تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیفلمکالمکلچر، آرٹ

پاکستان میں ’’ہیش ٹیگ می ٹو‘‘ اور جنسی ہراسگی کی نفسیات — خرم سہیل

by خرم سہیل 26/05/2018
written by خرم سہیل 26/05/2018
106

گزشتہ برس امریکا کے معروف اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کی دو خواتین صحافیوں ’’جوڈی کینٹور‘‘ اور’’میگن ٹوہے‘‘ کی مشترکہ تحقیق شایع ہونے کے بعد، مغرب میں ایک کہرام مچ گیا، یہ تحقیقی رپورٹ ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز ’’ہاروی وائنسٹن‘‘ کے جنسی استحصال پر تھی، جس کا مظاہرہ اس نے اپنے فنی کیرئیر کے دوران کیا۔ اس کہرام کو ’’ہیش ٹیگ می ٹو‘‘ کا نام دیا گیا، پھر یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل گئی، اس کے نتیجے میں جن ممالک میں خواتین نے اس کے حق یا مخالفت میں ردعمل دیا، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

میں نے پچھلے سال naked pics of angie vanessa-avery-96اپنی لکھی ہوئی تحریر میں اس سارے تصفیے کو بہت تفصیل سے بیان کیا تھا، جس کو دوبارہ پڑھنے سے آپ اس معاملے کی باریکی سمجھ لیں گے، لیکن سب سے اہم بات، جس کی طرف اشارہ کیا تھا، وہ یہ تھی کہ پاکستان میں جہاں ہر معاملے میں مغرب کی تقلید کی جاتی ہے، وہاں شوبز کے حلقوں میں اتنی خاموشی کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ملنے میں تقریباً ایک برس لگ گیا، علی ظفر اور میشا شفیع کے حالیہ تنازعہ پر پاکستانی ثقافتی حلقوں کی نفسیات کھل کر سامنے آگئی ہے۔ پاکستان کے صحافتی حلقوں میں تو موجودہ سال اس پر بہت کچھ لکھا اور بولا گیا، میں اس تمام بحث میں جائے بغیر سیدھا نکتے کی بات پر آنا چاہوں گا۔

پاکستان میں ان مخصوص حلقے کی عورتوں کو نظر انداز کر دیا جائے، تو ایک عام عورت شاید ہی ہیش ٹیگ می ٹووالی چالاکیوں سے واقف ہوگی، وہ تواپنی بقا اور عزت کی خاطر بعض اوقات خاموشی بھی اختیار کر لیتی ہے، اس قدر ڈھٹائی سے واویلا کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے

گزشتہ ماہ، اپریل میں معروف گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع کا تنازعہ سامنے آیا، جس میں خاتون گلوکارہ نے اپنے ہم عصر مرد گلوکار پر جنسی ہراسگی کا الزام لگا رہی ہیں۔ اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہیں، اگر دنیا میں کہیں بھی کسی خاتون کے ساتھ حقیقی طور پر جنسی ہراسگی کا واقعہ ہو تو اس پر مجرم کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے، لیکن یہ کیسے طے ہوگا کہ الزام میں صداقت کتنی ہے۔ اس کے لیے زمینی حقائق، الزام لگانے والے کا طرز زندگی، بودو باش اور دیگر پہلوئوں کا جائزہ لینا پڑے گا۔

