تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

نئی دنیا کی تلاش بند کر دو — محمد فاروق بھٹی

by دانش ڈیسک 23/04/2018
written by دانش ڈیسک 23/04/2018
124

ابھی دو دن پہلے کی بات ہے جب غروب آفتاب سے چند لمحے پہلے فلوریڈا کے کناویرل ائیر فورس اسٹیشن سے ایک انوکھا مشن خلاء میں بھیجا جا رہا تھا۔۔۔ 288 ملین ڈالرز کے اس سٹیلائٹ کے ذمے جو کام لگایا گیا ہے وہ آپ کو حیران کر دے گا۔ تقریباً دو لاکھ کلو میٹر دور جا کر دوسال تک یہ دو لاکھ سے زیادہ سیاروں پر ریسرچ کر کے ان کی تفصیلات زمین پر امریکی خلائی ادارے ناسا کو فراہم کرے گا۔ ریسرچ کا مرکزی نکتہ زمین جیسی دنیائیں تلاش کرنا ہے اور پانی کی موجودگی کا سراغ لگانا ہے۔ ایسی دنیائیں جہاں انسانی زندگی کو منتقل کیا جاسکے، جہاں ہوا ہو، پانی ہو، درجہ حرارت مناسب ہو۔۔۔ اس سے قبل کی جانے والی کوششوں میں کچھ کامیابی ملی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ٹریپسٹس ون پر پہنچنے کے لئے 40 نوری سال کا فاصلہ مزاحم تھا جو ناممکن ہی ہے۔۔۔ چنانچہ اب Transiting Exoplanet Survey Satellite-TESS نئے زاویہ سے نئی زمینیں تلاش کرے گا۔۔

بظاہر ہم جیسے پلاٹوں کی دوڑ میں, ڈالرز گننے والے پاکستانیوں کے لئے یہ ساری معلومات غیر ضروری ہیں۔ یہاں تو پراپرٹی مافیا ایک ایک انچ کو 288 ملین ڈالرز تک لیجانے پر کمربستہ ہے۔ TESS نے اگر کوئی دنیا دریافت کی تو ملک ریاض سمیت کئی “زمین دوست” پہلی فلائٹ کے مسافر ہوں گے۔ خیر چھوڑیئے اس بحث کو اور آیئے اس معاملے کی طرف کہ نئی دنیاوؑں کی آخر کیا ضرورت آن پڑی ہے خصوصاً ترقی یافتہ ممالک کو۔

22 اپریل کو عالمی یوم الارض منایا گیا۔ اس زمین کا دن جس پر ہم ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل سپین کے جنوبی ساحل پر ایک چھ ٹن وزنی سپرم وہیل مچھلی نڈھال حالت میں ماحولیاتی کارکنان کو ملی تھی۔ سائنسدانوں، ڈاکٹرز اور ذولوجسٹس کی مدد سے اس کے معدے سے 64 پاوؑنڈ پلاسٹک نکال کر اسے دوبارہ زندگی کے سمندر میں دھکیل دیا گیا تھا۔ یم سب جانتے ہیں کہ بےضرر اور مہربان سمندر کو پلاسٹک اور ہر قسم کے فضلے سے بھرنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پلاسٹک یونہی سمندر برد ہوتا رہا تو 2050ء تک سمندر میں سمندری حیات کم اور پلاسٹک زیادہ ہو گا۔

