر تنقید یا توصیف کے ذریعے اپنی دال روٹی بھی چلاتے ہیں یا پھر ان کے لیے ناجائز تجاوزات اور مہنگائی کا رونا جیسے مسائل ہی رہ جاتے ہیں، جو کسی نہ کسی طرح ان ہی بلدیاتی اداروں سے جڑے ہوتے ہیں۔ ملکی سطح کے اخبارات کے شہری مسائل کے صفحات بھی انہی گٹر سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل سے پُر ہوتے ہیں جب کہ مقامی اخبارات کا مسائل کے حوالے سے مطمع نظر بھی یہی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیم پر کیوں بات نہیں کی جاتی؟ کہ تعلیمی لحاظ سے یا صحت کے معیار کے لحاظ سے ہمارے عام یا خاص شہروں کو لندن اور پیرس بنایا جائے گا؟ صحت، کھیل توانائی اور دیگر عوامی فلاح کے منصوبے شاید پیرس یا لندن کے میئرز کی وجہ سے نہیں شروع کیے جاتے کہ کہیں ان کی دل آزاری نہ ہو۔ یہ دراصل بددیانتی کی وجہ سے ہے۔

ہمارے ہاں صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان گلی محلے کی سیوریج لائن کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں اور اس پر نعرہ لگا لگا کر اس کو ترقیاتی کام قرار دے کر شور مچایا جاتا ہے۔ کیا ارکان صوبائی و قومی اسمبلی سیوریج ٹف ٹائل یا نالیوں کے افتتاح کے لیے چُنے جاتے ہیں؟ اگر یہ انہی کا کام ہے تو پھر یقیناً قانون سازی کسی اور کا کام ہے۔ کیا مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں تعلیم کا وہ مقام نہیں؟ اسکول ہیں تو اساتذہ نہیں اساتذہ ہیں تو طلباء نہیں اگر یہ دونوں ہیں تو اسکول کی عمارت ہی نہیں۔ ہم نے تعلیم اور صحت کو اپنی نمایاں ترجیحات میں رکھا ہی نہیں۔

کسی قوم کی ترقی دراصل اس کی تعلیمی ترقی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ مجوزہ ترقیاتی کاموں میں اسکول اور کالج کو یتیم منصوبہ جات کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو وسعت دینا ہوگی۔ یہ تو ہر ترقی پذیر ملک کا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہروں کی تعلیمی ابتری اور تعلیمی ترجیحات کا اس سے بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی نئی رہائشی اسکیم میں سڑک سولنگ ٹف ٹائل گٹر سیوریج کا ذکر اس شد و مد سے کیا جاتا ہے کہ جیسے اس سے بڑی سہولت روئے زمیں پر ممکن ہی نہیں۔ ایک منصوبہ طویل المدتی معیار اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر اسی لیے نہیں بنایا جاتا کہ اس سے بالائی آمدنی طویل المدتی منصوبے کی طرح منقطع ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں ری سائیکلنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جس سے کوڑا کرکٹ سے محدود پیمانے پر چھوٹے چھوٹے علاقوں کے لیے بجلی اور زرعی ضروریات کے لیے کھادیں حاصل کی جارہی ہیں۔ پلاسٹک کے غیر حل پذیر اجزاء کو ری سائیکلنگ کے ذریعے مختلف اشیاء میں ڈھالا جاتا ہے، جب کہ کراچی کا کچرا سمندر کی نذر کرکے آبی و فضائی آلودگی کا سامان پیدا کیا جاتا ہے، جس سے سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے ہی ہر بڑے شہر کا کچرا قریبی آبی ذخیرے دریا یا پھر نہروں نالوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی اور مصرف نہیں، کیوں کہ اس کا کوئی اور مصرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کام نہیں آتا بل کہ تباہ کن ہوسکتا ہے۔

ایک سڑک اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ اسے ادھیڑا جاسکے، کیوں کہ پی ٹی سی ایل کی کیبلز بچھانی ہوتی ہیں۔ اسے دوبارہ اس لیے ادھیڑا جاتا ہے کیوںکہ اس بار بجٹ میں سیوریج کا فنڈ جاری ہوا ہے۔ ایک بار پھر اسی سڑک کو بہ مشکل سال بعد ہی اس لیے ادھیڑا جاتا ہے کیوںکہ گیس کے محکمے نے مہربانی کی ہے اور گیس کی پائپ لائن بچھائی جانی ہے اور پھر یہی سڑک ادھیڑی جارہی ہوتی ہے، کیوںکہ نیا بجٹ آچکا ہے اور مال کماو منصوبہ جات میں اسی سڑک کی ممکنہ مرمت شامل ہوتی ہے۔ میگا پراجیکٹس میں سیوریج کا پراجیکٹ سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ جگہ جگہ سڑک کے عین درمیان میں گڑھے کسی جنگ زدہ ملک کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ گاو¿ں دیہات سے شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔

ان منصوبوں میں دیگر موہوم سے منصوبہ جات سے زیادہ مالی مفادات چھپے ہوتے ہیں کیوںکہ سیاسی اور ٹھیکے دارانہ گٹھ جوڑ ایسے منصوبوں کو فنڈز ملتے ہی چشم زدن میں پیدا کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ ٹھیکے داروں کی فوج ظفر موج کا اس پر جھپٹ پڑتا ہے اور ہر کسی کو حصہ بقدر جثہ ملتا ہے۔ پھر بار بار ایسے منصوبے کیوں نہ بنیں جن سے بے پناہ مالی مفادات جڑے ہوئے ہوں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کچرا، گٹر، گندا نالہ اگر صاف ہوئے تو پھر اجتماعی شعور بیدار نہ ہوجائے گا، جو شخص گھر سے باہر نکلتے ہی تعفن اور گندگی کا سامنا کرے بھلا سارا دن وہ مثبت کیا سوچے گا؟ اور اجتماعی شعور بھلا کیوں کر بیدار ہوگا؟

اس بات سے بھی ملک بھر کی حالت کا اندازہ لگائیں کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کا سب سے بڑا سیاسی ایجنڈا کوڑا کرکٹ رہ گیا ہے، جس پر سیاست کرنے سے ان سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے لیے تعفن اور گندے پانی سے تنگ ووٹرز کا دل جیتنا ممکن ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments Box
کچرا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کمشنر برائے انسانی حقوق، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مسئلہ کشمیر — ڈاکٹر رئیس صمدانی
next post
پاکستان سیکیوریٹیز و ایکسچینج کمیشن SECP کی کارکردگی — راو جاوید

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.