مرد گلوکار علی ظفر دودھ کے دھلے نہیں ہیں، مگر خاتون گلوکارہ میشا شفیع کا فنی پس منظر بھی کافی ہوشربا ہے۔ یہ خاتون، جس نے فیشن کی دنیا سے اپنے فنی کیرئیر کی ابتدا کی، فیشن کی بے باک طرز زندگی اور کیرئیر میں ہر طرح کے رنگوں میں رنگی اس خاتون نے، جہاں دل چاہا، بدتمیزی کی، واویلا کیا، علی ظفر پہلا متاثرہ مرد نہیں ہے، اس سے پہلے یہ خاتون ایک بینڈ ’’اوور لوڈ‘‘ کا حصہ تھیں، یہی سے ان کی گلوکاری کا فنی سفر شروع ہوا تھا۔ اس بینڈ کی تشکیل فرہاد ہمایوں نے کی تھی، جو ایک باصلاحیت موسیقار ہیں، ان کی پہلی البم کی ریلیز کے بعد یہ خاتون انہیں چھوڑ کر چلتی بنیں، جب انہوں نے اپنے گانوں کے حقوق کے سلسلے میں ان سے باز پرس کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے اس سے بھی لے دے کی۔ اب علی ظفر پر دوران ریکارڈنگ جنسی ہراسگی کا بھونڈا الزام ان کی دیدہ دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بہت ممکن ہے، علی ظفر سے اس خاتون نے کوئی فرمائش کی ہو، وہ پوری نہ ہونے کی صورت میں اس پر الزام دھر دیا ہو، کیونکہ یہ اپنے کیرئیر میں خاصی ڈیمانڈنگ رہی ہیں۔ ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے، موسیقی کے ایک نجی شو کی میزبانی میں علی ظفر کے برابر معاوضہ لینا چاہتی تھیں، جب ان کی ڈیمانڈ پوری نہ کی گئی، تو حسد کے مارے یہ ردعمل دیا۔

ایک اصطلاح ’’کاسٹنگ کائوچ‘‘ استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ’’جنسی تعلقات کے بدلے کام‘‘ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ سمجھوتے پوری دنیا کے شوبز حلقوں میں ہوتے ہیں

لنک: https://tribune.com.pk/story/120420/no-more-musical-chairs/

پاکستانی شوبز کے اصل چہرے سے جو لوگ واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہاں جنسی ہراسگی کی نوبت ہی نہیں آتی، اکثریت طے کرتی ہے، کس کے ساتھ تعلقات میں کہاں تک جانا ہے، اس کے لیے انگریزی میں ایک اصطلاح ’’کاسٹنگ کائوچ‘‘ استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ’’جنسی تعلقات کے بدلے کام‘‘ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ سمجھوتے پوری دنیا کے شوبز حلقوں میں ہوتے ہیں، دور نہ جائیے، پڑوسی ملک بھارت میں دیکھ لیں، وہاں کی بدنام زمانہ اور منہ پھٹ اداکارہ ’’راکھی ساونت‘‘ نے کھل کر کہا ’’شوبز میں باہمی رضا مندی سے جنسی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔‘‘ پاکستانی فنکاروں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس طرح کھل کر بات کہہ سکیں، مگر یہاں کے حالات بھارتی شوبز انڈسٹری سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ استحصال کی اتنی کریہہ شکلیں ہیں، اگر ان پر سے پردہ اٹھایا جائے تو فن و فنکار کے نام سے ہی نفرت ہو جائے، لیکن بظاہر یہ سارے بہت نفیس اور کلچر کے دلدادہ بنے پھرتے ہیں، وہ دن لد گئے، جب فنکار تہذیب کی آبرو ہوا کرتے تھے۔

میشا شفیع بھی ان روشن خیال بزرگوں کی نظریاتی شکست کا ایک پر تو ہیں، جنہوں نے دنیا میں انقلاب لانے کی بات کی، لیکن اپنے گھر میں، اولاد سے ہار گئے۔

میشا شفیع کا خاندانی پس منظر دیکھیں تو یہ معروف اداکارہ صبا حمید کی بیٹی اور حمید اختر کی نواسی ہیں، وہی حمید اختر جنہوں نے فیض احمد فیض، سجاد ظہیر، ساحرلدھیانوی جیسی شخصیات کے درمیان اپنی زندگی گزاری، ساری زندگی بائیں بازو کی نظریاتی جدوجہد کرتے رہے، سادہ اور درویش زندگی بسر کی، مگر پاکستان میں دائیں اور بائیں دونوں طرف کے لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کچھ انداز پر کی، جس سے وہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے دور ہوئے، میشا شفیع بھی ان روشن خیال بزرگوں کی نظریاتی شکست کا ایک پر تو ہیں، جنہوں نے دنیا میں انقلاب لانے کی بات کی، لیکن اپنے گھر میں، اولاد سے ہار گئے۔

