تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ تریندیگرسماجیسیاسیعلم و ادبکالم

قصہ ایک غیر متوازن جرنیل سے ملاقات کا — شاہد اعوان

by شاہد اعوان 19/05/2018
written by شاہد اعوان 19/05/2018
93

شاید دو برس ہوئے، ایک صاحب قلم دوست نے مشرف دور کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ڈی جی ملٹری آپریشنز اور سابق ڈی جی نیب جنرل (ر) شاہد عزیز کی نوتصنیف شدہ کتاب کے بارے میں بتایا اور کہا کہ جنرل صاحب اس کی اشاعت کے سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ اگلے ہی روز یہ وجیہہ شخصیت اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ ملنے تشریف لائی۔ کتاب کا مسودہ ہاتھ میں اور دل نشین مسکراہٹ چہرے پر۔ درمیانہ قد، نفیس لباس، باوقار بدن بولی اور لہجہ میں تحکم کے بجائے ایک ایسی روانی جو اہل علم کا نشان ہوتی ہے۔

کتاب کا سرسری جائزہ لینے پر بہت دلچسپ لگی، کچھ “مقامات آہ و فغاں” کی نشاندہی کی تو جرنیلی شان اور ادائے بے نیازی سے اختلاف کرتے ہوئے مجھے بے فکر رہنے کا کہا جس پہ میں نے غور کرنے کا کہتے ہوئے مسودہ رکھ لیا۔

چائے پہ غیر رسمی گفتگو کے موضوعات، کتاب کے مندرجات سے لے کر اردوسے انکی محبت اور عساکر کے ملک میں کردار سے بعد از ریٹائرمنٹ ضمیر کی بیداری تک کو محیط تھے۔ دوران ملازمت اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرکے اور ان پہ ڈٹ جانے کے بےشمار واقعات بیان کئے اور اس سے زیادہ ناکردہ فیصلوں پر افسوس کا اظہار بھی۔ اس افسوس پر میں نے خود کو بھی انکا شریک پایا۔ جتنی صاف گوئی اور بیباکی سے وہ اپنے غیر رسمی بلکہ باغیانہ خیالات کا اظہار کررہے تھے مجھے حیرت ہوتی رہی کہ ان افکار عالیہ کے ساتھ جنرل صاحب کے لئے اپنی نوکری مکمل کرنا اور معمول کے انداز میں ریٹائر ہونا کیوں کر ممکن رہا؟

مجھے یہ ماننے میں کوئی باک نہیں کہ جنرل صاحب نے میرے سب سوالوں کا جواب حقیقتاََ خندہ پیشانی سے دیا۔ طمانیت اور یقین کی ایک زیریں رو، ان کے لہجہ کو صلابت دیئے ہوئے تھی۔ اس لمحہ میں اس تاثر کو جواز نہ دے سکا اور ذہن اس پہ الجھتا رہا۔ بعد ازاں کتاب کی اشاعت کے بعد انکے بہت سے انٹرویوز دیکھنے اور گفتگو سننے کے بعد اپنے تاثر کی سچائی کا یقین ہوتا چلا گیا۔ نرم گرم گفتگو کے ہنگام، لہجوں کے زیر و بم اور بلند آھنگ اختلاف و اتفاق کا ماجرا سن کے، بعد میں بہت سے “سمجھدار” دوستوں نےمیری حماقت آمیز سادگی کا احساس دلایا تو یہ احساس شاہد عزیز صاحب کی شخصی سچائی اور انسانی خوبی کے احساس میں ڈھل گیا۔

مجھے لگا کہ انکی بے چین روح اپنے ماضی کی بہت سی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے اور یہ کتاب بھی انہوں نے اسی “فرض منصبی” کی ادائی کے لئے لکھی۔

کئی روز تک، اپنی میز پہ دھرے اس مسودہ کے مطالعہ سے محظوظ ہوتا رہا مگر اشاعت کا بارگراں اٹھانے کا فیصلہ “بوجوہ” نہ کرسکا۔ اس دوران چند مزید ملاقاتوں نے انکی شخصیت کا گہرا اور مثبت تاثر چھوڑا۔ مجھے لگا کہ انکی بے چین روح اپنے ماضی کی بہت سی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی ہے اور یہ کتاب بھی انہوں نے اسی “فرض منصبی” کی ادائی کے لئے لکھی۔ کتاب کے عنوان “یہ خاموشی کب تک” کی تبدیلی کی میری بہت سی تجاویز سے اختلاف کرتے ہوئے اسی نام پہ اصرار اب معنی خیز لگتا ہے۔ وہ اپنی تصنیف کے لئے بہت پرجوش تھے اور جلد از جلد اسے شایع کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں جس طرح اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور انگریزی محاورے کے مطابق Talk of the Town بن گئی، وہ انکی توقع کے عین مطابق تھا۔ اس کتاب سے اٹھنے والا طوفان چائے کی پیالی میں نہیں، برسر زمیں تھا اور جس کے “متاثرین” آج بھی جابجا نظر آجاتے ہیں۔

اپنی کتاب میں جنرل صاحب نےکارگل کی جنگ، کشمیر پالیسی، مشرف کی روشن خیالی اور سیکولر فکر، نواز حکومت کا تختہ الٹنے سے لے کر پاکستان میں امریکی مداخلت، فوج میں غیر ملکی رسوخ، نیب کے کردار، فوج کے داخلی نظام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت بہت سے حساس موضوعات پہ معروف بیانیہ کے بجائے “عملیہ” کا بیان کرکے کئی دھماکے کئے۔ میرا خیال ہے کہ عسکری تاریخ میں شاید اس نوعیت اور اس درجہ کی مطبوعہ دستاویز اس سطح کے عہدیدار کی طرف سے شایع ہونے کی یہ واحد مثال ہے۔

آج میڈیا پہ جنرل مشرف نے انہیں غیر متوازن ذہن کا مالک کہا اور انکی مبینہ وفات کا ذکر کیا تومیرے ذہن میں یہ سب یادیں تازہ ہوگئیں۔ سچ ہے کہ تاریخ میں زندہ رہ جانے والے لوگ غیر متوازن ہی ہوتے ہیں، چاہے لکیر کی ایک سمت ہوں یا دوسری۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ تو وقت کرتا ہے۔ متوازن اور محتاط زندگی گزارنے اور لکیر کے ساتھ چلنے والے تو تیسری نسل کے بعد فراموش کردیئے جاتے ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredجنرل شاہد عزیزجنرل مشرفیہ خاموشی کب تک
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
شاہد اعوان

previous post
رنگوں کے کھیل ——– مریم رزینہ
next post
میں بڑا صحافی کیوں نہیں بن سکا ——– اے وسیم خٹک

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.