آسٹریلیا کے ایک جنگل میں گذشتہ مہینے آخری سفید رہینو دم توڑ گیا۔ کئی مخلوقات ناپید ہو چکی ہیں، ہزاروں آخری نسل اور آخری ہچکی کے درجے پر ہیں۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، زیر مین واٹر ٹیبل خشک ہو رہے ہیں۔ ہوا میں آلودگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ہولناک جنگوں اور ایٹمی تجربات نے کلائمٹ چینج کا آخری تباہ کن مرحلہ عبور کرنے کی طرف قدم بڑھا دیئے ہیں۔ دنیا کے بڑے ممالک صنعتی فضلہ ٹھکانے لگانے کی طرف سنجیدہ نہیں۔ جنگلات ٹمبر مافیا کی دست برد سے محفوظ نہیں۔ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور افریقہ کے جنگلات ہر سال آتشزدگی کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ محدود قانون سازی کی گئی ہے اور اس پر بھی عمل نہیں ہو رہا۔ شاپنگ بیگز اور روزمرہ کے استعمال کی پلاسٹکی اشیاء کی پیداوار بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ابلتے گٹر جب کبھی بھی صاف کئے جاتے ہیں تو پلاسٹک کے جوتے، برتن اور کھلونے ہی برآمد ہوتے ہیں۔ سموگ کا راج ہے اور فصل کاٹنے کے بعد بھوسہ جلانا فیشن ہے۔ فٹ پاتھوں پر دکانداروں کی تجاوزات ہیں یا ریڑھی بانوں کا قبضہ۔ سڑکوں پر پٹرول ڈیزل کا لیڈ ملا دھواں اُڑاتی گاڑیوں کا راج ہے اور سانس کی بیماریاں عام ہیں۔ عوام اور حکومتیں باہمی اشتراک سے خدائی نعمتوں کو برباد کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں آئے روز اوزون لیئر پھٹنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ یہاں کالاباغ ڈیم سیاست کی نظر ہو گیا اور آج ہائیڈرل پاور کی بجائے کوئلے اور ڈیزل سے بجلی بنائی جا رہی ہے۔ خیبر میں ایک ارب نئے درخت لگانے کا دعویٰ بھی فراڈ نکلا۔

ہاوؑسنگ سوسائٹیز کے نام پر زرخیز زمینوں کی پلاٹنگ کر کے بےآباد چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں گرد اڑتی ہے اور ہریالی ناپید ہو رہی ہے۔ زہریلے پیسٹی سائیڈز کے استعمال سے فصلوں اور نسلوں کی بربادی کا منصوبہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔ زہریلی سپرے سے تیار شدہ اججناس کی وجہ سے کینسر جیسے موذی مرض کی تیزی سے افزائش ہو رہی ہے اور نت نئی بیماریاں دریافت ہو رہی ہیں۔ ڈینگی، کانگو جیسے وائرس طاقتور ہو رہے ہیں۔ ہم فطرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور فطرت بھی ہم دور ہو رہی ہے۔ کھیل کے میدان چائنہ کٹنگ کی نذر ہو گئے اور ہسپتال مریضوں سے بھر گئے۔
آئے روز کے زلزلے، سونامی اور طوفان کلاٹمٹ چینج کی وارننگز ہیں اور اگر موسموں کا تغیر یونہی بڑھتا رہا جس روشن امکانات ہیں تو یہ کرہ ارض انسانوں کے لئے مزید دستیاب نہیں رہ سکے گا۔ آنے والی نسلوں کے لئے یہ زمین محفوظ بنانے کی ذمہ داری کون نبھائے گا ؟ کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ماں ہوتی ہے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا زمین سے یہ سلوک ماں سے عصمت دری کے زمرے میں نہیں آتا۔

امریکہ کے ٹرمپ، روس کے پیوٹن، اسرائیل کے نتن یاہو، مصر کے سیسی، چائنہ کے شی جن پنگ، انڈیا کے مودی، سعودیہ کے شاہ سلمان، شام کے بشارالاسد، برطانیہ کی تھریسا میری، جرمنی  کی انجیلہ مرکل اور افغانستان کے اشرف غنی سے صرف اتنی گزارش ہے۔۔۔ آپ سب ساٹھ اور ستر کے پیٹے میں ہیں۔۔۔ عمر کا خوشگوار ترین حصہ گزار چکے ہیں۔۔۔ آپ آنے والی نسلوں کے لئے اس زمین کو بچانا چاہو تو بچا سکتے ہو۔۔۔ چھ ارب سے زائد انسان اس کرہ ارض پر روزانہ سانس لیتے ہیں اور آپ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔۔۔ ان کے سانسوں کی ڈوری چلائے رکھنے میں مدد دو۔۔۔

