تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

اقبال احمد کی خلدونیہ یونیورسٹی – اعجاز الحق اعجاز

by دانش ڈیسک 14/05/2018
written by دانش ڈیسک 14/05/2018
285

گذشتہ دنوں اقبال احمد مرحوم کے خلدونیہ یونیورسٹی سے متعلق مجوزہ منصوبہ کے بارے میں احمد الیاس کی شایع ہونے والی تحریر نے ماضی کے اس منصوبہ کی یاد کو زندہ کردیا۔ اس سلسلے میں معروف محقق اور ماہر اقبالیات، جناب اعجاز الحق اعجاز کا یہ مضمون یقینا دانش کے قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔


بڑے لوگ بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ ایک علامہ محمد اقبال تھے جو آب روان کبیر کے کنارے نئی دنیا کا خواب دیکھتے تھے اور ایک اقبال احمد جو ایک عالمی سطح کی عظیم الشان یونیورسٹی کا خواب سجائے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ہم اس مضمون میں یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ انھوں نے کس قسم کی یونیورسٹی کا خواب دیکھا۔ نامور دانشور جناب محمد دین جوہر نے گذشتہ دنوں یہ انکشاف کیا کہ ان کے پاس خلدونیہ یونیورسٹی کی مکمل فزیبیلیٹی رپورٹ موجود ہے جو انہیں خود اقبال احمد نے بھجوائی تھی۔ میری درخواست پرجوہر صاحب نے یہ رپورٹ مجھے فراہم کی، جسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اقبال احمد واقعی ایک بلند پایہ ماہر ِ تعلیم بھی تھے۔

عظیم مسلمان فلسفی ابن خلدون کے نام پر بنائی جانے والی خلدونیہ یونیورسٹی کا قیام اسلام آباد میں عمل میں لایا جانا تھا۔ یہ ایک ایسی یونیورسٹی تھی جس میں جدید علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم کی بھی تعلیم دی جانی تھی۔ علامہ محمد اقبال کی طرح اقبال احمد بھی اسلام کی جدید تعبیر کے حق میں تھے۔ ان کے تعلیمی نظریات کے کئی پہلووں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اقبال احمد، علامہ محمد اقبال سے متاثر تھے، جس کا اظہار وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں کرتے رہتے تھے۔

اقبال احمد ایک بہت بڑے لبرل دانشور تھے۔ مگر ایسے لبرل دانشور نہیں جو اپنے مذہب سے متنفر، تہذیب سے برگشتہ اور تاریخ سے بیزار ہوں۔ ان کے نظریات جو بھی ہوں مگر ان کی نظر میں وسعت اور جامعیت تھی۔ جدت کا مطلب ان کے نزدیک روایت کو فراموش کردینا اور اپنی جڑوں سے کٹ جانا ہرگز نہیں تھا۔ وہ اس سطحیت اور کم نگہی سے کوسوں دور تھے جو ہمارے بہت سے لبرل دانشوروں کا خاصا ہے، وہ روایت اور جدت کو ساتھ ساتھ لے کرچلنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول:

“We believe that new knowledge، institutions، and values do not take meaningful roots in society unless they are felt، at the deeper level of human consciousness، to be congruent with a peoples’ social imagination and historical memory. Hence، in the development of curricula and instructional methods، we shall strive to establish non-formalistic but organic linkages between the past and present، between tradition and modernity. Only thus can the past، which weighs heavily on us and which is being subjected to multiple miuses، serve as a beacon of our future.”ٍ

اقبال احمد نے اس رپورٹ میں ابن خلدون کے فلسفہ تعلیم پہ بھی روشنی ڈالی ہے اور اسے بہت سراہا ہے۔ ۔ ابن خلدون ایسے نصاب تعلیم کے حق میں تھے جو طلبہ کی روحانی، جسمانی، معاشرتی، معاشی اور تہذیبی و ثقافتی نشوونما کا باعث بنے۔ اقبال احمد کے نزدیک ابن خلدون کا فلسفہ تعلیم جس جامعیت کا حامل ہے، مغرب میں جان ڈیوی کے سوا بہت کم فلاسفہ ہی اس جامعیت کو چھو سکے ہیں۔ کولونیل ازم کے زیر ِ اثر ہم ایک منقسم معاشرے میں متبدل ہوچکے ہیں۔ کولونیل جدیدیت کا ایک منفی اثر یہ ہوا ہے کہ ہم تہذیبی و ثقافتی اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہوئے ہیں۔ جس کا اثر ہمارے نصاب پہ یہ پڑا ہے کہ یہ بھی دوئی کا شکار ہوا ہے۔ اقبال احمد اس صورت حال پہ تاسف کا اظہار کرتے ہیں کہ:ـ

