تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

اقبال احمد: ایک فراموش دبستان سیریز 1 : حّریت کے تین نشان — احمد الیاس

by دانش ڈیسک 20/04/2018
written by دانش ڈیسک 20/04/2018
123
اقبال احمد بیسویں صدی کے مایہ ناز اشتراکی دانشور تھے۔ سیاست، ادب، تاریخ اور تعلیم جیسے موضوعات پر آپ کی تقاریر، مضامین اور انٹرویوز ہر مکتبِ فکر کے پڑھنے اور سوچنے والوں کے لیے علمی و فکری خزانے سے کم نہیں۔ کشمیر اور الجزائر کی جدوجہدِ آزادی کا حصہ بنے۔ دہائیوں تک امریکی جامعات میں تدریس سے وابستہ رہے۔ فرانز فینن، ایڈورڈ سعید، ابراہیم ابو لغید اور نوم چومسکی جیسے دانشور آپ کے رفقاء میں سے تھے۔
مگر ان کے اپنے وطن پاکستان میں انہیں اور ان کی معتدل فکر کو بڑی حد تک فراموش کردیا گیا ہے۔ ہمارا بایاں بازو بھی فکرِ اقبال احمد کو سمجھنے اور اپنانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اگر ان کی بات کہ بھی جاتی ہے تو ان کی فکر کے تمام پہلوؤں کو اس روشن خیالی اور اعتدال کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا جو فکرِ اقبال احمد کا خاصہ ہے۔
اس سیریز میں اقبال احمد کے افکار کے بعض پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہم دبستانِ اقبال احمد کی ’وراثت‘ کا کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے تمام افکار سے متفق ہیں۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ فکرِ اقبال احمد ہمارا ورثہ ہے۔ اس سیریز کا مقصد صرف اسے فراموشی کے تہہ خانے سے نکال کر مرکزی فکری دھارے کی توجہ کا مرکز بنانا ہے۔ ادارہ

فرانز فینن، میلکم ایکس اور اقبال احمد۔ بعض دوستوں کے لیے ایک سانس میں ان تین ناموں کو اکٹھے لینا شاید کسی قدر اچھنبے کی بات ہو مگر فرانز فینن جو ایک مارکسی دانشور اور انقلابی تھے، میلکم ایکس جو ایک نو مسلم مذہبی شخص کے طور پر اس دنیا سے گئے اور اقبال احمد جو ایک پاکستانی مسلمان سوشلسٹ تھے۔۔۔ ان تینوں کے درمیان ایک بہت دل چسپ تعلق ہے۔

1960 کی دہائی کے آغاز میں اقبال احمد ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے سلسلے میں شمالی افریقہ کے عرب ملک تیونس گئے۔ پڑوسی ملک الجزائر میں فرانسیسی سامراج کے خلاف جدوجہد جاری تھی۔ افریقہ کی آزادی و اتحاد کے علم بردار، بائیں بازو کے سیاہ فام دانشور فرانز فینن الجزائر کے مجاہدین کی مدد کے لیے وہاں موجود تھے۔ اقبال احمد بھی الجزائر کے ‘نیشنل لبریشن فرنٹ’ کا حصہ بن گئے۔ وہ فرنٹ کے زیرِ زمین اخبار ‘مجاہد’ کی ادارت کرتے تھے۔ اس دوران انہیں چھ ماہ تک فرانز فینن کے قریب رہ کر کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔

فرانز فینن کے فکری اثرات اقبال احمد کے علاوہ انقلابِ ایران کے دانشور علی شریعتی پر بھی بہت گہرے تھے۔ ان کی اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب فینن اپنی معروف کتاب ‘افتادگانِ خاک’ (the wretched of the earth) لکھ رہے تھے۔ یہ کتاب نوآبادیاتی نظام اور قوم پرستی کے خلاف نفسیاتی اور مارکسی نکتہ نظر سے کھڑا کیا گیا ایک شاندار مقدمہ ہے۔ کتاب کا زبردست پیش لفظ معروف دانشور سارتر نے لکھا۔ مگر فینن کی ایک گزشتہ کتاب ‘وائٹ سکن، بلیک ماسک’ (white skin, black mask) قدرے مختلف زاویے سے لکھی گئی کتاب محسوس ہوتی ہے۔