جدید تاریخ میں۔۔۔ 1970ء میں امریکی سنیٹر Gayland Nelson نے پہلی مرتبہ زمین پر ہونے والے ظلم کی طرف توجہ دلائی۔ “عالمی یوم الارض” منانے کی قرارداد پیش کی اور جس کے لئے اقوام متحدہ نے 22 اپریل کا دن مقرر کیا۔۔۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ آج سے صدیوں پہلے ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے وسائل بچانے کی طرف ہمیں متوجہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وضو کرتے بھی پانی ضائع نہ کرو۔۔۔ جنگوں میں فتوحات کے بعد بھی جنگلوں کو مت کاٹو۔۔۔ قبرستانوں میں بھی درخت لگاوؑ کہ جب تک سرسبز رہیں گے مردے سے عذاب ٹلا رہے گا incentive بھی اور ثواب بھی۔۔۔ ایک ہم ہیں کہ ان کاموں کو عبادت سمجھنے سے بھی معذور ہیں اور قدرت کے اس اکلوتے تحفے زمین کو برباد کئے جا رہے ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ نے متنبہ کیا تھا کہ انسانوں کے رہنے کی ایک اکلوتی جگہ زمین ہے اگر اس کو برباد کیا گیا تو کوئی جائے پناہ نہیں بچے گی اور اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ فرار ہو کر کائنات کے دوسرے سیاروں پر جا بسیں گے تو تیار رہیں وہاں کے ایلینز زمین کے انسانوں کے بہت خطرناک ثابت ہوں گے۔

فلوریڈا سے خلائی مشن بھیجنے والوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ وہ ہماری نہ سہی سٹیفن ہاکنگ کی مان لیں۔ اس اکلوتی زمین پر جنگیں اور ایٹمی تجربات بند کر دیں۔ صنعتی فضلہ اور نظریاتی فضلہ کنٹرول کریں۔۔۔ امریکہ کے ٹرمپ، روس کے پیوٹن، اسرائیل کے نتن یاہو، مصر کے سیسی، چائنہ کے شی جن پنگ، انڈیا کے مودی، سعودیہ کے شاہ سلمان، شام کے بشارالاسد، برطانیہ کی تھریسا میری، جرمنی کی انجیلہ مرکل اور افغانستان کے اشرف غنی سے صرف اور صرف اتنی گزارش کرنی ہے۔۔۔ آپ سب ساٹھ اور ستر کے پیٹے میں ہیں۔۔۔ عمر کا خوشگوار ترین حصہ گزار چکے ہیں۔۔۔ آپ آنے والی نسلوں کے لئے اس زمین کو بچانا چاہو تو بچا سکتے ہو۔۔۔ چھ ارب سے زائد انسان اس کرہ ارض پر روزانہ سانس لیتے ہیں اور آپ سے خوفزدہ رہتے ہیں۔۔۔ ان کے سانسوں کی ڈوری چلائے رکھنے میں مدد دو۔۔۔ چالیس نوری سال کے فاصلے کی عمر نہ تمہاری ہے اور کسی اور انسان کی۔ نئی دنیاوؑں کی تلاش بند کر کے اس دنیا ہی کو ایک نئی دنیا بنا دو۔۔۔ ہوا، سمندر، زمین اور پانی کے ساتھ ساتھ امن، محبت، ایثار، آزادی اور انصاف کے خوشگوار پرچم بلند کر دو۔۔۔ نئی دنیا کی تلاش بند کر دو۔

Facebook Comments Box
Earth DayfeaturedMother Earthارضزمینکرہ ارضیوم ارض
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا آنے والے وقت میں غامدی صاحب قابل قبول ہوں گے؟ مراد علوی
next post
رابرٹ گرین اور امریکی جیلوں میں سب سے زیادہ مانگی جانی والی کتاب — ابن اظہر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.