”As modernization proceeded، bringing cultural dislocation in its wake، discontinuities widened between our inherited and contemporary sources of knowledge. Ours is today a tragically and dangerously divided، dually instructed intelligentsia–one is at home in English، the other in a vernacular; one is secular in life style and orientation، the other is generally favorable to an Islamic Polity”

اقبال احمد کے نزدیک انگریزی نظام تعلیم کے پروردہ اور دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے درمیان پائی جانے والی اس خلیج کو کم کیا جانا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:

“This dualism of knowledge and outlook، which falls unfortunately along class lines، is at the root of growing dissension in Pakistani Society. It must be overcome if this country is to develop harmoniously and remain at peace with itself.”

اس مسئلے کا حل انھوں نے خلدونیہ یونیورسٹی کی صورت میں ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ یعنی یہ ایک ایسا عظیم الشان منصوبہ تھا جس کے ذریعے جدید تعلیم اور مدرسے کی تعلیم کو ہم آہنگ کر کے نظام تعلیم کی وحدت کی ایک مثال پیش کی جانی تھی۔ اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے جدید دنیا کے چیلنجز کا بحسن و خوبی مقابلہ کرنے والے بھی ہوتے اور اپنی تہذیبی و مذہبی اقدار کے پاسدار بھی۔ اقبال احمد لکھتے ہیں:

“Khuldunia curriculum and instructional methods shall aim at harmonizing and removing the separation، which we believe to be artificial، between the two sources of knowledge.”

چنانچہ خلدونیہ یونی ورسٹی میں علوم اسلامیہ کا مجوزہ کورس جو Origin and Development of Islamic Civilization کے نام سے ہے اس کی مختصر وضاحت یوں کی گئی ہے:

Introduction to Islamic Civilization of the classical and medieval periods. Emphasis shall be given to comprehending the ideas، issues، and institutions in the making of Islamic civilization through readings، in English translation، of the masterpieces of Islamic literature from the Holy Quran to Ibn e Khuldun’s Mukaddimah.

اقبال احمد چاہتے تھے کہ اس یونیورسٹی کے طلبہ پاکستان کی تاریخ اور ثقافت سے بھی آگاہ ہوں۔ اس سلسلے میں ایک کورس “History and Culture of Pakistan” کے نام سے بھی تجویز کیا گیا۔ اس کورس کے اغراض و مقاصد یوں بیان کیے گئے ہیں:

“This Survey course is aimed at introducing students to the depth، diversity and unity of Pakistan’s history and cultures from the ancient times to the present.”

اقبال احمد اس رپورٹ میں جہاں کولونیل نظام تعلیم کے مخصوص عزائم کا پردہ چاک کرتے ہیں وہاں سید امیر علی، علامہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض کی روشن مثالیں بھی دیتے ہیں۔ ان کے بقول یہ عظیم شخصیات اگرچہ کولونیل نظام تعلیم ہی کی پروردہ تھیں اور جدید تعلیم سے لیس تھیں مگر ان شخصیات نے ہمیشہ اپنی تہذیبی روایات کی پاسداری کی اور ان کی جڑیں اپنی تہذیب و ثقافت میں بہت گہری تھیں۔ یعنی انھوں نے کولونیل جدیدیت کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ اقبال احمد اپنی مجوزہ خلدونیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی ایسا ہی دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کولونیل ازم کے اثرات بد سے پوری طرح آگاہ ہوں اور ان سے بچنے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں ایک کورس Colonialism and Nationalism in South Asia; the Making of Pakistan کے نام سے شامل نصاب کیا گیا۔