اقبال احمد کنفرنٹنگ ایمپائر (confronting empire) کے پہلے طویل انٹرویو میں کہتے ہیں:-

“آپ فینن کو نسل سے کلاس، تشدد سے معاشرتی تعمیرِ نو، رد عمل سے تخلیقیت کی طرف سفر کرتا دیکھتے ہیں. ‘بلیک سکن وائٹ ماسک’ نسلی امتیاز اور شخصیت و انسانیت کی تذلیل کے خلاف غصے کی کتاب ہے”

افتادگانِ خاک کے بارے میں اقبال احمد اسی انٹرویو میں کہتے ہیں :-

“یہ زور دیتی ہے مزاحمت کی اہمیت پر، اپنے اندر اور دوسروں میں انسانیت کی تلاش کی جدوجہد پر، اجتماعی خودی میں مکمل طور پر آجانے پر”

اقبال احمد قوم پرستی کے حوالے سے فینن کے نظریات کا احاطہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:-

“فینن نے واضح طور پر قوم پرستی کے خطرات دیکھے کہ یہ کس قسم کے ڈھانچے کو جنم دے گی، کس قسم کی انحصاریاں تخلیق کرے گی، نوآبادیات کے بعد کی ریاست سامراجی غلبے کی نئے ہتھیار سے زیادہ کچھ نہ ہوگی۔ انہوں نے یہ سب ایک معاون اشرافیہ کے ابھرنے میں دیکھا۔”

‘کنفرنٹنگ ایمپائر’ اقبال احمد کے تین طویل انٹرویوز کا مجموعہ ہے جن میں متنوع موضوعات پر گفت گو شامل ہے

اسی باب میں اقبال احمد میلکم ایکس اور فزانز فینن کے درمیان ایک مشابہت دیکھتے ہیں۔ میلکم ایکس اور فرانز فینن میں واحد ظاہری قدرِ مشترک شاید مظلوم سیاہ فام ہونا تھی۔ فینن انتہائی تعلیم یافتہ تھے، مارکسسٹ تھے اور فرانس کی سامراجیت کا شکار تھے۔ میلکم ایکس باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کرسکے تھے، امریکی تھے اور ان کی پہچان بیسویں صدی کی ایک نمایاں اسلامی شخصیت ہونے کے حوالے سے ہے۔ مگر دونوں نے سیاسی و فکری شعور کی منزلیں قدرے یکساں طریقے سے طے کیں۔ اقبال احمد کہتے ہیں :-

“ان (میلکم اور فینن) کی سیاست کا آغاز نسل پرستی کے خلاف ان کے غصے اور ردعمل سے ہوا جو علیحدگی (سیاہ فام نسل پرستی و قوم پرستی) کی حدوں کو چھونے لگا تھا۔ مگر دونوں پر اپنی جدوجہد کے ذریعے بنی نوع انسان کی عالم گیریت کا انکشاف ہوا۔ مزاحمت کے عمل میں شریک ہونے سے ہی دونوں معاشرتی صداقتوں کے ادراک اور سیاسی جدوجہد میں نسل سے بلند ہوئے۔”

میلکم ایکس کے بارے میں اقبال احمد کہتے ہیں:-

“میلکم ایکس اسی قسم کی تبدیلی سے مذہبی تجربے کے ذریعے گزرے جو کہ حج کے لیے مکّہ جانے کا تجربہ تھا۔ میں نے انہیں مکّہ جانے سے پہلے اور بعد میں دیکھا کہ وہ کیسے تبدیل ہوگئے”۔

میلکم ایکس ‘نیشن آف اسلام’ نام کے ایک گمراہ اور نسل پرست گروہ کے رکن تھے۔ مگر حج کے تجربے کے بعد اخوت و مساوات کے مذہب یعنی مرکزی دھارے کے اسلام کی طرف آگئے۔ ‘نیشن آف اسلام’ کو اقبال احمد نے صیہونیت سے تشبیہ دی ہے جو کہ بہت دل چسپ بات ہے۔