یہ قصہ صرف حمید اختر کا نہیں ہے، ان کے ہم عصروں میں، بلکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کی زندگیاں بھی چھان کے دیکھ لیں جو تہذیب، زبان و ادب کے نام پر غلغلے مچاتے آئے ہیں، ان کی اپنی نسلیں قومی زبان اور پاکستانی تہذیب سے تقریباً ناواقف ہیں، یقین نہ آئے تو اپنے طور پر چھان بین کر دیکھیے، وہاں راوی چین لکھتا ہے۔ شین قاف درست کرنے والوں کی نسل میں اکثریت کے ہاں اردو زبان رخصت ہو چکی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمودفیاض

 

اس تمام صورتحال کے باوجود علی ظفر اور میشا شفیع کے تنازعے سے بہرحال کچھ عرصے کے لیے سہی، مگر پاکستانی شوبز کے حلقوں میں دبے دبے لفظوں میں بات شروع ہوئی، لیکن یہ معاملہ یہاں زیادہ سنجیدہ نہ ہوسکا کیونکہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ کبھی کبھی مذاق میں البتہ بہت ساری سنجیدہ باتیں نکل کر سامنے آجاتی ہیں، جس طرح کچھ عرصے سے یوٹیوب پر ایک پاکستانی فلم ہدایت کار وجاہت رئوف نے انٹرویو لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے، ان کے سوالوں اور گفتگو میں ہم جنس پرستی، جنسی ہراسگی، کاسٹنگ کائوچ سمیت کئی طرح کے غیر روایتی سوال براہ راست پوچھے جاتے ہیں، مگر مزاحیہ انداز میں، تاکہ حقائق کی بدصورتی زیادہ بری نہ لگے، کیونکہ منافق اور کریہہ شکل معاشرے میں آئینہ دیکھنے سے گھبراتے ہیں، یہاں حوالے کے طور پر اداکارہ حریم فاروق اور ماہرہ خان کے انٹرویوز ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

لنک: https://www.youtube.com/watch?v=XSk7fsxu8g8

لنک: https://www.youtube.com/watch?v=ZYKD0GQtobQ

پاکستان میں ڈالر گرل کے نام سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل’’ایان علی‘‘ تو یاد ہوگی، جرم ثابت ہونے کے باجود اسے سزا نہیں ہوسکی، پاکستانی شوبز میں محض فنی مصروفیات کے علاوہ بہت ساری ایسی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بھی یہ خواتین ملوث ہوتی ہیں کہ تفصیلات دہلا دیں۔ یہ خواتین کیا جانیں، اس اذیت کے بارے میں، جو ایک عام خاتون کو واقعی جنسی ہراسگی کی صورت میں جھیلنا پڑتی ہے۔

پاکستان میں ان مخصوص حلقے کی عورتوں کو نظر انداز کر دیا جائے، تو ایک عام عورت شاید ہی ہیش ٹیگ می ٹووالی چالاکیوں سے واقف ہوگی، وہ تواپنی بقا اور عزت کی خاطر بعض اوقات خاموشی بھی اختیار کر لیتی ہے، اس قدر ڈھٹائی سے واویلا کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔۔ مگر شوبز کا حلقہ ہو یا این جی او زدہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ والی مخلوق، ان کے منہ سے جنسی ہراسگی والی بات بھلی نہیں لگتی۔

خرم سہیل  khurram.sohail99@gmail.com


یہ بھی پڑھئے:
جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر — عمار خان ناصر

کیا مرد بھی ’می ٹو‘ Me Too کہہ سکتے ہیں؟ — سمیع کالیا

Facebook Comments Box
featuredSexual Harassmentجنسی ہراسگیعلی ظفرمیشامیشا شفیعھراسمنٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
سلیم احمد اور صحرا کی اذان —– فرحان کامرانی
next post
فاٹا کا انضمام: عجلت، پر اچھا کام —- رئیس احمد صمدانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.