تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالممذہبی

خلافت عثمانیہ کا زوال اور سعودیہ: مقتدا منصور کے جواب میں — علی عبداللہ

by علی عبداللہ 11/04/2018
written by علی عبداللہ 11/04/2018
107

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم تحقیق کم اور سنی سنائی پر کان زیادہ دھرتے ہیں جس بنا پر اکثر و بیشتر حقائق آنکھوں سے ہٹ جاتے ہیں اور باطل طاقتوں کا ایجنڈا غالب آنے لگتا ہے۔ بد قسمتی سے عام لوگ تو اس کے عادی ہیں ہی لیکن جب کچھ صاحبان علم اور نامور اخباری باشندے بھی گمراہ کب تاریخ بیان کرنے لگیں تو دلی افسوس ہوتا ہے۔ گو کہ میں کوئی صحافی یا اعلی درجے کا مصنف نہیں اور نہ ہی میں صحافت کے پیشے سے وابستہ لوگوں سے بحث و مباحثہ کرنے کا عادی ہوں کیونکہ ان لوگوں کی عمریں صحافت میں گزر چکی ہیں لہذا میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے لیکن تاریخ اور تحقیق کا ادنی سا طالب علم ہونے کے ناطے میں تاریخی حقائق کو مسخ ہوتا یا انہیں پیچیدہ اور مبہم بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنے کو مناسب نہیں سمجھتا۔

ایک روز پہلے جناب مقتدا منصور صاحب کا کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سعودی عرب میں تبدیلی کی لہر نامی اس کالم میں انہوں نے سعودی شہزادے کے حالیہ انٹرویو کا ذکر اور اسکے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ حقیقت ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان جدیدیت کی حمایت میں سعودی و اسلامی روایات کو پس پشت ڈالنے کی کوشش میں ہے- لیکن اس کالم کی اہم بات وہ تاریخی حقائق تھے جن کا انہوں نے غیر منصفانہ ذکر کیا – مقتدا منصور صاحب کا کہنا تھا کہ جنگ عظیم اول میں ترکی کی شکست کے بعد حسین بن علی نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر دی اور 1916 میں ہی حجاز پر اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا اور 1925 تک حکمران رہا- دوسری بات انہوں نے یہ لکھی کہ برطانیہ کی یہودی تنظیم کے سربراہ لارڈ روتھ چائلڈ کو آرتھر بالفور نے اسرائیلی ریاست کی یقین دہانی کروائی اور جب حسین بن علی نے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی تو برطانیہ نے شاہ عبدالعزیز سے رابطہ کیا اور ابن سعود نے اس شرط پر اسرائیلی ریاست کے قیام کو قبول کر لیا کہ بدلے میں پورے جزیرہ نما پر ان کا حق حکمرانی تسلیم کیا جائے گا- تیسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ اسرائیلی ریاست کی مخالفت میں چونکہ دنیا بھر کے مسلمان کمربستہ ہو چکے ہیں تو یہ سعودی عرب کی مجبوری ہے کہ وہ برطانیہ سے لیا گیا معاہدہ پس پشت ڈال کر مسلمانوں کا ساتھ دیں۔

تاریخ یہاں مختلف ہے اور کالم نگار شاید یہ بات بھول گئے کہ استنبول میں پیدا ہونے والا یہ شخص حسین بن علی حجاز میں عثمانیوں کا آخری امیر تھا_ آغاز میں یہ خلافت عثمانیہ کے ماتحت اور ترکی اتحاد کے ساتھ تھا اور جرمنوں کے ساتھ جنگ میں بھی موجود تھا_ انگریزوں کی جانب سے جب یہ افواہ پھیلائی گئی کہ جنگ کے اختتام پر اسے معزول کر دیا جائے گا تو اس نے جاہ پرستی میں مبتلا ہو کر بغاوت کا آغاز کیا _ حسین میک موہن معاہدے کے تحت حسین بن علی کو شام کے ساحلی علاقے اور بحر احمر کا سارا علاقہ دینے کا وعدہ کیا گیا اور اس سلسلے میں حسین بن علی نے بغاوت کا باقاعدہ آغاز کر دیا_ شریف مکہ کا بیٹا فیصل اول تھا جس نے ٹی ای لارنس جو کہ لارنس آف عریبیہ بھی کہلاتا ہے کے ساتھ مل کر بغاوت کے لیے تیاریاں جاری رکھیں_ یاد رہے بغاوت کا آغاز مکہ سے ہوا اور جون 1916 میں شریف مکہ نے ہاشمیہ محل سے فائر کیا جو کہ بغاوت کا اشارہ تھا اور اس کے ساتھ 5000 ہزار غدار اور بھی تھے_ جبکہ 1916 میں ہی شریف مکہ کے بیٹوں کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کیا گیا_ عبداللہ بن حسین, علی بن حسین اور فیصل بن حسین نے فرانسیسی افسروں سے مل کر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ 1919 کے آغاز تک جاری رہا_ اسی محاصرے میں لارنس آف عریبیہ بھی شامل تھا- فروری 1919 میں شریف مکہ کے بیٹے علی اور عبداللہ مدینہ میں داخل ہو گئے_ کالم نگار یہاں شاید یہ بھی بھول گئے کہ اس کے بعد بجائے اس کے کہ شریف مکہ کو معاہدے کے تحت بادشاہت دی جاتی غداروں سے بھی غداری ہوئی اور picot” sykes معاہدہ جو کہ فرانس اور برطانیہ کے بیچ جنگ عظیم اول میں ہوا تھا سامنے آیا_ اس معاہدے کے مطابق شام اور لبنان فرانس جبکہ باقی عرب برطانیہ کے حصے میں آیا اور حسین بن علی منہ دیکھتا رہ گیا لیکن اسکے باوجود 1924 میں شریف مکہ نے اپنی باقاعدہ خلافت کا اعلان کیا جسے انگریزوں نے قبول نہ کیا۔

