تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

میر کا تصور عشق — یگانہ نجمی

by دانش ڈیسک 04/05/2018
written by دانش ڈیسک 04/05/2018
114

خدائے سخن، شہنشاہِ غزل، میرتقی میر اپنی فطرت کی زُود رنجی سے ایک عالم کے مصائب کو سہہ کر چھے دیوان کے شاعر کہلائے۔ میر داخلی اور خارجی کیفیت کے شاعر ہیں۔ انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے اپنے شعر کے قالب میں ڈھال دیا کہتے ہیں۔

ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے جمع کیے تو دیوان کیا

میر کسی ایک صنف کے پابند نہ تھے اور غزل ان کی اہم صنف تھی۔ میر کی شاعری کا اہم جزو عشق ہے جسے انھوں نے اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ میر کے والد میر کی نو برس کی عمر میں انتقال کر گیٔ تھے۔ اُن کے والد جن کا نام علی متقی تھا اور جو ایک صوفی تھے۔ ایسا صوفی جسے ہر حال میں خدا کی خوشنودی مطلوب ہوتی ہے۔ اور جو عشق ِ الہی میں ڈوبا رہتا ہے۔  اسی لیے انھوں نے میر کو بھی جو وصیت کی وہ یہ ہی تھی کہ ’’بیٹا عشق کرو‘‘۔ کیونکہ عشق ہی انسان کی معراج ہے۔ عشق وہ طاقت ہے جو کائنات کو آگے بڑھاتی ہے۔ ساری کائنات عشق کے بدولت ہی قائم ہے۔ ’’اگر عشق نہ ہوتا تو نظمِ کل قائم نہ ہوتا‘‘ کیونکہ سب نظام عشق کی وجہ سے چل رہا ہے۔ یعنی مہر وماہ سب ایک حبیب کی جستجو میں ہی گردش کر رہے ہیں۔ آتش نے اس خیال کو اس طرح پیش کیا۔

میری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

وہ کہتے ہیں کہ ـــ’’بے عشق زندگی وبال ہے‘‘ یعنی زندگی کی تلخیوں کو سہنے کے لیے عشق کا ہونا لازم ہے۔ کیونکہ عشق ہی انسان کو زندگی کے تمام مصائب وآلام کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جو عشق کرنا جانتے ہیں وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ محبوب سے ملنے والا ہر غم کیا ہے؟ اور وہ انسان کو کس طرح ا’ـــس کی معراج پر پہنچا دیتا ہے عشق کیا چیز ہے۔ ’’عشق میں جی کی بازی لگا دینا کمال ہے ‘‘۔ یعنی اپنی ذات کی نفی کی کرنا۔ ہر اُس بات سے بچنا جو محبوب کے لیے ناپسندیدہ ہو یا اُس کی ناراضگی کا سبب ہو۔ اس لیے محبوب کی طرف سے آنے والے ہر جور و ستم کو برداشت کرنا ہے اُس کا مطمع نظر بن جاتا ہے۔   ’’موت عشق کی مستی اور زندگی عشق کی ہوشیاری ہے۔ ــ‘‘ جو لوگ عشق کے میدان میں کود پڑتے ہیں اُن کے نزدیک موت ہی زندگی ہے اور زندگی کو عشق میں اس ہوشیاری سے گزارتے ہیں کہ موت ان کے لیے آسان اور زندگی کا پیغام بن جاتی ہے۔ یعنی وہ محبوب سے وصال کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا

موت کو سمجھیں ہیں غافل اختتامِ زندگی
یہ ہے شامِ زندگی صبح دوامِ زندگی

بے عشق زندگی وبال ہے، اس لیے عشق کے راہ کے مسافر کے لیے زندگی کی آسانیاں وبال لگتی ہیں۔ ان کے نزدیک
گر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے
عشق میں جی کی بازی لگا دیناکمال ہے۔ عشق انسان کو بناتا ہے ا ور عشق ہی کندن کردیتا ہے دنیاکی ہر شے عشق کا ظہور ہےــــ’’رات عشق کا خواب اور دن عشق کی بیداری ہے۔ ‘‘ رات در اصل صوفیا کے نزدیک عاشق کی محبوب سے ملاقات کا وقت ہے۔ اور محبوب سے رات کی یہ ملاقات اُسے دن کی بیداری میںبھی اسی سر شاری کی کیفیت میں ڈبوے ٔ رکھتی ہے۔ اس لیے اس کا ہر عمل محبوب کے حکم کے تابع ہوجاتا ہے۔ میر نے عشق کے اس رنگ کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ وہ نہ صرف عشقِ مجازی بلکہ عشقِ حقیقی کا تذکرہ کرتے ہیں۔

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کر چلے
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھو کی خدا کر چلے

اسی عشق سے میر نے زندگی کا سلیقہ اور حوصلہ سیکھا اسی عشق نے ان کی زندگی میںحرکت وعمل اور چہل پہل پیداکی۔ میر کے ہاں عشق آداب سکھاتا ہے۔ محبوب کی عزت وتکریم کا درس دیتا ہے۔

دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

میر نے دلی کے حالات سے جو کہ بے انتہا بگڑ چکے تھے اور جس کی وجہ سے ہجرت ضروری ہوگیٔ تھی، لکھنٗو کی طرف رخ کیا۔ باوجود اس کے کہ لکھنئومیں دلی کی طرح بہت پزیرایٔ ملی مگرپھر بھی دلی آپ کو ہمیشہ یاد آتا رہا۔  لکھنٗو آمد پر جب مشاعرے میں میر کو نہ پہچاننے کے سبب مذاق اڑایا گیا تو آپ نے اس پر ایک شہرِ آشوب کہی

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو!
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکارکے
دلی جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کر ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

میر نے جہاں اپنے ذاتی رنج و غم کا ذکر کیا ہے۔ وہیں اُس نے انسانیت کے دکھوں اور اُس کی عظمت کا ذکر بھی کیا ہے۔ انسان کی عظمت اور اس سے محبت اسی عشق کا نتیجہ تھی جو جابجا میر کی شاعری میں نظر آتی ہے اور دیکھا جائے تو میر اپنے والد کی اس وصیت پر اپنی شاعری میں بہت حد تک پورا اترتے نظر آتے ہیں۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

Facebook Comments Box
اردو شاعریخدائے سخنشاعریعشقمیرمیر تقی میرمیر کا تصور عشق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بارے کچھ بیان آزادیِ صحافت کا ہو جائے : سید مظفر الحق
next post
تارکین ِ وطن کا اہم مسئلہ —- شاہانہ جاوید

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.