تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

اسلام کا مطالعہ زمانہ حال کی روشنی میں: اقبال کا ایک خط

by لالہ صحرائی 21/04/2018
written by لالہ صحرائی 21/04/2018
110

علامہ اقبال کے یومِ وصال پر لالہ صحرائی کا خصوصی انتخاب


علامہ اقبال نے یہ خط سید محمد سعید الدین جعفری کے نام لکھا تھا، وہ جالندھر کے رہنے والے اور غالباً جج کے عہدے پر فائز تھے، زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے اترپردیش میں گزارا تھا، علامہ اقبال سے انہیں بےحد عقیدت تھی۔

مکرمی ـــ السلام علیکم

1۔ ایشیا کے قدیم مذاہب کی طرح اسلام بھی زمانہ حال کی روشنی میں مطالعہ کئے جانے کا متقاضی ہے، پرانے مفسرینِ قرآن اور دیگر اسلامی مصنفین نے بڑی خدمت کی ہے، مگر ان کی تصانیف میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو جدید دماغ کو اپیل نہ کریں گی، میری رائے میں بحیثیت مجموعی زمانہ حال کے مسلمانوں کو امام تیمیہ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا مطالعہ کرنا چاہئے، ان کی کتب زیادہ تر عربی میں ہیں مگر شاہ صاحب موصوف کی حجۃ البالغہ کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے، حکماء میں ابن رشد اس قابل ہیں کہ اسے دوبارہ پڑھا جائے، علیٰ ہذالقیاس غزالی اور رومی علیہم الرحمۃ، مفسرین میں معتزلی نقطہ خیال سے زمحشری، اشعری نقطہ خیال سے رازی اور زبان و محاورہ کے اعتبار سے بیضاوی، نئے تعلیم یافتہ مسلمان اگر عربی زبان میں اچھی دستگاہ پیدا کرلیں تو اسلام کی ری-انٹرپرٹیشن میں بڑی مدد دے سکیں گے، میں نے اپنی تصانیف میں ایک حد تک یہی کام کرنے کی کوشش کی ہے، انشاء اللہ اس پر نثر میں بھی لکھوں گا۔

2۔ الفاظ کے انتخاب میں لکھنے والا شاعر اپنی حسِ موسیقیت سے کام لیتا ہے اور مضامین کے انتخاب میں اپنے فطری جذبات کی پیروی پر مجبور ہوتا ہے، اس امر میں کسی دوسرے شخص کے مشورے پر خواہ وہ کتنا ہی نیک مشورہ کیوں نہ ہو، عمل نہیں کیا جا سکتا، دوسرے اعتراض کے متعلق یہ بھی عرض ہے کہ میرے نزدیک اسلام نوع انسان کی اقوام کو جغرافیائی حدود سے بالاتر کرنے اور نسل و قومیت کی مصنوعی مگر ارتقاءِ انسانی کے ابتدائی مراحل میں مقید امتیازات کو مٹانے کا ایک عملی ذریعہ ہے، اسی وجہ سے اور مذاہب یعنی مسیحیت اور بدھ ازم وغیرہ سے زیادہ کامیاب رہا ہے، چونکہ اس وقت ملکی اور نسلی قومیت کی لہر یورپ سے ایشیا میں آرہی ہے اور میرے نزدیک انسان کیلئے یہ ایک بہت بڑی لعنت ہے، اس واسطے بنی نوع انسان کے مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس وقت اسلام کے اصلی حقائق اور اس کے حقیقی پیش نہاد پر زور دینا نہایت ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ میں خالص اسلامی نقطہ خیال کو ہمیشہ پیش نظر رکھتا ہوں۔

ابتدا میں مَیں بھی قومیت پر اعتقاد رکھتا تھا اور ہندوستان کی متحدہ قومیت کا خواب شائد سب سے پہلے میں نے ہی دیکھا تھا لیکن تجربے اور خیالات کی وسعت نے میرے خیال میں تبدیلی کردی اور اب قومیت میرے نزدیک محض ایک عارضی نظام ہے جس کو ہم ایک ناگزیر زشتی سمجھ کر گوارا کرتے ہیں۔

