تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالم

اقبال اور معروف مغالطے سیریز 1 : اقبال اور حکمائے مغرب —- احمد الیاس

by دانش ڈیسک 12/04/2018
written by دانش ڈیسک 12/04/2018
117

21 اپریل علامہ اقبال کا یوم وفات ہے۔ اس موقع پر دانش کے نوجوان دانشور احمد الیاس “اقبال اور معروف مغالطے” کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین شروع کیا ہے جس میں ہر تحریر ایک مغالطہ کے بارے میں ہوگی۔ امید ہے دانش کے قارئین اور اقبال کے عشاق اس خوبصورت سلسلہ کو پسند کریں گے۔


مغربی ادب میں جس ادیب سے اقبال نے سب سے زیادہ عقیدت کا اظہار کیا ہے وہ جرمن ادیب گوئٹے ہیں۔ گوئٹے فرماتے ہیں کہ دانشمندی و حکمت کی سب باتیں بہت پہلے کہیں جاچکیں۔ اب ہر آنے والا حکیم انہیں باتوں کو نئے انداز سے پیش کرتا رہے گا۔ گویا ہر زمانے اور خطے کے صاحب فکر اپنے زمانی و مکانی تقاضوں کے مطابق ابدی و عالمگیر حکمت کا اظہِار نو اور تعبیرِ نو کرتے ہیں۔

اقبال فرماتے ہیں کہ ورڈزورتھ جیسے رومانی شاعر نے انہیں دور تشکیک میں الحاد سے بچایا۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اقبال بہت سے مغربی مفکرین سے کئی باتوں پر میل کھاتے اور مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے ہے کہ ان پر بہت سے حکمائے غرب کے مطالعے نے بہت زبردست اثرات مرتب کیے۔ اس کی انتہاء یہ ہے کہ اقبال فرماتے ہیں کہ ورڈز ورتھ جیسے رومانی شاعر نے انہیں دور تشکیک میں الحاد سے بچایا۔ مگر اگر کوئی مغربی ادب و فلسفہ سے اقبال کے اس تعلق کو ان کی آزاد خیالی اور گہری فکری جڑوں کی بجائے ان کی بے وقعتی اور چھوٹے پن سے تعبیر کرتا ہے تو ایسے شخص کے بارے دو ہی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ ایک تو اسے فلسفہ و حکمت کی بنیادی میتھڈولوجی کا ہی کوئی علم نہیں۔ دوسرا یہ کہ یا تو وہ اول درجے کا مغرب پرست ہے یا مایوس کن حد تک مغرب بیزار۔

اعتراض:  اقبال کا مرد مومن دراصل نطشے کا سپر مین ہے۔

سب سے زیادہ اعتراض نطشے اور اقبال کے تعلق کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بحث یوں تو بہت طویل اور متعدد دقیق فلسفیانہ پہلو رکھتی ہے۔ مگر اس اعتراض کا عوامی اظہار اس دعوے میں ہوتا ہے کہ اقبال کا مرد مومن دراصل نطشے کا سپر مین ہے۔ اس دعوے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اقبال کا مرد مومن نطشے کے سپر مین کی خصوصیات رکھتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اقبال کو اپنے مرد مومن کا خاکہ کھینچنے کا خیال نطشے کا سپرمین دیکھ کر آیا۔ پہلا دعویٰ کرنے والے فلسفِہ نطشے اور دوسرا دعویٰ کرنے والے اسلامی روایت سے مکمل لاعلم ہیں۔

نطشے کا سپرمین ان کے نظریِہ مرگِ خدا سے جنم لیتا ہے۔ خدا کی موت کے نظریے کو الحاد کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ مگر ایسا نہیں۔

پہلے آتے ہیں اس خیال کی طرف کی طرف اقبال کا مرد مومن نطشے کے سپر مین کی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے طاقت، مضبوط خودی اور توانائی یقیناً مرد مومن اور سپر مین میں مشترک ہیں۔ مگر اساسی حیثئیت میں سپر مین اور مرد مومن متضاد شخصیات نظر آتی ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نطشے کا سپرمین ان کے نظریِہ مرگِ خدا سے جنم لیتا ہے۔ خدا کی موت کے نظریے کو الحاد کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ نطشے جہاں کہتے ہیں کہ خدا مرگیا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے یعنی مغربی تہذیب نے اسے مارا ہے۔ مغرب کی اس خدا کشی پر نطشے نے شدید تنقید کی ہے۔ کیونکہ خدا کو تصور ہی معاشرے کی اخلاقی طاقت تھا جو معاشرے کو بکھرنے سے بچاتا تھا۔ مگر اب جب مغربی پاگل پن کے سبب یہ طاقت ختم ہوچکی (نطشے کے الفاظ میں خدا مرگیا) تو معاشرے کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کسی سپر مین کی ضرورت ہے۔ گویا نطشے کا سپر مین تب آتا ہے جب خدا مرچکا ہو۔