حسین بن علی

دوسری بات یہ کہ حسین بن علی کی بجائے ابن سعود نے اسرائیلی ریاست کے قیام پر آمادگی ظاہر کی تو شاید یہاں بھی کالم نگار نے عبدالعزیز اور صدر روز ویلٹ کے مابین 1938 میں ہونے والی ملاقات اور خطوط کے بارے میں نہیں پڑھا۔ شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ابن سعود اور امریکی صدر روز ویلٹ کے مابین خط و کتابت اور ملاقات کی تفصیل اسرائیلی اخبارات اور دیگر مغربی میڈیا پر موجود ہے جس میں انہوں نے یہودیوں کو غدار، دھوکے باز اور خانہ بدوش کہا ہے- نومبر 1938 میں ابن سعود نے امریکی صدر روز ویلٹ کو لکھا کہ یہودیوں کا فلسطین پر کوئی حق نہیں اور ان کی طرف سے یہ مطالبہ نا انصافی پر مبنی ہے۔عبد العزیز ابن سعود نے یہ بھی لکھا کہ فلسطین تاریخی طور پر عربوں سے منسلک ہے اور یہ عرب ممالک کے مرکز میں ہے۔ ابن سعود نے انتباہ کیا کہ اگر یورپ کے یہودی فلسطین داخل ہوئے تو آسمان پھٹ جائے گا، پہاڑ لرز جائیں گے اور زمین ہل جائے گی – پانچ سال بعد 1943 میں ابن سعود نے ایک اور خط لکھا جس میں مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات کا تاریخی جائزہ بیان کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی یہودی مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں۔اس کے دو سال بعد فروری 1945 میں صدر روزویلٹ اور ابن سعود کی کی نہر سویز میں ایک جہاز پر پہلی ملاقات ہوئی۔ابن سعود نے ایک خطیر امریکی امداد یہودیوں کو فلسطین لانے کے عوض رد کر دی اور انتباہ کیا کہ امریکہ کو عربوں یا یہودیوں میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا اور عرب یہودیوں کو یہ سرزمین دینے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیں گے۔ اسی سال 5 اپریل کو صدر روزویلٹ نے ابن سعود کو خط لکھا اور یقین دہانی کروائی کہ امریکہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے عربوں کی سلامتی کو خطرہ ہو۔ دو ماہ بعد ہی صدر روزویلٹ کی وفات ہو گئی اور ابن سعود کی تمام جدوجہد ماند پڑ گئی اور اسے فلسطین کی سرزمین پر خونی فسادات کی پیشگوئی حقیقت کے روپ میں دیکھنا پڑی۔

سیاست اپنی جگہ لیکن تاریخی حقائق کا قلع قمع کرنا اور عوام کو کشمکش میں مبتلا کرنا ایک سینئر صحافی کو زیب نہیں دیتا- سعودی عرب کے سیاسی حالات کی بنیاد پر حکمران متنازعہ فیصلوں پراتر آئےہیں لیکن اس کے باوجود تاریخی حقائق جوں کے توں ہیں- ان حقائق کو چھپانے یا بدلنے سے عوام وقتی طور پر پیچیدگی کا شکارہو سکتی ہے لیکن ذرا سی بھی تحقیق ان تمام لکھاریوں کا پردہ فاش کر سکتی ہے بس ضرورت سنی سنائی پر اکتفا کر لینے کی بجائے خود بھی ہاتھ پاؤں ہلانے کی ہے- ابن سعود کی اسرائیل مخالفت اور امریکی امداد درشت لہجے میں رد کرنا اس بات کی نفی ہے کہ حسین بن علی کی بجائے ابن سعود نے اسرائیلی قیام کی حامی بھری تھی اور اب سعودی کسی مجبوری کے تحت مسلمانوں کا ساتھ دے کر صیہونی ریاست کی مخالفت کرتےہیں۔

Facebook Comments Box
آل سعوداسرائیلحسین بن علیسعودیہسلطنت عثمانیہشریف مکہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا‎ : سید مظفر الحق
next post
دہشتگردی کے پیچھے وردی کا نعرہ کیوں؟ —- عابد آفریدی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.