تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

بچوں کی تعلیم کا مسئلہ: سب سے پہلے کیا کیا جائے؟ نئیر عباس

by دانش ڈیسک 23/06/2018
written by دانش ڈیسک 23/06/2018
109

انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا اور قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ تعلیم میں اعلیٰ معیار حاصل کیے بغیر کوئی تہذیب قائم رہ سکی ہے اور نہ ہی کسی قوم نے ترقی کی اعلی منازل طے کی ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کی قیادت انہی قوموں کے ہاتھ میں ہے جن کے پاس دنیا کی علمی قیادت ہے۔ گویا دنیا کی قیادت کا براہ ِراست تعلق تعلیم سے ہے۔ اس کے بغیر ترقی ایک خواب ہے اور قیادت ایک سراب۔ تعلیمی تحقیق ایک وسیع موضوع ہے اور محقیقین اس پر اپنی تحقیقات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل قلم بھی اپنے مضامین کے ذریعے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان صاحبان ِ علم و فراست کے قلم سے تعلیم سے متعلق مختلف موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں اور ان سے قابل قدر معلومات بہم پہنچتی ہیں۔ نصاب ِ تعلیم، سکول کے اوقات، طلبہ کے یونیفارم، طریقہء تدریس، فنی تعلیم، شرح خواندگی، تربیتِ اساتذہ، تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال، غرض اس طرح کے درجنوں موضوعات پر لکھا جاتا ہے۔ یہ تمام ہی موضوعات انتہائی اہم اور تحقیق طلب ہیں۔ لیکن ایک سوال بہت ہی اہم اور توجہ طلب ہے کہ تعلیمی درستی کرتے ہوئے سب سے پہلے کیا کیا جائے۔ موجودہ مضمون میں اسی حوالے سے رائے پیش کی گئی ہے۔

بچوں کی تعلیم کےحوالے سے تمام مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن سب سے بچوں کے اندر خوف کو ختم کیا جائے اور یہ باور کرایا جائے کہ اسکول خوفزدہ ہونے کی جگہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچے اسکول کو واقعی ایک پر سکون جگہ سمجھتے ہیں۔ کیا جب وہ اسکول میں موجود ہوتے ہیں تو ان کے ذہن احساسِ  تحفظ رکھتے ہیں؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بچے تعلیم کو ایک کار آمد عمل سمجھ رہے ہوتے ہیں یا نہیں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بچے تعلیم کو بوجھ سمجھ کر حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اس پر مناسب توجہ نہیں دیتے۔ یقیناً اس میں بچے قصور وار نہیں کہ ہم اکثر تعلیم پر توجہ نہ دینے کے جرم کی پاداش میں بچوں کو کوستے، سزائیں دیتے اور ٹھیک کرتے رہتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یہ رویہ مناسب ہے۔ در اصل ہم نے تعلیم کے عمل کو ایسا دلچسپ بنایا ہی نہیں کہ بچے  تندہی سے یہ عمل انجام دیں۔ جب تک تعلیمی عمل غیر دلچسپ ہو گا تو بچوں کی عدم دلچسپی برقرار رہے گی۔ لہٰذا تعلیمی عمل انتہائی دلچسپ ہونا چاہیئے تا کہ طلبہ کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

بچے اسکول کو خوف کی جگہ سمجھتے ہیں اور مقام افسوس ہے کہ یہ خوف ان کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے جو شاید یونیورسٹی تک بھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک بچے نے بتایا کہ جب وہ پہلی جماعت میں تھا تو شرارت کرنے پر آیا اسے کہتیں کہ باہر بلا کھڑی ہے اور اگر اس نے شرارتیں کیں تو بلا اندر آ جائے گی۔ یہ بات کتنی تکلیف دہ ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کو اس انداز سے خوفزدہ کیا جائے اور وہ بھی اس کی شرارتوں سے جان چھڑانے کیلیے۔ کیا اس رویے سے ہم اپنے بچوں کے اندر بہادری اور جرأت مندی جیسی عظیم صفات پیدا کر سکتے ہیں؟ اس طرح کے کئی خوف بچوں کے دلوں میں ڈال کر ہم ان سے عزت اور سر بلندی سے جینے کا فن چھین رہے ہیں۔ ابھی ذکر ہوا کہ اس طرح کے خوف یونیورسٹی تک باقی رہتے ہیں لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ اس طرح کے خوف سے انسان ساری زندگی جان نہیں چھڑا پاتے۔ اسی خوف کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں۔ اور ہمارے قومی فیصلوں میں یہ خوف خوب جھلکتا ہے۔ تعلیمی کامیابی کو یقینی بنانے، تعلیمی عمل کو مؤثر، تعمیری اور نتیجہ خیز بنانے کیلیے ضروری ہے کہ بچوں کے دلوں سے اس خوف کو ختم کیا جائے۔ بصورتِ دیگر تعلیمی عمل تربیتِ طفل کا ذریعہ کم ہو گا اور خوف پیدا کرنے کا آلہ زیادہ۔
بقول علامہ اقبال

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

اس سلسلے میں تعلیم و تعلم سے جڑے تمام محترم خواتین و حضرات سے چند گزارشات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اس بات کو اپنا مقصد بنانا ہے کہ بچوں کے دلوں کو خوف سے آزاد کریں۔ بچوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلے خود کریں۔ انہیں بار بار روکا ٹوکا نہ جائے۔ اگر بچے غلطی کریں اور انہیں سمجھانا مقصود ہو تو ایک دفعہ سمجھانے  یا سرزنش کرنے کے بعد طعنہ زنی سے سخت پرہیز کیا جائے۔ اساتذہ جب پڑھاتے ہیں تو عام طور پر بچوں کے کچھ عیب بھی ان پر آشکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں اساتذہ بچوں کے عیبوں سے چشم پوشی کریں اور ان باتوں کو اپنے تک محدود رکھیں۔بچوں کے خوف پر قابو پا کر ہی ہم انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ مستقبل کی قومی زندگی میں تعمیری کردار ادا کریں۔

Facebook Comments Box
بچوں کی تعلیمبچےتعلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مسکراتا ہوا فلسفی —– خرم سہیل
next post
مجھے اردو سے کوئی محبت نہیں —– احمد اقبال

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.