دوسری طرف اقبال کا مرد مومن ٹکا ہی خدا کے تصور پر ہے۔ نطشے کے چنے ہوئے سپر مین کے برعکس اقبال کا مرد مومن کوئی بھی ہو سکتا ہے، میں آپ یا کوئی بھی شخص جو تعمیرِ خودی کا فیصلہ کرلے۔ خدا خودیِ مطلق ہے اور انسان اس مطق خودی کے سمندر کے اندر سیپیوں کی طرح۔ تعمیر خودی کرکہ مردِ مومن کا مقصد اس سمندر کے شایانِ شان یعنی موتی بننا ہے۔ اقبال اپنے مرد مومن کا ماڈل علی بن ابیطالب کو بتاتے ہیں۔

دوسرا دعویٰ یہ کہ اقبال کو مرد مومن بنانے کا خیال نطشے کو دیکھ کر آیا۔ یہ بہت بچکانہ بات ہے۔ ایک مکمل مثالی انسان کا تصور شاید اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسانی تہزیب۔ 1899 میں اندرون بھاٹی گیٹ میں مقیم بائیس سالہ لڑکے اقبال نے نطشے کو پڑھنا تو درکنار، شاید نطشے کا نام بھی نہ سنا ہو۔ اس سال بمبئی کے ایک جریدے میں اقبال کا ایک انگریزی مضمون مسلم صوفی عبدالکریم الجیلی کے تصِور مرد الکامل کے موضوع پر چھپا۔ یہ اقبال کا پہلا نثری کام ہے جسے اشاعت کا اعزاز حاصل ہوا۔  (یہ مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے)

اقبال کی زندگی میں مرد مومن کی سپر مین سے مشابہت کا اعتراض ہوا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ مرد مومن کا تصور ان کا اپنا نہیں۔ مگر یہ نطشے سے نہیں بلکہ مسلم صوفیاء سے مستعار لیا گیا ہے۔ اقبال نے صرف اسے اپنے فلسفہ خودی کے مطابق کچھ ترقی دی ہے۔ گویا اقبال کا مرد مومن اسلامی تصوف کی ماڈرن پراڈکٹ ہے، مغربی فلسفے کی نہیں۔

ڈیوائن کامیڈی بھی اسلامی تمدن کے مغرب پر اثرات ہی کی نشانی ہے کیونکہ یہ مسلم صوفیاء کے معراج ناموں سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔ یہ بات مغربی ادبی اکیڈیمیاء میں تسلیم شدہ ہے۔

ایسا ہی اعتراض دانتے کی ڈواین کامیڈی اور اقبال کے جاوید نامہ کے حوالے سے ہوتا ہے۔ ڈیوائن کامیڈی اور دانتے کے دور کے بارے میں جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ دور نشاۃ ثانیہ کے آغاز کا تھا۔ وہ دور جب صقلیہ، تیونس، مراکش اور اندلس کے اسلامی تمدنی پھولوں کے بیج مغرب کے آنگن میں گر رہے تھے اور مغرب کے اندر ایک نئے تمدن کی پیدائش بس شروع ہی ہوئی تھی۔ ڈیوائن کامیڈی بھی اسلامی تمدن کے مغرب پر اثرات ہی کی نشانی ہے کیونکہ یہ مسلم صوفیاء کے معراج ناموں سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔ یہ بات مغربی ادبی اکیڈیمیاء میں تسلیم شدہ ہے۔ جاوید نامہ کی انسپریشن بھی یہی معراج نامے ہیں۔

اقبال پر بنیادی اثرات مسلم حکماء کے ہیں۔ ثانوی طور پر مغربی اثرات کی اہمیت مسلمہ ہے۔ مگر اقبال کو عطار، رومی، جیلی اور بیدل کی اسلامی روایت کے تناظر میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ برصغیر کے احساس کمتری کے مارے ایک طبقے کو اقبال میں بس مغربی اثرات نظر آتے ہیں۔ کیونکہ یہ طبقہ اپنی اسلامی روایت سے نہ صرف لاعلم ہے بلکہ نفرت رکھتا ہے۔ اس کا یہی نفرت، خوف اور لاعلمی اسے اقبال کو انصاف پسندی سے دیکھنے نہیں دیتا۔


اس سیریز کا دوسرا “اقبال اور مذہبی رواداری”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا تیسرا مضمون “اقبال اور مسئلہِ قومیت و وطنیت”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا چوتھا مضمون “صوفی، شاعر یا فلسفی”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

اس سیریز کا پانچواں مضمون “اقبال کی نجی زندگی”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اقبال کا معجزہ —– سلیم احمد

 

Facebook Comments Box
Allama Iqbalfeaturediqbalاقبالاقبالیاتدانتےعلامہ اقبالمرد مومننٹشے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
چھانگا مانگا ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ
next post
فیس بُک: اخلاقی معیار کا جھوٹا پلندہ —- اظہار احمد باچہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.