پرویز ہود بھائی جو اس یونیورسٹی کے منصوبے میں اقبال احمد کی معاونت کررہے تھے اسلامی علوم کو شامل نصاب کرنے کے سخت مخالف تھے اور نصاب کو مکمل طور پر سیکولر رکھنا چاہتے تھے مگر اقبال احمد نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس منصوبے کی ناکامی کا ایک سبب یہ اختلافات بھی تھے۔ 

اقبال احمد نے اس یونیورسٹی میں جدید علوم پر خاص طور پر زور دیا۔ ایم آئی ٹی کی طرز پر اس میں جدید ریاضیاتی، طبیعیاتی اور تکنیکی اور کمپیوٹر سے متعلقہ علوم شامل کیے گئے۔ ان علوم میں جدید ریسرچ کو فوقیت دی گئی ہے۔  افسوس کہ ان کا یہ خواب کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی چیرہ دستیوں کی نذر ہوگیا۔ پرویز ہود بھائی جو اس یونیورسٹی کے منصوبے میں اقبال احمد کی معاونت کررہے تھے اسلامی علوم کو شامل نصاب کرنے کے سخت مخالف تھے اور نصاب کو مکمل طور پر سیکولر رکھنا چاہتے تھے مگر اقبال احمد نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس منصوبے کی ناکامی کا ایک سبب یہ اختلافات بھی تھے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اقبال احمد: ایک فراموش دبستان سیریز 1 : حّریت کے تین نشان — احمد الیاس

علامہ محمد اقبال نے بھی ایک ایسی ہی یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا جہاں جدید و قدیم علوم کی آمیزش ہو۔ جہاں کٹھ ملا پیدا ہوں نہ ہی اپنے مذہب اور اپنی تہذیب سے بیزار مسٹر۔ علامہ اقبال نے اپنے اس خواب کا ذکر 1910ء میں خطبہ علی گڑھ میں یوں کیا تھا:

’’پس یہ امر قطعی طور پر ضروری ہے کہ ایک نیا مثالی دارالعلم قائم کیا جائے جس کی مسند نشیں اسلامی تہذیب ہو اور جس میں قدیم و جدید کی آمیزش عجب و دلکش انداز میں ہوتی ہو۔‘‘

علامہ اقبال کو اپنے اس خواب کی تعبیر ان کی زندگی کے آخری ایام میں نیاز علی خاں کے دارالاسلام بمقام جمال پور (پٹھان کوٹ) کی صورت میں ملتی ہوئی نظر آئی۔ اس سلسلے میں نیاز علی خاں نے علامہ اقبال سے بھرپور راہنمائی حاصل کی۔ وہ مولانا مودودی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’علا مہ محمد اقبال میری اس تجویز سے بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ بلکہ ان کے خیالات تو بہت بلند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ادارے کو انشااللہ ایسا بنائیں گے کہ اس کا اثر یورپ تک پہنچے گا۔‘‘

آسڑین نو مسلم سکالر علامہ اسد جن کی کتاب ISLAM AT THE CROSSROADS  کو علامہ اقبال نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا تھا، نے بھی علامہ اقبال سے اس مجوزہ تعلیمی ادارے کے بارے میں راہنمائی کے لیے ملاقاتیں کیں۔ علامہ اقبال ہی نے علامہ اسد اور مولانا مودودی کا نام اس ادارے کے لیے تجویز کیا تھا۔ علامہ اقبال اس ادارے میں جدید سائنسی و عمرانی علوم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام کی تشکیل جدید کے لیے نصاب مرتب کرنا چاہتے تھے۔ مگر افسوس کہ ان کی عمر نے وفا نہ کی۔

 

ا

مجوزی یونیورسٹی کا مجوزہ نقشہ

Facebook Comments Box
Eqbal AhmadfeaturedKhuldunia Universityاقبال احمدپرویز ہود بائیخلدونیہ یونیورسٹی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پر تشدد سیاست ملک و قوم کے مفاد میں نہیں — رئیس احمد صمدانی
next post
سائبر کرائم شکایات اور سزائیں : سمیع احمد کلیا

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.