میلکم ایکس کے سفرِ حج کے بارے میں اقبال احمد کہتے ہیں۔ :-

“میلکم ایکس ایک روشن خیال شخص تھے۔ انہوں نے مکہّ جاکر دریافت کیا کہ اسلام نسل پرستی کا مخالف دین ہے۔ یہاں ترک، بوسنیائی، سوڈانی، سینیگالی، پاکستانی، چینی، سکاٹ اور ہر قسم کے کالے، گورے، بھورے، پیلے لوگ ایک ہی جگہہ ہر اکٹھے تھے۔ اکٹھے کھا رہے تھے، ایک چھت تلے رہ رہے تھے، ایک ہی لباس پہنے ہوئے تھے۔ اس نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ وہ کہہ اٹھے کہ ‘یہاں کوئی نسل نہیں ہے۔ یہاں کیا چل رہا ہے؟’ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے کہا ‘یہ ممکن ہے، میں نے ایسا معاشرہ دیکھا ہے جس میں نسل کا کوئی شعور نہیں۔”

اس کے بعد اقبال احمد ایک اشتراکی ہونے کے ناطے کلاس کا سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میلکم ایکس حج کے تجربے کے دوران کلاس کے مسئلے کو نہیں سمجھ سکے۔

اقبال احمد مزید بتاتے ہیں کہ میلکم ایکس جب ان کی مادرِ علمی پرنسٹن یونیورسٹی آئے تو وہ اس دورے کے منتظمین میں سے تھے۔

میلکم ایکس کی خودنوشت سوانح میں ان کا اسلام کی طرف سفر دل چسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے

فرانز فینن اور میلکم ایکس کے بارے میں اقبال احمد کی اس تھیوری سے رنگ رنگ کے تعصبات کا شکار موجودہ معاشرہ کم از کم دو سبق سیکھ لے سکتا ہے۔

اولاً : حقوق کے نام پر شناخت کی سیاست (یعنی قومی پرستی، نسل پرستی اور لسانیت وغیرہ) کے کھوکھلے پن کے حوالے سے فینن اور میلکم کی جدوجہد اور افکار ایک مثال ہیں۔

ثانیاً : نظریات کے نام پر نظریاتی عصبیت کی سیاست بھی ایک حقیقت ہے۔ دنیا کو صرف سرخ اور سبز میں دیکھنے کی عادت ترک کرنی پڑے گی۔ ہمارے ہاں کچھ لوگوں میں رواج ہوچکا ہے کہ مختلف الخیال مکتب فکر کے ہر ممدوح پر کیچڑ اچھالا اور اپنے مکتب فکر کے معمولی لوگوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب نظریاتی گروہی شناخت خود نظریے سے بھی بڑی ہوجائے۔ اقبال احمد کا اشتراکی ہو کر میلکم ایکس کی فکر اور مذہبی تجربہ کو اس مثبت طور پر بیان کرنا ان کی روشن خیالی کی علامت ہے، وہ روشن خیالی جس کی ضرورت آج ہم سب کو ہے۔ خود اقبال احمد کے مکتبِ فکر کو بھی۔

حوالہ اقتباسات :- کنفرنٹنگ ایمپائر، صفحہ 22-26

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: معروف اشتراکی دانشور اقبال احمد، ہود بائی اور جامعہ خلدونیہ

اقبال احمد پہ ایک گفتگو:

Facebook Comments Box
confronting empirefeaturedابراہیم ابو لغیدافتادگانِ خاکاقبال احمدایڈورڈ سعیدبلیک سکن وائٹ ماسکفرانز فیننمیلکم ایکسنوم چومسکی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
“ووٹ کو عزت دو” نواز شریف کا نیا بیانیہ : رئیس احمد صمدانی
next post
آخری آدمی مرگیا : کراچی کی ایک کہانی، عابد آفریدی کی زبانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.