آپ پین-اسلام ازم کو ایک پولیٹیکل یا قومی تحریک تصور کرتے ہیں، میرے نزدیک یہ ایک طریق چند اقوام انسانی کو جمع کرنے اور ان کو ایک مرکز پر لانے کا نام ہے، اس غرض سے ایک مرکز شہودی پر مجتمع ہوجانے اور ایک ہی قسم کے خیالات رکھنے اور سوچنے کے باعث یہ اقوام نسلی اور قومی اور ملکی امتیازات و تعصبات کی لعنت سے آزاد ہو جائیں گے، پس اسلام ایک قدم ہے نوع انسانی کے اتحاد کی طرف، یہ ایک سوشل نظام ہے جو حریت و مساوات کے ستونوں پر کھڑا ہے، پس جو کچھ میں اسلام کے متعلق لکھتا ہوں اس سے میری غرض محض خدمت بنی نوع ہے اور کچھ نہیں اور میرے نزدیک عملی نقطہ خیال سے صرف اسلام ہی ہیومینیٹیرئین۔آئیڈیل کو اچیوو کرنے کا ایک کارگر ذریعہ ہے، باقی ذرائع محض فلسفہ ہیں، خوشنما ضرور ہیں مگر ناقابل عمل۔

میرا ذاتی طریق یہی ہے کہ میں دنیا کی تمام مذہبی تحریکوں کو ادب اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، گو یہ احترام مجھے ایسی تنقید سے باز نہیں رکھ سکتا جس کی بنا دیانت پر ہو اور جس میں سوائے خلوص کے اور کچھ نہ ہو

مجھے یہ معلوم کرکے تعجب ہوا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خالص اسلامی حقائق پر لکھنے اور ان کو نمایاں کرنے سے ہندوستان کی اقوام میں باہمی عناد بڑھتا ہے، اس بات میں مَیں آپ سے متفق ہوں کہ مسلمانوں کو محبت کا طریق اختیار کرنا چاہئے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ مسلمان دنیا کیلئے سراپا شفقت ہے، مگر اس اخلاقی انقلاب کو حاصل کرنے کیلئے بھی یہی ضروری ہے کہ اسلام اپنی اصلی روشنی میں پیش کیا جائے۔

میرا ذاتی طریق یہی ہے کہ میں دنیا کی تمام مذہبی تحریکوں کو ادب اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، گو یہ احترام مجھے ایسی تنقید سے باز نہیں رکھ سکتا جس کی بنا دیانت پر ہو اور جس میں سوائے خلوص کے اور کچھ نہ ہو، غرض کہ میرا عقیدہ یہ ہے اور یہ عقیدہ محض خاندانی تربیت اور ماحول کا نتیجہ نہیں بلکہ بیس سال کے نہایت آزادانہ غور و فکر کا نتیجہ ہے کہ اس وقت اقوام انسانی کیلئے سب سے بڑی نعمت اسلام ہے اور جو شخص مسلمان کہلاتا ہے اس کا فرض ہے کہ قومی تعصبات کی وجہ سے نہیں بلکہ خالصتاً لِلہ اپنی زندگی میں ایک عملی انقلاب پیدا کرے اور اگر دماغی قوت رکھتا ہے تو اپنی بساط کے مطابق اسلام کے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرے تاکہ نوع انسان قدیم توہمات سے نجات پائے، مسلمانوں کو تو سیاسیات سے پہلے اشاعت اسلام کا کام ضروری ہے تاہم دونوں کام ساتھ ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔

منظر علی صاحب کے مذہبی عقائد کا سن کر مجھے کچھ تعجب نہیں ہوا کیونکہ  نے قریباً ہر ملک میں مذہب کو ڈسپلیس کیا ہے، لیکن الحمدللہ ان کے خیالات نے اس طرف پلٹا کھایا اور ان کو تحقیق کا شوق پیدا ہوا، چند مصنفین کے نام میں اوپر لکھ چکا ہوں، میری رائے میں سید سلیمان ندوی اور مولاناابوالکلام اس بارے بہتر مشورہ دے سکیں گے۔

مجموعہ شائع کرنے کی فکر میں ہوں، انشاء اللہ 1924 میں ضرور شائع ہو جائے گا، معلوم نہیں آپ کی سب باتوں کا جواب اس خط میں آیا ہے یا نہیں، میں نے آج تک اتنا طویل خط کسی کو نہیں لکھا اور نہ حقیقت میں ایسا کرنے کی فرصت ہے، امید ہے مزاج بخیر ہوگا۔

مخلص ۔۔۔ محمد اقبال
لاہور۔ 14نومبر 1923

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: علامہ اقبال اور آج کی عرب دُنیا — پروفیسر فتح محمد ملک

 

Facebook Comments Box
Allam Iqbaliqbalاقبالعلامہ اقبالنیشنل ازم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
رئیس عامر لیاقت حسین —– ڈاکٹر فرحان کامرانی
next post
اقبال کا معجزہ —– سلیم احمد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.